An official website of the United States Government Here's how you know

Official websites use .gov

A .gov website belongs to an official government organization in the United States.

Secure .gov websites use HTTPS

A lock ( ) or https:// means you’ve safely connected to the .gov website. Share sensitive information only on official, secure websites.

وہائٹ ہاؤس
21 ستمبر، 2022

اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر

نیویارک، نیویارک

11:08 دن

صدر: آپ کا شکریہ

جناب صدر، جناب سیکرٹری جنرل، میرے ساتھی رہنماؤں، گزشتہ برس ہماری دنیا نے بہت بڑی اُتھل پتھل دیکھی جس میں غذائی عدم تحفظ کا بڑھتا بحران، شدید ترین گرمی، سیلاب اور خشک سالی، کووڈ۔19، مہنگائی اور ایک ظالمانہ اور غیرضروری جنگ شامل ہیں۔ میں کھل کر کہوں گا کہ یہ ایک فرد کی منتخب کردہ جنگ ہے۔

آئیے صاف بات کریں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن نے اپنے ہمسایہ ملک پر حملہ کیا اور ایک خودمختار ریاست کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی کوشش کی۔

روس نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کو بے شرمی سے پامال کیا۔ اپنے ہمسایہ ممالک کی زمین پر بزور طاقت قبضہ کرنے والے ممالک کے خلاف واضح مزاحمت سے زیادہ اہم کچھ نہیں۔

آج ہی صدر پیوٹن نے یورپ کو کھلی جوہری دھمکیاں دیں اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے واضح روگردانی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اب روس اپنے مزید فوجیوں کو جنگ میں شامل کر رہا ہے۔ کریملن یوکرین کے حصوں کا اپنے ساتھ الحاق کرنے کے لیے جعلی ریفرنڈم کروا رہا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح ترین خلاف ورزی ہے۔

دنیا کو اِن شرمناک اقدامات کی حقیقت دیکھنی چاہیے۔ پیوٹن کا دعویٰ ہے کہ اُنہیں ایسا اس لیے کرنا پڑا کیونکہ روس کو خطرہ تھا۔ لیکن کسی نے روس کے لیے خطرہ پیدا نہیں کیا اور نہ ہی روس کے علاوہ کسی اور نے جنگ چاہی ہے۔

درحقیقت ہم نے پہلے ہی دنیا کو خبردار کر دیا تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ آپ میں بہت سے ممالک کے ساتھ مل کر ہم نے اس جنگ کو روکنے کے لیے کام بھی کیا۔

پیوٹن کے خود اپنے الفاظ اِن کے اصل مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ حملے سے پہلے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین ”روس نے بنایا تھا” اور وہ کبھی ایک ”حقیقی ریاست” نہیں تھی۔

اب ہم سکولوں، ریلوے سٹیشنوں، ہسپتالوں اور یوکرین کی تاریخ اور ثقافت کے مراکز پر حملے دیکھ رہے ہیں۔

ماضی میں روس کے مظالم اور جنگی جرائم کے اس سے بھی زیادہ خوفناک ثبوت ہمارے سامنے آ چکے ہیں۔ ازیوم میں اجتماعی قبروں کی دریافت اِس کی نمایاں مثال ہے۔ جن لوگوں نے اِن قبروں سے لاشیں دریافت کی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان پر تشدد کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔

اس جنگ کا سیدھا سادہ مقصد یوکرین کے ایک ریاست کے طور پر وجود کو مٹانا ہے۔ آپ جو کوئی بھی ہوں، جہاں کہیں بھی رہتے ہوں، اور آپ کا جو بھی یقین ہو، یہ بات سبھی کا دل دہلا دیتی ہے۔

اسی لیے جنرل اسمبلی کے 141 ارکان نے اکٹھے ہو کر یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی واضح مذمت کی۔ امریکہ نے بہت بڑے پیمانے پر دفاعی و انسانی امداد اور یوکرین کے لیے براہ راست معاشی امداد اکٹھی کی جس کی مالیت اب تک 25 بلین ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔

دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں نے بھی اس امداد میں اپنا حصہ ڈالا۔ آج یہاں موجود 40 سے زیادہ ممالک نے یوکرین کو اپنے دفاع میں مدد دینے کے لیے اربوں ڈالر اور سازوسامان مہیا کیا ہے۔

امریکہ روس کے خلاف تادیبی اقدامات کے لیے بھی اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ نیٹو کے علاقے پر حملوں کا دفاع کیا جاسکے اور روس سے اِس کے مظالم اور جنگی جرائم پر جواب طلبی کی جائے۔

ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کہ اگر دنیا کے ممالک کو نتائج سے بے پرواہ ہو کر اپنے سامراجی عزائم پورے کرنے کی اجازت ہو تو پھر ہم اُن تمام چیزوں کو داؤ پر لگا دیں گے کہ جس کے لیے یہ ادارہ موجود ہے۔

میدان جنگ میں حاصل کردہ ہر کامیابی کا سہرا یوکرین کے باہمت سپاہیوں کے سر ہے۔ لیکن گزشتہ سال دنیا کا امتحان تھا اور ہم نے یوکرین کی مدد میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ہم نے آزادی کا انتخاب کیا۔ ہم نے خودمختاری کا انتخاب کیا۔ ہم نے ایسے اصولوں کا انتخاب کیا جن پر اقوام متحدہ کے چارٹر کا ہر فریق عمل پیرا ہے۔ ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے رہے۔

آپ کی طرح امریکہ بھی اس جنگ کا منصفانہ شرائط پر خاتمہ چاہتا ہے، ایسی شرائط جن پر ہم سب کا اتفاق ہے یعنی آپ کسی ملک کی زمین پر بزور طاقت قبضہ نہیں کر سکتے۔ صرف روس ہی ایک ایسا ملک ہے جو اس اصول کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے۔

لہٰذا اس ادارے میں ہر ملک جو ان اصولوں اور اعتقادات کو قائم رکھنے کا عزم رکھتا ہے جن کا ہم نے اقوام متحدہ کے ارکان کی حیثیت سے عہد کیا ہے تو اسے اپنے ارادے میں واضح، مضبوط اور ثابت قدم رہنا ہو گا۔

یوکرین کے وہی حقوق ہیں جو ہر خودمختار ملک کو حاصل ہیں۔ ہم یوکرین کے ساتھ اپنی یکجہتی قائم رکھیں گے۔ ہم روس کی جارحیت کے خلاف یکجا ہو کر کھڑے رہیں گے۔ بس۔

اب یہ کوئی راز نہیں کہ جمہوریت اور آمریت کے مابین مقابلے میں امریکہ اور میں بحیثیت صدر دنیا کے لیے ایک ایسے تصور کے حامی ہیں جس کی بنیاد جمہوری اقدار میں ہے۔

امریکہ اندرون ملک اور دنیا بھر میں جمہوریت کے دفاع اور اسے مضبوط بنانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ جمہوریت دورِحاضر کے مسائل پر قابو پانے کے لیے بدستور انسانیات کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

ہم یہ ثابت کرنے کے لیے جی7 اور ہم خیال ممالک کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ ناصرف جمہوریتیں اپنے شہریوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے بھی مفید ہیں۔

لیکن آج جب ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں تو ایک مستحکم اور قوانین پر مبنی منصفانہ نظام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیادوں کو ایسے عناصر سے خطرہ ہے جو اسے تار تار کرنے یا اپنے سیاسی فائدے کے لیے اسے توڑنے موڑنے کے خواہاں ہیں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر پر صرف جمہوری ممالک نے ہی دستخط نہیں کیے تھے بلکہ اس پر ایک دوسرے سے انتہائی مختلف تواریخ اور نظریات والے درجنوں ممالک کے شہریوں نے بات چیت کی جو امن کے لیے کام کرنے سے متعلق اپنے عزم میں متحد تھے۔

جیسا کہ 1945 میں صدر ٹرومین نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر اس بات کا ”ثبوت ہے کہ انسانوں کی طرح ممالک بھی اپنے اختلافات بیان کر سکتے ہیں، ان کا سامنا کر سکتے ہیں اور پھر ایک مشترکہ بنیاد ڈھونڈ سکتے ہیں جس پر وہ کھڑے ہو سکیں۔”

یہ مشترکہ بنیاد اس قدر سیدھی اور بنیادی نوعیت کی تھی کہ آج 193 ممالک نے اس کے اصولوں کو رضامندی سے اپنایا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہر ذمہ دار رکن ملک کو اِس ادارے کے چارٹر کے لیے ان اصولوں کی پاسداری کرنا ہے۔

میں ممالک کو تشدد اور جنگ کے ذریعے فتح کرنے یا خونریزی کے ذریعے سرحدوں کو وسعت دینے کا مخالف ہوں۔

خوف اور جبر کی عالمی سیاست کے خلاف کھڑا ہونے، چھوٹے ممالک کے بڑوں جیسے حقوق کے دفاع، سمندری آزادی جیسے بنیادی اصولوں کو اختیار کرنے، بین الاقوامی قانون کے احترام اور ضبط اسلحہ سمیت تمام معاملات پر ہمارے مابین جتنے بھی اختلافات ہوں ہمیں اس مشترکہ بنیاد پر ہرصورت کھڑے رہنا ہے۔

اگر آپ اب بھی دنیا بھر کے ہر ملک کی بہتری کے لیے ایک مضبوط بنیاد سے وابستہ ہیں تو امریکہ آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔

میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ ادارہ مزید جامعیت اختیار کرے تاکہ یہ آج کی دنیا کی ضروریات کو بہتر طور سے پورا کر سکے۔

امریکہ سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلسل قائم رکھنا اور اس کا دفاع کرنا چاہیے اور انتہائی ضرورت کے علاوہ ویٹو کے استعمال سے باز رہنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کونسل بدستور قابل اعتبار اور موثر ہے۔

اسی لیے امریکہ کونسل کے مستقل اور غیرمستقل دونوں ارکان کی تعداد میں اضافے کا حامی ہے۔ اس میں ایسے ممالک کے لیے مستقل نشستیں شامل ہیں جن کی ہم نے طویل عرصہ حمایت کی ہے اور اس کے علاوہ افریقہ، لاطینی امریکہ اور غرب الہند کے ممالک کی مستقل نشستیں بھی ہونی چاہئیں۔

امریکہ اس اہم کام کے لیے پرعزم ہے۔ ہر خطے میں ہم نے مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعمیری کام کے نئے طریقوں پر عمل کیا ہے جن میں ہند۔الکاہل میں کواڈ کو ترقی دینا، براعظم ہائے امریکہ کی کانفرنس میں مہاجرت اور تحفظ سے متعلق لاس اینجلس اعلامیے پر دستخط، مزید پرامن اور مربوط مشرق وسطیٰ کے لیے عرب رہنماؤں کے تاریخی اجلاس میں شرکت اور اس سال دسمبر میں امریکہ اور افریقہ کے رہنماؤں کی کانفرنس شامل ہیں۔

جیسا کہ میں ںے گزشتہ برس کہا تھا، امریکہ ایسے مسائل پر قابو پانے کے لیے انتھک سفارت کاری کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے جو تمام لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان میں موسمیاتی بحران سے نمٹنا، جیسا کہ مجھ سے پہلے یہاں بات کرنے والے رہنماؤں نے تذکرہ کیا، عالمگیر تحفظ صحت کو بہتر بنانا اور دنیا کو خوراک مہیاء کرنا شامل ہیں۔

ہم نے اسے اپنی ترجیح بنایا اور ایک سال بعد ہم یہ وعدہ پورا کر رہے ہیں۔

میں ںے جب سے صدارت سنبھالی ہے اس وقت سے ہم نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک دلیرانہ ایجنڈے پر کام کیا ہے۔ ہم نے پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کی، موسمیاتی مسئلے پر بڑی کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور سی او پی 26 میں اہم نوعیت کے معاہدے کرانے میں مدد دی۔ ہم نے عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کے لیے دنیا کے دو تہائی جی ڈی پی کو درست خطوط پر رکھنے میں مدد دی۔

اب میں نے یہاں امریکہ میں ایک تاریخی قانون کی منظوری دی ہے جس میں ہم نے موسمیاتی حوالے سے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے اہم وعدہ کیا ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 369 بلین ڈالر خرچ کریں گے۔ اس میں ہوائی اور شمسی توانائی پر سرمایہ کاری کے لیے دسیوں بلین ڈالر دیے جائیں گے، مکمل طور پر ماحول دوست گاڑیوں کی تعداد کو دو گنا کیا جائے گا، توانائی کی استعداد بڑھائی جائے گی اور ماحول دوست صنعتوں کی مدد کی جائے گی۔

ہمارے محکمہ توانائی کا اندازہ ہے کہ یہ نیا قانون 2030 تک امریکہ سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک گیگا ٹن تک کمی لائے گا جبکہ اس سے ماحول دوست توانائی کے ذریعے معاشی ترقی کےایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

ہماری سرمایہ کاری کی بدولت دنیا بھر میں ماحول دوست توانائی کی ٹیکنالوجی کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ اس سے عالمی سطح پر بہت بڑی تبدیلی آئے گی اور ہم نے یہ کام بہت جلد کرنا ہے کیونکہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہم پہلے ہی موسمیاتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس کے حالات دیکھنے کے بعد بظاہر اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ اس وقت جب ہم یہاں موجود ہیں تو پاکستان کا بہت بڑا حصہ زیرآب ہے، اِسے مدد کی ضرورت ہے۔ اسی دوران شاخِ افریقہ کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

خاندانوں کو ناممکن انتخاب درپیش ہے، وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کون سے بچے کو کھانا دیں اور آیا وہ ان حالات میں بچ بھی پائیں گے یا نہیں۔

یہ موسمیاتی تبدیلی کی انسانی قیمت ہے جو کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔

لہٰذا، جیسا کہ میں نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا، اپنی عالمی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے میری حکومت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 11 بلین ڈالر سے زیادہ مالی مدد دینے کے لیے اپنی کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے ممالک کو اپنے موسمیاتی اہداف پر عملدرآمد میں مدد دینا اور ماحول دوست توانائی کی جانب متنقلی کو یقینی بنانا ہے۔

ہمارا ”تیاری” کا منصوبہ اس کا مرکزی حصہ ہو گا جو نصف بلین لوگوں خصوصاً غیرمحفوظ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگ کرنے اور ان کے خلاف مضبوطی پیدا کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

یہ بہت بڑی ضرورت ہے۔ اس لیے آئیے اس موقع پر موسمیاتی تباہی کی لہر کو پلٹنے کا ارادہ کریں اور اپنی زمین کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک مضبوط، مستحکم اور صاف توانائی پر مبنی معیشت کا آغاز کریں۔

عالمگیر صحت کی بات ہو تو ہم نے دنیا بھر میں 116 ممالک کو کووڈ۔19 ویکسین کی 620 ملین سے زیادہ خوراکیں مہیاء کی ہیں جبکہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لیے مزید ویکسین دستیاب ہے جو کہ کسی شرط کے بغیر مفت مہیاء کی جا رہی ہے۔

ہم جی20 اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ نے وباء کی روک تھام، اس سے نمٹنے کی تیاری اور اس کے خلاف اقدامات کے لیے عالمی بینک میں ایک نیا فنڈ قائم کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

اس کے ساتھ ہم عالمگیر صحت کو لاحق دیرپا مسائل حل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

آج میں ایڈز، تپ دق اور ملیریا  کی روک تھام کے لیے درکار مزید مالی وسائل کا اہتمام کرنے کے لیے اس مسئلے کے بارے میں عالمگیر فنڈ کی ساتویں کانفرنس کی میزبانی کروں گا۔ ہماری کانگریس کی دو جماعتی مدد کے ساتھ میں نے اس کوشش کے لیے 6 بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اسی لیے میں کانفرنس میں تاریخی وعدوں کا منتظر ہوں جو کہ تاریخ میں عالمی سطح پر مالی وسائل جمع کرنے کا سب سے بڑا واقعہ ہو گا۔

ہمیں خوراک کا بحران بھی درپیش ہے۔ دنیا بھر میں 193 ملین لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے جس میں ایک سال کے دوران 40 ملین کا اضافہ ہو رہا ہے۔ آج میں صرف اسی سال کے لیے زندگی بچانے اور غذائی تحفظ کے لیے مزید 2.9 بلین ڈالر امداد کا اعلان کر رہا ہوں۔

اسی دوران روس جھوٹ گھڑ رہا ہے اور خوراک کے اس بحران کی وجہ ان پابندیوں کو قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے جو دنیا نے یوکرین کے خلاف جارحیت کی پاداش میں اس پر عائد کی ہیں۔

لہٰذا میں یہاں ایک بات پوری طرح واضح کر دوں کہ ہماری پابندیاں روس کو خوراک اور کھادیں برآمد کرنے کی پوری اجازت دیتی ہیں۔ ان برآمدات پر کوئی پابندی نہیں۔ روس کی جنگ ہی وہ اصل وجہ ہے جو غذائی عدم تحفظ کا باعث بن رہی ہے اور اس صورتحال کو صرف روس ہی ختم کر سکتا ہے۔

میں یہاں جناب سیکرٹری جنرل کی قیادت سمیت اقوام متحدہ کے کام کا مشکور ہوں جس کے ذریعے یوکرین کا اناج بحیرہ اسود کے راستے برآمد کرنے کا طریقہ کار بنایا گیا ہے۔ یہ وہ اناج ہے جو روس نے کئی مہینوں سے روک رکھا تھا اور اب ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ اسے دنیا تک پہنچایا جائے۔

ہم دنیا کو خوراک مہیاء کرنے کی ضرورت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی مالی معاونت کرنا والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے بجٹ میں 40 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔

ہم دنیا بھر میں بچوں کو خوراک مہیاء کرنے کے لیے یونیسف کی کوششوں میں مدد دینے کے عمل کی قیادت کر رہے ہیں۔

غذائی عدم تحفظ کے بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے امریکہ نے دنیا سے عملی اقدام کے لیے کہا ہے۔ یہ عالمگیر غذائی عدم تحفظ پر قابو پانے کا لائحہ عمل ہے جس میں اقوام متحدہ کے 100 سے زیادہ ارکان پہلے ہی مدد دے رہے ہیں۔

جون میں جی 7 نے دنیا بھر میں غذائی تحفظ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے 4.5 بلین ڈالر سے زیادہ مدد دینے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ یو ایس ایڈ کے ‘فیڈ دی فیوچر’ اقدام کے ذریعے ایسے کسانوں کو خشک سالی اور گرمی کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیج مہیاء کرنے کے اختراعی اقدامات میں اضافہ کر رہا ہے جنہیں ان کی ضرورت ہے جبکہ دنیا بھر میں کھادیں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں اور کھادوں کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ کسان کم کھاد کا استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔

ہم دنیا کے تمام ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ خوراک کی برآمدات پر پابندی لگانے یا اناج جمع کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ بہت سے لوگوں کو خوراک کے مسائل کا سامنا ہے۔ ہمارے جو بھی اختلافات ہوں لیکن دنیا میں کہیں بھی یہ بات ناقابل قبول ہو گی کہ والدین اپنے بچوں کو خوراک مہیاء نہ کر سکیں۔

مستقبل کو دیکھتے ہوئے ہم 21ویں صدی کے نئے مسائل پر قابو پانے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر نئے اصول وضع کرنے اور پہلے سے موجود اصولوں کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کر  رہے ہیں۔

ہم نے یورپی یونین کے ساتھ مل کر تجارت و ٹیکنالوجی کی کونسل بنائی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اہم ٹیکنالوجی اس انداز میں تیار ہو کہ اس سے سبھی کو فائدہ پہنچے۔

ہم اپنے شراکت دار ممالک اور اقوام متحدہ کے ذریعے ذمہ داری کے اصولوں کو بھی مضبوط کر رہے ہیں تاکہ ممالک سائبر سپیس میں ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور عالمی امن و سلامتی کو سائبر حملوں کے ذریعے خطرے سے دوچار کرنے والوں کا محاسبہ ہو سکے۔

ہم براعظم ہائے امریکہ، افریقہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور ہند۔الکاہل میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک نیا معاشی ماحولی نظام بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں ہر ملک کو اپنا جائز حصہ ملے اور مضبوط، پائیدار اور مشترکہ معاشی ترقی ممکن بنائی جا سکے۔

اسی لیے امریکہ دنیا بھر میں ٹیکس کی کم از کم شرح مقرر کرنے کا حامی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس پر عمل ہو تاکہ ہر جگہ بڑے کاروباری ادارے جائز محصول ہی ادا کریں۔

ہند۔الکاہل معاشی فریم ورک کے پیچھے بھی یہی تصور کارفرما ہے جو امریکہ نے ہند۔الکاہل کے 13 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس برس شروع کیا ہے۔ ہم آسیان اور الکاہل کے جزائر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہند۔الکاہل کو آزاد، کھلا، مربوط، خوشحال، محفوظ اور مضبوط بنانے کے تصور کے لیے کوشاں ہیں۔

ہم دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارتی اشیاء کی ترسیل کے نظام کو مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ سبھی کو تجارتی میدان میں جبر یا بالادستی سے محفوظ رکھا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی ملک توانائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔

روس کی جنگ عالمگیر معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور ایسے میں ہم قرض دینے والے بڑے ممالک بشمول پیرس کلب سے ہٹ کر دوسرے ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ کم آمدنی والے ممالک کے قرضے معاف کرنے کے لیے شفاف انداز میں بات چیت کریں تاکہ دنیا بھر میں ایک وسیع تر معاشی و سیاسی بحران کو روکا جا سکے۔

بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے منصوبے مطلوبہ فوائد پہنچانے کے بجائے ممالک کو بہت بڑے قرض میں جکڑ دیتے ہیں، اس لیے ہمیں دنیا بھر میں بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو شفاف سرمایہ کاری کے ذریعے پورا کرنا ہے اور اس سلسلے میں اعلیٰ معیار کے منصوبے شروع کرنا ہوں گے جن میں کارکنوں کے حقوق اور ماحول کا تحفظ ہو اور اس سے صرف قرض دینے والے ملک کے بجائے لینے والے لوگوں کی ضروریات بھی پوری ہوں۔

اسی لیے امریکہ نے جی7 ممالک کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سرمایہ کاری کے لیے شراکت شروع کی ہے۔ ہم اس شراکت کے ذریعے 2027 تک مجموعی طور پر 600 بلین ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بہت سے منصوبے پہلے ہی زیرتکمیل ہیں۔ سینیگال میں صنعتی پیمانے پر ویکسین کی تیاری، انگولا میں تبدیلی لانے والے شمسی منصوبے اور رومانیہ میں جوہری توانائی کے چھوٹے پلانٹ اس کی مثال ہیں۔

یہ ایسی سرمایہ کاری ہے جس سے صرف سرمایہ لگانے والے ممالک کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ اس سے سبھی مستفید ہوں گے۔ امریکہ اپنے حریفوں سمیت ہر ملک کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمگیر مسائل کو حل کیا جا سکے۔ موسمیاتی سفارت کاری سے صرف امریکہ یا کسی اور ملک کو ہی فائدہ نہیں ہونا جبکہ اس کے بغیر پوری دنیا کو نقصان ہو گا۔

یہاں میں امریکہ اور چین کے مابین مسابقت پر براہ راست بات کرنا چاہوں گا۔ ارضی سیاسی رحجانات میں تبدیلی لاتے ہوئے امریکہ ایک معقول رہنماء کا سا طرزعمل اپنائے گا۔ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ ہم سرد جنگ نہیں چاہتے۔ ہم کسی ملک سے یہ کہنا نہیں چاہتے کہ وہ امریکہ یا کسی اور شراکت دار میں سے ایک کا انتخاب کرے۔

لیکن امریکہ آزاد، کھلی، محفوظ اور خوشحال دنیا سے متعلق اپنے تصور اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے اپنی پیشکش کو فروغ دینے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا۔ ان میں محتاجی کے بجائے ممالک کا بوجھ کم کرنے اور انہیں خود کفیل بنانے کے لیے وضع کردہ سرمایہ کاری اور ایسی شراکتیں شامل ہیں جو کسی کو سیاسی طور پر اطاعت گزار بنانے کے بنائے ایک دوسرے کو ترقی میں مدد دیں گی۔

جب لوگوں کو وقار سے جینے اور اپنی صلاحیتوں کو ترقی دینے کا موقع ملتا ہے تو اِس سے سبھی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس ادارے کے اعلیٰ ترین اہداف کو پورا کریں اور ہر جگہ ہر ایک کے لیے امن اور سلامتی کو فروغ دیا جائے۔

امریکہ ہماری دنیا کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنے انتھک عزم سے دستبردار نہیں ہو گا۔ ہم تنازعات کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے اپنی سفارت کاری کو بروئے کار لائیں گے۔

ہم آبنائے تائیوان کے آر پار امن اور استحکام برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

ہم اپنی ایک چین کی پالیسی سے بدستور وابستہ ہیں جس سے دہائیوں تک جنگ کو روکنے میں مدد ملی ہے۔ ہم کسی بھی فریق کی جانب سے موجودہ صورتحال میں یکطرفہ تبدیلیاں کرنے کے مخالف ہیں۔

ہم ایتھوپیا میں جنگ ختم کرنے اور اس کے لوگوں کا مکمل تحفظ بحال کرنے کے لیے افریقی یونین کے زیرقیادت امن عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

وینزویلا میں سالہا سال کے سیاسی جبر کے باعث 6 ملین سے زیادہ لوگ ملک چھوڑ گئے ہیں۔ ہم وینزویلا کے سیاسی فریقین میں بات چیت اور وہاں آزادانہ و شفاف انتخاب پر زور دیتے ہیں۔

ہم اپنے ہمسایہ ملک ہیٹی کے ساتھ کھڑے ہیں جسے سیاسی پشت پناہی میں کام کرنے والے جتھوں کے تشدد اور بہت بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔

ہم دنیا سے بھی یہی کچھ کرنے کو کہتے ہیں۔ ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔

ہم یمن میں اقوام متحدہ کی مدد سے ہونے والی جنگ بندی کی حمایت کرتے رہیں گے جس نے سالہا سال کی جنگ کے ستائے لوگوں کو کئی مہینوں سے امن مہیا کیا ہے۔

ہم اسرائیل کی یہودی اور جمہوری ریاست اور فلسطینی عوام کے مابین مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کے قیام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔ یہ حتمی بات ہے۔ ہمارے مطابق اس مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل مستقبل کے لیے اسرائیل کی سلامتی اور خوشحالی یقینی بنانے اور فلسطینیوں کو ریاست دینے کا بہترین طریقہ ہے جس کے وہ حق دار ہیں۔ ہم اس مسئلے کا ایسا حل چاہتے ہیں جس کے ذریعے دونوں فریقین اپنے شہریوں کے مساوی حقوق کا پورا احترام کریں اور دونوں طرف کے لوگ مساوی طور پر آزادی اور وقار سے جی سکیں۔

میں ہر ملک پر زور دینا چاہوں گا کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو مضبوط بنانے کا دوبارہ عہد کرے۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے قطع نظر، امریکہ ضبط اسلحہ کے لیے اہم اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور یہ کبھی نہیں لڑی جانی چاہیے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے جنوری میں اس عہد کی تجدید کی ہے۔ لیکن آج ہم پریشان کن رحجانات دیکھ رہے ہیں۔ روس نے این پی ٹی کی 10 وی جائزہ کانفرنس میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو نظرانداز کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، آج وہ جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی غیرذمہ دارانہ دھمکیاں دے رہا ہے۔ چین کسی شفافیت کے بغیر جوہری ہتھیاروں کو ترقی دے رہا ہے جو کہ باعث تشویش ہے۔

ہماری جانب سے سنجیدہ اور پائیدار سفارت کاری شروع کرنے کی کوششوں کے باوجود شمالی کوریا بدستور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی میں مصروف ہے۔

اگرچہ امریکہ ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی صورت میں مشترکہ جامع منصوبہ عمل کی جانب واپسی کے لیے تیار ہے لیکن اس بارے میں ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ نتیجہ حاصل کرنے کا بہترین طریقہ سفارت کاری ہے۔ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ اس ادارے کی بہت بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ہم دنیا کو نہ تو یہاں سے واپس لے جا سکتے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کی پامالی پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ ہمارے پیشروؤں کی جانب سے ہمیں خود کو جانچنے کے لیے دیا جانے والا پیمانہ ہے، انہوں نے 1948 میں یہ واضح کر دیا تھا کہ انسانی حقوق ہر اس کامیابی کی بنیاد ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن 2022 یمں بھی دنیا کے ہر حصے میں بنیادی آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ شِنگ جینگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لے کر، جن کی تفصیل اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے اپنی حالیہ رپورٹوں میں بیان کی ہے، برما میں فوجی حکومت کی جانب سے جمہوریت نواز کارکنوں اور نسلی اقلیتوں کے حقوق کی ہولناک پامالیوں اور افغانستان میں طالبان کی جانب سے عورتوں اور لڑکیوں پر بڑھتا ہوا جبر ایسے خطرات کی واضح مثالیں ہیں۔

آج ہم ایران کے بہادر شہریوں اور بہادر خواتین کے ساتھ کھڑے ہں جو اس وقت اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کےلیے احتجاج کر رہے ہیں۔

مستقبل انہی ممالک کا ہےجو اپنی آبادی کی پوری صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں، جہاں عورتوں اور لڑکیوں کو بنیادی تولیدی حقوق سمیت تمام مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں اور جہاں وہ مضبوط تر معیشتوں اور معاشروں کی تعمیر کے لیے اپنا پورا حصہ ڈال سکتی ہیں، جہاں مذہبی و نسلی اقلیتیں کسی طرح کی ہراسانی کے بغیر زندگی گزار سکتی ہیں اور اپنے معاشروں کے مرکزی دھارے میں شامل ہوتی ہیں، جہاں ایل جی بی ٹی کیو آئی + برادری کے افراد تشدد کا نشانہ بنے بغیر آزادی کے ساتھ  جینے اور محبت کرنے کا حق رکھتے ہیں اور جہاں شہری کسی انتقامی کارروائی کے خوف سے بے نیاز ہو کر اپنے رہنماؤں سے سوال کر سکتے ہیں اور ان پر تنقید کر سکتے ہیں۔

امریکہ اپنے ملک اور دنیا بھر میں ہمیشہ انسانی حقوق اور ان اقدار کو فروغ دیتا رہے گا جو اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیے گئے ہیں۔

میں یہ کہتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کرنا چاہوں گا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی رہنمائی میں یہ ادارہ بنیادی طور پر ایک مستقل امید کی حیثیت رکھتا ہے۔

میں دوبارہ کہوں گا کہ یہ ایک مستقل امید ہے۔

اُن پہلے مندوبین کا تصور کریں جنہوں نے اُس وقت بظاہر ناممکن کام کا بیڑا اٹھایا جب دنیا میں جنگ کی آگ پوری طرح نہیں بجھی تھی۔

ذرا تصور کیجیے کہ دنیا کے لوگوں نے لاکھوں مرنے والوں کے تازہ غم اور ہولوکاسٹ میں نسل کشی کی ہولناکیوں کے ہوتے ہوئے خود کو کس قدر منقسم محسوس کیا ہوگا۔

اُس دور میں ان لوگوں کو انسانیت کے بدترین مستقبل پر یقین رکھنے کا پورا حق تھا۔ لیکن اِس کے بجائے انہوں نے وہ کچھ کیا جو ہم سب کے لیے اچھا تھا اور انہوں نے ہمارے لیے بہتری کی راہ منتخب کی۔ یہ پائیدار امن، ممالک کے مابین ہمدردی، ہر انسان کے مساوی حقوق اور تمام انسانیت کی ترقی کے لیے باہمی تعاون کا راستہ تھا۔

میرے ساتھی رہنماؤں، آج ہمیں بہت بڑے مسائل درپیش ہیں لیکن اِن سے نمٹنے کی ہماری صلاحیت ان سے زیادہ بڑی ہے۔ ہمارا عزم اب بھی بہت بڑا ہونا چاہیے۔

لہٰذا آئیے ایک مرتبہ پھر اس واضح اعلان کے لیے اکٹھے کھڑے ہوں کہ دنیا کے ممالک اب بھی متحد ہیں اور ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کی اقدار کے لیے کھڑے ہیں اور ہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اکٹھے کام کر کے ہم تاریخ کا رخ اپنے بچوں کے لیے مزید آزاد اور منصفانہ مستقبل کی جانب موڑ سکتے ہیں اگرچہ بھی تک ہم میں سے کسی نے اس مقصد میں پوری طرح کامیابی حاصل نہیں کی۔

ہم تاریخ کے خاموش تماشائی نہیں بلکہ تاریخ لکھنے والے ہیں۔

ہم یہ کر سکتے ہیں، ہمیں یہ کرنا ہے، اپنے بچوں اور انسانیت کے لیے۔

تحمل سے میری بات سننے پر آپ کا شکریہ۔ میں آپ کی قدر کرتا ہوں۔ خدا آپ پر رحمت کرے۔ (تالیاں)

11:37 دن


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/speeches-remarks/2022/09/21/remarks-by-president-biden-before-the-77th-session-of-the-united-nations-general-assembly/#:~:text=Mr.%20President%2C%20Mr.%20Secretary,Let%20us%20speak%20plainly .

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future