وائٹ ہاؤس
24 فروری، 2022

روس عالمی مالیاتی و تجارتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے الگ کیے جانے کے اقدامات سے بھاری نقصان اٹھائے گا۔

آج امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کے خلاف پوٹن کی منتخب کردہ جنگ کے جواب میں روس پر سخت اور فوری معاشی پابندیاں نافذ کر رہا ہے۔ آج کیے جانے والے ہمارے اقدامات میں وسیع مالی پابندیاں اور کڑے برآمدی انضباطی اقدامات شامل ہیں جن کا روس کی معیشت، مالیاتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی پر گہرا اثر پڑے گا۔ پابندیوں پر مبنی یہ اقدامات روس کے سب سے بڑے مالیاتی اداروں کو سخت نقصان پہنچائیں گے اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے مزید دور کر دیں گے۔ آج عائد کی جانے والی مالیاتی پابندیوں کے ساتھ اب ہم نے روس کے تمام دس بڑے مالیاتی اداروں کو ہدف بنایا ہے جن میں روس کے بینکاری کے شعبے کے 80 فیصد اثاثوں کے مالک اداروں پر مکمل پابندیاں اور نمائندہ بینکوں، پے ایبل تھرو اکاؤنٹ (ڈیمانڈ ڈیپازٹ اکاؤنٹ) اور قرض و حصص پر عائد کی جانے والی رکاوٹیں شامل ہیں۔ روس کو کی جانے والی برآمدات پر بے مثل پابندیوں سے اس کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی نصف سے زیادہ درآمدات ختم ہو جائیں گی، ٹیکنالوجی سے متعلق اہم پرزہ جات تک رسائی محدود ہو جائے گی، اس کی صںعتی بنیاد تباہ ہو جائے گی اور عالمی سطح پر اثرانداز ہونے کے لیے روس کے تزویراتی عزائم کو نقصان ہو گا۔ ہمارے اقدامات کی پیروی کرنے والے بہت سے اتحادیوں کے ساتھ تاریخی نوعیت کے کثیرملکی تعاون کی بدولت یہ اقدامات نمایاں طور سے بڑھ جائیں گے اور یہ روس کی بے لوچ اور یک رخی معیشت کو متنوع کرنے سے متعلق پوٹن کے عزائم میں رکاوٹ پیدا کریں گے۔ پوٹن کی جارحیت کی وسعت اور ان کی جانب سے عالمی نظام کے لیے پیدا کردہ خطرہ ایک ثابت قدم ردعمل کا تقاضا کرتا ہے اور اگر انہوں نے اپنی راہ تبدیل نہ کی تو ہم روس کے خلاف سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھیں گے۔

پوٹن کے دھمکی آمیز اقدامات اور اب یوکرین کے خلاف ان کی بلااشتعال جارحیت کا جواب بے مثل درجے کے کثیرملکی تعاون کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔ امریکہ آسٹریلیا، کینیڈا، یورپی یونین، جاپان اور برطانیہ کی جانب سے ان وعدوں کا خیرمقدم کرتا ہے کہ وہ بھی ایسے ہی بھرپور اقدامات کریں گے۔ اس سے ہماری شراکتوں کی مضبوطی کا اظہار ہو گا اور روس پر اس کے اثرات ہمارے کسی انفرادی اقدام سے کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔ قبل ازیں ہم اس ہفتے کے آغاز میں مشترکہ طور پر روس کے خلاف کڑی پابندیوں کی پہلی قسط نافذ کر چکے ہیں۔

پوٹن کی منتخب کردہ جنگ کے نتیجے میں روس کو اپنی معیشت پر فوری اور شدید دباؤ کا سامنا ہو گا اور اسے عالمی مالیاتی و تجارتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے الگ کیے جانے سے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس میں روس کے سب سے بڑے بینک کو امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کا اقدام بھی شامل ہے۔ یہ روس کی عالمی تجارت میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس میں روس کے دوسرے سب سے بڑے بینک پر مکمل پابندیاں بھی شامل ہیں جن کے نتیجے میں امریکہ کے مالیاتی نظام میں اس کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام سے روس کی عالمی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور امریکی ڈالر کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

روس کی معیشت کو حالیہ ہفتوں میں پہلے ہی بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ آج ہی اس کی سٹاک مارکیٹ ساڑھے چار سال کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اضافی پابندیاں نافذ ہونے سے پہلے ہی روبل اب تک روزانہ قیمتِ ادائیگی کی کمزور ترین سطح سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ ان نئے کڑے اقدامات کے ساتھ روس کی معیشت پر مزید دباؤ جمع ہو جائے گا جس سے اس کی معاشی ترقی کی رفتار کمزور پڑ جائے گی، قرض کے حصول پر اس کے اخراجات بڑھ جائیں گے، افراط زر میں اضافہ ہو گا، سرمایے کی بیرون ملک منتقلی تیز ہو جائے گی اور اس کی صنعتی بنیاد تباہ ہو جائے گی۔ امریکہ اور ہمارے اتحادی اور شراکت دار باہم متحد ہیں اور روس کے خلاف اقدامات جاری رکھتے ہوئے پوٹن کو دوسرے ممالک کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیں گے جو مالیاتی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے مغربی منڈیوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔

آج امریکہ نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:

روس کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے سبیر بینک (Sberbank) اور اس کے 25 ذیلی اداروں کے امریکی مالیاتی نظام سے روابط کو منقطع کر دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے نمائندہ بینکوں اور پے ایبل تھرو اکاؤنٹ (ڈیمانڈ ڈیپازٹ اکاؤنٹ) پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام سبیر بینک کے ڈالر میں لین دین کو محدود کر دے گا۔ سبیر بینک روس کا سب سے بڑا بینک ہے جس کے اثاثوں کی مالیت روس میں بینکاری کے شعبے میں تمام بینکوں کے مجموعی اثاثوں کا ایک تہائی ہے اور یہ عالمگیر مالیاتی نظام سے پوری طرح منسلک ہے اور اس کا روس کے مالیاتی نظام میں نہایت اہم کردار ہے۔

روس کے دوسرے سب سے بڑے مالیاتی ادارے وی ٹی بی بینک (وی ٹی بی) اور اس کے 20 ذیلی اداروں پر مکمل پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یہ اقدام امریکہ کے مالیاتی نظام سے منسلک وی ٹی بی کے تمام اثاثوں کو منجمد کر دے گا اور امریکہ کے لوگوں کے لیے ان اثاثوں کے ساتھ لین دین کی ممانعت کرے گا۔ روس میں بینکاری کے شعبے میں مجموعی اثاثوں کا بیس فیصد وی ٹی بی بینک کے پاس ہے۔ اس کا امریکہ اور مغربی ممالک کے مالیاتی نظام سے قریبی تعلق ہے اور یہ بینک روس کے مالیاتی نظام میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

روس کے تین دیگر بڑے مالیاتی اداروں کے خلاف مکمل پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان میں اوٹکرائٹی بینک، سووکوم بینک، او جے ایس سی اور نوویکوم بینک اور ان کے 34 ذیلی ادارے شامل ہیں۔ یہ پابندیاں ان اداروں کے ہر طرح کے ایسے اثاثوں کو منجمد کر دیں گی جن کا تعلق امریکہ کے مالیاتی نظام سے ہو اور امریکہ کے لوگوں کو ان کے ساتھ لین دین سے روک دیں گی۔ یہ مالیاتی ادارے روس کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

روس کے انتہائی اہم بڑے تیرہ کاروباری اداروں پر قرضوں اور حصص کی نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ان میں ہر طرح کے لین دین، مالیات کی فراہمی اور 14 دن کے واجب الادا عرصہ سے زیادہ بڑے قرض کے حوالے سے لین دین اور روس میں ریاستی ملکیت میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کی جانب سے جاری کردہ نئے حصص پر پابندیاں شامل ہیں۔ ان اداروں میں سبیر بینک، الفا بینک، کریڈٹ بینک آف ماسکو، گیزپروم بینک، رشین ایگریکلچرل بینک، گیزپروم، گیزپروم نیفٹ، ٹرانس نیفٹ، روس ٹیلی کام، رس ہائیڈرو، ایلروسا، سووکوم فلوٹ اور رشین ریلویز شامل ہیں۔ ان اداروں میں ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کا روس کی معیشت میں اہم کردار ہے اور جو تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر کے اثاثوں کی مالک ہیں۔ اب یہ ادارے امریکی کی منڈی سے سرمایہ اکٹھا نہیں کر سکیں گے جو روس کے لیے مالی وسائل اور آمدنی جمع کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس طرح کریملن کی اپنی سرگرمیوں کے لیے سرمایہ اکٹھی کرنے کی اہلیت محدود ہو جائے گی۔

روس کی اشرافیہ اور اس کے اہلخانہ پر اضافی مکمل پابندیوں کا نفاذ۔ ان لوگوں میں سرگئی ایوانوو (اور اس کا بیٹا سرگئی)، آندرے پیٹروشیو (اور اس کا بیٹا نکولائی) آئیگور سیچن (اور اس کا بیٹا ایوان)، آندرے پوچکوو، یوری سولوائیو (اور اس کی ملکیتی دو رئیل اسٹیٹ کمپنیا) گالینا اولیوٹینا اور الیگزنڈر ویڈیاخن شامل ہیں۔ اس اقدام کے تحت ایسے افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں جو روس کی ریاست کی قیمت امیر ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے خاندان کے ارکان کو ملک میں چند انتہائی طاقتور عہدوں پر ترقی دلوائی ہے۔ ان میں مالیاتی اداروں کی اہم شخصیات بھی شامل ہیں جو روس میں سب سے بڑے مالیاتی اداروں کو چلاتی ہیں اور پوٹن کے یوکرین پر حملے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی کی ذمہ دار ہیں۔ یہ اقدام گزشتہ روز عائد کی جانے والی ایسی ہی پابندیوں کا تسلسل ہے جن میں روس کی اشرافیہ اور اس کے اہلخانہ کو ہدف بنایا گیا اور ان پر امریکی مالیاتی نظام کے دروازے بند کیے گئے، امریکہ میں ان کی ملکیتی تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے اور ان کے امریکہ کا سفر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

یوکرین پر نئے حملے میں مدد دینے پر بیلارس کے خلاف اقدامات۔ اس سلسلے میں بیلارس سے تعلق رکھنے والے 24 افراد اور اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے جن میں بیلارس کی عسکری اور مالیاتی صلاحیتوں کو ہدف بناتے ہوئے اس کے ریاستی ملکیت میں کام کرنے والے دو اہم بینک، نو دفاعی کمپنیاں اور حکومت سے وابستہ سات اعلیٰ عہدیدار اور اشرافیہ کے ارکان پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ہم بیلارس سے کہتے ہیں کہ وہ یوکرین میں روس کی جارحیت کی حمایت بند کر دے۔

پوٹن کے عسکری اور تزویراتی عزائم کو دھچکا پہنچانے کے لیے روس کی فوج پر سخت پابندیوں کا نفاذ۔ اس میں ایسی اشیا پر پابندیاں شامل ہیں جو روس کی وزارت دفاع سمیت اس کے عسکری اداروں کے زیراستعمال ہیں۔ امریکہ میں تیار کردہ تقریباً تمام اشیا اور امریکہ میں یا امریکہ کے تیار کردہ سافٹ ویئر کے ذریعے بیرون ممالک میں بنائی جانے والی اشیا، ٹیکنالوجی یا سازوسامان کو مخصوص عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کو برآمد پر سختی سے پابندی ہو گی۔ ان جامع پابندیوں کا اطلاق روس کی وزارت دفاع پر ہوتا ہے جن میں روس کی مسلح افواج بھی شامل ہیں خواہ یہ کہیں بھی موجود ہوں۔

روس کی جانب سے اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور پوٹن کے اپنی طاقت کو وسعت دینے کے اقدامات کے لیے درکار ٹیکنالوجی سے متعلق اشیا کی درآمد کو روکنے کے لیے اس پر وسیع تر پابندیوں کا نفاذ۔ اس میں روس کو حساس ٹیکنالوجی کی برآمدات روکنے کے اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد بنیادی طور پر روس کی دفاع و ہوابازی کی صنعت اور سمندری نقل و حمل کے شعبوں کو ایسی ٹیکنالوجی کی برآمد بند کرنا ہے تاکہ روس کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ختم کی جا سکے۔ امریکہ کی حکومت روس کے دفاعی شعبے پر کڑی پابندیوں کے علاوہ روس پر بیرون ملک امریکی ساختہ سافٹ ویئر، ٹیکنالوجی یا سازوسامان سے تیار کردہ امریکی حساس ٹیکنالوجی کی درآمد پر بھی پابندی عائد کرے گی۔ اس میں سیمی کنڈکٹر، ٹیلی مواصلات، اینکریپشن سکیورٹی، لیزر، سینسر، نیوی گیشن، ایوی اونکس اور بحری نقل و حمل میں مددگار ٹیکنالوجی پر پابندیاں شامل ہیں۔ ان کڑی اور پائیدار پابندیوں کے باعث روس کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ختم ہو جائے گی۔

تاریخی نوعیت کے کثیرملکی تعاون کے ذریعے مجموعی اقدامات سے روس کو 50 بلین ڈالر کی اہم درآمدات سے محروم کیا جائے گا جو روس کے لیے اندرون ملک تیار کی جانے والی اشیا سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کثیرملکی تعاون کے نتیجے میں ہم ایسے ہی اقدامات کرنے والے دیگر ممالک کو استثنیٰ دیں گے۔ جو ممالک روس کے خلاف نمایاں طور سے ایسی ہی پابندیاں عائد کریں گے انہیں اپنے ممالک میں تیار ہونے والی اشیا کے لیے امریکی لائسنس کی شرائط سے استثنیٰ ملے گا۔ یورپی یونین، آسٹریلیا، جاپان، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے پہلے ہی ایسے اقدامات کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ یہ بے مثل تعاون روس پر پابندیوں کو نمایاں طور سے وسعت دے گا۔ ان پابندیوں کے روس کی عسکری صلاحیتوں پر اثرات میں اضافے کے لیے ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مزید روابط جاری رکھیں گے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2022/02/24/fact-sheet-joined-by-allies-and-partners-the-united-states-imposes-devastating-costs-on-russia/. 

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future