امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ماحولیات کے لیے خصوصی صدارتی نمائندے جان کیری کا کلیدی خطاب
21 جنوری 2021

جوزیپے ــ میرا اس قدر عمدہ تعارف کرانے پر آپ کا شکریہ ــ ہمیں درپیش عالمگیر ماحولیاتی بحران کے مسئلے پر آپ کے ساتھ چند خیالات کے تبادلے کے لیے مدعو کیے جانے  پر میں آپ سبھی کا مشکور ہوں۔

صدر بائیڈن کی انتظامیہ میں ماحولیات پر صدارتی نمائندے کی حیثیت سے میرے پہلے مکمل دن کی صبح کے 7:30 بج چکے ہیں۔ اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے دن کا ابتدائی وقت مناسب ہے کیونکہ ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے واقعتاً ایک منٹ بھی نہیں ہے اور اب جبکہ ہم سب اپنی راہ عمل متعین کر رہے ہیں تو ایسے میں نجی شعبے سے زیادہ اہم اور ذی اختیار سامعین واقعتاً کوئی اور نہیں ہو سکتے۔

ہم نے اس سلسلے میں پیش رفت کا آغاز گزشتہ روز کیا جب صدر بائیڈن نے پیرس ماحولیاتی معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کی، اپنی پوری حکومت میں مہارت اور بصیرت کے حامل ماحولیاتی رہنماؤں کی ایک ٹیم بنائی اور اپنے قلم کی چند جنبشوں سے اندرون ملک ماحولیاتی قیادت بحال کرنے کا آغاز کیا۔

تاہم اس معاملے میں آگے بڑھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور دنیا بھر کے ممالک اور کمپنیوں کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ عاجزانہ اور حوصلہ مند انداز میں اس راہ پر گامزن ہوں۔

عاجزی اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کل تک امریکہ کی وفاقی حکومت اس مسئلے کے حل میں شریک نہیں تھی اور ضائع ہونے والے ان چار برس میں ہم اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے سکتے تھے۔

یہ بات جانتے ہوئے بھی عاجزی ضروری ہے کہ اگر ہماری تمام صنعتی وسعت کو دیکھا جائے تو ہم عالمی سطح پر مضر گیسوں کے اخراج کے صرف 15 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے پوری دنیا کو سامنے آنا چاہیے۔

یہ حقیقت مدنظر رکھتے ہوئے بھی عاجزی سے کام لینا اہم ہے کہ آج کوئی ملک اور کوئی براعظم اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔

نومبر میں سی او پی کے موقع پر تمام ممالک کو باہم مل کر اپنے عزائم بلند کرنا ہوں گے ــ وگرنہ ہم سبھی اکٹھے ناکام ہو جائیں گے۔

ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اسی لیے حوصلہ مندی انتہائی اہم ہے۔

کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ ہم دماغی قوت سے متبادل توانائی کی طاقت تک ہر ذریعے سے اپنی بہترین مجموعی ہنرمندی، تخلیقیت اور سفارت کاری سے کام لیتے ہوئے اپنی منزل کی طرف جائیں۔ کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ طویل عرصہ سے ترقی سے محروم لوگوں کی حالت تبدیل کی جائے اور ایک منصفانہ بحالی ممکن بنائی جائے۔

ہمارے سامنے دلچسپ راہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  متوسط طبقے کے لیے لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری فضا اور ہمارے سمندروں میں آلودگی کم ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو صحت مند زندگی میسر آئے گی، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم روئے زمیں پر ہر ملک کی سلامتی کو مضبوط بنائیں گے۔

اس سلسلے میں آپ کی کمپنیاں اور صنعتیں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہیں اور انہیں کرنا چاہیے۔

مضر صحت گیسوں سے پاک مستقبل کاروبار، صاف اور ماحول دوست نوکریوں، معاشی ترقی اور صدر کے الفاظ میں عالمگیر معاشی بحران سے نکل کر ”دوبارہ بہتری لانے” کے لیے بہت بڑے مواقع پیش کرتا ہے۔

چند مثالیں یہ بات ثابت کرتی ہیں جیسا کہ:

آج دنیا میں سب سے زیادہ قدر کی حامل آٹو کمپنی ٹیسلا ہے اور یہ صرف بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بناتی ہے۔

مٹسوبشی آسٹریا میں دنیا کا سب سے بڑا ماحول دوست سٹیل پلانٹ تعمیر کر رہی ہے۔

ہائیڈل برگ سیمنٹ ناروے میں ایک پلانٹ پر کام کر رہی ہے جو 2030 تک اندازاً اپنی تمام کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کنکریٹ سے جذب کر رہا ہو گا۔

دنیا بھر میں بجلی پیدا کرنے والا سستا ترین نیا پلانٹ توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر مبنی ہوتا ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ کیوں 70 فیصد نئی بجلی اس طریقے سے پیدا کی جا رہی ہے۔

ماحول دوست معیشتیں نئی نوکریاں پیدا کریں گی۔ یورپی یونین کا اندازہ ہے کہ اس کے ہاں ماحول دوست معیشت کے ذریعے دو ملین اضافی نوکریاں پیدا ہوں گی۔

امریکہ میں کوویڈ آنے تک ہم نے ماحول دوست ملازمتوں کے حوالے سے پانچ سال مسلسل ترقی کی اور اس دوران ملک بھر میں 3.3 ملین نئے کارکنوں کو نوکریاں ملیں (Clean Jobs America 2020 I E2)۔

اسی عرصہ کے دوران انڈیا میں ماحول دوست شعبہ جات میں نوکریوں کی تعداد پانچ گنا بڑھ گئی ہے (5-Fold Increase in Clean Energy Jobs in 5 Years: India (nrdc.org)-)

مگر ہم سبھی کو اکٹھے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو تباہ کن نقصان سے بچاؤ کے لیے ہمیں درکار اہداف کی تکمیل تو ایک طرف، موجودہ اہداف کی تکمیل کے لیے مضر گیسوں کے اخراج میں عمودی کمی لانے والے ممالک بھی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمیں:

کوئلے کے استعمال میں کمی لانے کا عمل موجودہ رفتار (2013 سے 2018 کے رحجان سے موازنے کی بنیاد پر) سے پانچ گنا زیادہ تیز کرنا ہے۔

موجودہ رفتار کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تیزی سے درختوں کی تعداد کو بڑھانا ہے۔

قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں چھ گنا زیادہ تیزی سے اضافہ کرنا ہے۔

بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی جانب منتقلی کا عمل 22 گنا زیادہ تیزی سے کرنا ہے۔

2050 تک کاربن کے اخراج کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کے لیے عالمگیر معیشت میں مکمل تبدیلی درکار ہے۔ اس تبدیلی کی کامیابی کا بڑی حد تک دارومدار نجی شعبے کی قیادت پر ہے جس میں کمپنیاں، سرمایہ کار اور اختراع کار شامل ہیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کے لیے زندگی کا بہترین معاشی موقع ہے۔

ہم دولت پیدا کرنے کا ایک بے مثال موقع دیکھ رہے ہیں۔

2015 سے، جب پیرس ماحولیاتی معاہدے پر دستخط ہوئے، عالمگیر سطح پر بجلی کی پیداوار میں شمسی اور ہوائی توانائی کا حصہ دگنا ہو کر 10 فیصد تک پہنچ گیا۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں اب قابل تجدید توانائی رکازی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں سے زیادہ سستی ہے۔

نئی ماحول دوست توانائی کے شعبے میں عالمگیر سرمایہ کاری موجودہ صدی کے نصف تک 10 ٹریلین سے بڑھنے کو ہے جو کہ ماحول کے لیے مضر ذرائع میں سرمایہ کاری سے چھ گنا زیادہ ہے۔

ہائیڈروجن سے لے کر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں تک ماحول دوست توانائی کے دیگر شعبہ جات بھی آنے والی دہائیوں میں کئی ٹریلین ڈالر کی منڈیاں تخلیق کر سکتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے۔ ماحول دوست توانائی سستی ہوتی ہے مگر مضر گیسوں کے اخراج اور پھر ان کو ماحول سے مکمل طور پر خارج کرنے کے مرحلے (نیٹ زیرو ٹرانزیشن) تک پہنچنے کا عمل بہت پیچیدہ ہو جائے گا جو ہر جگہ بہت بڑے درجے کی  قیادت کا تقاضا کرتا ہے۔

محض زیادہ سے زیادہ ماحول دوست توانائی متعارف کرانا کافی نہیں ہو گا۔ دنیا بھر میں بڑی معیشتوں کو اپنے توانائی کے نظام کی درستگی کے لیے مخصوص راہ عمل تیار کرنا اور اس پر چلنا ہو گا۔

انہیں مضر گیسیں خارج کرنے والے ایسے شعبہ جات پر ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہو گا جن کے اثرات سرحد پار جاتے ہوں۔ ان میں ہوابازی، جہاز رانی، بڑی صنعتیں، توانائی اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ انہیں ہر شعبے میں کاربن کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی لانے کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہو گا۔ انہیں ماحول اور آلودگی خارج کرنے والے پلانٹس سے مضر گیسوں کو جذب اور ذخیرہ کرنے پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

ماحول سے مضر گیسوں کو خارج کرنے کے لیے فوری قدم اٹھانے میں حکومتوں کا اہم کردار ہے۔ تاہم انہیں نجی شعبے کے ساتھ قریبی شراکت قائم کرنا ہو گی جو معیشت کے ہر شعبے میں مہارت کا حامل ہے، نئے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی ٹھوس اہلیت رکھتا  ہے اور نئی  اختراعات منڈی میں لانے کے لیے درکار ہنرمندی اور تحرک کا حامل ہے۔

موجودہ دہائی میں 2030 تک دنیا کو توانائی کی تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ماحول دوست توانائی کے نظام میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔

میں پرامید ہوں کہ ہم اس منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

پہلی مرتبہ اس حوالے سے پائیدار سرمایہ کاری کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے بڑھ گئی ہے اور ای ایس جی میں سرمایہ کاری میں ترقی کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے اور اس  کی مالیت 2020 میں چار گنا بڑھ چکی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اختراعی ٹیکنالوجی میں تمسکاتی سرمایہ کاری بھی 2020 میں نئی بلندی تک پہنچی۔

دنیا بھر میں توانائی کے ذرائع کی تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے نئی اور بہتر ماحول دوست ٹیکنالوجی کی تیاری اور ترقی اہم ہو گی۔ اگرچہ شمسی اور ہوائی توانائی جیسی گنی چنی ماحول دوست ٹیکنالوجی اب رکازی ایندھن کے مقابلے میں سستی ہیں مگر بیشتر دیگر ماحول دوست ٹیکنالوجی ابھی سستی نہیں ہوئیں۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اہم نوعیت کی 46 میں سے 42 ماحول دوست ٹیکنالوجی تاحال درست راہ پر نہیں ہیں۔ ماحول سے مضر صحت گیسوں کو خارج کرنے کا ہدف تیزی سے پانے کے لیے کاربن کے اخراج میں درکار کمی کی نصف حد تک پہنچنے کے لیے توانائی سے متعلق جس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے وہ ابھی تک تجارتی منڈیوں تک نہیں پہنچی۔

اختراع کے بغیر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے  کی کوشش مہنگی، پیچیدہ اور غیرمقبول ہو گی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہمیں یہ انتخاب نہیں کرنا۔

ہم باہم مل کر اور اختراع کے ذریعے یہ مسئلہ بھی حل کر سکتے ہیں جیسا کہ ہم نے بہت سے دوسرے مسئلے حل کیے ہیں۔

اسی لیے جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی صنعتیں لگانا دنیا بھر کے ممالک کے لیے اہم ہے۔ توانائی کی ذخیرہ کاری، جدید تحرک، توانائی کی جدید تر قابل تجدید اور دوسری ماحول دوست ٹیکنالوجی، ماحول دوست صنعتی طریقہ ہائے کار، کاربن خارج نہ کرنے والے ایندھن، تیز و موثر نظام، کاربن کے انجذاب اور ایسے مزید اقدامات کی بدولت ہم نئی ٹیکنالوجی اور نئی منڈیاں تخلیق کرنے کا ایک نایاب موقع پانے کے قریب ہوں گے۔ مستقبل کی ان صنعتوں کو ترقی دینے کو اپنی تزویراتی ترجیح بنانے والے ممالک ناصرف اپنی سرحدوں کے اندر اور باہر مضر گیسوں کے اخراج کو محدود کریں گے بلکہ وہ عالمگیر معاشی تبدیلی میں اپنا حصہ ڈال کر اقتصادی فوائد بھی سمیٹیں گے۔

ماحول سے کاربن کے اخراج کی معاشیات کا بے نفع نقصان ہونا ضروری نہیں۔ دنیا بھر کے ممالک اس معاملے میں ایسے انداز میں ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں جس سے صحت مند مسابقت کی گنجائش نکلے اور اس دوران یہ احساس بھی موجود ہو کہ اختراع کی رفتار بڑھانے اور ماحول سے کاربن کا خاتمہ کرنے کے لیے ہماری مشترکہ کوششیں مجموعی معاشی فوائد کے حجم میں اس قدر اضافہ کر دیں گی کہ اس سے سبھی کو فائدہ ہو گا۔ نجی اور سرکاری شعبے کے مابین اور قومی سرحدوں کے پار قریبی تعاون کے ذریعے ہم ماحول دوست سرمایے کی منڈیوں کے لیے پائیدار مالیات کے نئے ذرائع پیدا کر سکتے ہیں اور مضر گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے جدید ترین اشیا بنا سکتے ہیں۔

آئیے اب عاجزانہ اور حوصلہ مند انداز میں گلاسگو اور ماحول سے کاربن کے مکمل اخراج (نیٹ زیرو) کی راہ تک پہنچنے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کریں۔ یہ ماحولیاتی تبدیلی کو شکست دینے اور اپنے بچوں کے لیے ایسی دنیا چھوڑنے کی راہ ہے جو خوشحال، صحت مند اور محفوظ ہو۔

میں آپ کے سوالات اور آپ کی شراکت کا منتظر ہوں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لِنک https://www.state.gov/remarks-at-the-keynote-session-of-b20-2021-inception-meeting/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future