An official website of the United States government Here's how you know

Official websites use .gov

A .gov website belongs to an official government organization in the United States.

Secure .gov websites use HTTPS

A lock ( ) or https:// means you’ve safely connected to the .gov website. Share sensitive information only on official, secure websites.

امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
واشنگٹن ڈی سی
7 مئی 2021

وزیر خارجہ بلنکن: صبح کا سلام، سہ پہر کا سلام، شام کا سلام۔ میں چین اور وزیر خارجہ وانگ کا اقوام متحدہ کے مستقبل اور بین الاقوامی نظام کے بارے میں اس انتہائی اہم مباحثے کا آغاز کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی بات شروع کرتا ہوں۔ اور جنرل اسمبلی کے صدر، بوزکیر، آپ کا بھی قیادت کرنے پر شکریہ۔

جب دوسری جنگ عظیم کے بعد [دنیا] کے ممالک اقوام متحدہ کی تشکیل کے لیے اکٹھے ہوئے تو حقیقی معنوں میں اس وقت تک کی پوری انسانی تاریخ یہ ظاہرکرتی تھی کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ مقابلہ لامحالہ تصادم کا باعث بنتا تھا۔ کسی قوم یا قوموں کے کسی گروہ کے عروج کا لازمی نتیجہ دوسروں کے زوال کی صورت میں نکلتا تھا۔

پھر ہماری اقوام ایک مختلف راستے کا انتخاب کرنے کے لیے متحد ہوگئیں۔ ہم نے تنازعات کی روک تھام اور انسانی مصائب کو دور کرنے کے لیے اصولوں کا ایک مجموعہ اپنایا [یعنی] انسانی حقوق کو تسلیم کرنا اور ان کا دفاع کرنا۔ ایک ایسے نظام کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے لیے جاری مکالمے کو فروغ دینا جس کا مقصد تمام لوگوں کو فائدہ پہنچانا تھا۔

طاقتور ترین ممالک نے اپنے آپ کو ان اصولوں کا پابند بنایا۔ وہ خود پر قابو پانے کی ایک شکل پر متفق ہوئے [یعنی] صدر ٹرومین کے الفاظ میں انہوں نے ہمیشہ اپنی خوشی کے مطابق کام کرنے کے اجازت نامے سے خود انکار کیا اور انہوں نے تسلیم کیا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف انسانیت بلکہ اُن کے مفادات بھی پورے ہوں گے۔ امریکہ نے یہ کام کیا حالانکہ اُس وقت امریکہ دنیا کا طاقت ور ترین ملک تھا۔ یہ ایک روشن خیال ذاتی مفاد تھا۔ ہمیں یقین تھا کہ دوسری قوموں کی کامیابی ہماری کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ کم طاقتور ممالک خطرہ محسوس کریں اور ہمارے خلاف اکٹھے ہوجائیں۔

اس کے بعد آنے والے برسوں میں ہم نے سرد جنگ کی تقسیموں سے لے کر نوآبادیات کے دور اور اُن وقتوں تک کے مشکل چیلنجوں کا سامنا کیا جب بڑے پیمانے پر کیے جانے والے مظالم پر دنیا خاموش کھڑی رہی۔ اور آج، دنیا بھر کے تنازعات، ناانصافیاں اور مصائب اس بات کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں کہ ہماری کتنی امنگیں ہنوز ادھوری ہیں۔

جدید تاریخ کا کوئی دور اتنا زیادہ پرامن یا خوشحال نہیں رہا جتنا کہ اقوام متحدہ کی تشکیل کے بعد کا دور رہا ہے۔ ہم جوہری طاقتوں کے درمیان مسلح تصادم سے بچے رہے۔ ہم نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکلنے میں مدد کی۔ ہم نے انسانی حقوق کو جتنا فروغ اس کے بعد دیا اتنا پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔

اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود یہ دلیرانہ کوشش بدستور ایک بے مثل کارنامہ بنا ہوا ہے۔ یہ [اقوام متحدہ کا ادارہ] اس لیے چلتا رہا کیونکہ لوگوں اور ملکوں کی بھاری اکثریت اسے اپنے مفادات، اپنی اقدار، اپنی امیدوں کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

مگر آج یہ سنگین خطرات کا شکار ہے۔

قوم پرستی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، جبر بڑھ رہا ہے، ملکوں کے درمیان دشمنیاں شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہیں اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام پر حملوں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ آج بعض لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آیا کہ کثیرالفریقی تعاون اب بھی ممکن ہے۔

امریکہ اس پر یقین رکھتا ہے کہ یہ نہ صرف ممکن ہے، بلکہ ضروری ہے۔

بڑے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اب بھی کثیرالفریقیت ہمارا بہترین ہتھیار ہے۔ اس کی مثال وہ چیلنج ہے جس نے ایک میز پر بیٹھنے کی بجائے ہمیں آج سکرین پر اکٹھے ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ کووڈ-19 وبائی مرض سے ہونے والی لاکھوں اموات اور معاشیات، صحت، تعلیم، معاشرتی ترقی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات نے زندگی کی اُس شکل کو بدل کر رکھ دیا ہے جس شکل  سے ہم پورے کرہ ارض میں مانوس تھے۔

آب و ہوا کا بحران ایک اور بہت بڑا خطرہ ہے۔ اگر ہم اخراجوں کو کم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات نہیں اٹھاتے تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

ہم نے ان جیسے بڑے، پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کثیرالفریقی نظام بنایا۔ اِن مسائل کے حل سے دنیا بھر کے لوگوں کی قسمتیں جڑی ہوئی ہیں اور جہاں کوئی اکیلا ملک، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تنہا اِن چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ کووڈ-19  کو روکنے اور آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے کی خاطر امریکہ کثیرالفریقی اداروں کے ذریعے کام کرے گا۔ اور جب ہم یہ کام کریں گے تو ہم بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کریں گے۔

ہم ان امور پر دنیا کے ہر ایک ملک کے ساتھ مل کر کام کریں گے چاہے ہمارے اس ملک کے ساتھ کتنے ہی سنگین اختلافات کیوں نہ ہوں۔ اتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے کہ ان اختلافات کو ہمارے تعاون کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بات ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور استعمال کو روکنے، جان بچانے والی انسانی امداد کی فراہمی، مہلک تنازعات کو سنبھالنے پر بھی صادق آتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ جب ہم یہ دیکھیں گے کہ [دوسرے] ممالک بین الاقوامی نظام کو کمزور کررہے ہیں، یہ بہانے تراش رہے ہیں کہ جن قواعد پر ہم سب نے اتفاق کیا ہے ان کا کوئی وجود نہیں یا اپنی مرضی سے ان کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو اس صورت  میں ہم مخالفت کرنا جاری رکھیں گے۔

تین طریقے ایسے ہیں جن سے ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔

پہلے، تمام ممبروں کو اپنے وعدے پورے کرنا چاہیئیں بالخصوص وہ وعدے جن کو پورا کرنے کے وہ قانونی طور پر پابند ہیں۔  اس میں اقوام متحدہ کا منشور، معاہدے اور کنونشن، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، انسانیت سے متعلق بین الاقوامی قانون، اور عالمی تجارتی تنظیم اور بین الاقوامی معیار مقرر کرنے والی متعدد تنظیموں کے تحت وہ قوانین اور معیار بھی شامل ہیں جن  پر اتفاق کیا جا چکا ہے۔

میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ امریکہ دوسری قوموں کو نیچا دکھانے کے لیے قوانین پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ جس بین الاقوامی نظام کی تشکیل اور جس کے دفاع میں ہم نے مدد کی اس نظام نے ہمارے بعض سخت ترین حریفوں کو ابھرنے کے قابل بنایا۔ ہمارا مقصد اس نظام کا صرف دفاع کرنا، اسے برقرار رکھنا اور اسے تقویت پہنچانا ہے۔

دوسرے، انسانی حقوق اور وقار کو بین الاقوامی نظام کی بنياد پر قائم رہنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی بنیادی اکائی، [یعنی] منشور کے پہلے جملے سے مراد صرف قومی ریاست ہی نہیں ہے۔ یہ انسان بھی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتیں جو کچھ اپنی حدود کے اندر کرتی ہیں وہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے، اور یہ کہ انسانی حقوق موضوعاتی اقدار ہیں جو معاشروں کے حساب سے بدل جاتی ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کا آفاقی اعلامیہ “آفاقی” کے لفظ سے شروع ہوتا ہے۔ چونکہ ہماری اقوام اس پرمتفق ہیں کہ کچھ حقوق ایسے ہیں جن کا ہر فرد، دنیا مِیں ہر جگہ، حقدار ہے۔ ملکی دائرہ اختیار پر زور دینے سے کسی بھی ریاست کو اپنے لوگوں کو غلام بنانے، تشدد کرنے، غائب کرنے، نسلی طور پر اپنے لوگوں کو ختم کرنے یا کسی اور طرح سے ان کے انسانی حقوق کی پامالی کرنے کی کھلی چھٹی نہيں مل جاتی۔

اور یہ مجھے اپنے تیسرے نکتے کی طرف لے جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ اپنے رکن ممالک کی خودمختارانہ مساوات کے اصول پر مبنی ہے۔ جب کوئی ریاست اس اصول کا احترام نہیں کرتی تو اس وقت وہ دوسرے ملک کی سرحدوں میں رد و بدل  کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وہ یا تو اس اصول کا احترام نہیں کرتی یا طاقت کا استعمال کر کے یا دھمکی دے کر علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے، یا دعوی کرتی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے انتخابات اور فیصلوں پر حکم چلانے یا ان کو مجبور کرنے کے لیے اثر و رسوخ کے دائرے کی حقدار ہے۔ اور ریاست اس وقت اس اصول کی توہین کرتی ہے جب وہ کسی دوسری [رياست] کو غلط معلومات یا بدعنوانی کے ہتھياروں سے نشانہ بناتی ہے، دوسرے ملکوں کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اور جمہوری اداروں کو نقصان پہچاتی ہے، یا بیرونی ممالک میں صحافیوں یا ناقدين کا پیچھا کرتی ہے۔

ان جارحانہ اقدامات سے اُس بین الاقوامی امن و سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جسے اقوام متحدہ کا منشور اس ادارے کو برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے۔ جب اقوام متحدہ کے ممبر ممالک – خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل ممبران – ان قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں میں رخنے ڈالتے ہیں تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ دوسروں کو ان قواعد کو توڑنے پر ملنے والی سزا سے استثنیٰ حاصل ہے۔۔ہم سب کو جانچ پڑتال [کے عمل] کو قبول کرنا ہوگا، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کيوں نا ہو۔ یہ ہمارے اُن وعدوں کا حصہ ہے جو ہم نے آزادانہ طور پر کیے ہوئے ہیں۔ اور اس میں امریکہ بھی شامل ہے۔

میں جانتا ہوں کہ حالیہ برسوں میں ہمارے کچھ اقدامات نے قواعد پر مبنی نظام کو نقصان پہنچایا ہے اور دوسروں کو یہ سوال کرنے پر بھی مجبور کیا ہے کہ کیا ہم ابھی بھی اس کے پابند ہیں۔ ہم دنیا سے کہتے ہیں کہ ہمارے الفاظ پر يقين کرنے کی بجائے، وہ ہمارے عزم کا فیصلہ ہمارے اعمال کی روشنی میں کریں۔

بائیڈن – ہیرس انتظامیہ کے تحت امریکہ پہلے ہی کثیر الفریقی اداروں کے ساتھ  بھرپور طریقے سے دوبارہ مصروف عمل ہو چکا ہے۔ ہم پیرس کے آب و ہوا کے معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کر چکے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے ساتھ عزم کا اعادہ کر چکے ہيں، اور ہم انسانی حقوق کی کونسل میں دوبارہ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم مشترکہ جامع منصوبے کی باہمی تعمیل پر واپس آنے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سفارت کاری میں مصروف ہیں۔ ہم کوويکس میں [دنیا میں] سب سے زیادہ معاونت فراہم کر رہے ہیں، جو کہ کوويڈ-19 ویکسینوں کی مساوی تقسیم کا بہترین ذریعہ ہے، اور ہم سیاسی مصلحتوں کے بغیر دوسروں کو [ویکسین کی] کروڑوں خوراکیں فراہم کر رہے ہیں۔

ہم اپنی جمہوریت میں عدم مساوات اور ناانصافیوں کے ازالے کے لیے بھی نہایت عاجزی کے ساتھ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ہم يہ سب کچھ کھلے اور شفاف طريقے سے کر رہے ہيں  تا کہ دنيا بھر کے لوگ ديکھ سکيں، چاہے يہ [عمل] کتنا ہی بدصورت ہی کيوں نا ہو، حتی کہ تکلیف دہ بھی کیوں نہ ہو۔ ایسا کرنے سے ہم مضبوط اور بہتر بن کر ابھریں گے۔

اسی طرح، ہمارا موجودہ اصولوں پر مبنی نظام کا دفاع کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ ہمیں اس میں بہتری اور وسعت لانا چاہیے۔ ہمیں گذشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران، نہ صرف ممالک کے درمیان بلکہ ان کے اندر طاقت کی حرکیات میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں جائز شکایات کو دور کرنے کی ضرورت ہے – خاص طور پر غیر منصفانہ تجارتی طری‍قے – جنہوں نے امریکہ سمیت متعدد ممالک میں کھلے بین الاقوامی معاشی نظام کے خلاف ردعمل پیدا کيا ہے۔ اور ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یہ نظام اُن نئے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے ليے درکار وسائل رکھتا ہے جن کی مثالیں قومی سلامتی اور نئی ٹکنالوجی سے لے کرسائبر حملوں، نگرانی اور امتيازی الگورتھم سے جنم لينے والے انسانی حقوق سے متعلق تحفظات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ آخر ميں، ہمیں اتحادوں کی تشکیل کے طریقوں کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنی سفارت کاری اور ترقیاتی کوششوں میں شامل کرنے کے طریقوں کو بھی جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب علاقائی خطوط پر غیر روایتی شراکت دارياں قائم کرنا، شہروں، نجی شعبے، اداروں، سول سوسائٹی اور سماجی اور نوجوانوں کی تحریکوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ اور ہمیں اپنے ممالک کے اندر اور ان کے مابین برابری کو بہتر بنانا ہوگا اور اُن معاشی، سياسی اور معاشرتی خليجوں کو پاٹنا ہو گا جو نسل، جنس، اور ہماری شناخت کے دیگر حصوں کی بنیاد پر برقرار رہتی ہیں اور جن سے ہماری شناخت طے پاتی ہے۔  اس ادارے کی تشکیل کے وقت صدر ٹرومین نے کہا تھا، “یہ منشور کسی بھی قوم یا کسی بھی چھوٹی يا بڑی قوموں کے  ایک گروہ کا کام نہیں تھا۔ یہ دوسروں کے خیالات اور مفادات کے ليے رواداری، کچھ لو اور دو پر مبنی جذبے کا نتیجہ تھا۔” انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوام اپنے اختلافات بیان کرسکتی ہیں، ان کا سامنا کرسکتی ہیں اور قائم رہنے کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کرسکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کے مابین اور اس کونسل میں ہمارے درمیان بدستور شدید اختلافات موجود ہیں۔ لیکن امریکہ کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ مل کر اس مشترکہ زمین کو تلاش کرنے اور کھڑا ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا جو اس نظام کے ساتھ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا جسے ہم نے مشترکہ طور پر تشکيل  ديا ہے اور جس کا ايک ساتھ مل کر ہميں دفاع کرنا اور اسے تقویت پہنچانا ہے۔  یہ اس وقت کا عظیم امتحان ہے۔ آئیے مل کر اس پر پورا اتريں۔آپ کا شکریہ


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-virtual-remarks-at-the-un-security-council-open-debate-on-multilateralism/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future