امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

20 جنوری، 2022

سالہا سال سے روس نے بہت سے ایسے جھوٹے بیانیے گھڑے ہیں جنہیں اس کے غلط اطلاعات پھیلانے اور پروپیگنڈے کے نظام نے تواتر سے عالمگیر اطلاعاتی ماحول کا حصہ بنایا ہے۔ یہ بیانیے ایک سانچے کی طرح کام کرتے ہیں جس سے کریملن کو انہیں یکساں طور سے ترتیب دینے میں مدد ملتی ہے اور ان میں سچائی کو مکمل طور سے نظرانداز کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے اطلاعات کا ایک ایسا ماحول تشکیل پاتا ہے جس سے روس کے لیے اپنی حکمت عملی کے اہداف کی تکمیل آسان ہو جاتی ہے۔

روس کی فوج اور انٹیلی جنس ادارے اس کے غلط معلومات پھیلانے اور پروپیگنڈے کے نظام میں شامل ہو کر یہ سرگرمیاں کر رہے ہیں جن کا مقصد سوشل میڈیا کی نقصان دہ کارروائیوں کو اس نظام کا حصہ بنانا، اپنے اعلیٰ کار آن لائن میڈیا اداروں کو اعلانیہ اور خفیہ طور پر استعمال کرنا، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے پروگراموں میں غلط اطلاعات شامل کرنا، ایسی کانفرنسیں منعقد کرنا جن کے شرکاء کو غلط طور سے یہ یقین دلایا جائے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار روس نہیں بلکہ یوکرین ہے اور میڈیا کے اداروں کو تباہ کرنے کے لیے سائبر کارروائیاں کرنا اور آن لائن ہیکنگ اور دوسروں کی خفیہ معلومات کو عام کرنے کی کارروائیاں کرنا ہے۔

ذیل میں روس کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے کے حوالے سے پانچ بڑے موضوعات کی تفصیل دی گئی ہے جنہیں کریملن اطلاعاتی ماحول میں یوکرین میں اپنے اقدامات سے متعلق جھوٹے بیانیے پھیلانے کی کوشش میں ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔

پہلا موضوع: ”روس ایک بے گناہ متاثرہ فریق ہے”

روس کے سرکاری حکام غلط طور سے اپنے ملک کو ایک دائمی متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کے جارحانہ اقدامات کو امریکہ اور ہمارے جمہوری اتحادیوں اور شراکت داروں کے مبینہ اقدامات کے خلاف مجبوراً دیا گیا ردعمل قرار دیتے ہیں۔ روس ان دعووں کو تقویت دینے کے لیے اپنی ایک مرغوب اصطلاح یعنی ”روسو فوبیا” سے کام لیتا ہے تاکہ جوابی کارروائی کی جا سکے۔ 2014 میں یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد روس کی حکومت اور ریاست کے زیراثر غلط معلومات پھیلانے والے اداروں نے ہر اس ملک پر الزام دھرنا شروع کر دیا جس نے روس کے ان اقدامات پر سوال اٹھایا جن کے دفاع میں وہ دوسروں پر روسیوں اور روس سے نفرت کا الزام عائد کرتا ہے۔

مثال کے طور پر روس کا دعویٰ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے ایک خودمختار ملک پر اس کے حملے کی مخالفت محض اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ دوسرے اس سے خوف کھاتے اور اس سے نفرت کرتے ہیں۔ ذیل میں دیے گئے چارٹ کے مطابق روس سے نفرت روسی وزارت خارجہ یا ریاستی سرپرستی میں غلط اطلاعات پھیلانے والے اداروں کے لیے اس وقت تک کسی بڑی تشویش کا باعث نہیں تھی جب تک روس کی فوج نے یوکرین پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ ”روس سے نفرت” کے دعوے بہت سے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں اور یہ دعوے اس وقت کیے جاتے ہیں جب روس کی حکومت نے خود کو جارحیت کا شکار متاثرہ فریق ظاہر کرنا ہو جبکہ درحقیقت وہ خود جارح ہو۔

اس گراف میں روس کی وزارت خارجہ، سپوٹنک اور آر ٹی کی جانب سے ”روسو فوبیا” اور ”روسو فوب” کے الفاظ دکھائے گئے ہیں، 2001-17 (ذریعہ معلومات: ڈی ایف آر لیب)

دوسرا موضوع: تاریخی ترمیم پسندی

جب تاریخ کریملن کے سیاسی مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتی تو روس کے سرکاری حکام اور ان کے آلہ کار تاریخی واقعات سے انکار کرتے ہیں یا تاریخی بیانیوں کو توڑ موڑ کر روس کو اچھے مقام پر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں اس کے داخلی اور جغرافیائی سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1939 میں سوویت یونین اور نازی جرمنی کے مابین عدم جارحیت کا معاہدہ، جسے مولوٹوو۔ ربن ٹروپ معاہدہ بھی کہا جاتا ہے، دراصل دوسری جنگ عظیم کا باعث بنا تھا اور یہ پوٹن حکومت کے لیے سیاسی طور پر پریشان کن حیثیت رکھتا ہے۔ 2020 میں سٹالن کے ہٹلر کا اتحادی بننے کے فیصلے کی سنگینی کو کم کرنے اور اسے معقول ثابت کرنے کے لیے پوٹن نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز سے متعلق ایک بگاڑی گئی بات کی جس میں اس حوالے سے سوویت یونین کو معصوم ظاہر کرتے ہوئے جنگ شروع کرانے کا الزام دوسرے ممالک کے سر ڈال دیا گیا۔ روس تاریخ کے اپنے اس بگاڑے گئے موقف سے اختلاف کرنے والوں کو نازی یا نازیوں کے ہمدرد قرار دیتا ہے۔

روس یوکرین کے نیا ملک بننے کی تاریخ، سوویت یونین کے انہدام کے موقع پر نیٹو کے طرزعمل، اپنے GULAG جیل خانوں کے نظام، یوکرین میں ہولوڈومر قحط اور بہت سے دیگر ایسے واقعات پر بھی اسی فارمولے کا اطلاق کرتا ہے جن میں کریملن کے تاریخی اقدامات اس کے حالیہ سیاسی اہداف کی تکمیل میں معاون نہیں ہوتے۔

تیسرا موضوع: ”مغربی تہذیب کا خاتمہ قریب ہے”

روس یہ جھوٹا دعویٰ کرتا اور اسے پھیلاتا ہے کہ مغربی تہذیب منہدم ہو رہی ہے اور ”روایتی اقدار” سے بھٹک گئی ہے کیونکہ یہ ‘ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس’ لوگوں کا تحفظ اور مساوات یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہے اور خواتین کی برابری اور کثیرثقافتی معاشروں جیسے نظریات کو فروغ دیتی ہے۔ مغربی تہذیب کا خاتمہ روس کی جانب سے غلط اطلاعات پھیلانے کے لیے کی جانے والی قدیم ترین باتوں میں سے ایک ہے جو دستاویزی ثبوتوں کے مطابق 19ویں صدی سے کہی جا رہی ہے۔

”اقدار” کی بنیاد پر غلط اطلاعات پھیلانے کا یہ بیانیہ غیرمتعین تصورات کو جنم دیتا ہے جن میں ”روایت”، ” خاندانی اقدار” اور ”روحانیت” شامل ہیں۔ روس کا استدلال ہے کہ وہ نام نہاد ”روایتی اقدار” اور صنفی کرداروں اور امریکہ اور مغربی ممالک کی تنزلی کے مقابل اخلاقیت کا قلعہ ہے۔ مثال کے طور پر صدر پوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ مغرب نے ”ماں” اور ”باپ” کے تصورات کو عملی طور پر منسوخ کر دیا ہے اور اس کے بجائے انہیں ‘ایک اور دوسرے والدین’ سے تبدیل کر دیا ہے جبکہ وزیر خارجہ لاؤرو نے لکھا ہے کہ مغربی طلبہ کو ”سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ مسیح دو جنسی رحجان رکھتے تھے۔”

چوتھا موضوع: ”مقبول تحریکیں امریکی سرپرستی میں آنے والے ‘رنگ دار انقلابات’ ہیں”

کریملن کو یہ قبول کرنے میں مشکل کا سامنا ہے کہ تمام افراد کو آزادیء اظہار کا انسانی حق حاصل ہونا چاہیے اور حکومت کو اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ روس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ جارجیا، قازقستان، جمہوریہ کرغیز، مالڈووا، یوکرین اور پورے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں میں بغاوتوں کو ہوا دے رہا ہے یا ان کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔ اگر کوئی مقبول تحریک جمہوریت اور اصلاحات کی حامی ہو اور اس میں روس کے جغرافیائی سیاسی مفادات نہ ہوں تو کریملن عموماً اس کے جواز پر تنقید کرے گا اور اس کا دعویٰ ہو گا کہ اس تحریک کے پیچھے امریکہ کا خفیہ ہاتھ ہے۔ ان بے بنیاد دعووں کے ذریعے اکثر مقامی اور عالمی سطح پر سول سوسائٹی کے اداروں اور آزاد میڈیا کو ہدف بنایا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی پامالیوں اور بدعنوانی کو سامنے لاتا ہے۔ کریملن اس بات سے انکار کی کوشش کرتا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے لوگوں میں بھی اپنے حق میں بات کرنے کی صلاحیت، وقار اور آزادانہ خواہشات ہو سکتی ہیں، جیسا کہ وہ روس کے لوگوں کی صلاحیتوں سے انکار کرتا ہے۔

پانچواں موضوع: ”حقیقت وہی ہے جو کریملن چاہے”

جب سچائی کریملن کے مفاد میں نہ ہو تو وہ تواتر سے کئی جھوٹی حقیقتیں گھڑنے اور اطلاعات کے ماحول میں غیریقینی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ روس کے حکام عموماً دانستہ طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا مقصد کسی مسئلے میں روسی حکومت کے کردار سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے خواہ کوئی بیانیے ایک دوسرے سے متضاد ہی کیوں نہ ہوں۔ تاہم بعض اوقات باہم متصادم بیانیے پیش کرنا بھی ابتری اور انتشار پیدا کرنے اور کسی غلط عمل کا ردعمل دینے کی حوصلہ شکنی کے لیے استعمال ہونے والی تکنیک ہوتی ہے۔ روس کے غلط معلومات پھیلانے اور پروپیگنڈے کے نظام میں شامل دوسرے عناصر جیسا کہ ریاستی سرپرستی میں غلط اطلاعات پھیلانے والے اداروں اور ہتھیار بند سوشل میڈیا بہت سے غلط بیانیوں کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر دنیا اچھی طرح جانتی تھی کہ روس نے 4 مارچ 2018 کو انگلینڈ کے علاقے سالسبری میں اپنی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق افسر سرگئی سکریپال اور ان کی بیٹی یولیا کو اعصاب ناکارہ کرنے والے مادے نوویچوکن کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ کنگز کالج لندن میں پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس واقعے سے چار ہفتوں کے بعد روس میں ریاستی مالی معاونت سے چلنے والے میڈیا ادارے آر ٹی اور سپوٹنک میں 735 مضامین کے ذریعے 138 الگ الگ اور متضاد بیانیے پھیلائے گئے۔

روس نے اس کے بعد دیگر واقعات جیسا کہ ملائشین ایئرلائن کی فلائٹ 17 کو گرائے جانے اور 2008 میں جارجیا پر حملے اور اس پر جاری قبضے نیز اس میں اپنے کردار پر ہونے والی بحث سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا پر بہت سے جھوٹے دعووں کی بھرمار کرنے کا یہی طریقہ اپنایا۔ اس کا مقصد بھی دوسروں کو غیریقینی حالت سے دوچار کرنا، ان کی توجہ بٹانا اور کریملن کے مفاد میں سچائی کو توڑنا موڑنا تھا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/russias-top-five-persistent-disinformation-narratives/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future