وائٹ ہاؤس
22 جون 2023

1۔ مستقبل کے لئے ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت:

سیمی کنڈکٹر کی ترسیل کے نظام کا استحکام: مائیکرون ٹیکنالوجی کارپوریشن انڈیا میں 2.75 بلین ڈالر کی لاگت سے سیمی کنڈکٹر جوڑنے اور ان کی جانچ کا مرکز قائم کرنےکے لئے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کی مدد سے 800 ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرے گی۔ اپلائیڈ میٹیریلز نے اعلان کیا ہے کہ وہ انڈیا میں سیمی کنڈکٹر مرکز بنائے گی جس کا مقصد اس کی تجارت اور اس شعبے میں اختراع کو فروغ دینا ہے تاکہ دونوں ممالک کے سیمی کنڈکٹر کی ترسیل کے نظام کو مزید متنوع بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ لیم ریسرچ اپنے ‘سیمی ورس سلوشن’ کے ذریعے انڈیا کے 60 ہزار انجینئروں کو تربیت دے گی تاکہ انڈیا میں سیمی کنڈکٹر سے متعلق تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے اہداف کے حصول کی رفتار تیز کی جا سکے۔ امریکہ میں سیمی کنڈکٹر کی صنعت کی ایسوسی ایشن اور انڈیا میں الیکٹرانکس سیمی کنڈکٹر ایسوسی ایشن نے قلیل مدتی صنعتی مواقع کی نشاندہی اور سیمی کنڈکٹر کی تکمیل کے ماحولی نظام کی طویل مدتی تزویراتی ترقی میں سہولت دینے کی تیاری سے متعلق ایک عبوری جائزہ جاری کیا ہے۔

اہم معدنیات کے شعبے میں شراکت: امریکہ معدنیات کے تحفظ کی شراکت (ایم ایس پی) کے نئے رکن کی حیثیت سے انڈیا کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ شراکت دنیا بھر میں اہم نوعیت کی معدنی توانائی کے متنوع اور پائیدار ترسیلی نظام کی تیزرفتار ترقی کے لئے قائم کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لئے ویلیو چین کے متوازی تزویراتی منصبوں کے لئے مخصوص مالیاتی اور سفارتی مدد دی جاتی ہے۔ انڈیا ہمارے اہم معدنی ترسیلی نظام کو متنوع اور محفوظ بنانے کے مشترکہ مقاصد کو فروغ دینے کی غرض سے دیگر 12 شراکت دار ممالک اور یورپی یونین کا حصہ بنے گا۔ ایم ایس پی کا آغاز جون 2022 میں اہم معدنیات کے شعبے میں مواقع سے متعلق اطلاعات کے تبادلے کے اہداف کو لے کر ہوا تھا تاکہ نجی شعبے سے متنوع سرمایہ کاری ممکن بنائی جائے اور سرکاری شعبے میں مالی وسائل کی فراہمی کو تیز کیا جائے۔ معاشی ترقی کے پائیدار مواقع میں اضافہ کرنے کے اس عمل میں اعلیٰ ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیارات برقرار رکھے جانا ہیں۔ انڈیا کی کمپنی ایپسیلن کاربن لمیٹڈ گرین فیلڈ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں تیار کرنے والی فیکٹری میں 650 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی اور اس کے لئے پانچ سال کے عرصہ میں 500 سے زیادہ ملازمین بھرتی کئے جائیں گے۔ منظوری ملنے کے بعد سینتھیٹک گریفائیٹ اینوڈ کی پراسیسنگ کا یہ مرکز امریکہ کی تاریخ میں وہاں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی بیٹری کی صنعت میں انڈیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔

جدید ٹیلی مواصلات: انڈیا اور امریکہ نے ‘اوپن آر اے این’ نظام اور جدید ٹیلی مواصلات پر تحقیق و ترقی کے لئے سرکاری و نجی شعبے کی مشترکہ ٹاسک فورس قائم کی ہیں۔ انڈیا کی کمپنی بھارت 6 جی اور امریکہ کی نیکسٹ جی الائنس سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے ہونے والی اس تحقیق کی مشترکہ طور سے قیادت کریں گی۔ یہ کام ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکس کے قیام پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لائے گا، انہیں مزید محفوظ بنائے گا اور ان کے استحکام میں مدد دے گا۔ امریکہ کی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کی مالی مدد اور یو ایس ایڈ کی شراکت سے انڈیا اور امریکہ دونوں ممالک میں اوپن آر این اے کی تنصیب میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈیوں میں اس ٹیکنالوجی کی مسابقتی قوت کو بڑھانے کے لئے اس کی وسعت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ رہنماؤں نے امریکہ کے ‘آر آئی پی اینڈ ری پلیس پروگرام’ میں انڈیا کی کمپنیوں کی شرکت کا خیرمقدم بھی کیا۔

خلائی تحقیق کے نئے میدان: انڈیا نے آرٹیمس معاہدوں پر دستخط کئے ہیں جو تمام انسانیت کی بہتری کے لئے خلائی کھوج کے مشترکہ تصور کو فروغ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں انڈیا نے 26 دیگر ممالک کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے جو چاند، مریخ اور اس سے پرے خلائی کھوج کے لئے پُرامن، پائیدار اور شفاف تعاون کا عزم رکھتے ہیں۔ ناسا انڈیا کے خلائی تحقیقی ادارے (آئی ایس آر او) کے خلابازوں کو 2024 میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لئے ایک مشترکہ کوشش شروع کرنے کے مقصد سے جدید تربیت فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں ناسا اور آئی ایس آر او 2023 کے آخر تک خلا میں انسانی بردار جہاز کی پرواز کے لئے تعاون کی غرض سے ایک تزویراتی فریم ورک بھی تیار کر رہے ہیں۔ انڈیا نے اپنے ہاں ‘لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو رصد گاہ’ تعمیر کرنے کے لئے 318 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔ یہ رصد گاہ امریکہ، یورپ اور جاپان میں ایسی ہی سہولیات کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور خلائی وقت میں پیدا ہونے والی موجوں کا جائزہ لے گی جنہیں کشش ثقل کی لہریں بھی کہا جاتا ہے اور یہ کائنات کے مادی آغاز کے حوالے سے بصیرت فراہم کرتی ہیں۔ ناسا اور آئی ایس آر او کے سنتھیٹک اپرچر ریڈار (این آئی ایس اے آر) کے لئے سائنسی سازوسامان انڈیا کو فراہم کیا جا چکا ہے اور اسے 2024 میں خلا میں بھیجا جائے گا۔ یہ قدرتی خطرات اور سطح سمندر میں اضافے جیسے تبدیل ہوتے ارضی ماحولی نظام کی جانچ کرے گا۔ امریکی ارضیاتی سروے اور آئی ایس آر او معلومات کے وسیع دوطرفہ تبادلے پر بات چیت کر رہے ہیں جس سے زمین کے بارے میں بڑے پیمانے پر معلومات حاصل ہوں گی جن میں موسمیاتی استحکام، پائیدار ترقی، قدرتی وسائل کا انتظام اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں تعاون جیسے معاملات شامل ہیں۔

کوانٹم، جدید کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت: انڈیا اور امریکہ نے مشترکہ ‘کوانٹم کوآرڈینیشن میکینزم’ قائم کیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک میں سرکاری و نجی شعبے میں مشترکہ تحقیق میں سہولت مہیا کرنا ہے۔ امریکہ نے ‘کوانٹم  انٹینگلمنٹ ایکسچینج’ اور ‘کوانٹم اکنامک ڈویلپمنٹ کنسورشیم’ میں انڈیا کی شمولیت کا بھی خیرمقدم کیا جو ممالک کے مابین کوانٹم تبادلوں میں سہولت مہیا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں انڈیا اور امریکہ نے کوانٹم، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید وائرلیس ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ تحقیق بڑھانے کے لئے ایک عملدرآمدی انتظام پر بھی دستخط کئے ہیں۔ اس کی بنیاد امریکہ۔انڈیا سائنس ایںڈ ٹیکنالوجی انڈوومنٹ فنڈ کے تحت 2 ملین ڈالر کی گرانٹ پر ہے جو مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی اور تجارت کے لئے رکھی گئی ہے۔ گوگل انڈیا کے شہر بنگلورو میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق کے اپنے مرکز کے ذریعے انڈیا کی 100 سے زیادہ زبانوں کو مدد دینے کے لئے نمونے تیار کر رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کے نمونوں کے لئے کھلے ذرائع سے لسانی معلومات کے ضمن مدد دینے کے لئے انڈین انسٹیٹوٹ آف سائنس کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اس نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے کام کرنے والا کثیرشعبہ جاتی مرکز قائم کرنے کے لئے آئی آئی ٹی مدراس کے ساتھ بھی شراکت قائم کی ہے۔

جدید تحیق میں تعاون: امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے انڈیا کے ڈیپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ 35 تحقیقی منصوبوں میں اشتراک کا اعلان کیا ہے اور انڈیا کی وزارت الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تعاون کے نئے انتظام پر بھی دستخط کئے ہیں۔ انڈیا کا شعبہ جوہری توانائی (ڈے ای ای) امریکہ کے محکمہ توانائی (ڈی او ای) کی فرمی نیشنل لیبارٹری کے ساتھ 140 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کا مقصد ‘لانگ بیس لائن نیوٹرینو مرکز’ کے لئے ‘پروٹون امپروومنٹ پلان 2’ کی رفتار تیز کرنے کے اقدام کی تیاری میں تعاون کرنا ہے۔ یہ امریکہ کی سرزمین پر پہلی اور سب سے بڑی بین الاقوامی تحقیقی سہولت ہو گی۔

اختراع میں تعاون: اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی (آئی سی ای ٹی) کے حوالے سے ‘امریکہ۔انڈٰیا اقدام’ میں تعاون کے لئے امریکہ۔انڈٰیا کمرشل ڈائیلاگ ایک نیا ‘انوویشن ہینڈ شیک’ شروع کرے گا جس کا مقصد ہر ملک میں نئے اداروں کے ماحولی نظام کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ یہ پروگرام تعاون میں درپیش انضباطی مشکلات سے نمٹنے، نئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمتوں کی تعداد بڑھانے اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مہارت کے حصول کے مواقع کو سامنے لانے میں مدد دے گا۔

فائبر آپٹکس کے شعبے میں سرمایہ کاری: انڈیا کی کمپنی سٹرلائیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے شہر کولمبیا کے قریب آپٹیکل فائبر کیبل کی تیاری کا مرکز تعمیر کرنے کے لئے 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس کی بدولت انڈیا سے ہر سال 150 ملین ڈالر کی آپٹیکل فائبر کی برآمدات میں سہولت ملے گی۔

2۔ جدید دفاعی شراکت:

جی ای ایف 414 کی مشترکہ پیداوار: امریکہ اور انڈیا نے جنرل الیکٹرک (جی ای) کی جانب سے انڈیا میں ایف 414 جیٹ انجن کی مشترکہ تیاری کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ جی ای اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے باہمی مفاہمت کی ایک یادداشت اور صنعت کاری کے اجازت نامے سے متعلق معاہدے پر دستخط کئے ہیں جو امریکی کانگریس کی تحریری منظوری کے لئے جمع کرایا جا چکا ہے۔ انڈیا میں ایف 414 طیاروں کے انجن تیار کرنے کا یہ پہلا اور اپنی نوعیت کا اچھوتا اقدام امریکہ کے جیٹ انجن کی ٹیکنالوجی کی پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر بیرون ملک منتقلی میں مدد دے گا۔

جنرل اٹامکس ایم کیو۔9 بی: انڈیا امریکہ سے بکتر بند ایم کیو۔9 بی سی گارڈین یو اے وی حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی انڈیا کی انٹیلی جنس، نگرانی اور عسکری مقاصد کے لئے جاسوسی کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔

بحری جہازوں کی مرمت کا نیا اقدام: امریکہ کی بحریہ نے انڈیا میں چنائی کے علاقے کٹوپالی میں لارسن اینڈ ٹوبرو شپ یارڈ کے ساتھ ‘ماسٹر شپ ریپیئر معاہدہ’ (ایم ایس آر اے اے) کیا ہے اور مازاگون ڈاک لمیٹڈ (ممبئی) اور گوا شپ یارڈ (گوا) کے ساتھ معاہدوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ یہ معاہدے درمیانی طوالت کے فاصلوں پر سفر کرنے والے امریکی بحریہ کے جہازوں کو انڈیا کے بحری کارخانوں میں دیکھ بھال اور مرمت کی سہولت فراہم کریں گے۔ اس طرح امریکہ کو کئی علاقوں میں اپنی فوجی کارروائیوں کے لئے بحری جہازوں کی کم خرچ اور بروقت دیکھ بھال اور مرمت میسر آئے گی۔

مزید مضبوط دفاعی تعاون: امریکہ اور انڈیا نے ایسے ذرائع کو عملی صورت دینے کے اقدامات کو فروغ دیا ہے جن سے ہمیں اپنا دفاعی تعاون بڑھانے میں مدد ملے گی۔ امریکہ اور انڈیا نے زیرآب آگاہی کے حوالے سے تعاون کو مضبوط بنانے کا عہد کیا ہے۔ پہلی مرتبہ انڈیا کے تین رابطہ افسروں کو امریکی کمان میں تعینات کرنے کا معاہدہ ہماری شراکت اور معلومات کے تبادلے کے اہم اقدامات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ امریکہ اور انڈیا نے ترسیلی انتظام کی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی خریداری کے انتظام کے لئے بات چیت بھی کی ہے جس سے دفاعی سازوسامان کی ترسیل کے نظام میں غیرمتوقع خلل کی صورت میں دفاعی اشیا کی بلا روک و ٹوک ترسیل ممکن ہو سکے گی۔ امریکہ اور انڈیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے لائحہ عمل کو بھی حتمی شکل دی ہے جو دفاعی صنعتوں کو پالیسی کے حوالے سے سمت مہیا کرتا ہے اور جدید دفاعی نظام اور مشترکہ تحقیق، جانچ اور مستقبل کی عسکری طاقت کا تعین کرنے والے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی آلات کے تجربات کے لئے پالیسی کے حوالے سے رہنمائی مہیا کرتا ہے۔

دفاعی “اختراعی پُل”: انڈیا۔امریکہ دفاعی تعاون کی رفتار تیز کرنے کا ماحولی نظام (آئی این ڈی یو ایس۔ایکس) یونیورسٹی، چھوٹے کاروبار، بڑے کاروباری اداروں، تھنک ٹینک اور نجی شعبے کے سرمایہ کار فریقین کا نیٹ ورک ہے جس کا آغاز 21 جون 2023 کو ہوا ہے۔ یہ اختراعی پروگرام دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ اختراعات کے لئے سہولت دے گا اور انڈیا میں دفاعی شعبے میں آنے والے نئے نجی اداروں کی امریکہ میں دفاعی شعبے کے ساتھ یکجائی کی رفتار کو تیز کرے گا۔

دفاعی صنعتی تعاون کا لائحہ عمل: دفاعی صنعتی تعاون کا نیا لائحہ عمل دفاعی صنعتوں کو پالیسی کے حوالے سے نئی سمت مہیا کرے گا تاکہ وہ جدید دفاعی نظام کی مشترکہ طور پر تیاری، مشترکہ تحقیق، تجربات اور ایسی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دفاعی آلات بنانے کی رفتار تیز کر سکیں جو عسکری طاقت کا مستقبل متعین کریں گے۔

3۔ مشترکہ خوشحالی اور عوام کو فوائد کی فراہمی:

ویزوں کی داخلی سطح پر تجدید: امریکی دفتر خارجہ اس سال ایک تجرباتی پروگرام شروع کرے گا جس کا مقصد درخواستوں پر مبنی عارضی ورک ویزے کی اندرون ملک تجدید کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں انڈیا کے شہری بھی شامل ہیں جنہیں اہلیت کے درجوں میں تجدید کے لئے ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ دفتر خارجہ 2024 میں ایچ 1 بی اور ایل ویزے کے حامل افراد کی وسیع تعداد کے لئے اس پر عملدرآمد کرے گا جس کا مقصد اس پروگرام کو وسعت دے کر اہلیت کے دیگر درجوں میں آنے والے لوگوں کو بھی موقع دینا ہے۔

نئے قونصل خانے: امریکہ بنگلورو اور احمد آباد میں نئے قونصل خانے کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انڈٰیا اس سال کے آخر میں امریکی شہر سیاٹل میں قونصل خانے کھولنے کا متمنی ہے اور وہ امریکہ میں مزید دو قونصل خانے کھولنے کا اعلان بھی کرے گا۔

طلبہ کے تبادلے اور تعلیمی وظائف: گزشتہ برس امریکہ نے انڈیا کے طلبہ کو 125,000 ویزے جاری کئے تھے جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ انڈیا کے طلبہ امریکہ میں غیرملکی طلبہ کی سب سے بڑی تعداد بنتے جا رہے ہیں جس میں گزشتہ برس ہی 20 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ انڈٰیا اور امریکہ نے امریکہ کی یونیورسٹیوں کی تنظیم اور انڈیا کے نمایاں تعلیمی اداروں کی ایک نئی مشترکہ ٹاسک فورس شروع کی ہے جس میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔ دونوں اطراف میں کونسلوں ںے دونوں ممالک کے مابین تحقیق اور یونیورسٹیوں کی شراکت کو وسعت دینے کے لئے عبوری سفارشات تیار کی ہیں۔ امریکہ۔انڈیا تعلیمی فنڈ کے زیرانتظام تحقیق کے لئے اضافی فل برائٹ۔ کالام موسمیاتی فیلوشپ سے دونوں ممالک میں موسمیاتی تبدیلی پر نمایاں ماہرین علم کے مابین تعاون کو فروغ ملے گا۔ امریکہ اپنے 100 سے زیادہ مزید انڈر گریجوایٹ طلبہ کو بینجمن اے گلمین انٹرنیشنل سکالرشپ پروگرام کے ذریعے انڈیا میں تعلیم یا تربیت کے لئے تیار کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کی بیرون ملک تعلیمی مقاصد کے لئے دی جانے والی گرانٹ کے لئے نئے مالی وسائل کی فراہمی سے اس میں وسعت آئے گی اور امریکہ کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ بیرون ملک تعلیمی پروگرام ترتیب دینے کے لئے انڈیا کے تعلیمی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ انڈیا یونیورسٹی آف ہوسٹن میں تامل سٹڈیز کی چیئر قائم کرنے کے لئے مالی وسائل فراہم کر رہا ہے اور یونیورسٹی آف شکاگو میں ویوک آنندا وزیٹنگ پروفیسرشپ کی تعیناتی کا خیرمقدم کرتا ہے۔

یونیورسٹی کی سطح پر تحقیقی شراکتیں: دونوں ممالک کی صلاحیتوں اور عزم سے کام لیتے ہوئے انڈیا اور امریکہ نے انڈو۔ یوایس گلوبل چیلنج انسٹیٹیوٹس کی جانب سے یونیورسٹیوں کا نیٹ ورک شروع کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا جس سے مزید تحقیقی شراکتیں تخلیق کرنے اور زراعت، توانائی، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تبادلوں میں مدد ملے گی۔

ثقافتی اثاثہ: امریکہ اور انڈیا ثقاتی اثاثے سے متعلق معاہدے کے لئے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی بدولت انڈیا سے ثقافتی اثاثوں کی غیرقانونی منتقلی کو روکنے اور ثقافتی اثاثوں کے تحفظ اور ان کے قانونی تبادلے کے لئے تعاون بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ہوابازی کے شعبے میں تاریخی معاہدے: فروری 2023 میں ایئر انڈیا کا امریکہ ساختہ 200 سے زیادہ طیارے خریدنے کے لئے بوئنگ کے ساتھ  معاہدہ امریکہ کی 44 ریاستوں میں دس لاکھ سے زیادہ نوکریاں تخلیق کرنے اور انڈیا میں شہری ہوابازی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔ بوئنگ نے انڈیا میں ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے اور پائلٹوں کو تربیت دینے کے پروگراموں میں 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جس سے آئندہ 20 برس میں انڈیا کو 31 ہزار نئے پائلٹوں کی ضرورت پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ بوئنگ نے سی۔17 طیاروں کی بعداز فروخت دیکھ بھال میں مد دینے کا مرکز اور انڈیا میں طیاروں کے پرزہ جات کی نئی انصرامی سہولت تیار کر لی ہے جس سے ملک کو علاقے میں تجارتی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے طیاروں کی دیکھ بھال کا نیا مرکز بننے میں مدد ملے گی۔

اعتماد کے ذریعے تجارتی مسائل کا حل: امریکہ اور انڈیا نے تجارتی روابط سمیت باہمی معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے دو طرفہ تعاون بڑھانے کی غرض سے اقدامات بھی کئے ہیں۔ تجارتی مسائل کو حل کرنے کے لئے دونوں ممالک کی رضامندی اور اس معاملے میں باہمی اعتماد کو واضح کرتے ہوئے رہنماؤں نے دونوں ممالک کے مابین ڈبلیو ٹی او کے حوالے سے باقی ماندہ چھ تنازعات کے باہمی متفقہ طریقہ کار کے ذریعے حل ڈھونڈںے کا خیرمقدم کیا اور باہمی دوطرفہ تجارتی تعلقات کے لئے مخصوص اہم اشیا سے متعلق منڈی تک رسائی کے بارے میں دوطرفہ سمجھ بوجھ کو بھی سراہا۔

4۔ عالمی سطح پر قائدانہ کردار:

ہند۔الکاہل: امریکہ ‘ہند۔الکاہل سمندری اقدام’ میں شمولیت اختیار کرے گا۔ یہ ایک علاقائی اقدام ہے جو وزیراعظم مودی نے 2015 میں شروع کیا تھا اور اس کا مقصد سمندر کو محفوظ و مامون اور مستحکم رکھنا اور اس کے تحفظ اور پائیدار انداز میں استعمال کو فروغ دینا ہے۔ انڈیا ‘پارٹنرز ان دی بلیو پیسیفک’ میں مشاہدہ کار کی حیثیت سے شرکت کرتا رہے گا۔

بحر ہند: امریکہ اور انڈیا ‘انڈین اوشن ڈائیلاگ’ کا انعقاد کریں گے جس میں امریکہ اور انڈیا کے حکام بحرہند کے خطے سے تعلق رکھنے والے ممالک کے ماہرین اور متعلقہ فریقین کے ساتھ شریک ہوں گے۔ اس کا مقصد بڑے پیمانے پر علاقائی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔

عالمگیر تعاون: امریکہ اور انڈیا نے دسمبر 2022 میں ‘گلوبل ایشوز فورم’ دوبارہ شروع کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے رواں سال اس کا ایک اور اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ انسانی سمگلنگ، غذائی عدم تحفظ اور قدرتی آفات میں انسانی امداد جیسے عالمگیر مسائل پر تعاون کیا جا سکے۔

عالمگیر بندوبست میں انڈیا کے کردار میں اضافہ: امریکہ نے اقوام متحدہ کی اصلاح شدہ سلامتی کونسل میں انڈیا کی مستقل رکنیت کی حمایت کرنے کا اعادہ کیا، توانائی کے بین الاقوامی ادارے میں انڈیا کی رکنیت کے لئے تعاون کا اعلان کیا، جوہری ترسیل کنندگان کے گروپ میں انڈیا کی رکنیت کے لئے تجدید عہد کیا اور صدر بائیڈن نے وزیراعظم مودی کو نومبر 2023 میں سان فرانسسکو میں ہونے والی ‘اے پی ای سی’ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

ڈیجیٹل شراکت: امریکہ اور انڈیا ‘یو ایس۔انڈٰیا گلوبل ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ پارٹنرشپ’ قائم کریں گے جس سے دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی اور وسائل سے کام لیتے ہوئے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ترقیاتی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

سہ فریقی تعاون کی شراکت: امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی اور انڈیا کی وزارت برائے امور خارجہ 2023 کی تیسری سہ ماہی کے دوران انڈیا میں فجی کے طبی ماہرین کو تربیت دینے کے لئے اکٹھے کام کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد حادثات کے بعد نفسیاتی سماجی اور ٹیلی میڈیسن خدمات کے حوالے سے معلومات اور بہترین طریقہ ہائے کار کا تبادلہ کرنا ہے۔

5۔ پائیدار ترقی اور عالمگیر صحت کے لئے شراکت:

توانائی کے شعبے میں تعاون: انڈٰیا اور امریکہ موسمیات اور توانائی کے حوالے سے اپنے متعلقہ قومی اہداف کے حصول کے لئے انڈیا کے ‘نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن’ اور امریکہ کے’ہائیڈروجن ارتھ شاٹ’ کے تحت اکٹھے کام جاری رکھیں گے۔ امریکہ 2030 تک دنیا بھر کے لئے کم خرچ قابل تجدید توانائی کے انتظام اور کم کاربن خارج کرنے والی ہائیڈروجن کے لئے کثیرفریقی ہائیڈروجن بریک تھرو ایجنڈے کی مشترکہ طور پر قیادت کے حوالے سے انڈیا کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔

امریکہ میں ماحول دوست توانائی کے ڈھانچے میں سرمایہ کاری: انڈیا کی کمپنی وی ایس کے انرجی ایل ایل سی امریکہ میں ایک نئے اور مربوط عمودی شمسی پینل کی تیاری کے لئے 1.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جس میں کولوراڈو میں 2.0 گیگا واٹ کا ماڈیول اور بیٹری تیار کرنے کا پلانٹ بھی شامل ہے۔ امریکہ میں کام کرنے والی انڈٰیا کی کمپنی جے ایس ڈبلیو سٹیل نے ریاست اوہائیو میں اپنے منگو جنکشن سٹیل پلانٹ پر 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے تاکہ ساحل سمندر کے پاس ہوائی چکیوں کی تنصیب سے متعلق لیبارٹریوں کی طلب کو بہتر طور سے پورا کیا جا سکے۔

ماحول دوست ٹیکنالوجی کے لئے سرمایہ کاری کے پلیٹ فارم: انڈیا اور امریکہ نے سرمایہ کاری کے حوالے سے ایسے اختراعی پلیٹ فارم تیار کرنے کا عزم کیا ہے جن انڈیا میں قابل تجدید توانائی، بیٹری کی گنجائش اور ابھرتی ہوئی ماحول دوست توانائی کے منصوبوں پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی آئے گی اور بڑے پیمانے پر بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری کو ترغیب ملے گی۔ اس نوعیت کا پہلا پلیٹ فارم کئی ارب ڈالر کا ایک فنڈ تخلیق کرے گا جس کا مقصد عمل انگیز سرمایہ مہیا کرنا اور ایسے منصوبوں کی ناکامی کے خدشات میں کمی لانے میں مدد دینا ہے۔

نقل و حمل کے شعبے کو کاربن سے پاک کرنے میں تعاون: یوایس ایڈ نے انڈیا کی وزارت ریلوے کے ساتھ باہمی مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے جس کے تحت دونوں ادارے 2030 تک انڈیا کی ریلوے کے لئے کاربن کے اخراج کے حوالے سے نیٹ زیرو کے ہدف کا حصول ممکن بنانے کے لئے کام کریں گے۔ امریکہ اور انڈیا نے سکیورٹی کے حوالے سے ادائیگی کے ایک طریقہ کار کا اعلان بھی کیا جو انڈیا میں ملکی ساختہ 10 ہزار بسیں چلانے میں سہولت دے گا۔ اس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے کے لئے انڈیا کی مرتکز کوششوں، صحت عامہ میں بہتری لانے کے اقدامات اور اشیا کی ترسیل کے عالمگیر نظام کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔

حیاتیاتی ایندھن کا اقدام: حیاتیاتی ایندھن سے متعلق عالمگیر اتحاد انڈیا نے قائم کیا تھا اور وہ امریکہ کے ساتھ اس کا بانی رکن ہے۔ یہ اتحاد حیاتیاتی ایندھن کے استعمال کو بڑھانے کے لئے تعاون میں سہولت مہیا کرے گا۔

قدرتی آفات کے مقابل مضبوط ڈھانچے کی تعلیم کے اقدام کا اتحاد: یو ایس ایڈ نے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے حوالے سے علم کے تبادلے (آئی آر اے ایکس) کی غرض سے 5 ملین ڈالر مہیا کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس کا مقصد قدرتی آفات کے مقابل مضبوط ڈھانچہ تیار کرنے کے لئے تعلیم اور تحقیق کے مواقع پیدا کرنا، اس معاملے میں پیشہ وارانہ ترقی اور علمی اداروں کا ایک عالمگیر نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔ آئی آر اے ایکس دنیا بھر میں امریکہ اور انڈیا کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے مابین نئی شراکتوں میں سہولت مہیا کرے گا۔

سرطان اور زیابیطس کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کے اقدامات: امریکہ کا نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ دو نئی گرانٹس کے ذریعے امریکہ اور انڈیا کے سائنس دانوں کے مابین تعاون کو فروغ دے گا جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیاد پر ڈیجیٹل پتھالوجی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو کینسر کی تشخیص، بیماری کا پیشگی اندازہ لگانے اور مخصوص علاج معالجے کے فوائد سے متعلق پیش گوئی نیز بیضہ دانی، سر اور گردن کے سرطان کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ریڈیو تھراپی کے لئے کام میں لایا جائے گا۔ زیابیطس، معدے اور گردوں کی بیماریوں سے متعلق امریکہ کا قومی ادارہ بھی انڈیا میں طبی تحقیق سے متعلق کونسل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرے گا تاکہ زیابیطس پر بنیادی، طبی اور انتقالی تحقیق کو آگے بڑھایا جا سکے۔ امریکہ اور انڈیا کینسر کے بارے میں ایک ڈائیلاگ بھی شروع کریں گے۔ صدر بائیڈن کے ‘کینسر مون شاٹ’ کی میزبانی میں ہونے والے اس ڈائیلاگ میں دونوں ممالک کے ماہرین اس بیماری کے خلاف پیش رفت کی رفتار تیز کرنے کے لئے باہمی تعاون کی غرض سے ٹھوس شعبوں کی نشاندہی کریں گے۔

انسداد منشیات کے لئے تعاون: امریکہ اور انڈیا انسداد منشیات کے لئے ایک وسیع تر اور مضبوط دوطرفہ فریم ورک قائم کر رہے ہیں تاکہ غیرقانونی منشیات کی غیرقانونی پیداوار اور ان کی بین الاقوامی سمگلنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس میں سنتھیٹک منشیات، فینٹانائل اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا کے محفوظ، مضبوط، قابل بھروسہ اور ترقی پاتے ترسیلی نظام قائم کریں گے جو دنیا کے لئے قابل تقلید نمونہ ہوں گے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2023/06/22/fact-sheet-republic-of-india-official-state-visit-to-the-united-states/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی متن کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future