وائٹ ہاؤس
حقائق نامہ
10 جنوری، 2022

”ہم اس اصول پر پوری طرح کاربند ہیں کہ یوکرین کے بغیر یوکرین پر کوئی بات نہیں ہو گی جیسا کہ ہم اس اصول پر پوری طرح کاربند ہیں کہ یورپ کے بغیر یورپ پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔”
وزیر خارجہ ٹونی بلنکن، 7 جنوری، 2022

امریکہ نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر واضح کر دیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی تو وہ ایسے اقدامات کے لیے تیار ہے جن کے نتیجے میں روس کو اپنے کیے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس کے ساتھ ہم نے زور دے کر یہ بھی کہا ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے تناؤ میں کمی لانا ہماری ترجیح ہے۔ امریکہ نے روس کے ساتھ بات چیت سے پہلے واضح اصول سامنے رکھ دیے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم یورپ کو ساتھ لیے بغیر یورپ کے بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے اور کچھ بھی طے نہیں کریں گے۔ دوسرا یہ کہ اس معاملے پر کوئی بھی بات چیت دو طرفہ ہونی چاہیے۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے حقیقی پیش رفت تناؤ میں کمی کے ماحول میں ہی ممکن ہے۔

امریکہ نے اس ہفتے دوطرفہ تزویراتی توازن سے متعلق بات چیت، نیٹو۔ روس کونسل اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے ذریعے روس کے ساتھ سفارتی بات چیت شروع کی ہے جس کے لیے اپنے یورپی اتحادی اور شراکت دار بشمول یوکرین کے ساتھ بھی جامع مشاورت کی گئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں صدر بائیڈن نے یورپ بھر کے رہنماؤں سے بات کی ہے۔ امریکہ کی حکومت کے ہر شعبے بشمول قومی سلامتی کونسل، دفتر خارجہ، محکمہ دفاع، محکمہ خزانہ، محکمہ توانائی اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی کے حکام اس بارے میں اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں بائیڈن انتظامیہ کے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی اشتراک کی جھلکیاں درج ذیل ہیں:

صدر بائیڈن نے یورپ کی سلامتی کے امور پر بات چیت کرنے اور اوقیانوس کے آر پار مربوط و جامع طریقہ کار وضع کرنے کے لیے 16 یورپی رہنماؤں سے بات کی ہے۔

وزیر خارجہ بلنکن نے دوسرے ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کے ساتھ دو درجن سے زیادہ مرتبہ فون پر بات چیت اور ملاقاتیں کی ہیں جن میں یوکرین کی سرحد کے ساتھ روس کے فوجی اجتماع پر ہمارے مربوط ردعمل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے جی7، نیٹو اور او ایس سی ای کے ساتھ وزارتی سطح کی ملاقاتیں کیں اور یورپی یونین اور یوکرین کی قیادت سے بھی رابطے میں رہے۔

وزیر دفاع آسٹن نے یورپی سلامتی کے امور اور خطے میں عدم استحکام کا موجب بننے والے روس کے اقدامات پر یورپ سے تعلق رکھنے والے اپنے آٹھ ہم منصبوں سے بات کی ہے۔ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین مِلی کی بھی یورپ بھر میں مسلح افواج کے سربراہوں سے ایسی ہی بات چیت ہوئی ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر سلوین نے اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ جامع طور پر رابطے کیے ہیں اور یورپی یونین اور ترکی سے لے کر فن لینڈ اور رومانیہ تک یورپ بھر میں اپنی ہم منصبوں سے درجنوں مرتبہ فون پر بات کی ہے۔ انہوں نے کثیرملکی اداروں کی سطح پر بھی بات کی جن میں نارڈک ممالک، نیٹو میں مشرقی پہلو کے اتحادی، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔ وہ یوکرین میں اپنے ہم منصب کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ یوکرین کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں صدر بائیڈن نے صدر زیلینسکی سے دو مرتبہ بات کی ہے۔ وزیر خارجہ بلنکن نے صدر زیلینسکی اور وزیر خارجہ کولیبا سے دو دو مرتبہ بات کی ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر سلوین نے یوکرین میں صدارتی انتظامیہ کے سربراہ یرمک کے ساتھ سات مرتبہ بات چیت کی ہے۔ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین مِلی نے یوکرین کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل زلزنی سے چار مرتبہ رابطہ قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی دفتر خارجہ اور محکمہ خارجہ میں اعلیٰ حکام بھی یوکرین میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے نیٹو کے مشرقی پہلو سے تعلق رکھنے والے اتحادیوں کی سلامتی کے حوالے سے ان کے خدشات مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ قریبی مشاورت کی ہے جس میں دوطرفہ بات چیت اور صدر بائیڈن، وزیر خارجہ بلنکن، قومی سلامتی کے مشیر سلوین اور انتظامیہ کے دیگر حکام کی جانب سے دوطرفہ اور بخارسٹ نائن (بی9) فارمیٹ کے تحت ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔

بائیڈن انتظامیہ یورپی یونین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ صدر بائیڈن نے یورپی یونین کمیشن کے صدر وان ڈر لین کی میزبانی کی۔ وزیر خارجہ بلنکن نے یورپی کونسل کے صدر مائیکل اور اعلیٰ سطحی نمائندہ بوریل کے ساتھ بات چیت کی۔ دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کونسل میں اعلیٰ سطحی حکام نے یورپی یونین میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ متعدد مرتبہ فون پر بات کی اور ملاقاتیں کیں جن میں برسلز میں ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ نے December 2021 European Council Conclusions کا خیرمقدم کیا جو اس امر کا اظہار ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین میں مزید مداخلت کی صورت میں یورپی یونین اس کے خلاف کڑی معاشی پابندیاں عائد کرے گی۔ امریکی محکمہ خزانہ، دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کونسل کے حکام پابندیوں کے حوالے سے ہمارے ردعمل کو مربوط بنانے کے لیے یورپی یونین میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

نیٹو میں جامع مشاورتوں کے علاوہ بائیڈن انتظامیہ نے نیٹو کے شراکت داروں بشمول جارجیا سے بھی رابطہ کیا ہے جو خود روسی جارحیت سے متاثر ہے۔ مزید برآں سویڈن اور فن لینڈ سے بھی یورپی سلامتی کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا ہے۔

انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اپنے ہم منصبوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں۔ ذیل میں دیے گئے روابط کے علاوہ قومی سلامتی کے نائب مشیر اول جان فینر، نائب وزیر خارجہ وکٹوریا نولینڈ، معاون وزیر خارجہ برائے یورپی و یوریشیائی امور کیرن ڈونفرائیڈ اور امریکہ کی حکومت کے تمام محکموں سے دیگر حکام کی جانب سے درجنوں مرتبہ فون پر بات چیت کی گئی ہے۔ نیٹو اور او ایس سی ای کے لیے ہمارے حال ہی میں مقرر کردہ سفیروں جولیانے سمتھ اور مشیل کارپینٹر نے بھی اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

سفارتی رابطوں کا جائزہ

ذیل میں روس کے ساتھ بات چیت سے پہلے بائیڈن انتظامیہ کی مشاورتوں سے متعلق ایک توضیحی فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست مکمل یا جامع نہیں ہے کیونکہ حکومت کی ہر سطح اور ہر محکمے سے اس سلسلے میں بہت سے مواقع پر بات چیت کی گئی ہے تاہم اس سے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔

یوکرین کے ساتھ رابطے

 

2 دسمبر: قومی سلامتی کے مشیر سلوین کی یوکرین میں صدارتی انتظامیہ کے سربراہ یرمک کے ساتھ فون پر بات چیت

17 دسمبر: قومی سلامتی کے مشیر سلوین کی یوکرین میں صدارتی انتظامیہ کے سربراہ یرمک کے ساتھ فون پر بات چیت۔

23 دسمبر: قومی سلامتی کے مشیر سلوین کی یوکرین میں صدارتی انتظامیہ کے سربراہ یرمک کے ساتھ فون پر بات چیت۔

30 دسمبر: قومی سلامتی کے مشیر سلوین کی یوکرین میں صدارتی انتظامیہ کے سربراہ یرمک کے ساتھ فون پر بات چیت۔

5 جنوری: معاون وزیر خارجہ ڈونفرائیڈ کی یوکرین میں صدارتی اتنظامیہ کے سربراہ یرمک سے فون پر بات چیت

10 جنوری: جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین مِلی کی یوکرین کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل زلزنی سے فون پر بات چیت

نیٹو کے ساتھ روابط

یورپی یونین کے ساتھ رابطے

یکم دسمبر: قومی سلامتی کے نائب مشیر اول فینر کی یورپ کے خارجی اقدامات کے ادارے کے سیکرٹری جنرل سینینو سے ملاقات

او ایس سی ای کے ساتھ رابطے

بخارسٹ نائن (بی9) اور نیٹو کے مشرقی پہلو کے اتحادیوں کے ساتھ رابطے

اوقیانوس کے آر پار اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے

7 دسمبر: قومی سلامتی کے نائب مشیر اول فینر نے صدر بائیڈن کی صدر پوٹن کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد یورپی اتحادیوں اور شراکت دار ممالک کے سفیروں سے فون پر بات چیت کی۔

13 دسمبر: قومی سلامتی کے نائب مشیر اول فینر، نائب وزیر خزانہ آڈائمو اور نائب وزیر خارجہ شرمن نے کوئنٹ ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے ورچوئل ملاقات کی۔

30 دسمبر: صدر بائیڈن کی صدر پوٹن سے بات کے بعد قومی سلامتی کے نائب مشیر اول فینر نے یورپی اتحادیوں اور شراکت دار ممالک کے سفیروں کے ساتھ بات چیت کی۔

نیٹو کے شراکت داروں (جارجیا، فِن لینڈ، سویڈن) کے ساتھ رابطے

اوقیانوس کے آر پار اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ آئندہ مشاورت

10 جنوری: نیٹو کے لیے امریکہ کی سفیر سمتھ نیٹو۔ یوکرین کمیشن میں اتحادیوں اور یوکرین کے ساتھ شرکت کریں گی۔

11 جنوری: نائب وزیر خارجہ شرمن نیٹو کے سیکرٹری جنرل سٹولٹنبرگ سے ملاقات کریں گی۔

11 جنوری: نائب وزیر خارجہ شرمن شمالی اوقیانوس کونسل کے اجلاس میں نیٹو اتحادیوں کو جنیوا میں ہونے والی تزویراتی توازن سے متعلق بات چیت سے آگاہ کریں گی۔

11 جنوری: نائب وزیر خارجہ شرمن یورپی یونین کی سیاسی امور اور سلامتی سے متعلق کمیٹی کی کونسل میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو بریفنگ دیں گی۔

11 جنوری: نائب وزیر خارجہ شرمن یورپی کمیشن کے صدر کی کابینہ کے سربراہ سیبرٹ اور یورپ میں خارجہ اقدامات کے ادارے کے سیکرٹری جنرل سینینو سے ملاقات کریں گی۔

12 جنوری: نائب وزیر خارجہ شرمن نیٹو۔ روس کونسل کے اجلاس میں امریکی وفد کی قیادت کریں گی۔

13 جنوری: او ایس سی ای میں امریکہ کی سفیر کارپینٹر روس۔ یوکرین مسئلے پر او ایس سی ای کی مستقل کونسل کے اجلاس میں شریک ہوں گی۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2022/01/10/fact-sheet-u-s-diplomatic-engagement-with-european-allies-and-partners-ahead-of-talks-with-russia/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future