An official website of the United States Government Here's how you know

Official websites use .gov

A .gov website belongs to an official government organization in the United States.

Secure .gov websites use HTTPS

A lock ( ) or https:// means you’ve safely connected to the .gov website. Share sensitive information only on official, secure websites.

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
صحافیوں سے گفتگو
25 اگست، 2021

پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

وزیر خارجہ بلنکن: سہ پہر بخیر۔ میں افغانستان کی صورتحال اور وہاں جاری ہماری کوششوں خاص طور پر امریکی شہریوں کے حوالے سے تازہ ترین حالات سے آگاہ کرنا چاہوں گا اور اس کے بعد مجھے آپ کے سوالات کا جواب دے کر بہت خوشی ہو گی۔

میں اپنی بات کا آغاز اپنے سفارت کاروں اور فوج کے ارکان کی بھرپور ستائش سے کرنا چاہوں گا جو امریکی شہریوں، ان کے اہلخانہ، ہمارے اتحادی اور شراکت دار ممالک کے شہریوں، گزشتہ 20 سال میں ہمارے ساتھ کام کرنے والے افغانوں اور دیگر غیرمحفوظ افغان شہریوں کے انخلا میں سہولت دینے کے لیے کابل میں ہوائی اڈے اور بڑھتی ہوئی تعداد میں عبوری مقامات پر چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ انتہائی مشکل حالات میں غیرمعمولی جرات، مہارت اور انسانیت کے جذبے سے یہ کام انجام دے رہے ہیں۔

14 اگست سے اب تک 82,300 سے زیادہ لوگوں کو بحفاظت کابل سے باہر نکالا جا چکا ہے۔ منگل سے بدھ تک 24 گھنٹے کے وقت میں امریکی فوج اور اتحادیوں کی پروازوں پر تقریباً 19,000 افراد کو نکالا گیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر اور اس قدر پیچیدہ کام کو منظم کرنے اور اسے انجام دینے کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہی ہے۔

جیسا کہ صدر نے واضح کر دیا ہے، امریکی شہریوں کا انخلا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ 14 اگست سے اب تک ہم کم از کم 4,500 امریکی شہریوں اور ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ لوگوں کو نکال چکے ہیں۔ ان میں 500 سے زیادہ امریکی شہریوں کو گزشتہ روز ہی نکالا گیا۔

اب آپ میں سے بہت سے لوگوں نے پوچھا ہے کہ امریکہ کے ایسے کتنے شہری بدستور افغانستان میں موجود ہیں جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ہمارے اندازے کی بنیاد پر 14 اگست کو جب ہم نے انخلا کا کام شروع کیا تو اس وقت کم و بیش 6,000 امریکی شہری ایسے تھے جو افغانستان چھوڑنا چاہتے تھے۔ گزشتہ 10 روز میں اندازاً ان میں سے 4,500 امریکی اپنے قریبی اہلخانہ کے ہمراہ بحفاظت وہاں سے انخلا کر چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہم تقریباً مزید 500 امریکیوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہے ہیں اور انہیں محفوظ طریقے سے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے لیے خصوصی ہدایات فراہم کی ہیں۔ ہم ان 500 امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کے حوالے سے ہر تازہ ترین پیش رفت سے آپ کو مسلسل آگاہ کرتے رہیں گے۔

1,000 کے قریب جن بقیہ لوگوں سے ہمارا رابطہ ہوا ہے اور جو افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند امریکی ہو سکتے ہیں، ان تک پہنچنے کے لیے ہم ٹیلی فون، ای میل اور فون کے ذریعے پیغامات سمیت رابطے کے مختلف ذرائع سے دن میں کئی مرتبہ بھرپور انداز میں کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا اب بھی وہ افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے ان تک تازہ ترین معلومات اور ہدایات پہنچائی جا سکیں۔ ہو سکتا ہے ان میں بعض لوگ وہاں سے جا چکے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگوں نے امریکی شہری ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور وہ امریکی نہ ہوں۔ کچھ لوگ وہیں رہنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم آنے والے دنوں میں ان لوگوں کی صورتحال اور ارادے جاننے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ اس طرح ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے تقریباً 1,000 لوگوں کی فہرست میں افغانستان چھوڑنے کے شدت سے خواہش مند امریکیوں کی تعداد کم ہے اور ممکنہ طور پر خاصی کم ہے۔

تاہم یہ مسلسل تبدیل ہوتی تعداد ہے اور ہم درست اطلاعات تک پہنچنے کے لیے بلا توقف کام کر رہے ہیں۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ کسی مخصوص وقت میں ایسے لوگوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا آسان کیوں نہیں ہے۔ میں اس حوالے سے اپنی بات ان امریکی شہریوں سے شروع کرنا چاہوں گا جو افغانستان میں ہیں اور جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ وہاں سے جانا چاہتے ہیں۔

پہلی بات، جیسا کہ میرے خیال میں آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ کی حکومت دنیا بھر میں سفر کرنے والے امریکیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی نہیں کرتی۔ امریکہ کے شہری جب کسی دوسرے ملک میں جائیں یا وہاں رہیں تو ہم انہیں کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے سفارت خانے میں اپنے نام درج کروائیں۔ ایسا کرنا یا نہ کرنا انہی پر منحصر ہوتا ہے اور یہ رضاکارانہ عمل ہے۔ جب امریکی شہری کسی دوسرے ملک سے واپس آتے ہیں تو اس وقت اپنا نام سفارت خانے میں درج کرانا بھی انہی کی منشا پر منحصر ہوتا ہے۔ ایسا کرنا ضروری نہیں بلکہ ان کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے کہ آیا وہ ایسا کرنا چاہیں گے یا نہیں۔

خاص طور پر افغانستان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم کئی سال سے امریکی شہریوں پر زور دیتے چلے آئے ہیں کہ وہ وہاں کا سفر نہ کریں۔ ہم نے افغانستان میں مقیم امریکی شہریوں سے بار بار کہا ہے کہ وہ اپنے نام امریکہ کے سفارت خانے میں درج کرائیں۔ اس سال مارچ سے اب تک ہم نے ایسے امریکیوں کو 19 الگ الگ پیغامات بھیجے ہیں جن کے نام کابل میں امریکہ کے سفارت خانے میں درج ہیں۔ ہم نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے واپس آ جائیں۔ ہم نے یہ براہ راست پیغامات دفتر خارجہ کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر بھی نمایاں طور سے شائع کیے۔ حتیٰ کہ ہم نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم ان کی واپسی کے لیے انہیں مالی مدد بھی دیں گے اور ہم نے ایسے امریکی شہریوں کے لیے رابطے کے بہت سے ذرائع بھی مہیا کیے تاکہ وہ ہمیں بتا سکیں کہ آیا وہ افغانستان میں ہیں اور کیا انہیں وہاں سے نکلنے کے لیے کوئی مدد درکار ہے۔

جب لوگ پہلی مرتبہ ہمارے رابطے میں آتے ہیں تو افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند امریکیوں کی مخصوص مگر اندازاً تعداد زیادہ ہو جاتی ہے اور جب ہمارا ایسے امریکیوں سے رابطہ ہوتا ہے جن کے بارے میں ہمارا خیال ہوتا ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں جبکہ حقیقت میں وہ ملک چھوڑ چکے ہوتے ہیں تو یہ تعداد کم ہو جاتی ہے۔ افغانستان میں ایسے دیگر امریکی شہری بھی موجود ہو سکتے ہیں جنہوں نے کبھی اپنے نام کا اندراج سفارت خانے میں نہیں کروایا اور جنہوں نے سرکاری سطح پر جاری کردہ ایسے اطلاع ناموں کو نظرانداز کیا اور تاحال خود کو ہم سے متعارف نہیں کروایا۔

ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ جو ہم سے رابطہ کرتے ہیں اور خود کو امریکی شہری کہتے ہیں اور جن میں انخلا کے لیے مدد کا فارم پُر کر کے جمع کرانے والے لوگ بھی شامل ہیں، وہ درحقیقت امریکی شہری نہیں ہوتے اور ان کی شہریت کی تصدیق میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ بعض امریکی شہری ایسے بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے افغانستان میں ہی قیام کرنے کا فیصلہ کیا ہو اور ان میں سفارت خانے میں نام درج کرانے اور نہ کرانے والے دونوں طرح کے لوگ شامل ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ دہری شہریت کے حامل ہیں جو افغانستان کو اپنا ترجیحی وطن قرار دے سکتے ہیں، جو وہاں کئی دہائیوں سےرہ رہے ہیں یا جو اپنے خاندان کے قریبی ارکان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ وہاں ایسے امریکی شہری بھی ہیں جو وہاں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آٰیا ملک چھوڑا جائے یا نہیں۔

قابل فہم طور پر بعض لوگ نہایت خوفزدہ ہیں۔ ہر ایک کی اپنی ذاتی ترجیح اور سوچ ہے جس کی اہمیت کا اندازہ انہی کو ہے۔ یہ لوگ اپنا کوئی سابقہ فیصلہ تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔

گزشتہ 10 روز سے ہم روزانہ سینکڑوں امریکی شہریوں کو افغانستان سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ ایسے بیشتر لوگ ہماری رہنمائی میں ہوائی اڈے پر آئے جبکہ بعض لوگ اپنے طور پر وہاں پہنچ رہے ہیں جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی دوسرے ملک یا کسی نجی اہتمام سے ہوائی اڈے پر آ رہے ہیں۔ ہم اپنے پاس انخلا کے خواہش مند لوگوں کی فہرست کا پروازوں کے ریکارڈ، افغانستان میں آنے والے لوگوں کے ریکارڈ اور دیگر معلومات سے موازنہ کرتے ہیں۔ کسی فرد کے بارے میں حقائق تک پہنچنے کے لیے ہمیں تقریباً 24 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب تاحال افغانستان میں موجود امریکی شہریوں اور وہاں سے انخلا کے خواہش مند لوگوں کی تعداد کا جائزہ لینے کے لیے ان تمام معلومات کو مدنظر رکھا جائے تو تبھی اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص وقت میں ایسے لوگوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل کیوں ہے اور ہم اس فہرست کو مسلسل بہتر کیوں بنا رہے ہیں۔

اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ہم انتھک انداز میں لوگوں سے رابطے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔ 14 اگست سے اب تک ہم نے افغانستان میں امریکی سفارت خانے میں مندرج اپنے ہر شہری سے براہ راست رابطہ کیا ہے اور بعض اوقات یہ رابطے کئی مرتبہ کیے گئے۔ قونصل خانے کے سیکڑوں افسر، مقامی لوگوں سے بھرتی کیا گیا عملہ، یہاں واشنگٹن میں اور دنیا بھر میں درجنوں سفارت خانے اور قونصل خانے اس کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ لوگ ٹیلی فون کال اور پیغامات کے ذریعے لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں، ای میل لکھ رہے ہیں اور ان کے جواب دے رہے ہیں اور وہاں موجود امریکیوں سے چوبیس گھنٹے فرداً فرداً بات کر رہے ہیں۔

14 اگست سے اب تک ہم نے لوگوں کے نام درج کرنے کے لیے 20,000 سے زیادہ ای میل بھیجی ہیں، 45,000 سے زیادہ ٹیلی فون کال کیں اور اپنی فہرست کو تواتر سے بہتر کرنے کے لیے رابطوں کے دیگر ذرائع کا استعمال کیا۔ ہم کانگریس کے ارکان، غیرسرکاری اداروں اور امریکی شہریوں کی جانب سے ایسے امریکیوں کے بارے میں مہیا کردہ معلومات کو موقع پر یکجا کر رہے ہیں جو افغانستان میں ہو سکتے ہیں اور وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

ان روابط کے ذریعے ہم یہ تعین کرتے ہیں افغانستان میں موجود امریکی کہاں موجود ہو سکتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا وہ وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں، کیا انہیں مدد کی ضرورت ہے اور پھر انہیں مخصوص اور حالات کے مطابق ہدایات جاری کرتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر ہنگامی رابطہ نمبروں کو استعمال کرتے ہوئے کیسے نکلنا ہے۔

اب میں یہ بتانا چاہوں گا کہ اب تک کتنے امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم امریکی پاسپورٹ کے حامل 4,500 افراد اور ان کے اہلخانہ کو وہاں سے نکال چکے ہیں۔ یہ تعداد بھی حتمی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم امریکیوں اور ان کے اہلخانہ کو جہازوں میں سوار کر کے جتنا جلد ہو سکے افغانستان سے نکالتے ہیں اور جب وہ بحفاظت ملک سے نکل جائیں تو پھر ان کی مجموعی تعداد دیکھی جاتی ہے۔ ہم یہ یقینی بنانے کے لیے اپنے اعدادوشمار کی تصدیق بھی کرتے ہیں کہ کہیں ہم نادانستہ طور پر انہیں کم تو نہیں گِن رہے یا کہیں لوگوں کو دو مرتبہ تو نہیں گِن لیا گیا۔ اسی لیے میں یہ سب کچھ آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ میں بہت سے لوگوں کا یہ بنیادی سوال ہے اور معلومات کے ذریعے اس سے آگاہی اور اس کی وضاحت واقعی اہم ہے تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ ہمارے پاس یہ اعدادوشمار کیسے آئے ہیں۔

اگرچہ امریکیوں کا انخلا ہماری پہلی ترجیح ہے لیکن ہم 31 اگست سے پہلے غیرمحفوظ افغانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو بھی ملک سے نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے ایسے افغانوں کو نکالا جانا ہے جو ہمارے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے سفارت خانے یا ہمارے سفارتی عملے کے ساتھ کام کرتے چلے آئے ہیں۔ اس میں تارکین وطن کے خصوصی ویزے  کے پروگرام میں شامل ہونے والے لوگ اور دیگر غیرمحفوظ افغان بھی ہیں۔ اس کوشش میں حائل پیچیدگی اور خطرے کے بیان میں مبالغہ آرائی نہیں ہو سکتی۔ ہم ایک ایسے شہر اور ایک ایسے ملک میں مخالفانہ ماحول میں کام کر رہے ہیں جس پر اب طالبان کا تسلط ہے اور داعش۔خراسان کے حملے کا نہایت حقیقی امکان موجود ہے۔ ہم ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اپنا رہے ہیں لیکن بہت بڑا خطرہ موجود ہے۔

جیسا کہ صدر نے گزشتہ روز کہا، ہم 31 اگست تک اپنا کام مکمل کر لیں گے بشرطیکہ طالبان تعاون کریں اور اس کوشش میں کوئی خلل نہ ڈالا جائے۔ صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر انہوں نے سمجھا کہ ہمارا اس تاریخ کے بعد بھی وہاں رہنا ضروری ہے تو اس کے لیے ہنگامی نوعیت کے منصوبے ہونے چاہئیں۔ تاہم میں اس بارے میں بالکل واضح بات کروں گا۔ وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کرنے والے باقی ماندہ امریکی شہریوں اور ان بہت سے سالوں میں ہمارا ساتھ دینے والے ایسے افغانوں کی مدد کے حوالےسے ہمارے کام کی تکمیل کے سلسلے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے جو اب وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں اور ایسا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ کوشش 31 اگست تک روزانہ جاری رہے گی۔

طالبان سرکاری اور نجی طور پر وعدے کر چکے ہیں کہ وہ امریکیوں، کسی تیسرے ملک سے تعلق رکھنے والوں اور خود کو غیرمحفوظ سمجھنے والے افغان شہریوں کو 31 اگست تک ملک سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کی فراہمی جاری رکھیں گے۔ امریکہ، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں اور دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک ــ 114 ــ نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے طالبان پر واضح کیا کہ اس وعدے پر قائم رہنا اور ہر اس فرد کو محفوظ راستہ دینا ان کی ذمہ داری ہے جو ملک سے نکلنا چاہتا ہو اور یہ صرف ہمارے انخلا اور لوگوں کی منتقلی کے حوالے سے ہمارے کام کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی ہر روز ان کی ذمہ داری ہو گی۔

ہم اس بارے میں تفصیلی منصوبے تیار کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کے لیے قونصلر کی مدد اور سہولت کیسے جاری رکھی جا سکتی ہے جو 31 اگست کے بعد وہاں سے نکلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہماری توقع ــ عالمی برادری کی توقع ــ یہ ہے کہ جو لوگ امریکی انخلا کے بعد افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ توقع پوری کرنے کے لیے ہم باہم مل کر ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

میں سفارتی حوالے سے ایک مختصر بیان کے ساتھ اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا۔ چار براعظموں میں دو درجن سے زیادہ ممالک افغانستان سے نکلنے والے لوگوں کے عبوری قیام، عارضی رہائش یا ان کی نوآباد کاری کی کوشش میں تعاون کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ یہ عبوری قیام کے معاہدوں اور نوآبادکاری کے وعدوں کو ممکن بنانے، ان کی تفصیل طے کرنے اور ان پر عملدرآمد کی ایک کڑی سفارتی کوشش کا نتیجہ ہے۔ ہم ان ممالک کی فیاضانہ مدد پر ان کے تہ دل سے مشکور ہیں۔

یہ ہوائی جہازوں کے ذریعے لوگوں کو کسی جگہ سے نکالنے کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی ہے اور عسکری و سفارتی اہتمام، سلامتی کے معاملے اور انسانی امداد کے اعتبار سے ایک بہت بڑا کام ہے۔ یہ امریکہ کی قیادت اور ہمارے اتحادیوں اور شراکتوں کی قوت کا اظہار ہے۔ ہم افغانستان کے لیے ایک متحدہ سفارتی طریقہ کار وضع کرنے کے لیے اس طاقت سے کام لینا اور اس میں مزید اضافہ کرنا جاری رکھیں گے۔ صدر نے گزشتہ روز جی7 رہنماؤں کے اجلاس میں اسی نکتے پر بات کی اور یہی وہ بات ہے جو میں نے اور دفتر خارجہ کے دیگر اعلیٰ سطحی ارکان نے حالیہ دنوں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل روابط میں کہی ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہم ناصرف اس مشن میں بلکہ 31 اگست کے بعد انسداد دہشت گردی، انسانی امداد یا افغانستان میں مستقبل کی حکومت کے حوالے سے اپنی توقعات کے معاملے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور متحد ہیں۔ یہ کڑا سفارتی کام اس وقت بھی جاری ہے اور آنے والے دنوں اور ہفتوں میں بھی جاری رہے گا۔

اس سہ پہر میں نے اعدادوشمار کے حوالے سے بہت سی باتیں کیں تاہم اپنے مشن پر کڑی توجہ رکھتے ہوئے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ کام زندہ لوگوں کے بارے میں ہے جن میں بہت سے خوفزدہ اور بہت سے مایوس ہیں۔ میں نے تصویریں دیکھی ہیں، میں نے داستانیں پڑھی ہیں، میں نے لوگوں کی آوازیں سنی ہیں اور اس میں بہت سی اطلاعات آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے نہایت دلیری سے ہم تک پہنچائی ہیں۔ آپ جیسے بہت سے لوگوں کی طرح میں نے بھی اس افغان مترجم کے بارے میں رپورٹ پڑھی ہے جس کی دو سالہ بیٹی ہوائی اڈے کے باہر انتظار کرتے ہوئے لوگوں کی بھیڑ میں کچلی گئی۔ میرے اپنے دو چھوٹے بچے ہیں۔ اس بچی جیسے دوسرے بچوں کے بارے میں پڑھ کر بہت دکھ اور تکلیف ہوتی ہے۔

دفتر خارجہ میں اور امریکہ کی حکومت میں ہم سب لوگوں کا یہی احساس ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان نازک ایام میں زندگیاں اور مستقبل، سب سے پہلے ہمارے ہم وطن شہریوں کی زندگی اور مستقبل ــ بشمول بچوں کی زندگیاں ـــ غیریقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اسی لیے ہماری ٹیم میں شامل ہر فرد اس کوشش میں اپنا ہرممکن کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ کا بہت شکریہ اور اب مجھے آپ کے سوالات کا جواب دے کر خوشی ہو گی۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-on-afghanistan/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future