امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
10 دسمبر 2023

ہم اس اصول کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں کہ تمام لوگ پیدائشی طور پر انسانی حقوق لے کر آزاد اور برابر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اصول 75 برس قبل آج کے دن اس وقت رقم ہوا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ (یو ڈی ایچ آر) منظور کیا۔ یہ اعلامیہ اُن لوگوں کی دوراندیشی اور انکساری کا نتیجہ ہے جو ہم سے پہلے اس دنیا میں آئے۔ یو ڈی ایچ آر میں اُن انسانی حقوق کا شمار کیا گیا ہے جن کا بہرصورت عالمی سطح پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔ اس اعلامیے میں اقوام عالم کے تمام لوگوں کی آزادی اور وقار کا یکساں معیار مقررکیا گیا ہے۔ اس وقت دنیا کے لگ بھگ تمام ممالک اس اعلامیے کی توثیق کر چکے ہیں۔

آج جب ہم یو ڈی ایچ آر کے 75 برسوں پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کا احساس ہونے لگتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی ہمارے علم میں ہے کہ ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ حکام انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو پامال کرتے ہیں اور یہ کام سلامتی کے نام پر یا اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے کرتے ہیں۔ چاہے صحافیوں اور منحرفین کی گرفتاری ہو، کسی فرد کے مذہب اور عقیدے پر پابندیاں لگانا ہو یا مظالم ڈھانے اور زیادتیاں کرنا ہو، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور زیادتیاں یو ڈی ایچ آر کے حق میں کی جانے والی پیشرفتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اِن کاروائیوں کے پیش نظر ہمیں انسانی حقوق کے زیادہ سے زیادہ تحفظ کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے اور جب بھی ہم انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزیاں یا زیادتیاں ہوتیں دیکھیں تو ہمیں جوابدہی کو فروغ دینا چاہیے۔

یو ڈی ایچ آر کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یو ڈی ایچ آر کو ایسے میں ہمارے لیے مشعل راہ بنے رہنا چاہیے جب ہم ایک ایسی دنیا تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہیں جس میں ہم رہنا چاہتے ہیں۔ اس کا یہ پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ 75 برس قبل اہم تھا یعنی: انسانی حقوق کا تعلق ہر ایک سے، ہر جگہ پر ہے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/human-rights-day-3/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future