امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
برائے فوری اجراء
یکم فروری 2021

آج آزادی کا قومی دن ہے جو صدر ابراہم لنکن کے اُس مشترکہ قرارداد پر دستخط کی یاد دلاتا ہے جس کی بدولت امریکہ میں غلامی کے خاتمے کا باعث بننے والی 13ویں آئینی ترمیم ممکن ہوئی۔ یہ وہ دن ہے جب رچرڈ آر رائٹ اور شہری حقوق کے حمایت کرنے والے ان کے ساتھیوں کی کئی دہائیوں پر مشتمل جدوجہد کی بدولت ہم ہر فرد کی آزادی کے آدرش سے اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہیں۔

آزادی کا قومی دن غلامی اور انسانوں کی خریدوفروخت کی روک تھام کے لیے منائے جانے والے مہینے کا اختتام بھی ہے۔ آزادی کے لیے صدر لنکن کے وعدے سے 150 برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد آج دنیا بھر میں اندازاً 24.9 ملین افراد انسانوں کی خریدوفروخت کرنے والوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔ ہمارا ملک ناصرف ماورائے اوقیانوس غلامی کی تجارت کے نتائج بلکہ نوآزاد لوگوں اور ان کی اولاد کے خلاف جبر کی مابعد مہمات پر قابو پانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

انسانوں کی خریدوفروخت اور اس مسئلے پر قوانین اور سرکاری پالیسیوں میں پائی جانے والی عدم مساوات کا مقابلہ کرنے کے آئندہ کام کے بارے میں سوچتے ہوئے دفتر خارجہ اپنے وعدے مستحکم کرنے اور دنیا بھر میں ایسے مسائل سے نمٹںے کی کوششوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

اس دن پر دفتر خارجہ انسانوں کی خریدوفروخت کے مسئلے کے بہت بڑے حجم اور پیچیدگی سے نمٹنے کے لیے اپنے عالمگیر اور کثیرملکی شراکت داروں بشمول حکومتوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، نجی شعبے اور متاثرین کے رہنماؤں کے علاوہ امریکی کانگریس اور وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے متعلق اپنے عہد کی تجدید کرتا ہے۔ ہم انسانوں کی خریدوفروخت کے انسداد کے طریقوں کو پالیسی کے حوالے سے دوسرے اہم شعبہ جات جیسا کہ تجارت، مہاجرت، انسانی امداد اور ماحول سے بہتر طور پر جوڑنے کے لیے اکٹھے کام کرنے کے منتظر ہیں۔ انسانوں کی خریدوفروخت سے متعلق دفتر خارجہ کی سالانہ رپورٹ ہمیں اس مسئلے کے حوالے سے سامنے آنے والے نئے رحجانات بشمول کوویڈ۔19 وبا کے باعث جنم لینے والی صورتحال کا اندازہ لگانے، اپنے شراکت داروں کو اعتماد میں لینے اور دنیا بھر میں اس حوالے سے پیش رفت یقینی بنانے کے لیے اپنی معاونت پیش کرنے میں مدد دیتی ہے۔

دفتر خارجہ یہ یقینی بنائے گا کہ انسانوں کی خریدوفروخت کے خلاف اس کی پالیسیاں ار پروگرام اس مسئلے کی تمام صورتوں سے نمٹنے کے قابل ہوں اور ان کا مقصد نظام میں پائی جانے والی ایسی ہر طرح کی عدم مساوات کو سمجھنا اور اس کو ختم کرنا ہو جو مخصوص معاشرتی گروہوں کو غیراہم بناتی اور انسانوں کی خریدوفروخت کرنے والوں کی ہمت بندھاتی ہیں۔ اس مقصد کے لے دفتر خارجہ انسانوں کی خریدوفروخت کے مسئلے پر ماہرین کے مشاورتی نیٹ ورک کے ذریعے ایک نیا منصوبہ شروع کر رہا ہے جو متاثرین کے رہنماؤں اور اس موضوع کے ماہرین پر مشتمل ہو گا۔ اس منصوبے کا مقصد ادارہ جاتی نسلی تعصب اور انسانوں کی خریدوفروخت کے مابین تعلق سے واقفیت حاصل کرنا اور یہ تعین کرنا ہے کہ ہم اس حوالے سے اپنے کام میں مساوات پر مبنی طریقہ کار سے کیسے کام لے سکتے ہیں۔

انسانوں کی خریدوفروخت پر جامع طور سے قابو پانے کے لیے متاثرین کو تحفظ دینے سے متعلق کانگریس میں پہلے وفاقی قانون کی منظوری سے دو دہائیوں بعد دفتر خارجہ نے امریکہ اور دنیا بھر میں اپنی ترجیحی پالیسی کے طور پر انسانوں کی خریدوفروخت کے خلاف جنگ تیز کر دی ہے۔ اِس دن ہم ان بہادروں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں جنہوں نے تمام انسانوں کے لیے آزادی یقینی بنانے کے لیے ناانصافی کے خلاف جنگ لڑٰی۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں متاثرین کو بامعنی انداز میں ساتھ لے کر اور انسانوں کی ہر طرح کی خریدوفروخت کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی کوششیں تیز کرنا اور انسانوں کی خریدوفروخت کے خاتمے کی عالمگیر جنگ میں رہنما کی حیثیت سے اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/national-freedom-day-deepening-our-resolve-to-fight-human-trafficking/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future