غلط صنفی معلومات خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور خواتین پر کیے جانے والے تشدد کا ایک ذیلی زمرہ ہیں جن میں صنفی یا جنسی بنیادوں پر جھوٹے اور گمراہ کن بیانیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ کام کسی حد تک مربوط طریقے سے کیے جاتے ہیں اور اِن کا مقصد خواتین کو عوامی حلقے میں شامل ہونے سے روکنا ہوتا ہے۔ غیر ملکی ریاستی اور غیر ریاستی دونوں قسم کے عناصر خواتین کو خاموش کرانے، آن لائن سیاسی گفتگو کی حوصلہ شکنی کرنے، اور جمہوریتوں میں صنف اور خواتین کے کردار کے بارے میں تاثرات کی صورت گری کرنے کے لیے ایک حکمت عملی کے تحت غلط صنفی معلومات کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک نئے مطالعہ میں کینیڈا، یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (ای ای اے ایس)، جرمنی، سلوواکیہ، برطانیہ، اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ان عناصر کے دنیا بھر میں صنفی اور شناخت پر مبنی دیگر غلط معلومات کے بیج بونے کے لیے استعمال کیے جانے والے حربوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس رپورٹ کے کلیدی نتائج ذیل میں دیئے جا رہے ہیں۔

  • خواتین کو نشانہ بنانے والیں صنفی غلط معلومات پھیلانے والوں میں روس اور عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) سمیت غیرملکی حکومتی اور غیر حکومتی دونوں قسم کے عناصر شامل ہیں۔ غیرملکی حکومتی عناصر اپنے میڈیا کے اثاثوں، معلومات کے ماحول پر کنٹرول اور بعض اوقات ریاستی پشت پناہی میں ٹرولنگ کرنے والے گروپوں کو خواتین سیاست دانوں، پالیسی سازوں، صحافیوں، اور کارکنوں حتٰی کہ خواتین کے بارے میں تشکیل دی گئیں پالیسیوں کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
  • غلط معلومات کا نشانہ اکثر ان خواتین کو بنایا جاتا ہے جن کی شناخت مختلف شناختوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ہماری تحقیق سے صنفی غلط معلومات کے 13 منفرد موضوعات سامنے آئے ہیں جن میں صنفی دقیانوسی کے تصورات کا وسیع استعمال کرنا، جنسیت کو بڑہا چڑہا کر پیش کرنا اور خواتین کو شرمندہ اور بدنام کرنے کی خاطر انہیں سیاسی ہدف بنانا شامل ہے۔ اِن جرائم کا ارتکاب کرنے والے شناخت پر مبنی موضوعات اور سیاسی موضوعات کو مختلف طریقوں سے ملا کر استعمال کرتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غلط معلومات کے ذریعے کسی بھی فرد کی شناخت کے کسی بھی پہلو کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اسے اور/یا اس کی برادریوں کو بدنام اور شرمندہ کیا جا سکتا ہے۔
  • غلط معلومات پھیلانے کے مرتکب عناصر صنفی غلط معلومات کو سب سے زیادہ سوشل میڈیا کی اُن سرگرمیوں کے ذریعے پھیلاتے ہیں جو یا تو برجستہ ہوتی ہیں یا سوشل میڈیا کے کئی ایک پلیٹ فارموں کے لیے پہلے سے تیار کی گئی ہوتی ہیں۔ بہت سی صورتوں میں غیرملکی ریاستی عناصر کی جانب سے شروع کی جانے والی بدسلوکی سے، آن لائن صنفی غلط معلومات کو سوشل میڈیا کے صارفین کے ہاتھوں مزید بڑہاوا ملا۔ غیرملکی ریاستی عناصر جعلی یا گمراہ کن تصاویر یا ویڈیو جیسے جھوٹے مواد استعمال کرتے ہیں۔ اس مواد میں اس کے علاوہ میڈیا میں چھپنے والی مضامین، میمز، کسی خاص مقصد کے لیے بنوائے جانے والے ہیش ٹیگ، سیاست دانوں یا دیگر بااثر شخصیات کےعوامی بیان حتٰی کہ مانگا کارٹون تک شامل ہو سکتے ہیں۔
  • غیر ملکی ریاستی عناصر مختلف قسم کے افراد، گروہوں اور قانون سازی کو نشانہ بنانے کے لیے صنفی غلط معلومات کو متحرک کرتے ہیں۔ جب سیاست دانوں، صحافیوں اور کارکنوں کو انفرادی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ملازمتیں چھوڑنے یا آن لائن اپنی بات کہنا بند کرنے کے فیصلے کرلیں۔ جبکہ قانون سازی کو نشانہ بنانے سے مجوزہ قانون کے پیچھے کارفرما عوامی اور سیاسی اتفاق رائے کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ بعض اوقات اس کی وجہ سے پالیسیوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ بدسلوکی کا شکار ہونے والوں کو بدسلوکی سے پہنچنے والی تکلیف میں نفسیاتی تکلیف، صدمے، ذہنی صحت پر مرتب ہونے والے طویل مدتی اثرات اور جسمانی اور جنسی تشدد شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اِن کی تکالیف میں تشدد اور عصمت دری کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ آن لائن بدسلوکیوں کے علاوہ جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ جمہوریت کے لیے ایک خطرہ بن جاتا ہے۔
  • صنف اور شناخت پر مبنی غلط معلومات کا حتمی مقصد اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا اور جمہوریت کو کمزور بنانا ہوتا ہے۔ غیرملکی ریاستی اور غیر ریاستی دونوں عناصر کسی نہ کسی حکمت عملی کے تحت خواتین اور اُن لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کی شناخت مختلف شناختوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اس حکمت عملی کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ انفردی طور پر لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی پر عمل کرنے سے روکا جائے اور اُن عقائد اور نظریات کو برقرار رکھا جائے جو ان کے مخالفوں کے عقائد کی نفی کرتے ہیں۔ اس کا دوسرا مقصد وسیع تر شناخت پر مبنی گروہوں کے اراکین کو اُن کے اپنے حقوق کے استعمال سے روکنا ہے۔ یہ حکمت عملی غیر جانبدارانہ، حقائق پر مبنی معلومات تک رسائی کی صلاحیت کو نقصان پہنچا کر جمہوریت کو کمزور کرتی ہے اور جمہوری نمائندگی کے اجزائے ترکیبی کو منفی انداز سے متاثر کرتی ہے۔

ہماری تحقیق صنف اور شناخت پر مبنی نقطہ نظر سے چیزوں کو دیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تاکہ غیرملکی ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے صنفی غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیے جانے والے اُن حربوں کا تجزیہ کیا جا سکے جو دانستہ طور پر رویوں کو انتہا پر لے جاتے ہیں، تقسیم کے بیج بوتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ صنفی غلط معلومات کا پھیلاؤ نہ صرف نشانہ بنائے جانے والے افراد بلکہ جمہوریت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اِس موضوع کی نازک نوعیت مزید تحقیق کی متقاضی ہے۔ یہ تحقیق بالخصوص افریقہ اور لاطینی امریکہ میں صنفی غلط معلومات کے استعمال؛ ریاستی عناصر کے ہر روز کے نئے ہتھکنڈوں؛ اور روس کے یورپ میں بیانیوں کے استعمال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ مزید برآں یہ تحقیق ابلاغ کے اُن ردعملوں اور مداخلتوں کے فہم کو ترویج دینے کے لیے بھی ضروری ہے جنہیں صنفی غلط معلومات کو رد کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپنے اجتماعی ردعمل میں مؤثر طریقے سے رہنمائی کرنے کی خاطر ہمیں نہ صرف صنفی غلط معلومات کے ہتھکنڈوں اور نشانہ بنائے جانے والے طبقات پر ان کے مرتب ہونے والے اثرات کا مطالعہ جاری رکھنا چاہیے بلکہ جمہوریت کو محفوظ بنانے میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کے ساتھ نئی معلومات شیئر کرنا، شواہد کی بنیاد کو وسیع کرنا، اور اس لعنت سے نمٹنے کی خاطرپالیسی میں رہنمائی کرنا چاہیے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future