An official website of the United States government Here's how you know

Official websites use .gov

A .gov website belongs to an official government organization in the United States.

Secure .gov websites use HTTPS

A lock ( ) or https:// means you’ve safely connected to the .gov website. Share sensitive information only on official, secure websites.

امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
12 مئی 2021
پریس کے لیے بیان

پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

وزیر خارجہ بلنکن: نیڈ، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ سب کو صبح کا سلام۔ آئیے شروع کریں۔ سب سے پہلے، سب کو صبح کا سلام، اور اُن سب کو عید مبارک جو عید منا رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے بارے میں بات کرنے سے پہلے میں اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر بات کرنے کے لیے ایک منٹ لینا چاہوں گا۔ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے اُس پر ہمیں گہری تشویش ہے۔ جو مناظر گزشتہ رات سامنے آئے ہیں وہ کربناک ہیں اور عام شہریوں کی جانوں کا ضیاع ایک المیہ ہے۔ میں نے ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری آف سٹیٹ، ہادی امر سے اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے فوری طور پر خطے میں جانے کو کہا ہے۔ وہ اپنے دہائیوں پر پھیلے تجربے کو بروئے کار لائیں گے اور، خاص طور پر، میری اور صدر بائیڈن کی طرف سے تشدد کو کم کرنے پر زور دیں گے۔ ہم اس پر مکمل توجہ دے رہے ہیں۔

امریکہ بدستور دو ریاستی حل کے لیے پرعزم ہے۔ یہ تشدد ہمیں اس منزل سے مزید دور لے جا رہا ہے۔ ہم اسرائیل کے اپنا دفاع کرنے کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ راکٹ حملوں کی ہم مذمت کر چکے ہیں اور میں ایک بار پھر اِن حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ہم فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے یکساں حفاظت اور سلامتی میں زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہم کشیدگی میں کمی لانے اور امن قائم کرنے کے لیے اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا جاری رکھیں گے۔

اب میں اُس [موضوع] کی طرف آتا ہوں جس کی وجہ سے ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، اور یہ [مذہبی آزادی کی بین الاقوامی]  رپورٹ ہے۔ آج محکمہ خارجہ سال 2020 کی مذہبی آزادی کی بین الاقوامی رپورٹ جاری کر رہا ہے۔ ہم 23 برس سے یہ رپورٹ مرتب کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں دنیا بھر کے تقریباً 200 ممالک اور علاقہ جات میں مذہبی آزادی کی صورت حال کا ایک جامع جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اور یہ حقیقی معنوں میں دنیا بھر میں ہمارے سیکڑوں سفارت کاروں، اور یہاں واشنگٹن میں ڈین نیڈل کی سربراہی میں کام کرنے والے مذہبی آزادی کے دفتر کی اجتماعی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ آج وہ اس رپورٹ سے متعلق آپ کے سوالوں کے جواب دیں گے

اس بارے میں مجھے چند ایک الفاظ کہنے کی اجازت دیجیے کہ اس رپورٹ کی اتنی اہمیت کیوں ہے۔ مذہبی آزادی ایک انسانی حق ہے۔ انسان ہونے کا جو مطلب ہے، درحقیقت اسے اُس میں بنیادی اہمیت حاصل ہے [یعنی] آزادی سے سوچنا، اپنے ضمیر کے مطابق عمل کرنا، اگر ہمارے دل و دماغ ہمیں اس طرف لے جائیں تو، اپنے عقائد تبدیل کرنا، اور سرعام اور تنہائی میں اپنے عقائد کا اظہار کرنا۔ یہ آزادی انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے میں رقم ہے۔ یہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کا حصہ بھی ہے۔ مذہب اور عقیدے کی آزادی کا دفاع کرنے کے ساتھ ہمارے ملک کی وابستگی صدیوں پرانی ہے۔ اور یہ آج بھی قائم ہے۔

ہر انسانی حق کی طرح، مذہبی آزادی بھی عالمگیر ہے۔ [دنیا میں] ہر کہیں، سب لوگوں کو، قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں رہتے ہیں، انہیں کوئی بھی عقیدہ رکھنے یا نہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ مذہبی آزادی دیگر انسانی حقوق کے ہم پلہ ہے کیوںکہ انسانی حقوق ناقابل تقسیم ہیں۔ بات کرنے اور جمع ہونے کی آزادی، اپنے ملک کی سیاسی زندگی میں حصہ لینے، تشدد اور غلامی سے آزاد زندگی گزارنے، یا کسی بھی دوسرے انسانی حق کے مقابلے میں مذہبی آزادی کم یا زیادہ اہم نہیں ہے۔ یقیناً یہ سب آزادیاں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ جب تک دوسرے انسانی حقوق کا احترام نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مذہبی آزادی پوری طرح حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اور جب حکومتیں اپنے لوگوں کے آزادی سے عقیدہ رکھنے اور عبادت کرنے کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو اس کے نتیجے میں باقی سب آزادیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ مذہبی آزادی کسی بھی آزاد اور مستحکم معاشرے کا ایک کلیدی عنصر ہے۔ اس کے بغیر لوگ اپنے ملک کی کامیابی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اور جہاں کہاں بھی انسانی حقوق سے انکار کیا جاتا ہے، وہاں تناؤ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور تفریق پیدا ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ اس سال کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے، یہ حق ابھی تک دنیا بھر میں بہت سارے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ در حقیقت، پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، 56 ممالک ميں پھيلی دنیا کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت کی مذہبی آزادی پر بہت زیادہ یا کڑی پابندیاں عائد ہیں۔

اس سال کی رپورٹ میں سے محض چند ایک مثاليں پیش ہیں۔ ایران، بہائیوں، عیسائیوں، یہودیوں، زرتشتوں، سنیوں اور صوفی مسلمانوں سمیت، اقلیتی مذہبی گروہوں کے افراد کو دھمکانا، ہراساں کرنا اور انہیں گرفتار کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

برما میں فوجی بغاوت کے رہنما، روہنگیا، جن میں بیشتر مسلمان ہیں، اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف نسل کشی اور دیگر مظالم کے ذمہ داروں میں شامل ہیں۔

روس میں حکام مبینہ انتہا پسندی کے بہانے گواہانِ یہووہ  کے ساتھ ساتھ مسلمان اقلیتی گروپوں کے ممبروں کو نظربند، ہراساں اور ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نائیجیریا میں عدالتیں بدستور توہین مذہب کے ملزموں کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں طویل مدتی قید، حتی کہ موت کی سزائیں سنا رہی ہيں۔ اس کے برعکس حکومت نے 2015ء میں سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کے فوجی قتل عام کے لیے کسی کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لا کر کھڑا نہیں کيا۔

سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر ایک بھی عیسائی گرجا گھر نہيں ہے، حالانکہ سعودی عرب میں دس لاکھ سے زیادہ عیسائی آباد ہیں۔ اور حکام بدستور رائف بداوی جیسے انسانی حقوق کے کارکنوں کو جیلوں میں بند کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بداوی کو2014 میں اپنے عقائد کے بارے میں بات کرنے پر دس برس قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

چین مذہبی اظہار کو کھلے بندوں ایک جرم قرار دیتا ہے اور بدستور انسانيت کے خلاف اور مسلمان  ویغروں اور دیگر مذہبی اور نسلی اقلیتی گروپوں کے اراکین کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔

آج میں چانگڈو کے ملحدانہ مذاہب کی روک تھام اور ان کے معاملات دیکھنے والے نام و نہاد مرکزی گروپ کے آفس ڈائریکٹر، یو ہوئی کو اس کے فالون گونگ کی مشق کرنے والوں کی گرفتاریوں سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہوں۔ یو ہیوئی اور اُس کا کنبہ اب امریکہ میں داخل ہونے کے اہل نہیں رہے۔

میں مزيد بھی بيان کر سکتا ہوں؛ مثالیں بہت زیادہ ہیں۔

ہم یہاں امریکہ اور پورے یورپ سمیت، دنیا بھر میں يہود مخالف جذبات زیادہ تسلسل کے ساتھ دیکھ  رہے ہیں ۔ یہ ایک خطرناک نظریہ ہے اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ اکثر تشدد کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ يہ جہاں کہیں بھی ہو ہمیں اس کی بھرپور مخالفت کرنا چاہیے۔

بہت سارے ممالک میں وسیع پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف نفرت ابھی تک  موجود ہے۔ اور یہ امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی  ایک سنگین مسئلہ ہے۔

ہميں یہ یقینی بنانے کے ليے کام کرنا ہے کہ ہر مسلک اور پس منظر کے لوگوں کے ساتھ یکساں وقار اور احترام کا سلوک کیا جائے۔

جیسا کہ اس رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے، کچھ ممالک نے مثبت اقدامات بھی اٹھائے ہیں، اور یہ تبصرے کے لائق ہیں۔ پچھلے سال سوڈان میں سویلین کی سربراہی میں عبوری حکومت نے ارتداد کے اُن قوانین اورعوامی نظام کے قوانین کو کالعدم قرار دیا  جو مذہبی اقلیتی گروہوں کے ممبروں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ازبکستان کی حکومت نے اُن سیکڑوں افراد کو رہا کیا ہے جو اپنے عقائد کی وجہ سے قید میں تھے۔ ابھی گذشتہ ہفتے ہی ترکمانستان نے گواہانِ یہووہ کے اُن 16 پیرو کاروں کو رہا کیا ہے جو باضميراعتراضات کرنے والے ہیں اورجنہوں نے فوج میں خدمات انجام دینے سے انکار کردیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکام اب باضميراعتراض کرنے والوں کو قومی خدمات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے متبادل ذرائع فراہم کریں گے۔

ہم اسی طرح کی مزید پیشرفتیں دیکھنا چاہتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ہمارا دنیا سے وعدہ ہے کہ بائیڈن – ہیرس انتظامیہ پوری دنیا میں مذہبی آزادی کی حفاظت اور اس کا دفاع کرے گی۔ ہم اس مسئلے پر امریکہ کی دیرینہ قیادت برقرار رکھیں گے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے شکر گزار ہیں، جن میں ہم خيال حکومتیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل، اور بین الاقوامی مذہبی آزادی کے عقیدے جیسے اتحاد اور مذہب یا عقیدے کے بین الاقوامی رابطے کے گروپ جیسے نیٹ ورک شامل ہيں۔ ہم سول سوسائٹی کی تنظیموں، بشمول انسانی حقوق کے حامیوں اور مذہبی برادریوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے، تاکہ دنیا بھر میں ہر طرح کی مذہبی تحریکوں سے جنم لینے والی نفرت اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کیا جاسکے۔

آپ کا بہت بہت شکریہ، اور ہم اس رپورٹ کو زیادہ تفصیل سے دیکھے جانے کے منتظر ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لِنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-on-release-of-the-2020-international-religious-freedom-report/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future