امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارت کاری
4 مارچ، 2022

محترمہ صدر، آپ کا شکریہ۔

خدا کی رحمت سے دنیا گزشتہ رات جوہری تباہی سے بال بال بچ گئی۔ جب یہ ہولناک صورت حال سامنے آ رہی تھی اس وقت ہم سب سانس روکے بیٹھے تھے۔ میں نے جوہری پلانٹ کو چلانے والے یوکرین کے اہلکاروں کی اہلیت کو سراہا جنہوں نے حملے کا سامنا کرتے ہوئے بھی تمام چھ ری ایکٹر محفوظ رکھے اور جب انہیں موقع ملا تو اپنے جوہری نگران کو اس کی اطلاع دی۔ مزید برآں ہم یوکرین میں جوہری سرگرمیوں کے سرکاری نگران ادارے کو بھی سراہتے ہیں جس نے آئی اے ای اے اور عالمی برادری کو مسلسل تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھا۔ ہمیں اس امر پر شدید تشویش ہے کہ یوکرین کے جوہری تنصیبات کو سنبھالنے والے اہلکار اب انتہائی جبر کا سامنا کرتے ہوئے اپنا کام کر رہے ہیں۔

روس کی جانب سے گزشتہ رات کیے جانے والے حملے نے یورپ میں جوہری توانائی کے سب سے بڑے پلانٹ کو شدید خطرات سے دوچارہ کیا۔ یہ انتہائی لاپرواہانہ اور خطرناک کارروائی تھی۔ اس نے پورے روس، یوکرین اور یورپ میں شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔ پہلے اقدام کے طور پر ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے فوجی دستوں کو پلانٹ سے واپس بلائے تاکہ وہاں زخمی اہلکاروں کا علاج معالجہ ہو سکے، یہ امر یقینی بنائے کہ وہاں کام کرنے والے اہلکاروں کو اس پلانٹ میں ہر جگہ مکمل رسائی حاصل ہو اور وہ جوہری نگرانوں سے بات چیت کر سکیں اورپلانٹ پر محفوظ انداز میں کام یقینی طور پر جاری رکھنے کے لیے نگرانوں کو مختلف شفٹوں میں کام کا اہتمام کرنے کی اجازت دے۔ یوکرین کے آگ بجھانے والے عملے اور جوہری انجینئروں کو جوہری مرکز پر پوری رسائی دی جائے تاکہ وہ نقصان کا اندازہ لگا سکیں اور اس دوران خاص طور پر پانی کھینچنے والے پائپوں کو پہنچنے والے کسی ممکنہ نقصان کے بارے میں جان سکیں اور ضرورت ہو تو صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک سکیں۔

جوہری مراکز کو اس جنگ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جوہری مرکز کے لیے بجلی کی قابل اعتبار فراہمی ضروری ہے اور اسی طرح ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈیزل سے چلنے والے جنریٹر اور ایندھن کا اہتمام کیا جانا بھی لازمی ہے۔ جوہری پلانٹ پر محفوظ عبوری راہداریوں کو قائم رکھا جانا چاہیے۔ روس طاقت کے مزید استعمال کو روکے جس سے یوکرین بھر میں 15 قابل استعمال ری ایکٹروں کو مزید خطرہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وہ 37 جوہری مراکز اور ان کے اردگرد رہنے والی آبادی کا تحفظ اور سلامتی برقرار رکھنے کے لیے یوکرین کی صلاحیت کو مت چھیڑے۔

روس کو اس امر پر بدستور گہری تشویش ہے کہ چرنوبل پر قابض روسی افواج نے وہاں کے نگرانوں کو گزشتہ ایک ہفتے سے شفٹ کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔ یہ انتہائی غیرذمہ دارانہ رویہ ہے اور اس سے دونوں جگہوں پر محفوظ انداز میں کام جاری رکھنے کے معاملے میں سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ہم تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل گروسی کی حمایت کریں جو جوہری تحفظ یقینی بنانے کا اہتمام کر رہے ہیں اور یوکرین میں جوہری تباہی کو روکے ہوئے ہیں۔

گزشتہ نوروز میں ہم نے یوکرین کے لوگوں پر صدر پیوٹن کی منتخب کردہ جنگ کے تباہ کن اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ نے اطلاع دی کہ روس کے حملے کے نتیجے میں تقریباً پانچ لاکھ بچے مہاجر بن گئے ہیں۔ روس نے یوکرین کے ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور اس دوران ہزاروں مزید روسی فوجیوں کی جانوں کی قربانی دی ہے۔ روس اہم نوعیت کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے جس کے نتیجے میں لوگ زندہ رہنے کے لیے درکار صاف پانی اور موسم سرما کے وسط میں سردی میں منجمد ہو کر مرنے سے بچنے کے لیے درکار گیس سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس تباہی کے انسانی اثرات بہت شدید ہوں گے۔ دنیا بھر سے ایک سو اکتالیس ممالک نے صدر پیوٹن سے باآواز بلند اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ یہ ظالمانہ، بلا جواز اور بلا اشتعال حملہ بند کریں۔ انہوں نے ناصرف یہ بات نہیں سنی بلکہ حال ہی میں ہم نے ایک خطرناک اورحقیقی کشیدگی کا مشاہدہ کیا ہے جس سے تمام یورپ اور دنیا بھر کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔

میں اپنے روسی ہم منصب سے کہتی ہوں کیہ یہ کونسل جواب چاہتی ہے۔ ہمیں آپ کی زبانی یہ سننا ہے کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا جیسا کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے ساتھی نے ابھی کہا ہے۔ ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ یوکرین سے اپنی فوج اور اسلحہ نکال لیں۔ ہم آپ سے کہتے ہیں کہ یوکرین کی سرحدوں، اس کے لوگوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کریں۔ ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے فوجیوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں اس ناجائز جنگ میں مت جھونکیں یا جوہری توانائی کے پلانٹ کے خلاف خودکش مشن پر مت بھیجیں۔

ہم روس سے کہتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت خود پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ دنیا کا مطالبہ ہے کہ روس بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرے جو جنگ میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی ممانعت کرتا ہے اور امدادی اداروں کو مدد کے منتظر لوگوں تک مکمل اور محفوظ رسائی دیں۔ امریکہ اور ہمارے شراکت داروں نے اس سوموار کو یوکرین میں انسانی صورتحال پر بریفنگ دینے کے لیے ایک اجلاس بلایا ہے۔ ہم امدادی سرگرمیوں کے لیے جنگ میں وقفہ لانے کے لیے امدادی اداروں کی ہنگامی بنیادوں پر کی جانے والی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں تاکہ امدادی کارکنوں کو محفوظ راستہ مل سکے اور ضرورت مند لوگوں کو انسانی امداد کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

صدر پیوٹن کو یہ جنگ ختم کر کے اور یوکرین کے لوگوں کے خلاف یہ سوچے سمجھے حملے بند کر کے اس انسانی آفت کو روکنا ہو گا۔ جنابِ پیوٹن کو یہ پاگل پن ختم کرنا ہو گا اور انہیں یہ اِسی وقت ختم کر دینا چاہیے۔ تحمل سے کام لینے والوں کو غالب آنا ہو گا۔ روس کی افواج اب یوکرین میں دوسرے سب سے بڑے جوہری مرکز سے 20 میل کے فیصلے پر موجود ہیں اور اس سے مزید قریب آ رہی ہیں۔ اسی لیے یہ قریبی خطرہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ رات ہم ایک تباہی سے بمشکل بچے۔ عالمی برادری باہم متحد ہو کر روس کی افواج کو یہ خطرناک حملہ روکنے کا مطالبہ کرے۔ جیسا کہ میں ںے پہلے کہا، یوکرین کےلوگ ہماری جانب دیکھ رہے ہیں اور ہمیں ان کی امیدوں پر پورا اترنا ہے۔

آپ کا شکریہ۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک:

https://usun.usmission.gov/remarks-by-ambassador-linda-thomas-greenfield-at-a-un-security-council-emergency-meeting-on-ukraines-zaporizhzhia-nuclear-power-plant/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future