امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
13 ستمبر، 2021

افغانستان کے عوام کے ساتھ اپنے وعدے کے مطابق امریکہ وہاں جاری انسانی بحران سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے نئی انسانی امداد کے طور پر قریباً 64 ملین ڈالر مہیا کر رہا ہے۔ اس طرح 2002 سے اب تک افغانستان اور خطے میں افغان مہاجرین کے لیے امریکہ کی مجموعی انسانی امداد قریباً 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ کی جانب سے یہ امداد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سمیت آزاد امدادی اداروں کے ذریعے دی جائے گی اور اس کے ذریعے افغان مہاجرین سمیت خطے میں 18.4 ملین سے زیادہ غیرمحفوظ افغانوں کو براہ راست مدد ملے گی۔ اس مالی معاونت سے ہمارے شراکت داروں کو حالیہ تنازعے سے جنم لینے والی ضروریات سے نمٹنے کے لیے تحفظِ زندگی، پناہ، روزگار میں مدد، ضروری طبی خدمات، ہنگامی غذائی امداد، پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کی خدمات مہیا کرنے میں مدد ملے گی۔ شدید خشک سالی، دیگر قدرتی آفات اور حالیہ کووڈ۔19 وباء نے ان ضروریات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

افغانستان کے ہمسایوں نے دنیا میں ایک بہت بڑی اور انتہائی طویل مہاجرت کی میزبانی کی ہے۔ ہم افغان عوام کے ساتھ جاری وابستگی پر میزبان ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ دنیا کے دوسرے ممالک میں تحفظ کے خواہاں افغانوں کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھیں۔ ہم ان کوششوں میں میزبان ممالک کی معاونت کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

امریکہ افغانستان کو انسانی امداد دینے والا واحد سب سے بڑا ملک ہے اور اس اعلان کے ساتھ صرف اسی مالی سال میں ہم اسے قریباً 330 ملین ڈالر مہیا کر چکے ہیں۔ امریکہ نے افغان مہاجرین، ملک واپس آنے والے مہاجروں اور دیگر بے گھر لوگوں کی مدد کو سالہا سال تک اپنی ترجیح بنایا ہے اور ان لوگوں کے لیے ہمارا پائیدار عزم واضح ہے۔ ہم افغان عوام کا مستقبل پُرامن اور مستحکم بنانے میں مدد دینے کے لیے اپنے تمام سفارتی، معاشی اور امدادی ذرائع کے ذریعے بدستور ان سے رابطے میں ہیں۔ امریکہ یہ یقینی بنانے میں مدد دینے کے لیے بھی عالمی برادری کے ساتھ کام کرے گا کہ طالبان اپنے وعدے پورے کریں، امدادی اداروں کی ضرورت مندوں تک رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالیں، تمام اصناف سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں کو نقل و حرکت کی آزادی دیں، امدادی عملے کا تحفظ اور سلامتی ممکن بنائیں اور ان تمام افراد کو محفوظ راستہ دیں جو افغانستان کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ہم عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کے لیے طالبان پر زور دیتے رہیں گے اور ہم گزشتہ 20 سال میں افغانوں خصوصاً خواتین کو حاصل ہونے والے فوائد برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم افغانستان میں تمام کمزور اور غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کے لیے پوری قوت سے کام کریں گے جن میں خواتین، بچے، صحافی، معذور افراد، ہم جنس پرست خواتین و مرد، دوجنسی رحجانات کے حامل، مخنث، کوئیر، بین جنسی اور ایسے دیگر افراد اور نسلی و مذہبی اقلیتی گروہوں کے ارکان سمیت دیگر لوگ شامل ہیں۔ ہم اس عالمی اقدام میں دیگر عطیہ دہندگان کی حصہ داری کا خیرمقدم کرتے ہیں اور دوسرے ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان کی فوری امدادی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں اور افغان عوام کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/the-united-states-announces-additional-humanitarian-assistance-for-the-people-of-afghanistan/

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future