امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
8 دسمبر، 2023

امریکہ حقوق کی پامالیوں اور خلاف ورزی پر احتساب کو فروغ دیتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی 75ویں سالگرہ اور اس حوالے سے 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ نے 13 ممالک کے 37 شہریوں کے خلاف ویزے کی ممانعت اور دیگر پابندیوں کا نفاذ کیا ہے۔

آج اٹھائے گئے اقدامات سے امریکہ دنیا میں انسانی حقوق کی بعض انتہائی خطرناک اور نقصان دہ پامالیوں پر قابو پا رہا ہے۔ ان میں مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد، جبری مشقت اور بین الاقوامی جبر بھی شامل ہیں۔ ہمارے اقدامات خاص طور پر ایسے ماحول میں وحشیانہ افعال پر احتساب کو فروغ دیتے ہیں جہاں قانون پر عملدرآمد کی صورتحال بہتر نہیں ہے اور غیرمحفوظ لوگوں بشمول سیاسی منحرفین، خواتین، سول سوسائیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں، ایل جی بی ٹی کیو آئی+ افراد اور انسانی حقوق و ماحول کے محافظوں کو حکومتوں کے جبر کا سامنا ہے۔

آج جن لوگوں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے ان میں بیشتر صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین اور لڑکیوں پر جبر میں ملوث ہیں۔ ان میں جنوبی سوڈان کے کاؤنٹی کمشنر اور ایک گورنر بھی شامل ہیں جن کی فوج اور ملیشیا نے جنسی زیادتی کے واقعات کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کے علاوہ خواتین اور لڑکیوں کی ثانوی تعلیم تک رسائی مسدود کرنے والے طالبان رہنماء بھی اِس فہرست کا حصہ ہیں۔ گزشتہ برس صدر بائیڈن کی جانب سے جاری کردہ صدارتی دستاویز ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مالیاتی، سفارتی اور قانونی ذرائع کے استعمال کو تقویت دیتی ہے۔

ایران کی حکومت اندرون و بیرون ملک انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں ملوث ہے۔ اس میں سیاسی مخالفین اور پُرامن مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال، ناجائز گرفتاریاں، قید، تشدد اور بیرون ملک سیاسی منحرفین کی نگرانی، انہیں دھمکائے جانے اور ان کے خلاف مہلک منصوبہ بندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ امریکہ نے ایران کی انٹیلی جنس کے دو افسروں پر ایسے افراد کو بھرتی کرنے کی پاداش میں پابندیاں عائد کی ہیں جنہیں امریکہ میں اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔ اِن کے اہداف میں امریکہ کی حکومت کے موجودہ وسابق حکام بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مذہبی مقامات، کاروبار اور دیگر مقامات کی نگرانی جیسی سرگرمیوں میں بھی ملوث تھے۔

علاوہ ازیں، دفتر خارجہ نے آج ویغور باشندوں کے انسانی حقوق کی پالیسی کے ایکٹ (یو ایچ آر پی اے) کی کانگریس کو رپورٹ کرنے کی منظوری بھی دی جبکہ محکمہ خزانہ پیپلز ریپبلک آف چائنا (پی آر سی) کے دو سرکاری حکام کو پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ ان میں ایک فرد کو شِنگ جینگ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہونے پر ‘یو ایچ آر پی اے’ کے تحت پابندیوں کا ہدف بنایا گیا ہے۔ جبری مشقت سے متعلق محکمہ داخلی سلامتی کے زیرقیادت بین ادارہ ٹاسک فورس پی آر سی کے تین اداروں کو ویغور افراد سے جبری مشقت لیے جانے کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کر رہی ہے۔

ہم زمبابوے، شام اور یوگنڈا کے لیے بھی ویزا پابندیوں کی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں اور انہیں وسعت دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ سرکاری حکام اور ایسے افراد پر بھی ویزے کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جو جبر، انسانی حقوق کی پامالیوں اور دیگر ناقابل قبول افعال میں ملوث ہیں۔ علاوہ ازیں، میں نے رواں ہفتے کے آغاز میں تعین کیا تھا کہ سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ رسپانس فورسز (آر ایس ایف) نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور آر ایس ایف اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے ارکان ڈارفر میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی میں ملوث ہیں۔

ہیٹی میں انسانی حقوق کی پامالیوں بشمول جنسی تشدد میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں کے چار رہنماؤں اور جمہوریہ کانگو میں مسلح گروہ کے رہنماؤں پر پابندیوں کے اثرات کو تقویت دینے کے لیے ہم نے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے لیے بھی نامزد کیا ہے۔ ہیٹی کے جرائم پیشہ گروہوں کے رہنماؤں کی نامزدگیاں ملک میں مجرمانہ سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے امریکہ کی سابقہ کوششوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ ان میں محکمہ خارجہ کا بین الاقوامی منظم جرائم کی روک تھام کے لیے انعامات دینے کا پروگرام بھی شامل ہے جس کے تحت جوزف ولسن اور وائٹل ہومی انوسینٹ کی گرفتاری اور/یا سزا کے لیے ان کے بارے میں معلومات کی فراہمی پر بالترتیب ایک اور دو ملین ڈالر کی انعامی رقم مختص کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دینے کے لیے ہمارے اقدامات قوانین کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام سے وابستہ اتحادیوں کی رضامندی سے اٹھائے جائیں تو زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں۔ ہم برطانیہ اور کینیڈا کے اشتراک سے یہ پابندیاں نافذ کر رہے ہیں اور دونوں ممالک نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لیے ایسے ہی اقدامات لیے ہیں۔ امریکہ احتساب کو فروغ دینے کے لیے تمام دستیاب ذرائع سے کام لیتا رہے گا اور انسانی حقوق و بنیادی آزادیوں کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا مظاہرہ کرے گا۔

محکمہ خارجہ نے ویزا پابندیاں محکمہ خارجہ، بیرون ملک کارروائیوں اور متعلقہ پروگراموں کے لیے مدبندی کے قانون، 2023 (ڈیو کے، پی ایل، 328-117) کے سیکشن 7031 (س) کی مطابقت سے عائد کی ہیں جنہیں جاری مدبندیوں کے قانون، 2024 (ڈیو اے، پی ایل، 15-118) اور تارکین وطن و قومیت کے قانون (آئی این اے) کے سیکشن 212 (اے) (3) (سی) اور انتظامی حکم 13224 کی مطابقت سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے اقدامات انتظامی حکم 13818 کی مطابقت سے اٹھائے گئے ہیں جن کی بنیاد انسانی حقوق سے متعلق احتساب کے عالمگیر میگنٹسکی ایکٹ، یو ایچ آر پی اے اور دیگر اختیارات پر ہے۔ اس بارے میں مزید معلومات کے لیے 2020، پی ایل، 245-116 اکے سیکشن 6 (اے) کی مطابقت سے پابندیوں کے نفاذ پر کانگریس کو پیش کردہ محکمہ خارجہ کی رپورٹ، حقائق نامے اور محکمہ خزانہ اور محکمہ داخلی سلامتی کی پریس ریلیز دیکھیے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/promoting-accountability-in-support-of-the-75th-anniversary-of-the-universal-declaration-of-human-rights-2/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future