امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
28 جون، 2021
فائرا روما
روم، اٹلی

وزیر خارجہ بلنکن: جناب وزیر خارجہ، میرے دوست لوئیجی آپ کا بہت شکریہ۔ ہم سب کو اکٹھا کرنے کے اس غیرمعمولی کام پر آپ کا شکریہ۔ یہ نہایت عمدہ بات ہے کہ آج بہت سے ساتھی یہاں موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس نہایت اہم اجلاس کی میزبانی کرنے پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں آئی ایس آئی ایس یا داعش کو شکست دینے کے لیے قائم کردہ عالمی اتحاد کے تمام ارکان کا مشکور ہوں کہ آپ آج اس کوشش کے لیے یہاں موجود ہیں بلکہ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے کام کا حصہ ہیں۔

2014 میں اس اتحاد کے قیام سے اب تک اپنے مقامی شراکت داروں کی جانب سے، ان کے ساتھ اور ان کے ذریعے کی جانے والی ہماری مشترکہ کوششیں عراق اور شام میں آئی ایس آئی ایس کو زمین پر شکست دینے کے اہم مقصد کے حصول کا اہم عنصر رہی ہیں۔ ان کوششوں کی بدولت لاکھوں لوگ اپنے گھروں کو واپس آئے۔ آئی ایس آئی ایس کے غیرملکی جنگجوؤں کی شام اور عراق میں نقل و حرکت عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔ آئی ایس آئی ایس کے اہم رہنما یا تو پکڑے جا چکے ہیں یا انہیں ہلاک کیا جا چکا ہے۔ یہ کامیابیاں اہم ہیں اور یہ اس امر کی عکاس ہیں کہ جب ہم ایک سا عزم لے کر کسی مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے جدوجہد کریں تو کیا کچھ ممکن ہے۔

تاہم ابھی بہت سا کام باقی ہے اور میں مختصراً بتانا چاہوں گا کہ اب امریکہ کی اولین ترجیحات کیا ہیں۔ میرے خیال میں یہ بات آپ کے لیے نئی نہیں ہو گی کیونکہ یہ وہی بات ہے جس کا لوئیجی نے ابھی تذکرہ کیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ آئی ایس آئی ایس کے باقی ماندہ عناصر اگرچہ بری طرح کمزور پڑ چکے ہیں تاہم اب بھی وہ بڑے پیمانے پر حملے کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ہم نے جنوری میں بغداد میں دو خودکش بم دھماکوں کی صورت میں دیکھا ہے۔ عسکری محاذ پر حاصل ہونے والی اپنی کامیابیوں کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اپنے عزم کا اعادہ کرنا ہے جن میں آپریشن اِن ہیرنٹ ریزالو، عراق میں نیٹو کا تکمیلی مشن اور سویلین قیادت میں انسداد دہشت گردی کی اہلیت بہتر بنانے کا کام شامل ہے۔

دوسری بات یہ کہ جیسا لوئیجی نے کہا، ہمیں عراق اور شام بھر میں استحکام لانے کے کام میں اتحاد کے تعاون کی تجدید کرنا ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ آئی ایس آئی ایس ان ممالک میں دوبارہ نہ ابھر سکے۔ استحکام کے سلسلے میں ہماری امداد سے شام کے لوگوں کی ترجیحی ضروریات کی تکمیل، قبل ازیں آئی ایس آئی ایس کے ہاتھوں استحصال کا سبب بننے والی کمزوریوں سے نمٹنے اور مقامی حکام کی اہلیتوں میں پائے جانے والے خلا پُر کرنے میں مدد ملے گی۔ شام میں خشک سالی اور معاشی تنزلی کی موجودگی میں یہ ضروریات خاص طور پر شدید صورت اختیار کر گئی ہیں۔ آئی ایس آئی ایس اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہم نے عراق اور شمال مشرقی شام میں استحکام لانے کی کوششوں کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی غرض سے اپنے 2021 کے ہدف کی جانب اچھی پیش رفت کی ہے۔ ہم نے 670 ملین ڈالر اکٹھے کرنے کا ہدف قائم کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ہم 507 ملین کے قریب ہیں اس لیے آئیے اپنے ہدف کی تکمیل تک کام جاری رکھیں۔ مزید برآں آج میں یہ اعلان کر سکتا ہوں کہ امریکہ شام کے لوگوں اور ان کی میزبانی کرنے والوں کو انسانی امداد کے طور پر مزید 436 ملین ڈالر دے گا جس سے شام کے بحران میں امریکہ کی مجموعی انسانی امداد کا حجم قریباً 13.5 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ ہمیں باہم مل کر استحکام پیدا کرنے سے متعلق اپنے اہداف پر کاربند رہنا ہے جیسا کہ ہم نے اپنی عسکری مہم کے دوران کیا جس کا نتیجہ میدان جنگ میں کامیابی کی صورت میں نکلا۔

تیسری بات یہ کہ آئی ایس آئی ایس کے 10 ہزار جنگجو بدستور شام میں ایس ڈی ایف کے قید خانوں میں موجود ہیں۔ یہ صورتحال لامحدود مدت تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ امریکہ اپنے اتحادی شراکت داروں سمیت خِطے کے ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لیں، ان کی بحالی کے لیے اقدامات کریں اور جہاں ممکن ہو ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ معتدد ممالک نے ان محاذون پر اچھا کام کیا۔ قازقستان نے 600 سے زیادہ جنگجوؤں اور ان کے اہلخانہ کو واپس لیا ہے اور ان میں بہت سے لوگوں کو بحالی کے پروگراموں میں شامل کیا ہے۔ ازبکستان، تاجکستان اور جمہوریہ کرغیز نے عراق سے جنگجوؤں اور ان کے اہلخانہ کو واپس بلایا ہے اور ازبکستان شام اور افغانستان سے بھی اپنے شہریوں کو واپس لایا ہے۔ بلقان سے تعلق رکھنے والے بہت سے ممالک بشمول بوسنیا ہرزیگووینا، کوسوو اور شمالی میسیڈونیہ نے اپنے ان شہریوں کو واپس بلایا ہے جو غیرملکی دہشت گردوں کے طور پر عراق اور شام میں لڑ رہے تھے۔ اٹلی اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ اس کا شمار مغربی یورپ کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے شہریوں کو اس خِطے سے واپس لانا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں اس نے ایک غیرملکی خاتون دہشست گرد جنگجو اور اس کے بچوں کو واپس لیا ہے۔ فِن لینڈ نے بھی متعدد خاندانوں کو واپس لانے میں اپنے قائدانہ کردار کا مظاہرہ کیا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ آئی ایس آئی ایس کی دیرپا شکست یقینی بنانے کا مطلب عراق اور شام سے باہر ایسی جگہوں پر آئی ایس آئی ایس کے خطرات سے موثر طور پر نمٹنا بھی ہے جہاں اس نے حالیہ عرصہ میں اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ خاص طور پر ہم اتحادی شراکت داروں کی مدد کے مشکور ہیں جنہوں نے افریقہ میں ایسے ممالک کی انسداد دہشت گردی کی اہلیت بہتر بنانے میں مدد دی جو آئی ایس آئی ایس کے خطرے کے خلاف اگلے محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر میں اس حوالے سے وزیر خارجہ کی بات کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ آئیے آج ہونے والی بات چیت سے افریقہ میں اس خطرے سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے اتحاد کے منصوبوں کو وسعت دینے کا کام لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم اس سلسلے میں اپنے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اپنی کوششوں کو کس طرح ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔

اتحاد کی جانب سے اس سلسلے میں اٹھائے جانے والے بعض حالیہ اقدامات کی تجدید کے لیے گزشتہ نومبر میں امریکہ اور نائیجریا نے مغربی افریقہ کے ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ایک اتحادی اجلاس کا انعقاد کیا جس کا مقصد مغربی افریقہ اور ساحل خِطے میں آئی ایس آئی ایس کے خطرے کا مقابلہ کرنا تھا۔ ہم نے شمالی موزمبیق میں آئی ایس آئی ایس کے خطرے سے متعلق اپنے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ رسمی بات چیت بھی کی۔ اتحاد کے متعدد ورکنگ گروپ اپنی توجہ کو افریقہ کی جانب بھی وسعت دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مواصلاتی ورکنگ گروپ نے حال ہی میں افریقہ فریم ورک پیپر تجویز کیا ہے جس کا مقصد افریقہ میں اطلاعاتی میدان میں آئی ایس آئی ایس سے نمٹنے کے لیے اتحاد کے طریق کار کی رہنمائی کرنا ہے۔ اس میں آئی ایس آئی ایس کی چھاپ کو کمزور کرنا، جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے اس کے بیانیے کی حقیقت سامنے لانا، بات چیت کے مواقع میں اضافہ کرنا اور آئی ایس آئی ایس کے خلاف متبادل مثبت بیانیہ سامنے لانا شامل ہے۔

یہ بے حد اہم کوشش ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ یہ بات آپ سبھی کے علم میں ہے کہ ہم تیرہ چودہ سال عمر کے جنگجوؤں کو ہتھیار اٹھا کر لوگوں کو ہلاک کرتا دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اس معاملے کو ہر ممکنہ زاویے سے دیکھنا ہے۔ اس سلسلے میں اطلاعاتی کام بے حد اہم ہے۔ ہم کاؤنٹر آئی ایس آئی ایس فنانس گروپ جیسے اتحادی ورکنگ گروپوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسی راستے پر چلیں اور آئی ایس آئی ایس کی جانب سے افریقہ میں سامنے آنے والے مسئلے پر مزید توجہ دیں۔

اتحاد کو وسعت دینے کی حالیہ کوششوں میں افریقہ ممالک پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سنٹرل افریقن ریپبلک اور موریطانیہ ہمارے 82ویں اور 83ویں ارکان کے طور پراتحاد میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہم افریقہ میں داعش کے خلاف اگلے محاذ پر لڑنے والے ممالک اور علاقائی رہنماؤں کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے کہ وہ اس اتحاد کا رکن بننے پر غور کریں۔

آج اسی سے متعلقہ ایک آخری بات یہ کہ امریکہ عثمان الیاسو جیبو کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دینے کا اعلان کر رہا ہے۔ جیبو آئی ایس آئی ایس کا اعلیٰ سطحی رہنما اور گریٹر صحارا میں اس تنظیم کا اہم عہدیدار ہے۔ یہ نامزدگی افریقہ میں آئی ایس آئی ایس کو مالی وسائل کی فراہمی روکنے کی لیے جاری ہماری کوشش کا حصہ ہے۔

میں یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کروں گا کہ امریکہ آپ کی شراکت اور عراق، شام اور دنیا میں ہر جگہ آئی ایس آئی ایس کو شکست دینے کے عزم پر آپ کا مشکور ہے۔ ہم نے بہت بڑی پیش رفت کی ہے کیونکہ ہم اکٹھے کام کرتے رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں امید ہے کہ ہماری توجہ اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر مرکوز رہے گی یہاں تک کہ اسے فیصلہ کن شکست نہ دے دی جائے۔

آپ کا بہت شکریہ۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-opening-remarks-at-d-isis-meeting-opening-session/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future