امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
3 مارچ 2021

آج جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی) کی پراسیکیوٹر نے، جن کے عہدے کی مدت جون میں ختم ہو رہی ہے، فلسطینی صورتحال پر ایک تفتیش شروع کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ امریکہ اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اسے اس فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔ آئی سی سی کا اس معاملے پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسرائیل آئی سی سی کا فریق نہیں ہے اور اس کے دائرہ کار سے اتفاق نہیں کرتا۔ آئی سی سی کی جانب سے اسرائیلی اہلکاروں پر اپنا اختییار چلانے کی کوششوں پر ہمیں سنگین خدشات ہیں۔ فلسطینی ایک خودمختار ریاست کی تعریف پر پورا نہیں اترتے اور اسی لیے وہ آئی سی سی میں ریاست کی حیثیت سے رکنیت کے حصول، ریاست کے طور پر اس کی کارروائی میں شرکت یا اسے اختیار سونپنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

پراسیکیوٹر کے بیان میں ان متعدد وجوہات میں سے بعض کا اعتراف کیا گیا ہے کہ کیوں آئی سی سی اپنے محدود وسائل اور دیگر مسائل کے پیش نظر پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کرے گی اور اس صورتحال سے متعلق کوئی تفتیشی سرگرمی آگے نہیں بڑھائے گی۔ قبل ازیں انہوں ںے تسلیم کیا تھا کہ ”اس صورتحال میں دائرہ اختیار سے متعلق عدالتی طور پر ناآزمودہ سیاق و سباق میں ایسی تفتیش کرنا عدالتی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ناسازگار اقدام ہو گا جس کے آخر میں یہ سامنے آئے کہ اس معاملے میں متعلقہ قانونی بنیاد ہی موجود نہیں ہے۔” جیسا کہ انہوں ںے اعتراف کیا، یہ امکان آج بھی پوری طرح برقرار ہے۔

5 فروری کو آئی سی سی کے پری ٹرائل چیمبر آئی کا فیصلہ اس معاملے میں علاقائی دائرہ اختیار سے کام لینے کے کسی اقدام سے ابھرنے والے سنگین قانونی سوالات کا حل پیش نہیں کرتا جس سے مستقبل کے مقدمات میں ممکنہ زمانی، علاقائی اور قومیتی خلا جنم لیں گے اور ایسے پیچیدہ حالات میں راستہ نکالنے کا کام پراسیکیوٹر کو کرنا پڑے گا۔

امریکہ عالمی سطح پر ظالمانہ جرائم پر انصاف اور احتساب یقینی بنانے کے لیے بدستور پوری طرح پرعزم ہے۔ ہم ان اہم مقاصد کے حصول کے لیے آئی سی سی جیسی عالمی عدالتوں کے اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ ریاستی فریقین نے آئی سی سی کو محدود اختیارات والی عدالت کے طور پر قائم کیا تھا۔ عدالت کے اختیار کو محدود رکھنے کی بنیاد عالمگیر قانون کے اصولوں پر ہے جن کا احترام کیا جانا چاہیے۔

مزیر برآں امریکہ مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے لیے ایک پرامن، محفوظ اور مزید خوشحال مستقبل پر یقین رکھتا ہے جس کا انحصار تناؤ بڑھانے والے یکطرفہ عدالتی اقدامات اور بات چیت پر مبنی دو ریاستی حل کے عمل کو کمزور کرنے کی کوششوں کے بجائے باہم روابط کے قیام اور بات چیت و تبادلے کی نئی راہیں نکالنے پر ہے۔

ہم اسرائیل اور اس کی سلامتی کے حوالے سے اپنے مضبوط وعدے کو بدستور قائم رکھیں گے جس میں اسرائیل کو غیرمنصفانہ طور پر ہدف بنانے کے اقدامات کی مخالفت بھی شامل ہے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/the-united-states-opposes-the-icc-investigation-into-the-palestinian-situation/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future