وائٹ ہاؤس
بریفنگ روم
بیانات و اجراء
24 مئی، 2022

صدر بائیڈن نے آج ٹوکیو میں انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے دنیا کو پہلے سے زیادہ خوشحال، آزاد، باہم مربوط اور محفوظ بنانے کے لیے اکٹھے کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے امریکہ۔ انڈیا جامع عالمگیر تزویراتی شراکت میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کی بڑی دفاعی شراکت کو مزید مضبوط کرنے، دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند معاشی تعلقات کی حوصلہ افزائی اور عالمگیر صحت، وباؤں سے نمٹنے کی تیاری اور اہم و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت کو وسعت دینے کا عزم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر اپنے مشترکہ یقین کے بارے میں تبادلہء خیال کیا۔ انہوں ںے ماحول دوست توانائی کی جانب انڈیا کی منصفانہ طور سے منتقلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے باہمی شراکت کو مزید بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحول دوست توانائی سے متعلق 2030 تک کے ایجنڈے سے متعلق امریکہ۔ انڈیا شراکت کے تحت کام کرنا بھی شامل ہے۔ یہ کام خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے نظام کی تنصیب، توانائی اور صنعت کے شعبوں میں ازالہء کاربن، گرین ہاؤس گیسیں خارج نہ کرنے والی گاڑیوں، صنعتوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے قابل بنانے اور متعلقہ سرمایہ کاری جمع کرنے کے شعبہ جات میں ہونا ہے۔

ملاقات میں صدر بائیڈن نے یوکرین کے خلاف روس کی ناقابل جواز جنگ کی مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں نے یوکرین کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے کا عزم کیا اور اس موضوع پر بات چیت کی کہ دونوں ممالک اور دنیا بھر لوگوں پر یوکرین کی جنگ کے منفی اثرات پر قابو پانے کے لیے باہمی تعاون کیسے ممکن ہے۔ ان اثرات میں توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

صدر بائیڈن اور وزیراعظم مودی نے تمام شہریوں کے لیے جمہوریت، آزادی، رواداری اور مساوی مواقع کی مشترکہ روایت کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔ صدر بائیڈن نے کانفرنس برائے جمہوریت کے عملی سال میں انڈیا کے کردار کا خیرمقدم کیا۔

دونوں ممالک کے رہنماؤں نے آج ہونے والی کواڈ کے تیسرے سربراہی اجلاس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور کواڈ شراکت کی بڑھتی ہوئی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے 11 اپریل کو ہونے والے امریکہ۔انڈیا 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کے نتائج کی توثیق کی جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دنیا میں بہت کم شراکتیں امریکہ اور انڈیا کے باہمی تعاون کی وسعت کی برابری کر سکتی ہیں۔ عالمگیر بہتری کے لیے جمہوریتوں کے کردار کو ثابت کرتے ہوئے:

•     صدر بائیڈن نے انڈیا کی جانب سے ہند۔الکاہل معاشی فریم ورک میں شمولیت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اعتماد کا اظہار کیا کہ انڈیا کی شرکت سے ہند۔الکاہل کو کھلا، باہم مربوط اور خوشحال خطہ بنانے میں مدد ملے گی۔

•     دونوں ممالک سرمایہ کاری کو فروغ دینے والے معاہدے پر پہنچے جو انڈیا کے لیے اپنی سرمایہ کاری کو قابل تجدید توانائی، زراعت، صحت اور ایس ایم ای قرضہ جات جیسے اہم شعبوں میں نجی شعبے کے زیرقیادت منصوبوں کے لیے مسلسل وسعت دینے کا فریم ورک مہیا کرتا ہے۔

•     دونوں ممالک انڈو۔ یوایس ویکسین ایکشن پروگرام کی تجدید کر رہے ہیں جو اپنے آغاز کے بعد اب تک دریافت، ترقی اور روٹا وائرس اور کووڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے انڈیا میں بنائی گئی سستی ویکسین کی تیاری جیسی بہت سی کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت اور زیابیطس اور سرطان جیسی غیروبائی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو وسعت دینے پر بات چیت بھی کی۔

•     دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ انڈیا کمبائنڈ ملٹری فورسز-بحرین میں ایسوسی ایٹ رکن کی حیثیت سے شامل ہو گا۔

•     دونوں رہنماؤں نے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی (آئی سی ای ٹی) پر امریکہ۔ انڈیا اقدام شروع کرنے کا خیرمقدم کیا جس کی قیادت دونوں ممالک کی قومی سلامتی کی کونسلوں کے ہاتھ میں ہو گی اور اس اقدام کا مقصد اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو وسعت دینا ہے۔

•     امریکہ نے 2022 میں انڈیا میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس جیسے شعبوں میں کم از کم 25 مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں تعاون کے لیے انڈیا میں ٹیکنالوجی میں اختراع کے چھ مراکز میں شمولیت کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد زراعت، صحت اور موسمیات جیسے شعبہ جات میں ترقی کو فروغ دینا ہے۔ امریکہ کی قومی سائنس فاؤنڈیشن اور انڈیا کا محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی پر امریکہ۔انڈیا نئے اقدام کے ذریعے اس تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔

•     معاشی سلامتی کو برقرار رکھنے اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے اقدامات میں جہاز رانی کے شعبے میں آگاہی کے بنیادی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے جہازرانی کے شعبے میں آگاہی سے متعلق ہند۔ الکاہل شراکت کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا۔

•     امریکہ اور انڈیا نے اس سال خلا، سائبر اور مصنوعی ذہانت کے موضوعات پر ڈائیلاگ شروع کرنے کے ذریعے نئے دفاعی شعبہ جات میں تعاون کو وسعت دینے کا عزم کیا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2022/05/24/readout-of-president-bidens-meeting-with-prime-minister-modi-of-india/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future