امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
3 جون، 2021

کل تیان من سکوائر میں قتل عام کو 32 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس چوک کو قریبی ‘الوہی امن و سلامتی کے دروازے’ کی مناسبت سے یہ نام دیا گیا ہے لیکن اب یہ چوک 1989 میں چین کی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے جانا جاتا ہے جن کا مقصد حکومت میں اپنی رائے منوانے اور اپنے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لیے آواز اٹھانے والے ہزاروں افراد کو خاموش کرنا تھا۔

ان لوگوں کا ایک جائز اور سادہ مطالبہ تھا کہ ان کے انسانی حقوق کو تسلیم کیا جائے اور ان کا احترام کیا جائے جو کہ انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کا حصہ ہیں۔ لیکن اس مطالبے کا احترام کرنے اور اس پر کھلی بات چیت کے بجائے چین کے حکام نے اس کا جواب تشدد سے دیا۔ 4 جون کو ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے والے بہادر لوگوں کی ہمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اس دن کے واقعات کی حقیقت جاننے کی جستجو کبھی ترک نہیں کرنی جس میں ہلاک، گرفتار اور لاپتہ ہونے والے تمام افراد کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہیں۔ تیان من کے مظاہروں کی بازگشت ہانگ کانگ میں جمہوریت اور آزادی کی جدوجہد میں بھی سنائی دیتی ہے جہاں مقامی حکام نے تیان من سکوائر میں قتل عام کی یاد میں تقریب کے انعقاد پر پابندی لگا دی تھی۔

امریکہ چین کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا جو اپنی حکومت سے عالمگیر انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم 32 سال پہلے ہلاک ہونے والوں کی قربانیوں اور آج سرکاری جبر کے مقابل اُن لوگوں کی کوششوں کو جاری رکھنے والے بہادر کارکنوں کا احترام کرتے ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/on-the-32nd-anniversary-of-tiananmen-square/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future