امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر برائے نشرواشاعت و عوامی سفارت کاری
19 مارچ 2021

شکریہ جنابِ صدر۔ یہ اہم دن منانے کے لیے ہمیں جمع کرنے پر آپ کا شکریہ۔ کسی بھی جگہ اور کسی کی بھی جانب سے روا رکھے جانے والے نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ہم سب پر مزید اقدامات کے لیے زور دینے پر میں سیکرٹری جنرل، محترمہ ہائی کمشنر، اور ڈاکٹر ویلا کی مشکور ہوں۔

یہ اجلاس، یہ دن منانا میرے لیے ذاتی طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ میں افریقی نسل سے تعلق رکھتی ہوں۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ میں غلاموں کی نسل سے ہوں۔ 1865 میں پیدا ہونے والی میری پڑنانی میری تھامس ایک غلام کی بیٹی تھیں۔ یہ مجھ سے صرف تین نسلیں پہلے کی بات ہے۔

میں جنوب میں ایسے علاقے میں پلی بڑھی جہاں لوگوں کو نسلی بنیاد پر ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا تھا۔ مجھے ایسے ہی ایک سکول میں بھیجا گیا جہاں مخصوص نسل سے تعلق رکھنے والے طلبہ پڑھتے تھے اور اختتامِ ہفتہ پر کو کلکس کلین ہمارے ہمسایے میں صلیبیں جلاتی تھی۔ جب میں ہائی سکول میں تھی تو ایک کمسن لڑکی نے، جس کی میں دیکھ بھال کرتی تھی، مجھ سے پوچھا کہ آیا میں ‘این’ (لفظ) ہوں، کیونکہ اس کے والد میرے لیے یہ لفظ استعمال کیا کرتے تھے۔

میں نسل پرستی کے بدصورت چہرے سے آگاہ ہوں۔ میں نسل پرست سماج میں رہ چکی ہوں۔ مجھے نسل پرستی کا تجربہ ہو چکا ہے۔ میں نسل پرستی کی متاثرہ ہوں۔

اس دوران میں نے ایک سادہ سچائی سیکھی کہ نسل پرستی اس فرد کا مسئلہ نہیں جسے اسے کا تجربہ ہوتا ہے۔ اگرچہ نسل پرستی ہماری روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ہم میں سے جو لوگ نسل پرستی کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ اسے اپنا نہیں سکتے اور انہیں اسے اپنانا بھی نہیں چاہیے۔

اس سے قطع نظر کہ یہ کس کے خلاف ہے، ہمیں ہر وقت اس کا مقابلہ کرنا ہے۔

نسل پرستی نسل پرستوں کا مسئلہ ہے۔ یہ اس سماج کا مسئلہ ہے جو نسل پرست افراد کو جنم دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں یہ چیز ہر سماج میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے بہت سے معاشروں اور مُلکوں میں نسل پرستی ایک مقامی مسئلہ ہے۔ یہ کسی آہنی چوکھٹے میں لگے زنگ کی طرح سماج کا حصہ ہے۔ یہ قائم رہتی ہے، ناسور کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور مزید پھیلتی ہے کیونکہ سماج کے ذمہ داران اسے بڑھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ دوسرے لوگ اس سے آںکھیں پھیر لیتے ہیں اور یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ مگر ہم اسے نظرانداز کریں تو تب بھی یہ سرطان کی طرح بڑھتی رہتی ہے۔

آج ہم ہر طرح کے نسلی امتیاز کو ختم کرنے کے اپنے مشترکہ عہد کو یاد کرتے ہیں۔ ہم افریقی نسل کے لوگوں کی دہائی کے وسط مدتی جائزے کے دوران اپنی کوششوں کا ازسرنو تجزیہ کرتے ہیں۔ امریکہ میں یہ جائزہ ہماری اس سیاہ تاریخ کے تذکرے کا تقاضا کرتا ہے جس میں انسان بطور غلام دوسروں کی ذاتی ملکیت ہوتے تھے۔

چار سو دو سال پہلے افریقی غلاموں کو جبراً ورجینیا کی نوآبادی کے ساحلوں پر لایا گیا۔ دو سال پہلے 1619 منصوبے نے اِس دن کی جانب توجہ مبذول کرائی اور غلامی کے نتائج اور سیاہ فام امریکیوں کی کاوشوں کو ہماری تاریخ اور ہمارے قومی بیانیے میں دوبارہ مرکزی جگہ دی۔ جیسا کہ اس منصوبے میں بتایا گیا ہے، غلامی امریکہ کا پیدائشی گناہ ہے۔ سفید فام بالادستی اور سیاہ فام کمتری ہمارے ملک کی بنیاد سے متعلق دستاویزات اور اصولوں میں گُندھی ہوئی ہیں۔

ایلاباما کا لیگیسی میوزیم اس تاریخ کا کھوج لگاتا ہے اور اگر آپ وہاں نہیں گئے تو میں آپ سب کو وہاں جانے کی ترغیب دیتی ہوں۔ یہ غلامی سے بِلا اختیار سزاؤں، لوگوں کو نسلی بنیاد پر علیحدہ رکھنے اور اجتماعی اسیری کی تصویر دکھاتا ہے، اس ہولناک تاریخ اور آج کے دور میں ہمارے لوگوں پر اس کے اثرات کی شہادت دیتا ہے۔

اگرچہ غلامی ہمارا پیدائشی گناہ ہے تاہم امریکہ غلامی کا اصل منبع نہیں ہے۔ اس ذلت میں دوسرے بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ غلامی دنیا کے ہر کونے میں پائی گئی ہے۔ امریکی نوآبادیوں کے وجود میں آنے سے بہت پہلے افریقیوں نے اپنے ساتھی افریقیوں کو غلام بنایا۔ افسوناک طور سے دنیا میں بہت سی جگہوں پر آج بھی غلامی کا وجود باقی ہے۔

جیسا کہ سکالر آئزابیل ولکرسن استدلال کرتی ہیں، ہر طرح کے حالات میں انسانوں نے ایک گروہ کی مفروضہ برتری کو دوسروں کی مفروضہ کمتری کے مقابل لاتے ہوئے انسانی قدر کو درجہ بند کیا ہے۔ امریکہ میں اس نے کئی شکلیں اختیار کیں۔ ہماری سفید فام برتری کی میراث ان میں سب سے نمایاں ہے۔

اس سال جارج فلائیڈ، بریونا ٹٰیلر اور بہت سے دوسرے سیاہ فام امریکیوں کے بے حس طور سے قتل نے نسلی انصاف کے تذکرے کو ہوا دی۔ اب ‘سیاہ فام لوگوں کی زندگیاں اہم ہیں’ کے عنوان سے چلنے والی تحریک پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔

چونکہ سیاہ فام لوگوں کی زندگیاں اہم ہیں، اس لیے ہمیں ہر موڑ پر سفید فام برتری کے نظریے کا قلع قمع کرنا ہے۔ اس میں نفرت کی دیگر اقسام کو مدنظر رکھنا بھی شامل ہے۔

ایف بی آئی نے گزشتہ تین سال کے عرصہ میں خاص طور پر لاطینی امریکیوں، سکھوں، مسلمان امریکیوں، یہودی امریکیوں اور مہاجرین کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ تازہ ترین اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم کی سطح میں جتنا اضافہ ہو رہا ہے اتنا گزشتہ ایک دہائی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ اعدادوشمار کوویڈ۔19 وبا پھوٹنے کے بعد اس غنڈہ گردی، امتیازی سلوک، ظلم اور تشدد کا احاطہ بھی نہیں کرتے جس کا سامنا ایشیائی امریکیوں نے کیا ہے۔

اٹلانٹا میں فائرنگ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیے جانے کے واقعات اس ہولناکی کی تازہ ترین مثال ہیں۔ صدر بائیڈن کی ہدایت پر ہم اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی عمارت پر اپنا جھنڈا سرنگوں کر رہے ہیں جس کا مقصد اس خوفناک اور بے حسی پر مبنی المیے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔

ہمارا اکٹھے رہنا بے حد اہم ہے، ہم اس لعنت کے خلاف متحد ہیں۔ متحد رہنا ہی ہماری طاقت ہے۔ لیکن ایک دوسرے سے اختلافات اور غلط فہمیاں ہم سب کے خلاف جاتی ہیں۔

ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ نسل پرستی صرف امریکہ سے مخصوص نہیں ہے۔ خارجہ ملازمت میں چار دہائیوں پر مشتمل تجربے کی بدولت اور چار براعظموں میں خدمات انجام دے کر مجھجے عالمگیر سطح پر بے شمار حالات میں نسل پرستی کا تجربہ ہوا۔ اس میں ہوائی اڈوں پر ضرورت سے زیادہ سرگرمی سے تلاشی کے عمل سے لے کر پولیس کی جانب سے نسلی بنیاد پر میرے بیٹے کے بارے میں معلومات کے حصول اور ریستوران میں سفید فام گاہکوں کے پیچھے بیٹھ کر انتظار کرنے جیسے تجربات شامل ہیں۔ ہم جہاں کہیں بھی ہوں، نسل پرستی ایک روزمرہ مسئلہ تھا اور آج بھی ہے۔

لاکھوں لوگوں کے لیے یہ مسئلے سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ مہلک چیز ہے۔ جیسا کہ ہم برما میں مشاہدہ کر رہے ہیں جہاں روہنگیا اور دوسرے لوگوں کو جبر کا نشانہ بنایا گیا، ان سے بدسلوکی کی گئی اور انہیں حیران کن حد تک بڑی تعداد میں ہلاک کیا گیا ہے۔ یا ہم چین میں دیکھ سکتے ہیں جہاں حکومت نے سنکیانگ میں انسانیت، ویغور باشندوں اور دوسری نسلی و مذہبی اقلیتوں کی نسل کشی اور ان کے ساتھ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

نسلی امتیاز کا پھیلاؤ اور نفوذ پذیری کو دیکھا جائے تو صورتحال ناامید دکھائی دے سکتی ہے۔ مگر یہاں میں واضح کر دوں کہ میں بدستور پُرامید ہوں۔ میں اس لیے پُرامید ہوں کہ میں یہ دیکھ چکی ہوں کہ کیسے معاشرے اور ممالک تبدیلی لا سکتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اس پیش رفت کا تجربہ کیا ہے۔

ذاتی طور پر میں خود اس امر کی ایک مثال ہوں کہ امید اور قوت کیا کچھ کر سکتی ہے۔ بہرحال غلاموں کی نسل سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون آج اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ کے طور پر آپ کے سامنے کھڑی ہے۔ میری زندگی کی داستان کا پہلا باب یہ ہے کہ میں ںے ان پڑھ والدین کے ہاں غربت میں آنکھ کھولی اور آج میں جہاں ہوں اس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی تھی۔

اسی لیے میں پوچھتی ہوں کہ ہم تبدیلی کو فروغ دینے اور نسل پرستی کے متاثرین کے لیے امید قائیم رکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

ہم لوگوں کے دلوں میں نفرت پر قابو نہیں پا سکتے۔ مگر ہم انہیں نفرت کے اظہار کی اجازت دینے والے قوانین کو ضرور تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں موجود ہوں۔ اسی لیے ہم نے اس ہفتے نائب صدر کملا ہیرس کا اقوام متحدہ میں خیرمقدم کیا ۔ اسی لیے صدر بائیڈن کی کابینہ تاریخ کی متنوع ترین کابینہ ہے اور پہلی مرتبہ مقامی امریکی کو کابینہ میں عہدہ دیا گیا ہے۔

اگر بعض افراد اب بھی ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتے تو اس کے باوجود ہم اپنے معاشروں اور حکومتوں کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ وہ ہماری اعلیٰ ترین تمناؤں کے عکاس ہوں۔ ہم عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔ بائیڈن۔ہیرس انتظامیہ میں ہم یہی کچھ کر رہے ہیں۔

صدر بائیڈن نے اپنی حکومت کے پہلے 60 یوم میں اسے اپنی ترجیح بنایا ہے جس میں درون خانہ نسلی امتیاز کے تدارک سے نوجوان سیاہ فاموں اور گہری رنگت والے مردوں کے لیے بنائی گئی نجی جیلوں کے خاتمے تک اور مقامی امریکی قبائل کی خودمختاری کے احترام سے یہود مخالفت اور ایشائی، ایشیائی امریکیوں اور الکاہل کے جزائر سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف امتیازات کا خاتمہ شامل ہے۔

بائیڈن۔ہیرس انتظامیہ کو یہ اندازہ بھی ہے کہ کوویڈ۔19 وبا اور معاشی بحران کیسے نسلی و قومیتی اقلیتوں کے ارکان کو غیرمتناسب طور سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسی لیے ہم نے اس ضمن میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں ہنگامی امداد کے طور پر مالی وسائل کی فراہمی، قوت بخش خوراک تک رسائی میں اضافہ ممکن بنانا اور وفاقی سطح پر طلبہ کے قرضوں کی ادائیگی کی منظوری شامل ہیں کہ ہمیں علم ہے اس سے خاص طور پر سیاہ فام اور گہری رنگت والے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

واضح رہے کہ یہ محض آغاز ہے۔ نسلی امتیاز کا خاتمہ، خصوصاً ہمارے نظام انصاف سے اس کا قلع قمع کرنا صدر اور پوری بائیڈن۔ہیرس انتظامیہ کی اولین زیرعمل ترجیح ہو گی۔ ہم دوسرے ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں۔

ہم تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق عالمگیر کنونشن کو مستحکم بنائیں اور اس پر عمل کریں۔ بہرحال اس کا تعلق مستقبل کی تشکیل سے ہے۔ یہ اس مستقبل کو متشکل کر رہا ہے جو ہم اپنے بچوں، پوتوں پوتیوں اور ان کے بچوں کے لیے چاہتے ہیں۔

پہلے ہی وہ ہم سے بہتری کے لیے اقدامات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ وہ نئے تصورات لے کر آ رہے ہیں اور ترقی پسندانہ اقدام پر زور دے رہے ہیں۔ وہ اپنے سیاست دانوں اور اپنی حکومتوں سے مزید اقدامات کے لیے کہہ رہے ہیں اور سڑکوں پر آ کر تبدیلی کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ”سیاہ فام لوگوں کی زندگیاں اہم ہیں۔” کیونکہ وہ ہیں۔

وہ نعرہ لگاتے ہیں کہ: ”جمہوریت اس طرح ہوتی ہے۔” کیونکہ ایسا ہی ہے۔

یہ امریکہ کا انداز ہے۔

ہم میں خامیاں پائی جاتی ہیں۔ بنیادی اور سنگین نوعیت کی خامیاں۔ مگر ہم ان پر بات کرتے ہیں۔ ہم ان سے نمٹنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہم اس امید پر آگے بڑھتے ہیں کہ ہم اس ملک کو اُس سے بہتر حالت میں چھوڑ کر جا سکتے ہیں جس حالت میں یہ ہمیں ملا تھا۔

ہم کثیرملکی سطح پر بھی یہی کچھ کر سکتے ہیں۔ آئیے دنیا بھر میں ہر معاشرے میں نسل پرستی اور نسلی امتیاز کو بے نقاب کریں۔ آئیے امتیاز کو جڑ سے اکھاڑنے اور اپنی بنیادوں سے زنگ کو کھرچنے کے لیے آگے بڑھیں۔ نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے وقف اس دن پر جبکہ ہمارے جھنڈے سرنگوں ہیں، کم نفرت انگیز اور مزید پُرامید دنیا اپنے بچوں کے حوالے کریں۔

آئیے انہیں ایک مستقبل دیں۔ ایسا مستقبل جس میں خوف کا وجود نہ ہو۔ ایسا مستقبل جس میں تشدد نہ ہو۔ مجھے امید ہے کہ وہ ہم سے یہ میراث پا سکتے ہیں۔

شکریہ۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://usun.usmission.gov/remarks-by-ambassador-linda-thomas-greenfield-at-a-un-general-assembly-commemorative-meeting-for-intl-day-for-the-elimination-of-racial-discrimination/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future