امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
یکم جولائی، 2021
بینجمن فرینکلن روم
واشنگٹن ڈی سی

مس جان سٹون: سہ پہر بخیر اور خوش آمدید۔ میرا نام کاری جان سٹون ہے۔ میں انسانی خریدوفروخت کے مسئلے کی نگرانی اور اس پر قابو پانے سے متعلق دفتر کی قائم مقام ڈائریکٹر ہوں۔ انسانوں کی خریدوفروخت کے مسئلے پر 2021 کی سالانہ رپورٹ یا ٹی آئی پی رپورٹ کے اجراء کی ورچوئل تقریب میں ہمارے ساتھ شمولیت پر آپ کا شکریہ۔ میں ممنون ہوں کہ وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن بھی یہاں موجود ہیں۔

میں جلدی سے آج اپنے پروگرام کی بابت بتا دوں کہ سب سے پہلے وزیر خارجہ بلنکن اس سال کی رپورٹ کے بارے میں بات کریں گے۔ اس کے بعد ہم اس سال ٹی آئی پی رپورٹ میں ہیرو قرار دیے جانے والے آٹھ بہادر افراد کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں ںے اپنی زندگیاں انسانوں کی خریدوفروخت روکنے کے لیے وقف کر دی ہیں۔ ہم پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے ان کی کچھ باتیں سنیں گے۔ بعدازاں میں مختصراً اختتامی کلمات کہوں گی اور پھر ہمیں امید ہے کہ آپ لوگ state.gov پر جا کر آن لائن رپورٹ حاصل کر سکیں گے۔

میں دفتر خارجہ میں اپنے ساتھیوں بشمول بیرون ملک سفارت خانوں میں کام کرنے والے اپنے لوگوں کے شکریے سے بات شروع کرنا چاہوں گی جنہوں نے ایک درست اور جامع رپورٹ کی تیاری کے لیے بھرپور تعاون کیا اور وقت دیا۔ میں انسانوں کی خریدوفروخت کی روک تھام کے دفتر میں کام کرنے والے عملے کی لگن اور عزم پر ان کا ایک مرتبہ پھر اور خصوصی شکریہ ادا کرنا اور انہیں مبارک باد دینا چاہتی ہوں۔ اس رپورٹ کی تیاری میں آپ کے طویل کام اور کڑی محنت کا اچھا نتیجہ سامنے آٰیا ہے۔ آخر میں امریکی کی حکومت کے ہر شعبے میں ہمارے ساتھیوں، این جی اوز اور عالمی اداروں میں اپنے اہم شراکت داروں، انسانی خریدوفروخت کا بذات خود تجربہ کرنے والے لوگوں اور ٹی آئی پی رپورٹ کی تیاری میں حصہ لینے اور سال بھر انسانی خریدوفروخت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہونے والی پیش رفت میں سہولت دینے والوں کا شکریہ۔

آج وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ یہاں موجودگی میرے لیے اعزاز ہے۔ جناب وزیر خارجہ، انسانوں کی خریدوفروخت کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور آج اس تقریب کی میزبانی پر آپ کا شکریہ۔ آپ کی قیادت میں ہم انسانی خریدوفروخت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں آگے بڑھانے کے متمنی ہیں۔

خواتین و حضرات، وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن۔

(تالیاں)

وزیر خارجہ بلنکن: شکریہ کاری۔ میں ان کلمات پر آپ کا مشکور ہوں تاہم خاص طور پر میں دفتر خارجہ میں انسانوں کی خریدوفروخت کے مسئلے کی نگرانی اور اس سے نمٹنے کے شعبے کی سربراہ کے طور پر لاجواب انداز میں کام کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ اور آپ کی ٹیم نے ـــ میں جانتا ہوں کہ اس ٹیم کے بعض ارکان آج یہاں ہمارے ساتھ موجود ہیں ـــ کووڈ۔19 کی موجودگی میں مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے اس سال یہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے غیرمعمولی کام کیا ہے۔

تمام دیگر لوگوں کا بھی شکریہ جو اس نہایت اہم موقع پر ہمارے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ میں ان بہادر لوگوں کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں جنہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہم آج یہاں موجود ہیں۔ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ان مردوخواتین نے اپنے کیریئر انسانوں کی خریدوفروخت روکنے کے لیے وقف کر دیے ہیں۔ ان میں وکلا، سرکاری ملازمین اور این جی اوز کے رہنما شامل ہیں جو متاثرین کی مدد، انسانوں کی خریدوفروخت میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر عملی منصوبہ بندی کرنے اور اس مسئلے کی بنیادی وجوہات کا پتا چلانے اور ان سے نمٹنے جیسے ہر طرح اقدامات کے ذریعے انسانی خریدوفروخت پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔

کئی طرح سے انسانی خریدوفروخت کے خلاف جنگ مقامی سطح پر لڑی جاتی ہے۔ ہم یہ جنگ لڑنے والے بہادر لوگوں کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہیں جو اکثر بہت بڑا خطرہ مول لے کر یہ کام کرتے ہیں۔ انسانوں کی خریدوفروخت ایک خوفناک جرم ہے۔ یہ ایک عالمگیر بحران اور انسانی مصائب کی بہت بڑی وجہ ہے۔ اپنی مخصوص نوعیت کے باعث یہ اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ بعض اوقات انسانوں کی خریدوفروخت کے حوالے سے درست اعدادوشمار کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم عموماً جس تخمینے کا حوالہ دیتے ہیں اس کے مطابق دنیا بھر میں قریباً 25 ملین افراد انسانی خریدوفروخت کے متاثرین میں شامل ہیں۔ ان میں بہت سے لوگوں کو تجارتی مقاصد کے لیے جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ کارخانوں اور یا کھیتوں میں کام کرنے یا مسلح گروہوں کا حصہ بننے پر مجبور ہیں۔ انسانوں کی خریدوفروخت کے لاکھوں متاثرین نوعمر بچے ہیں۔

یہ جرم انسانی حقوق اور انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے۔ ہم اور آپ اس کے خلاف لڑتے ہیں کیونکہ یہ اچھا کام ہے۔ انسانوں کی خریدوفروخت کو روکنا ہمارے مفاد میں بھی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ معاشروں اور معیشتوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اسی لیے ہمیں ناصرف ایک ملک بلکہ عالمی برادری کی حیثیت سے ہر جگہ انسانوں کی خریدوفروخت روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنا ہے۔

انسانوں کی خریدوفروخت سے متعلق دفتر خارجہ کی رپورٹ درحقیقت دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے اس مسئلے کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے متعلق معلومات کا جامع ترین ذریعہ ہے۔ یہ رپورٹ اس مسئلے سے نمٹنے کے حوالے سے امریکہ اور اس کی دونوں سیاسی جماعتوں کے دیرینہ عزم کا اظہار ہے۔ ہم ایک سے دوسری امریکی حکومت اور کانگریس میں اس رپورٹ کا مشاہدہ کرتے ہیں اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ یہ یہاں واشنگٹن میں ہماری ٹیم، دنیا بھر میں ہمارے سفارت خانوں اور این جی اوز، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور اس مسئلے کے متاثرین کی کڑی محنت اور بھرپور کام کا نتیجہ ہے جو ہمیں انسانی خریدوفروخت کی نشاندہی اور اس سے متعلق معلومات کو دستاویزی شکل دینے میں ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ دنیا بھر کی حکومتیں مزید موثر انداز میں اس مسئلے سے نمٹ سکیں۔

اس رپورٹ کا ایک حصہ ہر ملک سے متعلق معلومات اور اعدادوشمار پر مشتمل ہے۔ اس سال ہم نے امریکہ سمیت 188 ممالک کا جائزہ لیا۔ بعض ممالک نے اس مسئلے سے نمٹنے میں اچھی پیش رفت کی ہے جبکہ بعض کی کارکردگی میں تنزل دیکھا گیا۔ یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ انسانوں کی خریدوفروخت روکنے میں پیش رفت یکساں خطوط پر نہیں ہوتی۔ انسانی خریدوفروخت میں ملوث عناصر مستقل طور سے اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں اور امریکہ سمیت ہر ملک کے لیے ان سے آگے رہنے کے لیے اپنی حکمت عملی میں مسلسل تبدیلی لانا ضروری ہے۔ ہم نے اپنی کمزوریوں کو جاننا اور ان کا اعتراف کرنا ہے اور جب ضرورت پڑے انہیں دور کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔ ٹی آئی پی رپورٹ ہمیں ایسے اہم اقدامات کے ذریعے اس کام میں مدد دے سکتی ہے جو امریکہ اور دوسرے ممالک کو اس جرم کے خلاف جدوجہد اور متاثرین کے تحفظ کے لیے اٹھانا ہیں۔

ہر ملک سے متعلق اعدادوشمار کے علاوہ اس سال کی رپورٹ میں بعض موضوعات پر گہری تحقیق بھی کی گئی ہے۔ ان میں پہلا موضوع کووڈ۔19 کے اثرات سے متعلق ہے۔ بہت سی جگہوں پر حکومتوں نے وباء پر قابو پانے اور اس کے ثانوی اثرات سے نمٹنے کے لیے بہت سے وسائل خرچ کیے ہیں اور ایسے میں انسانی خریدوفروخت میں ملوث عناصر کو اپنی سرگرمیوں میں اضافے کا موقع مل گیا ہے۔ وباء کے باعث کڑے معاشی حالات کا سامنا کرنے والے لوگ ایسے استحصالی عناصر کا آسان ہدف بن گئے۔ چونکہ وباء کے ہوتے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد تعلیمی سرگرمیوں اور روزگار کے لیے پہلے سے زیادہ وقت تک آن لائن رہی اور انسانی خریدوفروخت میں ملوث عناصر نے انٹرنیٹ کو اپنے ممکنہ متاثرین کو پھانسنے کے لیے استعمال کیا۔

اسی لیے وباء نے اس مسئلے کے خلاف جنگ کو حقیقی طور سے متاثر کیا ہے۔ لہٰذا وباء پر جلد از جلد قابو پانا اور دنیا بھر میں لوگوں کی مدد کرنا ہمارے لیے بے حد اہم ہے۔ یہ وباء جس قدر طویل ہو گی اسی قدر بڑی تعداد میں لوگوں کو انسانی خریدوفروخت کے مسئلے سے خطرہ ہو گا۔

اہم ان حکومتوں کی ستائش کرتے ہیں جنہوں نے کووڈ کے دوران بھی انسانی خریدوفروخت کے خلاف اپنے کام کو آگے بڑھانے کی راہیں نکالیں۔ مثال کے طور پر بیرون ملک مقیم پیرا گوئے کے ہزاروں شہری وطن واپس آ رہے تھے تو حکومت نے سرحد پر عارضی قرنطینہ کی سہولت مہیا کی۔ اس دوران حکام نے ہر آنے والے کی جانچ پڑتال کی جس کے نتیجے میں انسانی خریدوفروخت کے 300 متاثرین کی نشاندہی ہوئی۔ یہ تعداد گزشتہ برسوں میں سامنے آنے والے متاثرین سے قریباً چار گنا زیادہ تھی۔ اس کے بعد پیراگوئے کی حکومت نے ان متاثرین کو مخصوص مراکز میں بھیج دیا جہاں انہیں ضروری طبی امداد اور سماجی خدمات مہیا کی گئیں۔ موقع آنے پر انسانی خریدوفروخت کے متاثرین کی فوری مدد کے لیے یہ شاندار حکمت عملی تھی۔

دوسری بات یہ کہ اس سال جاری ہونے والی رپورٹ میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی انسانی خریدوفروخت پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ ہم نے 11 ممالک کی نشاندہی کی ہے جہاں حکومت خود یہ کام کر رہی ہے جس میں سرکاری منصوبوں یا ایسے معاشی شعبوں میں جبری مشقت سے کام لینا شامل ہے جنہیں حکومت خاص طور پر اہم سمجھتی ہے۔

یہ مسلسل دسویں رپورٹ ہے جو بتاتی ہے کہ کیسے کیوبا کی حکومت نے بیرون ملک بھیجے جانے والے طبی وفود کا استحصال کیا۔ وہ ڈاکٹروں اور طبی شعبے کے دیگر عملے کو بیرون ملک بھیج کر انہیں کام کے معاہدے کی شرائط سے بے خبر رکھتے ہیں، ان کی دستاویزات اور تںخواہیں ضبط کر لیتے ہیں اور جب وہ لوگ کام چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اور ان کے اہلخانہ کو دھمکایا جاتا ہے۔

ہم نے چین کے شِنگ جینگ ویغور خودمختار خِطے کی صورتحال بھی بتائی ہے۔ چین کی حکومت نے شِنگ جینگ میں 10 لاکھ سے یزادہ لوگوں کو قید کر رکھا ہے اور وہاں ریاستی اہتمام میں 1200 نظربندی کیمپ چلائے جا رہے ہیں۔ بہت سے قیدیوں کو جسمانی تشدد اور جنسی بدسلوکی کا نشانہ بننا پڑتا ہے اور انہیں تشدد کے ذریعے ملبوسات، الیکٹرانکس کا سامان، شمسی توانائی کے آلات اور زرعی مصنوعات کی تیاری کے کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔

شِنگ جینگ میں استحصال کی یہ صورتحال زیادہ خوفناک ہے تاہم اس سال کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے دوسرے حصوں میں بھی شہریوں کو جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ امریکہ نے جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ چینی اشیا کی اپنے ہاں درآمد روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال دفتر خارجہ اور تجارت، خزانہ اور داخلی سلامتی کے محکموں نے شِنگ جینگ سے آنے والی اشیا سے متعلق ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس میں امریکہ کی کمپنیوں کو شِنگ جینگ میں کام کرنے والے چینی اداروں کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں، وہاں کی اشیا کے ترسیلی سلسلوں یا مزدوروں سے تعلق پر معاشی، قانونی اور ساکھ کے نقصان کی بابت خبردار کیا گیا تھا۔

ہم دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں سے کہتے رہیں گے کہ وہ چین کی جانب سے شِنگ جینگ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت میں ہمارا ساتھ دیں اور جبری مشقت کے نتیجے میں تیار کی جانی والی اشیا کا اپنے تجارتی ترسیلی سلسلوں میں داخلہ روکنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ حکومتوں کو اپنے شہریوں کو دہشت زدہ کرنے اور انہیں منافع کمانے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے انہیں تحفظ دینا اور ان کی خدمت کرنا چاہیے۔

تیسری بات یہ کہ اس سال جاری ہونے والی رپورٹ میں نظام میں شامل عدم مساوات اور انسانی خریدوفروخت کے مابین تعلق کا واضح طور پر اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے امریکہ سمیت بہت سے ممالک کو نمٹنا ہے۔ اپنے ہاں درست سمت اختیار کرنے کا مطب یہ ہے کہ اپنی تاریخ میں اور اپنی پالیسیوں کے نتیجے میں تشکیل پانے والے ایسے حالات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے جو انسانوں کی خریدوفروخت کا سبب بنتے ہیں۔ انسانی خریدوفروخت میں ملوث عناصر ایسے لوگوں کو اپنا ہدف بناتے ہیں جو کمزور ہوتے ہیں، جنہیں اچھی نوکریوں یا تعلیمی مواقع تک رسائی ملنے کا امکان کم ہوتا ہے، جن کے لیے پولیس یا نظام انصاف کی جانب سے یکساں سلوک روا رکھے جانے کا امکان کم ہوتا ہے اور جب وہ خود کو ہدف بنائے جانے یا اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شکایت کرتے ہیں تو ان کی بات پر زیادہ یقین نہیں کیا جاتا۔

اگر ہم انسانوں کی خریدوفروخت روکنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو ہمیں نظام میں شامل نسلی و جنسی امتیاز اور دیگر طرز کی عدم مساوات کے خاتمے اور ہر پہلو سے ایک مزید مساوی معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے کام کرنا ہے۔ یہ اہداف ایک ساتھ حاصل ہوں گے۔ اس لیے ہمیں وباء کی تباہ کاریوں سے بہتر طور پر بحالی کے کام میں یہ بات یاد رکھنی ہے۔

میں نے اکثر یہ بات کی ہے کہ ہماری دنیا کو درپیش ہنگامی نوعیت کے مسائل کوئی ایک ملک اکیلا حل نہیں کر سکتا۔ کووڈ کو روکنے، موسمیاتی بحران سے نمٹنے اور انسانی خریدوفروخت کے خلاف لڑنے سمیت ہر معاملے پر یہ بات صادق آتی ہے۔ ہمیں اکٹھے کام کرنے، معلومات کے تبادلے اور ایک دوسرے سے جواب طلبی کی ضرورت ہے۔ اسی صورت ہم ایک ایسی دنیا تخلیق کریں گے جہاں کوئی انسانی خریدوفروخت کا ہدف نہ بنے اور ہر فرد تحفظ اور وقار سے زندگی گزار سکے۔

شکریہ


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-at-the-2021-trafficking-in-persons-report-launch-ceremony/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future