An official website of the United States Government Here's how you know

Official websites use .gov

A .gov website belongs to an official government organization in the United States.

Secure .gov websites use HTTPS

A lock ( ) or https:// means you’ve safely connected to the .gov website. Share sensitive information only on official, secure websites.

وائٹ ہاؤس
23 ستمبر، 2021

”ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک شخص کی حسبِ ضرورت خوراک تک رسائی نہیں ہے ـــ امریکہ غذائی قلت کے فوری مسئلے سے نمٹںے اور یہ یقینی بنانے کے لیے اپنے شراکت داروں کو اکٹھا کرنے کا عہد کر رہا ہے کہ ہم آنے والی دہائیوں میں دنیا کو خوراک کی پائیدار فراہمی ممکن بنا سکیں۔ امریکہ اس مقصد کے لیے بھوک کے خاتمے اور اندرون و بیرون ملک خوراک کے نظام بہتر بنانے کے لیے 10 بلین ڈالر دینے کا وعدہ کر رہا ہے۔” ـــ صدر بائیڈن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب، 21 ستمبر، 2021

امریکہ خوراک کے نظام تبدیل کرنے کے لیے جدید، جامع، سائنسی بنیاد پر کام کرنے والے اور تخلیقی طریقہ ہائے کار وضع کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ امریکہ آمدنی کے مواقع کو وسعت دینے، خوراک کی فراہمی اور اس کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے، خوراک کے نقصان اور ضیاع کو کم کرنے اور غذائی تنوع اور غذائیت میں بہتری لانے کے اقدامات کے ذریعے غذائی تحفظ اور خوراک کی فراہمی کے پائیدار نظام برقرار رکھنے کے لیے مقامی اور عالمی سطح پر پوری طرح فعال منڈیوں کی طاقت سے کام لینے کے لیے پُرعزم ہے۔

خوراک کے پائیدار نظام کی تعمیر پائیدار سماجی، معاشی اور ماحولیاتی ترقی کا تقاضا کرتی ہے۔ غربت کے خاتمے، دنیا کی غذائی ضروریات پوری کرنے اور زراعت پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنے کے لیے خوراک کے موثر نظام خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ غذا اور غذائیت کا طویل مدتی تحفظ یقینی بنانے کے لیے غذائی نظام کے تمام اجزائے ترکیبی کو گرم ہوتی زمین سے مطابقت اختیار کرنے کے قابل بنانا اور ماحول دوست زرعی طریقہ ہائے کار کے ذریعے عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا بھی اہم ہے۔

امریکی محکمہ زراعت کے سیکرٹری ٹام وِلسیک اور یوایس ایڈ کی منتظم سمانتھا پاور نے 23 ستمبر کو نظام ہائے خوراک سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیخش اور عالمگیر شراکت داروں کے ساتھ شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد بھوک اور ناقص غذائیت کے خاتمے اور اندرون و بیرون ملک مزید پائیدار، مساوی اور مضبوط نظام ہائے خوراک کے قیام کے لیے فوری عملی اقدامات میں اضافہ کرنا ہے۔ ان اہداف کی جانب پیش رفت کی رفتار تیز کرنے کے لیے امریکی عزم کے اظہار کے طور پر امریکہ نے کئی سال پر محیط 10 بلین ڈالر سے زیادہ کی منصوبہ بند سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد اختراع اور ماحول دوست زراعت، خوراک تک رسائی کے مضبوط انفراسٹرکچر اور منڈی کے جامع مواقع، خواتین اور بچوں کی ضروریات کو ترجیح دینے والے پروگراموں، بہتر غذائیت، خوراک کے نقصان اور ضیاع میں کمی کے اقدامات، موسمیاتی تبدیلی کو محدود رکھنے اور اپنے ملک اور دنیا بھر میں بدلتے موسمی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے اقدامات کے ذریعے نظام ہائے خوراک میں تبدیلی کے عمل کو ترقی دینا ہے۔ امریکی انتظامیہ ان اہم اقدامات پر پیش رفت کے لیے کانگریس کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہے۔

اندرون ملک ہم ان مسائل سے نمٹنے کی راہیں متعین کر رہے ہیں جن میں ماحولیاتی بحران کے منفی اثرات اور کووڈ۔19 کے باعث جنم لینے والے معاشی انتشار سے بہتر طور پر بحالی بھی شامل ہے۔ یوایس ڈی اے کے سیکرٹری ٹام وِلسیک نے اعلان کیا ہے کہ ہم وعدے کے مطابق دیے جانے والے 10 بلین ڈالر میں سے 5 بلین ڈالر امریکہ میں نظام ہائے خوراک کو مضبوط بنانے پر خرچ کرنا چاہتے ہیں جس میں نظام اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری بھی شامل ہے تاکہ تمام امریکیوں کے لیے صحت بخش خوراک یقینی بنائی جا سکے اور ہمارے نظام ہائے خوراک کی جامعیت اور مضبوطی بہتر کرنے کے لیے شفاف اور موثر منڈیوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔ اندرون ملک دیگر سرمایہ کاری ماحول دوست زراعت اور جنگلات کو وسعت دینے میں مدد دیتی ہے۔

امریکہ ناصرف اندرون ملک بلکہ دوسری حکومتوں، مقامی کرداروں اور نجی شعبے کے اشتراک سے عالمی سطح پر بھی ان مسائل سے نمٹنے کا عزم رکھتا ہے۔ کانگریس کے ساتھ کام کرتے ہوئے اور عالمی سطح پر سب سے زیادہ زرعی پیداوار، معاشی ترقی، غذائی امداد اور انسانی امداد مہیا کرنے والے ادارے کی حیثیت سے اپنی طویل تاریخ کو آگے بڑھاتے ہوئے یوایس ایڈ کی منتظم اور فیڈ دی فیوچر پروگرام کی رابطہ کار سمانتھا پاور نے آئندہ پانچ سال میں 5 بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جو امریکی حکومت کی جانب سے بھوک پر قابو پانے اور غذائی تحفظ سے متعلق عالمگیر اقدام ہے جس کے تحت فیڈ دی فیوچر پروگرام سے استفادہ کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ غربت، بھوک اور ناقص غذائیت میں کمی لانے کےلیے 2010 میں شروع کردہ فیڈ دی فیوچر پروگرام دنیا بھر کے ممالک کو نظام ہائے خوراک میں تبدیلی کی راہ پر مدد دیتا ہے اور اختراع، ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے شعبے میں امریکہ کی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لاتا ہے۔

فیڈ دی فیوچر اقدام کے تحت عالمی سطح کے پروگرام اور اقوام متحدہ کی نظام ہائے خوراک سے متعلق کانفرنس کے اہداف کے حصول میں مدد دینے والے دیگر داخلی پروگرام درج ذیل ہیں:

غذائی تحفظ اور زرعی منصوبوں کی مالی معاونت: امریکہ کی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) نے آئندہ پانچ سال میں غذائی تحفظ اور اور زرعی منصوبہ جات کے لیے ایک بلین ڈالر کی مالی معاونت کا ہدف طے کیا ہے۔ ڈی ایف سی زرعی پیداور، آبپاشی، خوراک کی پراسیسنگ، خوراک ذخیرہ کرنے، ترسیل اور انتظام و انصرام اور نظام ہائے خوراک سے متعلق مالیات و ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں نجی شعبے کے منصوبوں کو قرض، حصص کی سرمایہ کاری اور پولیٹیکل رِسک انشورنس مہیا کرے گی۔

کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں غذائیت کے لیے مالی وسائل کی فراہمی: امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یوایس ایڈ) ڈی ایف سی اور ایلینار کروک فاؤںڈیشن کے جاری اشتراک میں شمولیت اختیار کر رہا ہے اور اس اقدام کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ناقص غذائیت کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے، ناقص غذائیت اور غذائی عدم تحفظ پر کووڈ۔19 کے اثرات پر قابو پانے اور دنیا بھر میں ناقص غذائیت میں کمی لانے کے لیے نجی شعبے سے کام لینے کے لیے آئندہ پانچ سال میں 100 ملین ڈالر کا اہتمام کرنا ہے۔ مزید برآں اس اشتراک کی بدولت اچھی غذائیت والی خوراک کے شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ای) کے لیے مالیات کی فراہمی میں حائل خلا پُر کرنے میں مدد ملے گی۔ ایسے کاروبار ہی ذیلی صحارا افریقہ کے لیے بیشتر خوراک مہیا کرتے ہیں تاہم اکثر انہیں بہتری اور ترقی کے لیے درکار سرمائے تک رسائی نہیں ملتی۔

استحکامِ خوراک: یوایس ایڈ نے آئندہ پانچ سال میں بڑے پیمانے پر استحکامِ خوراک کی مد میں 38 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے تاکہ انتہائی ضرورت مندوں کو ضروری وٹامن اور نمکیات مہیا کیے جا سکیں۔ یوایس ایڈ کی سرمایہ کاری سے عالمگیر قیادت، مخصوص تناظر میں مہارتوں اور حکومتوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ شراکتوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر تحفظ خوراک میں مدد ملے گی۔ 38 ملین ڈالر کی اس سرمایہ کاری کے علاوہ یوایس ایڈ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور یونیسف کے ساتھ بڑے پیمانے پر تحفظِ خوراک کی ایک نئی شراکت قائم کرے گا تاکہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں بڑے پیمانے پر ناقص غذائیت پر قابو پایا جا سکے۔

خوراک کے نقصان اور ضیاع میں کمی لانا: دنیا بھر میں خارج ہونے والی آٹھ سے دس فیصد گرین ہاؤس گیسیں خوراک کے نقصان اور ضیاع کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ یوایس ایڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پانچ سال میں نئے تحقیقی ایوارڈز کے لیے 60 ملین ڈالر دینے کا ارادہ رکھتا ہے جن سے خوراک کے نقصان اور ضیاع میں کمی لانے کے لیے اہم طریقہ ہائے کار وضع کرنے میں مدد ملے گی۔ اس میں 25 ملین ڈالر کا ایک ایوارڈ اور اس کے ساتھ ٹفٹس یونیورسٹی کے لیے 15 ملین ڈالر کی اضافی مالی معاونت بھی شامل ہے جس سے فیڈ دی فیوچر کی فوڈ سسٹمز فار نیوٹریشن کی اختراعی لیبارٹری چلانے میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے خوراک کے نقصان اور ضیاع پر قابو پانے کے لیے قائم کردہ عالمی اتحاد ‘فوڈ از نیور ویسٹ’ میں شمولیت اختیار کی ہے اور اندرون ملک خوراک کے نقصان اور ضیاع میں کمی لانے کے لیے اس کے حالیہ وعدوں کی توثیق کی اور انہیں مضبوط بنایا ہے۔

سکولوں میں کھانے مہیا کرنے کا اتحاد: امریکہ نے ‘سکول میلز: نیوٹریشن، ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فار ایوری چائلڈ’ نامی عالمگیر اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانے میں مدد دینا ہے کہ 2030 تک سکولوں میں ہر بچے کو غذائیت سے بھرپور کھانے تک رسائی ملے۔ یہ اتحاد کثیر شعبہ جاتی تعاون، مالی وسائل کی فراہمی کے مستحکم ذرائع اور پروگرام کا معیار اور تاثیر بہتر بنانے کے لے جاری تحقیق کے ذریعے دنیا بھر کے سکولوں میں خوراک کی فراہمی کے جامع اور موثر پروگراموں میں مدد دے گا۔

ماحول دوست زراعت و جنگلات (سی ایس اے ایف): استحکام میں اضافے کا باعث بننے والی زرعی افادیت اور آمدنی کے حصول، زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے اور اس کے خلاف قوت مزاحمت پیدا کرنے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے یا اس کے خاتمے کے اہداف کے ساتھ سی ایس اے ایف غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی میں کمی لانے اور زراعت کو اس کے مطابق ڈھالنے کے عالمگیر اہداف کی تکمیل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ نظام ہائے خوراک سے متعلق کانفرنس میں امریکہ اور متحدہ عرب امارات نے ایگریکلچر انوویشن مشن فار کلائمیٹ (ایم فار کلائمیٹ) نامی عالمگیر اقدام کو آگے بڑھایا جس کے لیے ماحول دوست زراعت اور نظام ہائے خوراک میں اختراع کے لیے سرکاری و نجی شعبے کی سرمایہ کاری ڈرامائی طور سے بڑھانے کا ہدف ترتیب دیا گیا ہے۔ صدر بائیڈن کی جانب سے اپریل میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی رہنماؤں کی کانفرنس میں اس اقدام کا جائزہ لیے جانے کے بعد ایم فار کلائمیٹ کی حمایت کرنے والے ممالک کی تعداد تین گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں نظام ہائے خوراک سے متعلق کانفرنس میں امریکہ نے خوراک اور وسائل کے تحفظ کے لیے پائیدار پیداواری ترقی سے متعلق ایک عالمگیر اتحاد کی تشکیل کا اعلان کیا۔  اس اتحاد کا مقصد ایسی زرعی پیداواری ترقی کے ذریعے مزید پائیدار نظام ہائے خوراک کی جانب منتقلی کی رفتار تیز کرنا ہے جن میں سماجی، معاشی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر زرعی استحکام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اندرون ملک سی ایس اے ایف کو مزید ترقی دینے کے لیے امریکہ نے اپنی سی ایس اے ایف حکمت عملی جاری کی اور سی ایس اے ایف کی معاونت کے لیے متعدد حفاظتی پروگراموں پر عمل کر رہا ہے۔

صنفی قبولیت پر مبنی نظام ہائے زراعت کی پالیسی (جی آر اے ایس پی): یو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے افریقہ میں خواتین پالیسی سازوں کے لیے ساڑھے تین سالہ ورچوئل فیلو شپ پروگرام پالیسی میں تبدیلی کی رفتار تیز کرتا ہے جس سے صںفی مساوات کو ترقی اور نظام ہائے خوراک میں خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد ملتی ہے۔ جی آر اے ایس پی کی فیلوشپ افریقہ میں نیٹ ورکس، رکنیت اور مخصوص قیادت اور پیشہ وارانہ ترقی کے ایسے مواقع پیدا کر کے 100 خواتین پالیسی سازوں کی مدد کرے گی جو ایسی پالیسی کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں جس سے تحفظ خوراک کے حامل سماجی گروہوں کی تشکیل میں خواتین کی بھرپور شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوتی ہیں۔

زراعت اور تحفظ خوراک کا عالمگیر پروگرام (جی اے ایف ایس پی) 1.7 بلین ڈالر مالیت کا ایک کثیر ملکی مالیاتی طریقہ کار ہے جس نے دنیا کے غریب ترین (صرف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ) ممالک کو زراعت اور تحفظ خوراک کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد دی ہے۔ امریکہ تاریخی طور پر جی اے ایف ایس پی میں سب سے زیادہ مالی مدد دینے والا ملک ہے جو اب تک اسے 668 ملین ڈالر دے چکا ہے۔

امریکہ نے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر جی اے ایف ایس پی کے رابطہ یونٹ سے عملی اقدامات کے لیے کہا تاکہ اس کی کارروائیوں میں ماحولیات سے متعلق منظم طور سے مربوط تصورات کو شامل کیا جا سکے جس میں تجاویز کے حوالے سے موضوعات، مطالبات اور منصوبے کی بناوٹ، عملدرامد اور نتائج کی جانچ کے لیے موثر معیارات شامل ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2021/09/23/fact-sheet-biden-harris-administration-commit-to-end-hunger-and-malnutrition-and-build-sustainable-resilient-food-systems/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future