امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
حقائق نامہ
27 جولائی، 2021

”امریکہ اور انڈیا دورِ حاضر کے بہت سے اہم ترین مسائل پر اکٹھے کام کر رہے ہیں اور یہ وہ مسائل ہیں جو ہمارے شہریوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ امریکہ اور انڈیا کے درمیان شراکت اہم اور مضبوط ہے اور اس کی افادیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

ـــ وزیر خارجہ اینٹںی جے بلنکن

28 مئی، 2021

وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن 27 اور 28 جولائی کو انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی جائیں گے۔ اس دوران وہ دونوں ممالک کی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ اور اپنی مشترکہ ترجیحات پر باہمی تعاون کو واضح کریں گے۔ وزیر خارجہ بلنکن وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر برائے خارجہ امور ڈاکٹر ایس جے شنکر سے ملاقاتوں میں کووڈ۔19 کے خلاف اقدامات میں جاری تعاون، خطہء ہند- الکاہل میں دونوں ممالک کے باہمی معاملات، علاقائی سلامتی سے متعلق مشترکہ مفادات، مشترکہ جمہوری اقدار اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے سمیت بہت سے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکہ- انڈٰیا شراکت کو مضبوط بنانے کے اقدامات

· امریکہ اور انڈیا کے مابین ایک مضبوط تزویراتی شراکت ہے جس کی بنیاد مشترکہ اقدار اور آزاد اور کُھلے خطہ ہند۔ الکاہل سے وابستگی پر قائم ہے۔ امریکہ انڈیا کے ایک نمایاں عالمی طاقت کے طور پر ظہور کی حمایت کرتا ہے اور یہ یقینی بنانے کی کوششوں میں اس کا اہم شراکت دار ہے کہ ہند۔ الکاہل امن، استحکام، بڑھتی ہوئی خوشحالی اور معاشی شمولیت کا خطہ ہو۔

· امریکہ اور انڈیا سفارتی، معاشی اور سلامتی سے متعلق بہت سے امور پر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں جن میں دفاع، اسلحے کا عدم پھیلاؤ، خطہ ہند۔ الکاہل میں علاقائی تعاون، مشترکہ جمہوری اقدار، انسداد دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، صحت، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری، قیام امن، ماحول، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، زراعت، خلائی امور اور سمندری معاملات میں شامل ہیں۔

· 2008 میں امریکہ اور انڈیا نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں انڈیا فُل برائٹ پروگرام کے انتظام اور اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے معاملے میں امریکہ کا مکمل شراکت دار بن گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت طلبہ کے تبادلے میں اضافے سے نئے اور جدید پروگرام تیار کرنے میں مدد ملی ہے اور انڈیا کے پاس اب دنیا میں سب سے بڑا فُل برائٹ سکالر (فیکلٹی) پروگرام ہے۔ مالی سال 2019 میں ان مالی وسائل کی بدولت 61 امریکی سکالروں، 66 انڈین سکالروں، 80 امریکی طلبہ بشمول انگریزی کی تعلیم دینے والے 29 معاونین اور 55 انڈین طلبہ بشمول غیرملکی زبان کی تعلیم دینے والے 13 معاونین کو مواقع ملے۔

· امریکہ اور انڈیا عالمگیر اداروں میں باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جنوری 2021 میں جب انڈیا دو سال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہوا تو امریکہ نے اس کا خیرمقدم کیا۔

· اکتوبر 2020 میں انڈیا نے تیسرے 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کی میزبانی کی اور اس سال امریکہ اپنے ہاں یہ ڈائیلاگ منعقد کرانے کا منتظر ہے۔

اہمیت کا حامل ہند- الکاہل

· انڈیا ایک نمایاں عالمی طاقت ہے اور یہ ہند۔ الکاہل اور اس سے بھی آگے امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ مارچ میں چار ملکی اتحاد (کواڈ) کے رہنماؤں کی افتتاحی کانفرنس میں صدر بائیڈن اور وزیراعظم مودی نے اپنے جاپانی اور آسٹریلوی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کووڈ۔19 کے معاشی و طبی اثرات کے خلاف اقدامات کرنے، موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے اور مشترکہ مسائل سے نمٹنے کا عہد کیا جن میں سائبر سپیس، اہم نوعیت کی ٹیکنالوجی، انسداد دہشت گردی، معیاری بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری، انسانی امداد، آفات سے بچاؤ اور سمندری تحفظ جیسے امور شامل ہیں۔

حریفوں کے خلاف مزاحمت اور اپنے مفادات کا تحفظ

· امریکہ۔ انڈیا دفاعی تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے جن میں معلومات کا تبادلہ، رابطہ افسر، مالابار جیسی پہلے سے زیادہ پیچیدہ جدت کی حامل دفاعی مشقیں اور محفوظ مواصلات کے معاہدے ‘سی او ایم سی اے ایس اے’ جیسے دفاعی معاہدے شامل ہیں۔ 2020 تک امریکہ نے انڈیا کو 20 بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کا دفاعی سامان فروخت کیا۔

· ‘امریکہ۔ انڈٰیا دفاعی ٹیکنالوجی اور تجارتی اقدام’ کے ذریعے امریکہ اور انڈیا دفاعی سازوسامان کی مشترکہ پیداوار اور تیاری کے لیے اکٹھے کام کرتے ہیں۔

· امریکہ اور انڈیا علاقائی سلامتی کے مسائل جیسا کہ افغانستان کے معاملے میں بھی ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں ہیں۔

کووڈ۔19 وباء کا مقابلہ

· امریکہ کووڈ۔19 وباء سے مقابلے میں مصروف انڈیا کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ نے اس وباء کے آغاز سے اب تک انڈیا کو کووڈ۔19 سے نجات پانے اور اس کے خلاف اقدامات پر مبنی کوششوں کے لیے 200 ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی ہے جس میں ہنگامی ضرورت کے سازوسامان اور وباء کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے اگلی صفوں میں کام کرنے والے 218,000 سے زیادہ طبی کارکنوں کی تربیت کے لیے دیے گئے 50 ملین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل بھی شامل ہیں اور اس سے انڈیا میں 43 ملین سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوا۔

· اس سال کے آغاز میں امریکہ اور انڈیا نے باہمی مفاہمت کی ایک یادداشت کی تجدید کی جس کا مقصد وبائی بیماریوں بشمول کووڈ۔19 اور ابھرتے ہوئے دیگر طبی خطرات پر مرتکز تحقیق کے لیے ایک عالمی مرکز کے ذریعے ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہے۔

· امریکہ اور انڈیا کووڈ۔19 کے خلاف عالمگیر اقدامات کو مضبوط بنانے میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں۔ ان میں وبائی بیماریوں کو پھوٹنے سے روکنے سے لے کر طبی نظام مضبوط کرنے اور تجارتی سامان کی ترسیل کے عالمگیر سلسلوں کو محفوظ بنانے تک بہت سے امور شامل ہیں۔

· امریکہ کی ادویہ ساز کمپنیاں اس وباء کے آغاز سے انڈیا کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ اس باہمی تعاون میں کووڈ۔19 ویکسین کی تیاری کی عالمگیر صلاحیت، علاج معالجے اور طبی تجربات میں اضافے کے لیے رضاکارانہ طور پر اجازت نامے دینے اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے معاہدے شامل ہیں۔

موسمیاتی بحران کو روکنا

· موسمیاتی امور کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے جان کیری نے اس سال اپریل میں انڈیا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی سے ملاقات کی۔ انہوں نے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے اکٹھے کام کرنے کی اہمیت پر بات چیت کی۔

· اپریل میں موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر عالمی رہنماؤں کی کانفرنس میں صدر بائیڈن اور وزیراعظم مودی نے موسمیاتی امور اور ماحول دوست توانائی سے متعلق ایجںڈا برائے 2030 کے لیے امریکہ۔ انڈیا شراکت کا آغاز کیا جس کا مقصد پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے اور ہر ملک کو موسمیاتی امور اور ماحول دوست توانائی کے حوالے سے اس کے متعلقہ اہداف کے حصول میں مدد دینے کے لیے اس دہائی میں کیے جانے والے مضبوط اقدامات پر باہمی تعاون بہتر بنانا ہے۔

· 2030 کے ایجنڈے سے متعلق اس نئی شراکت کے تحت امریکہ اور انڈیا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات اور اس حوالے سے مالیاتی تحرک پیدا کرنے کے بارے میں ایک نیا ڈائیلاگ شروع کرنے کے منتظر ہیں جس کی قیادت موسمیاتی امور پر صدر کے خصوی نمائندے جان کیری کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سال کے آخر میں وزیر توانائی جینیفر گرین ہوم کی قیادت میں ماحول دوست توانائی سے متعلق تزویراتی شراکت بھی دوبارہ شروع کی جائے گی۔

· امریکہ موسمیاتی بحران کو روکنے اور نومبر میں برطانیہ کے شہر گلاسگو میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق فریقین کی کانفرنس سے پہلے اس مسئلے پر عالمگیر عزم ابھارنے کے لیے انڈیا کے ساتھ مزید تعاون کا منتظر ہے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/the-united-states-and-india-deepening-our-strategic-partnership/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future