وائٹ ہاؤس
20 ستمبر، 2021

صدر جوزف آر بائیڈن جونیئر نے آج شام اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیخش سے ملاقات کی۔ انہوں نے امریکہ اور اقوام متحدہ کے مابین مضبوط شراکت کی ازسرنو توثیق کی جس کی بنیاد خاص طور پر اُن مشترکہ اقدار پر استوار ہے جن میں عالمگیر انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں اور عالمی قانون کا احترام بھی شامل ہے۔ دونوں نے کثیرملکی نظام کی اہمیت اور جمہوریت اور قوانین کی بنیاد پر قائم اس عالمی نظام کے دفاع پر تبادلہ خیال کیا جسے اقوام متحدہ سے تقویت ملتی ہے اور جس کی موجودگی اس دور کے بہت بڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور پر انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کووڈ۔19 وباء کو ختم کرنے، مستقبل میں تحفظ صحت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی تیاری، موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے، نظام ہائے خوراک اور تحفظ خوراک کو بہتر بنانے، امدادی ضروریات سے نمٹنے، جنگوں کو روکنے اور محدود کرنے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ اور دفاع کو ترقی دینے کے لیے اکٹھے کام کرنے کی ہنگامی ضرورت کے بارے میں بات چیت کی۔ اس موقع پر صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پیچیدہ عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کا واقعتاً عالمگیر نوعیت کا حل درکار ہوتا ہے جو وباء سے بہتر طور پر بحالی کے لیے صدر کی سوچ سے بھی عیاں ہے اور انہوں نے تمام انسانوں کو خوشحالی، امن اور سلامتی دینے میں اقوام متحدہ کے منفرد کردار پر زور دیا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2021/09/20/readout-of-president-joseph-r-biden-jr-s-meeting-with-secretary-general-antonio-guterres-of-the-united-nations/ 

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future