وائٹ ہاؤس
22 فروری، 2022

صدر: کیا آپ ذہنی طور پر تیار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟ (قہقہہ)

اچھا، سہ پہر بخیر۔ گزشتہ روز ولاڈیمیر پوٹن نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کیا اور یہ حیران کن دعویٰ کیا کہ یہ علاقے اب یوکرین کا حصہ اور اس کی خودمختار حکومت کے تابع نہیں رہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو روس نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کی زمین کا ایک بڑا حصہ اس سے علیحدہ کر رہا ہے۔

گزشتہ شب پوٹن نے روس کی افواج کو اس علاقے میں تعینات کرنے کی اجازت دی۔ انہوں نے جن دو علاقوں کو علیحدہ ریاستیں تسلیم کیا ہے آج ان سے کہیں بڑے علاقوں پر دعویٰ کیا ہے جو اس وقت یوکرین کی حکومت کی عملداری میں آتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ وہ بزور طاقت مزید علاقہ ہتھیانے کی توجیہہ گھڑ رہے ہیں۔ اگر ہم گزشتہ رات ان کی تقریر کو سنیں، جیسا کہ آپ میں بہت سے لوگوں نے سنی، تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مزید علاقے پر تسلط جمانے کا جواز تیار کر رہے ہیں۔

یہ یوکرین پر روس کے حملے کا آغاز ہے جیسا کہ انہوں نے اشارہ دیا اور اپنی پارلیمنٹ ڈوما سے ایسا کرنے کی اجازت چاہی۔

لہٰذا میں اس کے جواب میں پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کر رہا ہوں جو 2014 میں ہمارے اور ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی جانب سے روس کے خلاف کیے گئے اقدامات سے کہیں بڑھ کر ہوں گی۔ اگر روس نے یوکرین میں اپنی اس مداخلت کو مزید بڑھایا تو ہم اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پوٹن کیا سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے ہمسایوں کی سرزمین پر نام نہاد نئے ممالک کے قیام کا اعلان کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ یہ عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ عالمی برادری کی جانب سے کڑے ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔

اس ردعمل کی تیاری کے لیے ہم گزشتہ چند مہینوں میں اپنے نیٹو اتحادیوں، یورپی شراکت داروں اور دنیا بھر کے ممالک سے قریبی رابطے میں رہے ہیں۔ ہم نے ابتدا ہی سے کہا ہے اور میں نے ایک مہینہ پہلے پوٹن کو ان کے روبرو کہا تھا کہ اگر روس نے یوکرین پر چڑھائی کی تو ہم سبھی اتحادی متحد ہو کر اس کا جواب دیں گے۔

اب روس نے ان آزاد ریاستوں کا اعلان کر کے ناقابل تردید طور سے یوکرین کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اس لیے آج میں روس کے گزشتہ روز کے اقدامات کی پاداش میں اس کے خلاف پابندیوں کی پہلی قسط کا اعلان کر رہا ہوں۔ ہم نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ قدم اٹھایا ہے اور روس کی جانب سے جارحیت میں اضافے کے ساتھ ہم اس کے خلاف پابندیوں میں بھی اضافہ کرتے رہیں گے۔

ہم روس کے دو مالیاتی اداروں وی ای بی اور ان کے فوجی بینک پر مکمل پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

ہم روس کے قرض (سوورن ڈیٹ) پر جامع پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے روس کی حکومت کو مغربی مالیات سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اب وہ مغربی ممالک سے رقم اکٹھی نہیں کر سکتی اور ہماری یا یورپ کی منڈیوں میں اپنے نئے قرض کی تجارت نہیں کر سکتی۔

ان پابندیوں کا آغاز کل (آج) سے ہوا ہے اور یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں جاری رہے گا جس میں ہم روس کی اشرافیہ اور ان کے اہلخانہ کے خلاف بھی پابندیاں لگائیں گے۔ انہوں نے کریملن کی پالیسیوں سے سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور انہیں اس سے ہونے والا نقصان بھی برداشت کرنا ہو گا۔

روس کے اقدامات کے باعث ہم نے یہ یقینی بنانے کے لیے جرمنی کے ساتھ کام کیا کہ نارڈ سٹریم 2 پر کام روک دیا جائے گا جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا۔

جب روس اپنے اگلے اقدام کے بارے میں سوچے گا تو ہمارا اگلا قدم بھی تیار ہو گا۔ اگر روس نے اپنی جارحیت جاری رکھی تو اسے اس کی کہیں بڑی قیمت چکانا پڑے گی جس میں مزید پابندیاں بھی شامل ہوں گی۔

اسی دوران امریکہ یوکرین کو دفاعی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔ ہم اپنے نیٹو اتحادیوں کو مضبوط بنانے اور ان کی ہمت بڑھانے کا کام جاری رکھیں گے۔

آج روس کی جانب سے بیلارس سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے انکار کے بعد میں نے بالٹک خطے میں اپنے اتحادیوں ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھوانیا کے دفاع میں مدد دینے کے لیے امریکی فوجی دستوں اور سازوسامان کو اضافی نقل و حرکت کی اجازت دے دی ہے جو کہ پہلے ہی یورپ میں موجود ہیں۔

یہاں میں واضح کر دوں کہ یہ ہماری جانب سے مکمل طور سے دفاعی نقل و حرکت ہے۔ ہمارا روس کے خلاف جنگ لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن ہم ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نیٹو کی سرزمین کے ہر انچ کی حفاظت کرے گا اور نیٹو میں کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

ہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ روس یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے کرنے کے لیے بہت آگے جانے کو تیار ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ ویسا نہیں ہو گا جیسا کہ ہم سوچ رہے ہیں۔ لیکن یوکرین کے بقیہ علاقے کو بھی روس سے خطرہ ہے جس میں بڑے شہر اور دارالحکومت کیئو بھی شامل ہیں۔

اس وقت روس کی 150,000 سے زیادہ فوج یوکرین کو گھیرے ہوئے ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، روس کی افواج شمال سے یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے بیلارس میں موجود ہیں جن میں جنگی جہاز اور حملہ آور میزائل نظام بھی شامل ہیں۔

روس نے اپنے فوجی دستوں کو یوکرین کے ساتھ اپنی سرحد پر تعینات کر رکھا ہے۔ روس کے جنگی بحری جہاز یوکرین کے جنوب میں بحیرہ اسود میں موجود ہیں جن میں بری و بحری دونوں سطحوں پر کارروائی کرنے والے جہاز، میزائل کروزر اور آبدوزیں بھی شامل ہیں۔

روس نے طبی ضرورت کے لیے استعمال ہونے والا خون اور طبی سازوسامان اپنی سرحد پر پہنچا دیا ہے۔ جب جنگ کا ارادہ ہو تو اسی صورت میں خون کی ضرورت پڑتی ہے۔

گزشتہ چند روز میں ہم نے روس کی جانب سے ایسے بہت سے اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے جن کا تذکرہ وزیر خارجہ بلنکن نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ ی سلامتی کونسل میں کیا تھا۔ روس کی جانب سے ڈونباس میں یوکرین کی افواج کے ساتھ اشتعال انگیزی اور جعلی کارروائیوں میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ روس کے لوگوں کو متاثر کرنے اور جوش دلانے کے لیے پوٹن کی سکیورٹی کونسل کے آن کیمرا اجلاس میڈیا میں دکھائے جا رہے ہیں اور اب عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یوکرین کی خودمختار سرزمین پر نام نہاد آزاد ریاستوں کو تسلیم کر کے سیاسی اشتعال انگیزی کی جا رہی ہے۔

صدر پوٹن روس کی سرزمین سے باہر فوجی کارروائی کے لیے روس کی پارلیمںٹ سے اجازت حاصل کر چکے ہیں۔ اس طرح روس کی جانب سے مزید بہانوں اور مزید اشتعال انگیزی کا ماحول بنایا گیا ہے تاکہ مزید فوجی کارروائی کا جواز پیدا کیا جائے۔

ہم میں کسی کو اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ ہم میں سے کوئی بھی دھوکہ نہیں کھائے گا۔ روس جو کچھ کر رہا ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

آنے والے دنوں میں یوکرین پر روس کے مزید حملے کا سنگین خطرہ موجود ہے۔ اگر روس نے مزید کارروائی کی تو اس کا وہ اکیلا ذمہ دار ہو گا۔

روس کی کارروائیوں پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے میری انتظامیہ امریکہ کے کاروباروں اور صارفین کو نچلی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن ذریعے سے کام لے رہی ہے۔ جیسا کہ میں ںے گزشتہ ہفتے کہا تھا، آزادی کے تحفظ کے لیے ہمیں اندرون ملک بھی کچھ قربانی دینا پڑے گی۔ ہمیں اس بارے میں دیانت داری سے کام لینا ہو گا۔

لیکن ایسا کرتے ہوئے میں موثر قدم اٹھاؤں گا اور یہ یقینی بناؤں گا کہ پابندیوں سے روس کی معیشت کو ہی نقصان پہنچے اور ان کے اثرات ہماری معیشت پر نہ پڑیں۔

ہم توانائی کی ترسیل میں کسی ممکنہ خلل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم توانائی کی فراہمی اور اس کی قیمتوں میں استحکام اور عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل برقرار رکھنے کے لیے بڑے تیل صارفین اور پیداکاروں کے اشتراک سے ایک منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ اس حوالے سے مجموعی اقدامات کیے جا سکیں۔

اس سے گیس کی قیمتیں کم رہیں گی۔ میں چاہتا ہوں کہ نچلی سطح پر امریکی صارفین کو اس کی قیمت نہ چکانا پڑے۔ یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔

میں گزشتہ چند روز میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں رہا ہوں جن میں یوکرین کے صدر زیلنسکی بھی شامل ہیں۔ نائب صدر ہیرس نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جرمنی میں ہونے والی میونخ کانفرنس میں رہنماؤں کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کی جن میں صدر زیلنسکی بھی شامل ہیں۔

ہم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا کہ امریکہ اور ہمارے اتحادی اور شراکت دار متحد ہو کر کام کر رہے ہیں جسے مسٹر پوٹن تسلیم نہیں کر رہے تھے۔ ہم یوکرین کے لیے اپنی حمایت میں باہم متحد ہیں۔ ہم روس کی جارحیت کی مخالفت میں متحد ہیں۔ ہم اپنے نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے عزم میں متحد ہیں۔ اسی طرح ہمیں متحدہ طور پر یہ ادراک ہے کہ عالمی امن اور استحکام کو روس کی جانب سے کس قدر فوری اور سنگین نوعیت کا خطرہ لاحق ہے۔

گزشتہ روز دنیا نے واضح طور پر سنا کہ ولاڈیمیر پوٹن کسی طرح تاریخ کو توڑ موڑ کر نئے سرے سے لکھنا چاہتے ہیں، ایک صدی سے زیادہ عرصہ پیچھے جاتے ہوئے ، جیسا کہ انہوں نے فصاحت سے کہا، میں اس کی تفصیل میں نہیں جانتا چاہتا، تاہم پوٹن کی طویل تقریر میں 2022 میں یورپی سلامتی سے متعلق حقیقی بات چیت میں کسی طرح کی دلچسپی لینے کا کوئی اشارہ موجود نہیں تھا۔

انہوں نے یوکرین کے بحیثیت ملک قائم رہنے کے حق پر براہ راست حملہ کیا۔ انہوں ںے بالواسطہ طور پر ان ممالک کو دھمکی دی جوکبھی روس کا حصہ تھے اور ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو آج ترقی پاتی جمہوریتیں اور نیٹو کے ارکان ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر دھمکی دی کہ اگر ان کے انتہائی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ جنگ کریں گے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روس جارح ہے۔ اسی لیے ہم خود کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی واضح سوچ رکھتے ہیں۔

اس کے باوجود روس کی پیش قدمی اور اس کے نتیجے میں کسی ایسی انتہائی سنگین صورتحال سے بچنے کا وقت اب بھی باقی ہے جس میں لاکھوں لوگوں کو ناقابل بیان تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگر روس سنجیدہ ہے تو امریکہ اور ہمارے اتحادی اور شراکت دار اب بھی سفارت کاری کے لیے تیار ہیں۔ آخر میں ہم روس کو اس کی باتوں سے نہیں بلکہ اس کے اقدامات سے پرکھیں گے۔

روس آئندہ جو بھی قدم اٹھائے گا ہم اس کا باہم متحد ہو کر، واضح طور پر اور پورے اعتماد سے جواب دیں گے۔

اگر روس کا یہی طرزعمل جاری رہا تو غالباً ہمیں اس بارے میں مزید بات کرنا پڑے گی۔ میں امید کر رہا ہوں کہ اب بھی اس مسئلے کا سفارتی حل نکل آئے گا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/speeches-remarks/2022/02/22/remarks-by-president-biden-announcing-response-to-russian-actions-in-ukraine/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future