وائٹ ہاؤس
صدر بائیڈن کا بیان
12 جولائی، 2023

ولنیئس یونیورسٹی
ولنیئس، لیتھوانیا

7:51، شام

صدر: ہیلو لیتھوانیا! (تالیاں) جیسا کہ میری والدہ کہتی تھیں، “خدا کو آپ سے محبت ہو۔” نشستیں نہیں ہیں۔ یہ حیران کن ہے۔ (قہقہہ)

ولنیئس میں دوبارہ آنا میرے لیے خوشی کا موقع ہے۔ یہ ایک ایسا ملک اور ایسا خطہ ہے جو آزادی کی انقلابی طاقت کے بارے میں دوسروں سے زیادہ آگاہ ہے۔ (تالیاں) آپ جانتے ہیں، آپ نے دنیا پر ثابت کای کہ متحد لوگوں کی طاقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

آپ نے ایسٹونیا اور لٹویا میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے کے ساتھ مل کر رابطے کی طاقت کے ذریعے تقسیم کا دور ختم کرنے میں مدد دی۔ دیوارِ برلن کے بجائے بالٹک کا راستہ یورپ کے مستقبل کی علامت بن گیا۔

بعدازاں جب سوویت ٹینکوں نے ایک مرتبہ پھر آپ کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی تو ولنیئس کے لوگوں نے “نہیں” کہا۔ نہیں، نہیں، نہیں۔ جنوری 1991 میں ہزاروں غیرمسلح اور ثابت قدم شہری اپنے معاہدے کے تحفظ، ٹی وی ٹاور کی حفاظت، سپریم کورٹ کے تحفظ اور اپنی آزادی کے دفاع کے لیے متحد ہو کر باہر نکل آئے۔

المناک طور سے چودہ بہادروں نے اپنی جانیں دیں۔ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ دہائیوں کا جبر اس ملک میں آزادی کے شعلے کو مدھم کرنے کے لیے کچھ نہ کر سکا۔ (تالیاں) یہ حقیقت ہے۔ یہ نتیجہ خیز ہے۔

لیتھوانیا کی روشنی: آپ نے اسے مضبوط رکھا۔ آپ نے اسے روشن رکھا۔ آپ نے ولنیئس اور واشنگٹن میں یہ شمع جلائے رکھی جہاں آپ کا زرد، سبز اور سرخ جھنڈا روزانہ لہراتا ہے۔

گزشتہ برس ہم نے امریکہ اور بالٹک ریاستوں کے مابین اٹوٹ سفارتی رشتوں کی 100ویں سالگرہ منائی۔

امریکہ ۔۔ جناب صدر، امریکہ نے بالٹک خطے میں سوویت قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ کبھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی نہیں۔ (تالیاں)

اس کے ساتھ میں یہ کہوں گا کہ آپ کے صدر ایک عظیم شخصیت ہیں۔ (تالیاں) کھڑے ہو جائیں۔ نہیں، کھڑے ہو جائیں۔

جیسا کہ آپ کے صدر آپ کو بتا سکتے ہیں، لیتھوانیا اور امریکہ کے لوگوں کے مابین تعلقات کبھی کمزور نہیں پڑے۔

جنوری کی خونریز کارروائی سے صرف سات ماہ کے بعد یہاں اس نئی ریاست لیتھوانیا میں اپنے پاسپورٹ پر مہر لگوانے والے پہلے غیرملکی لیتھوانیا کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے وہ امریکی تھے جو شکاگو، الینائے میں رہتے تھے اور جو پورا جہاز لے کر یہاں اترے۔ (تالیاں) اوہ (قہقہہ) ان کے خاندانوں کو اب بھی ان پر فخر ہے۔

حاضرین میں شامل فرد: لاس اینجلس سے۔

صدر: لاس اینجلس سے لوگ بعد میں آئے۔ (قہقہہ) اس کے بعد بہت سے لوگ آئے۔

دیکھیے، اس جہاز پر سوار بہت سے لوگ ایسے تھے جو سوویت جبر کے ابتدائی عرصہ میں ہی لیتھوانیا سے نکل آئے تھے اور وہ اس آزاد ریاست میں اپنی واپسی پر حیرت و استعجاب کی کیفیت میں تھے۔ ان میں سے ایک نے صحافیوں کو بتایا کہ “یہ دن ہمارے لیے نئی زندگی کی شروعات جیسا ہے۔ خدایا، یہ دن ہمارے لیے نئی زندگی لایا ہے۔” انہوں نے یہی کچھ کہا اور اس وقت لوگوں کے یہی جذبات تھے۔

یہ نئی زندگی جلد مکاشفے میں بدل گئی اور ایک ایسا ملک وجود میں آیا جو آج آزادی اور مواقع کے گڑھ اور یورپی یونین اور نیٹو کے پُرفخر رکن کی حیثیت سے موجود ہے۔ (تالیاں)

2004 میں امریکی سینیٹر کی حیثیت سے لیتھوانیا اور بالٹک خطے کے دیگر ممالک کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ کیا یہ شاندار کام نہیں تھا؟ (قہقہہ)

تاہم مذاق ایک طرف، ذرا سوچیے کہ اس سے چیزیں کیسے تبدیل ہوئیں۔ سوچیے کہ کیا ہوا۔

اب، گزشتہ چند روز میں امریکہ کے صدر کی حیثیت سے مجھے لیتھوانیا کی میزبانی میں نیٹو کے تاریخی اجلاس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا ہے جہاں ہم نے نیٹو کے نئے اتحادی فن لینڈ کا خیرمقدم کیا اور سویڈن کو جلد از جلد اتحاد کا رکن بنانے کے لیے معاہدہ کیا۔ (تالیاں) صدر اردوآن نے اپنا وعدہ پورا کیا۔

ہم آپ کے تاریخی سفر کے عینی شاہد ہیں۔ مجھے لیتھوانیا کو دوست، شراکت دار اور اتحادی کہنے پر فخر ہے۔ اتحادی، اتحادی۔ (تالیاں)

بہت جلد 32واں آزاد ملک نیٹو کا حصہ بن جائے گا جس کے ارکان ہمارے لوگوں اور ہماری سرزمین کے دفاع اور سب سے بڑھ کر ان جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہیں جو ہمیں مضبوط بناتی ہیں اور اس مقدس عہد کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ ہیں کہ کسی ایک ملک پر حملہ تمام کے خلاف حملہ متصور ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیٹو کا ہر رکن جانتا ہے کہ ہمارے لوگوں اوار ہمارے اتحاد کی طاقت سے انکار ممکن نہیں۔ (تالیاں)

اگر یہ بات کرتے ہوئے میں پُرامید ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔

آج ہمارا اتحاد عالمگیر سلامتی اور استحکام کا قلعہ ہے جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے قائم ہے۔ نیٹو مضبوط تر، پہلے سے زیادہ توانا اور ہاں، تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہے۔ درحقیقت ہمارے مشترکہ مستقبل کے لیے اس کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔

ایسا حادثاتی طور پر نہیں ہوا۔ یہ ناگزیر نہیں تھا۔

جب پیوٹن نے زمین اور طاقت کے لیے اپنی بزدلانہ ہوس کے ساتھ یوکرین کے خلاف اپنی سفاکانہ جنگ چھیڑی تو وہ یہ سوچ رہے تھے کہ نیٹو ٹوٹ جائے گا۔ وہ امید کر رہے تھے کہ نیٹو منقسم ہو جائے گا۔ انہوں ںے سوچا کہ ہمارا اتحاد پہلے ہی امتحان میں بکھر جائے گا۔ انہوں نے سوچا کہ جمہوری رہنما کمزور ثابت ہوں گے۔ لیکن ان کا خیال غلط تھا۔ (تالیاں)

دنیا کے امن و استحکام، اپنی عزیز جمہوری اقدار اور اپنی آزادی کو لاحق خطرے کے مقابل ہم نے وہی کچھ کیا جو ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ امریکہ آگے بڑھا۔ نیٹو آگے بڑھا۔ یورپ میں ہمارے شراکت دار آگے بڑھے اور پھر ہندالکاہل آگے بڑھا۔ دنیا بھر کے کردار آگے بڑھے۔

ہم تیار تھے کیونکہ ہم متحد کھڑے تھے۔

جنگ سے پہلے کے مہینوں میں پیوٹن نے اپنی افواج یوکرین کی سرحدوں پر جمع کر لیں اور اپنی سفاکانہ جنگ کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کر دی۔ اس موقع پر میں جی7، یورپی یونین اور نیٹو میں اپنے ساتھی رہنماؤں کے ساتھ متواتر رابطے میں تھا۔

ہم نے دنیا کو خبردار کیا کہ پیوٹن کون سی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس موقع پر یوکرین میں بھی بعض لوگوں نے ہماری انٹیلی جنس پر یقین نہ کیا۔ ہم نے یقینی بنایا کہ نیٹو اپنے کسی بھی رکن ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو۔ ہم نے روس کے ساتھ کڑی سفارت کاری کی اور اس خوفناک جنگ کو روکنے کی کوششیں کیں۔ جب روس کے بم برسنا شروع ہوئے تو ہم نے اپنا ردعمل دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ دکھائی۔

ہم نے یوکرین کے بہادر لوگوں کی مدد کے لیے دنیا کو اکٹھا کیا جو اپنی آزادی اور خودمختاری کا غیرمعمولی وقار سے دفاع کر رہے ہیں۔ (تالیاں) میں دل کی گہرائیوں سے یہ بات کر رہا ہوں۔ اس کے بارے میں سوچیے۔ سوچیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

روس کا حملہ شروع ہوئے تقریباً ڈیڑھ سال ہو چکا ہے اور اس کی افواج خوفناک مظالم کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ ان میں انسانیت کے خلاف جرائم بھی شامل ہیں۔ لیکن یوکرین کے لوگوں کا عزم توڑا نہیں جا سکا۔ وہ ناقابل تسخیر ہیں۔ (تالیاں) یوکرین بدستور آزاد ہے۔ امریکہ نے یہ یقینی بنانے کے لیے 50 سے زیادہ ممالک کا اتحاد قائم کیا ہے کہ یوکرین ناصرف اب اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو بلکہ وہ مستقبل میں بھی ایسا کر سکے۔

جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے میں صدر زیلنسکی کے ساتھ کھڑا ہوں۔ میں ںے ان سے واشنگٹن، کیئو، ہیروشیما اور اب ولنیئس میں بات چیت کی ہے تاکہ دنیا کو بتایا جائے کہ ہم نہیں جھکیں گے۔ ہم نہیں جھکیں گے۔ (تالیاں) میں یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں۔ یوکرین کے لیے ہمارا عزم کمزور نہیں پڑے گا۔ ہم آج، کل اور جب تک ضروری ہوا آزادی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ (تالیاں)

ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ جنگ منصفانہ شرائط پر ختم ہو جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کو قائم رکھا جائے جس پر ہم سب نے دستخط کر رکھے ہیں۔ یہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصول ہیں۔ یہ ممالک کے مابین پُرامن تعلقات کے دو ستون ہیں۔ کسی ملک کو بزور طاقت دوسرے کا علاقہ ہتھیانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

روس یوکرین سے اپنی افواج واپس بلا کر، بین الاقوامی سرحدوں کو تسلیم کر کے اور یوکرین پر، اس کے بچوں، عورتوں اور اس کی فوج کے خلاف اپنے وحشیانہ حملوں کو بند کر کے کل ہی یہ جنگ ختم کر سکتا ہے۔

بدقسمتی سے اب تک روس نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مسئلے سفارتی حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ پیوٹن اب بھی غلط طور سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ یوکرین کو ختم کر سکتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ یوکرین کے لوگوں کی زمین، ان کا ملک اور ان کا مستقبل ہے۔

اس سب کچھ کے باوجود پیوٹن کو اب بھی شبہ ہے کہ ہم قائم نہیں رہ سکیں گے۔ وہ اب بھی یہ باطل سوچ رکھتے ہیں کہ امریکہ اور ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کا اتحاد برقرار نہیں رہ سکے گا۔

وہ ابھی تک یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ اپنی اقدار اور اپنی آزادی سے ہماری وابستگی ایک ایسی چیز ہے جس سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہی ہماری پہچان ہے۔ (تالیاں) میں اس پر یقین رکھتا ہوں۔ یہی ہماری پہچان ہے۔

اس ہولناک جنگ کے دوران لیتھوانیا کے لوگ اور بالٹک ممالک کے ہمارے بھائی یوکرین کے آزادانہ طور سے اپنا مستقبل خود منتخب کرنے کے حق کے سب سے زیادہ پرجوش حامی رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ طویل عرصہ تک آزادی سے محروم رہے۔ آپ میں بہت سے لوگ جو عمر رسیدہ ہیں وہ کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ اپنا مستقبل خود طے کرنے کا حق کس قدر قیمتی ہے۔ یہ ناصرف یوکرین بلکہ بیلارس، مولڈووا، جارجیا اور دنیا بھر میں ہر جگہ رہنے والے لوگوں کے لیے بے حد قیمتی ہے جو اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

لہٰذا آج رات آپ سب کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ اپنا کام جاری رکھیں۔ دنیا کو وہی امید دلاتے رہیں جو لیتھوانیا کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ آپ اسی امید کی تجسیم ہیں جو اس ملک میں پائی جاتی ہے۔ (تالیاں) نہیں، میں یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ میں مخلصانہ طور سے اس پر یقین رکھتا ہوں۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ کس قدر اہم ہے اور بہتر مستقبل کی جدوجہد کبھی ترک نہیں کرنی چاہیے۔ آزادی کا دفاع ایک دن یا ایک سال کا کام نہیں ہے۔ یہ زدنگی بھر کا کام ہے جو ہمیں ہمیشہ کرتے رہنا ہے۔

ہم آئندہ جدوجہد کے لیے مضبوطی سے تیار ہیں۔ ہمارا اتحاد کمزور نہیں پڑے گا۔ میں آپ سے اس کا وعدہ کرتا ہوں۔ (تالیاں)

ساتھیو، جیسا کہ میں آج دنیا بھر میں ڈالتا ہوں تو مجھے جنگ اور خطرات دکھائی دیتے ہیں، مجھے مسابقت اور غیریقینی صورتحال نظر آتی ہے، تاہم اس کے ساتھ میں بے مثال مواقع بھی دیکھتا ہوں۔ ان میں انتہائی پُرامن اور خوشحال دنیا دکھائی دیتی ہے جس میں آزادی اور وقار ہو، جہاں قانون کے تحت سبھی کے ساتھ انصاف ہو اور جہاں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیاں میسر ہوں جو تمام انسانیت کے لیے رحمت اور ہر فرد کا بنیادی حق ہیں۔

امریکہ ایسی ہی دنیا کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم سب متحد ہو کر ہی یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔

ہمیں اتحاد، مشترکہ مقصد اور لگن کے اسی جذبے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ ہم نے یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کے جواب میں کیا اور ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے مزید شراکت داروں کو اپنے ساتھ ملانے کی ضرورت ہے جس میں ہم رہنا چاہتے ہیں جو ہم اپنے بچوں کے لیے چاہتے ہیں۔

میرے دوستو، بنیادی ترین سطح پر ہمیں ایک انتخاب کرنا ہے، اس میں کوئی مبالغہ نہیں، ہمیں ایک راستہ منتخب کرنا ہے۔ ہمیں یا تو جبر اور استحصال سے عبارت ایسی دنیا کا انتخاب کرنا ہے جہاں طاقت کا اصول چلتا ہو یا پھر ہمیں ایسی دنیا منتخب کرنی ہے جہاں اس بات کا اعتراف ہو کہ ہماری ذاتی کامیابی دوسرے لوگوں کی کامیابی سے جڑی ہوئی ہے۔

جب دوسرے لوگ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو ہماری کارکردگی بھی اچھی ہو جاتی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ خطرے سے لے کر سبھی کے لیے فائدہ مند عالمگیر معیشت کی تعمیر تک آج ہمیں درپیش مسائل اس قدر بڑے ہیں کہ کوئی ایک ملک اکیلا انہیں حل نہیں کر سکتا اور اپنے اہداف کی تکمیل اور دورحاضر کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ہمیں اکٹھے کام کرنا ہے۔

میں مخلصانہ طور سے اس پر یقین رکھتا ہوں۔ دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ ہمارے پاس حرکیات میں تبدیلی لانے کا موقع ہے۔

اسی لیے صدر کی حیثیت سے میں ان اتحادوں کی تعمیر نو اور انہیں مضبوط بنانے پر اس قدر توجہ دے رہا ہوں جو دنیا میں امریکہ کی قیادت کی بنیاد ہیں۔

گزشتہ برسوں میں ہم نے اوقیانوس کے آر پار شراکت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور عالمگیر استحکام کے لیے یورپ اور امریکہ کے مابین تعلقات کی اہمیت کی توثیق کی۔ یہ تصور غیرمعقول ہے کہ امریکہ یورپ کو محفوظ بنائے بغیر خوشحال رہ سکتا ہے۔

ہم نے بھی ترقی کی ہے (حاضرین کی تالیاں) کیا ایسا نہیں ہے۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ (تالیاں)

ہم نے ہند الکاہل میں جاپان، جمہوریہ کوریا، آسٹریلیا اور فلپائن کے ساتھ امریکہ کے اتحاد کو بھی ترقی دی ہے جو دنیا کے اس اہم خطے میں ضروری سلامتی اور تحفظ مہیا کرتا ہے۔

کواڈ (آسٹریلیا، انڈیا، جاپان اور امریکہ کی چار رکنی شراکت) کے ذریعے ہم خطے کی بڑی جمہوریتوں کو باہمی تعاون کے علاوہ ہندالکاہل کو آزاد، کھلا، خوشحال اور محفوظ خطہ بنانے کے لیے متحد کر رہے ہیں۔

نیٹو کانفرنس میں ہمارے ہند۔الکاہل کے شراکت داروں نے متواتر دوسرے برس شرکت کی ہے اور ہم اوقیانوس اور الکاہل خطوں کی جمہوریتوں کےمابین روابط کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ وہ ان مشترکہ اقدار کے لیے بہتر طور سے اکٹھے چل سکیں جن میں مضبوط اتحاد، متنوع شراکتیں، مشترکہ مقصد اور ہمیں درپیش مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدام شامل ہیں۔

دنیا سکڑ گئی ہے اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنا مستقبل تعمیرکرتے ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمیں مشترکہ مسائل درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے ہم اکٹھے کام کرتے ہیں۔

ہمیں اکٹھے آگے بڑھنا اور مستقبل کے لیے بنیادی اصولوں کو مضبوط بنانے اور ان کا دفاع کرنے کے لیے وسیع تر اور مضبوط اتحاد تشکیل دینا ہیں تاکہ وہ تمام غیرمعمولی فوائد برقرار رکھے جا سکیں جو قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام سے حاصل ہوتے ہیں۔

ہمیں ان حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے اکٹھے ہونا ہے جو ان تصورات اور اس تجارت کی ضمانت دیتے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک عالمی ترقی ممکن بنائی ہے۔ ان میں علاقائی سالمیت اور خودمختاری جیسے اصول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں تاہم ان کے علاوہ سمندری اور فضائی سفر کی آزادی جیسے اصول بھی اہم ہیں جو ہمارے مشترکہ سمندروں اور ہماری فضاؤں کو کھلا رکھتے ہیں تاکہ ہر ملک کو ہماری مشترکہ عالمی جگہ تک مساوی رسائی ہو۔

ہم نئے امکانات کے اس دور کو کھوج رہے ہیں۔ یہ ایسا دور ہے جس میں تیزی سے اختراعات ہو رہی ہیں اور ہمیں یہ یقینی بنانے کے لیے اکٹھے رہنا ہے کہ ہمارے مستقبل کی مشترکہ جگہیں ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے ہماری بلند ترین خواہشات کی عکاس ہوں۔ جیسا کہ میرے والد کہا کرتے تھے کہ ‘ہر فرد کے ساتھ باوقار سلوک ہو’ تاکہ مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، حیاتیات اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو جبر کا ہتھیار بنانے کے بجائے مواقع تخلیق کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔

ہم تجارتی ترسیل کے ایسے نظام کی تعمیر کے لیے اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو پہلے سے زیادہ مستحکم اور محفوظ ہوں تاکہ ہمیں ایسے حالات کا دوبارہ سامنا نہ کرنا پڑا جو ہمیں وبا کے دوران درپیش تھے جب ہمیں روزمرہ ضرورت کی اہم اشیا تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ جانتے ہیں کہ ہم سب کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ارادہ کرنا ہو گا۔ یہ حقیقی اور سنجیدہ خطرہ ہے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ یہ انسانیت کو لاحق واحد سب سے بڑا خطرہ ہے۔

متحدہ حیثیت میں کام کر کے ہی ہم موسمیاتی تبدیلی کے بدترین نتائج کو روکنھے میں کامیاب ہو پائیں گے تاکہ ان سے ہمارے مستقبل اور ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کے مسقبل کو خطرہ نہ ہو۔

ہمیں دنیا بھر میں کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کی بے پایاں صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد دینے کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داری کو بھی تسلیم کرنا ہے۔ ہمیں انہیں امداد نہیں دینی کیونکہ ان کی مدد کرنا ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ جب زیادہ سے زیادہ شراکت دار اکٹھے ہو کر مشترکہ اہداف کی جانب پیش قدم کرتے ہیں تو ہم سب کو فائدہ ہوتا ہے۔ جب لوگ زیادہ صحت مند اور خوشحال ہوتے ہیں تو ہم سب کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ یہ حقیقت ہے۔ جب زیادہ سے زیادہ کاروبار اور اختراع کار بہتر مستقبل کے اپنے خواب کو پانے کی جدوجہد کرتے ہیں تو اس سے ہم سب کو فائدہ پہنچتا ہے۔

آپ جانتے ہیں،ج اسی لیے ہمیں اس باہم مربوط دنیا میں اپنی ضروریات کی بہتر طور سے تکمیل کے ذرائع کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ایسی دنیا ہے جہاں موسمیاتی آفات، وبائیں اور تنازعات سرحدوں سے ماورا ہیں اور یہ غربت اور عدم استحکام کے مسائل سے نمٹنے کا کام مزید مشکل بنا رہے ہیں جنہوں نے بہت سے لوگوں کو ترقی کی دوڑ سے باہر رکھا ہوا ہے۔

اسی لیے امریکہ ورلڈ بینک جیسے کثیرفریقی ترقیاتی مالیاتی اداروں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی قیادت کر رہا ہے تاکہ غربت میں کمی لانے اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے سے متعلق ان کے بنیادی مقصد کے لیے کام کو مضبوط کرتے ہوئے انہیں عالمگیر مسائل سے نمٹنے میں بہتر طور سے مدد دی جا سکے۔

ہم دنیا بھرمیں اعلیٰ معیار کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق بے پایاں ضروریات سے نمٹنے کے لیے جی7 میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہمارا یہ کام خاص طور پر افریقہ، لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا میں کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہے۔ یہ اس دنیا کے بارے میں بیان ہے جو ہم ملک کر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

خواتین و حضرات، ہم ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جہاں آج ہمارا انتخاب آنے والی دہائیوں میں دنیا کی سمت متعین کرے گا۔ دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔

کیا ہم مستقبل کے جارحین کو روکنے کے لیے آج کھلی اور بلاروک و ٹوک جارحیت کے خلاف مزاحمت کریں گے؟

کیا ہم بہت بڑی تاخیر ہونے سے پہلے ہی موسمیاتی بحران کے خلاف سرگرمی دکھائیں گے؟

کیا ہم نئی ٹیکنالوجی کی ترویج سے آزادی کے فروغ کا کام لیں گے یا اسے آزادی کا خاتمہ کرنے کے لیے استعمال میں لائیں گے؟

کیا ہم مزید جگہوں پر مواقع کو فروغ دیں گے یا عدم استحکام اور عدم مساوات کو قائم رہنے دیں گے؟

ہم ان بنیادی سوالات کا جس طرح جواب دیں گے وہی ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ میں دوبارہ کہوں گا کہ یہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ ہم سب کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس عزم اور اپنے اور ایک دوسرے پر اعتماد کے ساتھ نیز ممالک کے ایک مشترکہ مقصد کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہم ان سوالات کے جواب دے سکتے ہیں۔ ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہمارا مشترکہ تصور اور ہماری عزیز آزادیاں مشکل وقت میں خالی خولی الفاظ ہی ثابت نہ ہوں بلکہ یہ ہمارے لیے ایک لائحہ عمل کا کام دیں اور ایسے مستقبل کی جانب فوری اقدامات کا منصوبہ ثابت ہوں جس تک ہم پہنچ سکتے ہیں اور اگر ہم اکٹھے کام کریں تو پہنچ جائیں گے۔

ساتھیوں، ہمارے سامنے بہت مشکل راستہ ہے۔ یہ ہماری راہ میں مسائل کھڑے کرے گا، اپنی بہترین سوچ اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک دوسرے پر بھروسہ رکھیں اور کبھی امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ کبھی نہیں۔

ہمیں ہر روز بعض فیصلے لینا پڑتے ہیں۔ ہر روز ہمیں حق، سچ اور آزادی کے لیے کھڑا ہونے کی طاقت مجتمع کرنا پڑتی ہے۔

میرے دوستو دنیا کی تاریخ اور لیتھوانیا کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ آپ جانتے ہیں یہ ایسا سبق ہے جو ہم ہر روز پاتے ہیں اور یہی یوکرین کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ ہم اسی طرح اپنا کام کریں گے اور امن و امید، انصاف ار روشنی، آزادی اور ہر جگہ ہر فرد کے لیے امکانات سے بھرپور مستقبل دوبارہ تحریر کریں گے۔

ساتھیو، آپ میں سے بعض نے مجھے اپنے ملک کے لوگوں سے یہ کہتے سنا ہو گا کہ میں اپنے پورے کیریئر میں کبھی مستقبل کے امکانات کی بابت اس قدر پُرامید نہیں رہا۔ کبھی نہیں۔ کبھی نہیں۔

اسی لیے میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری بات سننے کے لیے وقت نکالا۔

خدا آپ سب پر رحمت کرے، خدا یوکرین اور دنیا میں ہر جگہ ہر ملک کی حفاظت کرے۔ خدا ہمارے فوجیوں کی حفاظت کرے۔

آپ کا شکریہ، شکریہ، شکریہ۔

8:12 شام


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/speeches-remarks/2023/07/12/remarks-by-president-biden-on-supporting-ukraine-defending-democratic-values-and-taking-action-to-address-global-challenges-vilnius-lithuania

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future