وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، ڈی سی
21 ستمبر 2021

اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر
منگل، 21 ستمبر 2021

10:01 صبح ای ڈی ٹی

جناب صدر؛ جناب سیکرٹری جنرل؛ میرے مندوب ساتھیو اور وہ تمام لوگ جو اپنے آپ کو اس ادارے کے عظیم مشن کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں: امریکہ کے صدر کی حیثیت سے پہلی بار آپ سے بات کرنا میرے لیے ایک اعزاز ہے۔

ہم اس سال ایک ایسے لمحے میں مل رہے ہیں جس میں انتہائی کرب اور غیر معمولی امکانات گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ ہم نے اس تباہ کن وبا کے ہاتھوں بہت کچھ کھو دیا ہے اور [یہ] دنیا بھر میں زندگیاں ختم کرنا اور ہماری بقا پر بہت زیادہ اثر انداز ہونا جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہم 4.5 ملین سے زائد افراد کی موت کا سوگ منا رہے ہیں – یعنی ہر قوم اور ہر پس منظر کے لوگوں کی موت کا۔ ہر ایک موت ایک انفرادی دل شکنی ہے۔ لیکن ہمارا مشترکہ غم اس بات کی ایک دکھ بھری یاد دہانی ہے کہ ہمارا اجتماعی مستقبل ہماری مشترکہ انسانیت کو پہچاننے اور مل کر کام کرنے کی صلاحیت کی ڈوریوں سے بندھا ہوگا۔

خواتین و حضرات، یہ ایک واضح اور فوری انتخاب ہے جس کا ہمیں ایک ایسے عشرے کے آغاز پر سامنا ہے جو ہماری دنیا کے لیے یقینی طور پر ایک فیصلہ کن عشرہ ثابت ہوگا۔ ایک ایسا عشرہ جو حقیقی معنوں میں ہمارے مستقبلوں کا تعین کرے گا۔

ایک عالمی برادری کی حیثیت سے، ہمیں فوری اور ہمارے سروں پر منڈلاتے ہوئے بحرانوں کے چیلنج درپیش ہیں۔ ان کے اندر لاتعداد موقعے چھپے ہوئے ہیں۔ تو— تو — ہمیں ان موقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے اندر عزم اور ارادہ پیدا کرنا ہوگا۔

کیا ہم جان بچانے، کووڈ-19 کو ہر جگہ شکست دینے کے لیے مل کر کام کریں گے اور اگلی وبائی بیماری کے خلاف اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں گے؟ کیونکہ ایک اور وبا بھی آ سکتی ہے۔ یا کیا ہم اپنے اختیار میں موجود وسائل کو ایسے میں بروئے کار لانے میں ناکام ہو جائیں گے جب [اس وبا کی] زیادہ متعدی اور خطرناک شکلیں اپنے پنجے گاڑ رہی ہوں گیں؟

کیا ہم بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کے اُس خطرے کا سامنا کریں گے جو پہلے ہی ہماری دنیا کے ہر حصے کو شدید موسموں سے تباہ و برباد کرتا جا رہا ہے؟ یا کیا ہم ہمیشہ بد سے بدتر ہوتی ہوئی خشک سالیوں اور سیلابوں، شدید سے شدید تر ہوتی ہوئی آتشزدگیوں اور سمندری طوفانوں، طویل دورانیے کی گرمیوں کی لہروں اور بلند ہوتے ہوئے سمندروں کی بے رحم پیشقدمی کے ہاتھوں مصیبتیں اٹھاتے رہیں گے؟

ہم اُس انسانی وقار اور اُن انسانی حقوق کو سربلند رکھنے اور اِن کے لیے لڑنے کا عہد کریں گے جس کے تحت قوموں نے ایک مشترکہ نصب العین کے تحت سات دہائیاں قبل یہ ادارہ بنایا تھا؟

کیا ہم ایسے میں اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے سمیت بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصولوں کا اطلاق کریں گے اور انہیں مضبوط بنائیں گے جب ہم نئی ٹکنالوجیوں کے ظہور کی صورت گری کرنے اور نئے خطرات کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یا ہم ننگے سیاسی اقتدار کے حصول کی خاطر اِن عالمگیر اصولوں کو پاؤں تلے روندنے اور توڑنے مروڑنے کی اجازت دیں گے؟

میرے خیال میں ہم اس لمحے میں ان سوالات کے جوابات جیسے دیں گے – چاہے ہم اپنے مشترکہ مستقبل کے لیے لڑنے کا انتخاب کریں یا نہ کریں – اِن کی بازگشت آئندہ آنے والی نسلوں تک سنائی دیتی رہے گی۔

سادے الفاظ میں: میرے خیال میں ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اور آج یہاں میں آپ کو ان سوالات کے جواب دینے کے لیے موجود ہوں کہ امریکہ شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کس طرح کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور [یہ بھی بتا رہا ہوں کہ] میری نئی انتظامیہ تمام لوگوں کو ایک زیادہ پرامن، خوشحال مستقبل کی طرف لے جانے میں مدد کا عزم کیے ہوئے ہے۔

ماضی کی جنگیں جاری رکھنے کی بجائے ہم اپنے وسائل کو اُن چیلنجوں کے لیے وقف کرنے پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں جن [کے حل] ہمارے اجتماعی مستقبل کی کنجی لیے ہوئے ہیں: یعنی اس وبا کا خاتمہ؛ آب و ہوا کے بحران سے نمٹنا؛ عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلیوں سے نمٹنا؛ تجارت، سائبر اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں جیسے انتہائی اہم مسائل پر دنیا کے قوانین کی تشکیل اور دہشت گردی کے خطرے کی موجودہ حالت کا سامنا کرنا۔

ہم نے افغانستان میں 20 سال سے جاری تصادم کو ختم کر دیا ہے۔ اور چونکہ ہم اس بے رحم جنگ کو ختم کر رہے ہیں اس لیے ہم انتھک سفارت کاری کے ایک نئے دور کا؛ دنیا بھر کے لوگوں کو اوپر اٹھانے کے لیے نئے طریقے سے سرمایہ کاری کرنے کے لیے ہماری ترقیاتی امداد کی طاقت کے استعمال کا؛ جمہوریت کی تجدید اور دفاع کا؛ [اور] یہ ثابت کرنے کے ایک نئے دور کا آغآز کر رہے ہیں کہ ہم کتنے ہی مشکل یا کتنے ہی پیچیدہ مسائل کا سامنا کیوں نہ کر رہے ہوں، عوام کی اور عوام کے لیے حکومت اب بھی تمام لوگوں کی خدمت کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

اور امریکہ اپنی توجہ کو ترجیحات اور بحرہند و بحرالکاہل جیسے دنیا کے خطوں پر، جو آج اور آنے والے کل بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ ہم [یہ کام] اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اقوام متحدہ جیسے کثیر الجہتی اداروں میں تعاون کے ذریعے کریں گے تاکہ ہم اجتماعی طاقت اور رفتار کو بڑہانے کے [ساتھ ساتھ] اِن عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کی خاطر اپنی پیشرفت میں بھی اضافہ کر سکیں۔

ہمارے اپنے ملکوں میں اور ایک عالمی برادری کے طور پر، اکیسویں صدی کی ایک بنیادی سچائی سامنے آئی ہے کہ ہماری اپنی کامیابی دوسروں کی کامیابیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

اپنے لوگوں کو کامیاب بنانے کے لیے ہمیں باقی دنیا کے ساتھ اپنے تعلق میں گہرائی پیدا کرنا ہوگی۔

اپنے مستقبل کو یقینی بنانے کی خاطر، ہمیں دوسرے شراکت داروں – اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

میری نظر میں ہماری سلامتی، ہماری خوشحالی، بلکہ ہماری آزادیاں، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جتنی باہم [آج] جڑی ہوئی ہیں اتنی پہلے کبھی نہیں تھیں۔ اس لیے میرا یقین ہے کہ ہمیں اس [طرح] مل کر کام کرنا چاہیے جیسے پہلے کبھی بھی نہیں کیا۔

گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران میں نے اپنے اتحادوں کی تعمیرِنو، اپنی شراکت داریوں کو دوبارہ مضبوط بنانے، اور یہ تسلیم کرنے کو ترجیح دی ہے کہ یہ [سب] امریکہ کی پائیدار سلامتی اور خوشحالی کے لیے لازم اور مرکزی حیثیت حاصل کی حامل ہیں۔

ہم نے نیٹو کے اپنے مقدس اتحاد کی شق 5 کے ساتھ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے نئے تزویراتی تصور پرکام کر رہے ہیں جس سے ہمارے اتحاد کو آج اور آنے والی کل کے ابھرتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنے میں مدد ملے گی۔

ہم نے یورپی یونین کے ساتھ اپنی وابستگی کی تجدید کی ہے۔ آج ہماری دنیا کو درپیش اہم مسائل کے پورے سلسلے سے نمٹنے میں [یورپی یونین] ایک بنیادی شراکت دار ہے۔

ہم نے صحت کی حفاظت سے لے کر آب و ہوا [اور] ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں تک کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی خاطر، آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور امریکہ کے درمیان کواڈ شراکت داری کے دائرہ کار کو توسیع دی۔

ہم بہتر صحت اور بہتر معاشی نتائج کے لیے لوگوں کی فوری ضروریات پر توجہ مرکوز کرنے کی خاطر، آسیان سے لے کر افریقی یونین تک اور امریکی [براعظموں] کے ممالک کی تنظیم تک، علاقائی اداروں کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہے ہیں-

ہم بین الاقوامی فورموں، بالخصوص اقوام متحدہ میں [مسائل پر] توجہ مرکوز کرنے اور مشترکہ چیلنجوں پر عالمی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے واپس آگئے ہیں۔

ہم نے صحت کے عالمی ادارے کے ساتھ دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا ہے اور دنیا بھر میں انسانی جانیں بچانے والی ویکسینیں پہنچانے کے لیے کوویکس کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔

ہم آب و ہوا کے پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو چکے ہیں اور اگلے سال اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لیے انتخاب لڑنے جا رہے ہیں۔

اور ایسے میں جب امریکہ دنیا کو عملی اقدامات کے لیے اکٹھا کرنےکی کوشش کر رہا ہے، ہم نہ صرف اپنی طاقت کی مثال کے ساتھ رہنمائی کریں گے، بلکہ خدا نے چاہا تو ہم اپنی مثال کی طاقت سے رہنمائی کریں گے۔

کوئی غلط فہمی میں نہ رہے: امریکہ اپنے آپ کا، اپنے اتحادیوں کا، اور دہشت گرد حملوں سمیت اپنے مفاد پر حملوں کا دفاع کرنا جاری رکھے گا۔ ہم اس وقت موجود خطرات اور ممکنہ خطرات سمیت، انتہائی اہم امریکی مفادات کا دفاع کرنے کے لیے اگر ضرورت پڑی تو، طاقت استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

لیکن یہ مشن واضح اور قابل حصول ہونا چاہیے اور امریکی عوام کی باخبر رضامندی سے اور جہاں کہیں ممکن ہواپنے اتحادیوں کی شراکت داری سے مکمل کیا جانا چاہیے۔

امریکی فوجی طاقت ہمارا پہلا نہیں بلکہ آخری حربہ ہونا چاہیے اور اسے ہر اس مسئلے کے حل کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جو ہم دنیا بھر میں دیکھتے ہیں۔

بلا شک و شبہ آج ہمارے سب سے بڑے مسائل ہتھیاروں کی طاقت سے نہ تو حل کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اُن سے نمٹا جا سکتا ہے۔ بم اور گولیاں کووڈ-19 یا اس کی بدلی ہوئی شکلوں کے خلاف [ہمارا] دفاع نہیں کر سکتے۔

اس وبائی مرض سے لڑنے کے لیے ہمیں سائنس اور سیاسی عزم کے اجتماعی عمل کی ضرورت ہے۔ ہمیں اب جتنی جلدی ممکن ہو بازوؤں میں [ویکسین کے] ٹیکے لگوانے اور دنیا بھر میں جانیں بچانے کے لیے آکسیجن، ٹیسٹوں،[اور] علاج تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اور مستقبل کے لیے ہمیں عالمی صحت کی سلامتی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی خاطر کوئی ایسا طریقہ کار وضح کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ہماری موجودہ ترقیاتی امداد پر اور صحت کی ایک عالمی کونسل پر ہو۔ اس کونسل کو وہ وسائل فراہم کیے جائیں جن کی ہمیں پھوٹنے والی وبائی امراض پر نظر رکھنے اور اِن کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم فوری اقدامات اٹھا سکیں۔

امریکہ پہلے ہی کووڈ کے عالمی ردعمل میں 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم دے چکا ہے۔ ہم دوسرے ممالک کو کووڈ-19 کی ویکسین کی 160 ملین سے زائد خوراکیں بھجوا چکے ہیں۔ اس میں ہماری اپنی سپلائی سے لی گئی 130 ملین خوراکیں اور کوویکس کے تحت عطیہ کرنے کے لیے خریدی گئیں فائزر ویکسین کی نصف ارب خوراکوں کی پہلی قسط شامل ہے۔

امریکہ سے ویکسین لے جانے والے طیارے پہلے ہی، جیسا کہ ایک امریکی نرس نے مجھے بتایا، “امید کی ایک ننھی سی خوراک” لے کر 100 ممالک میں اتر چکے ہیں۔ براہ راست امریکی عوام کی طرف سے یہ “امید کی ایک خوراک” ہے– اور ہاں اہم بات یہ ہے کہ یہ کسی چیز سے مشروط نہیں ہیں۔

اور کل میں امریکہ کی میزبانی میں ہونے والی کووڈ-19 سربراہی کانفرنس میں اضافی وعدوں کا اعلان کروں گا کیونکہ ہم کووڈ-19 کے خلاف جنگ کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو تین بنیادی چیلنجوں سے متعلق مخصوص اہداف [کے حصول کا] پابند بنانا چاہتے ہیں: یعنی اس وقت جانیں بچانا، دنیا [کے لوگوں کو] ویکسین لگانا، اور بہتر تعمیرِ نو کرنا۔

اس سال سرحدوں سے آزادا آب و ہوا کا بحران بھی وسیع پیمانے پر موت اور بربادی لے کر آیا ہے۔ موسم کے وہ انتہائی واقعات جو ہم نے دنیا کے ہر حصے میں دیکھے ہیں — اور آپ سب بھی ان سے واقف ہیں اور انہیں محسوس کرتے ہیں – ایک ایسے عمل کی نمائندگی کرتے ہیں جسے سیکرٹری جنرل نے بجا طور پر “انسانیت کے لیے خطرے کا سرخ نشان” قرار دیا ہے۔ سائنس دان اور ماہرین ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہم حقیقی معنوں میں “ناقابل واپسی مقام” کے قریب تیز رفتاری سے پہنچتے جا رہے ہیں۔

عالمی حدت کو 1.5 درجے سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے اہم ہدف تک پہنچنے کے لیے ہر قوم کو اپنے اعلی مقاصد کو جب ہم سی او پی 26 کے لیے گلاسگو میں ملیں گے، تو وہاں پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ [ہمیں] اجتماعی مقصد کو وسعت دینا جاری رکھنا ہوگا۔

کیونکہ ہم 2050 تک اخراجوں سے پاک اور صاف توانائی والی معیشت کھڑی کرنے پر کام کر رہے ہیں، اس لیے میں نے اپریل میں پیرس معاہدے کے تحت امریکہ کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراجوں کو 2030 تک، سال 2005 کی سطحوں سے 50 سے 52 فیصد تک نیچے لانے کے ایک نئے اعلٰی مقصد کا اعلان کیا تھا

اور میری انتظامیہ آلودگی سے پاک بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے اور برقی گاڑیوں میں انتہائی اہم سرمایہ کاریاں کرنے کے لیے ہماری کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس سے ہمیں ملک کے اندر آب و ہوا کے اہداف کی خاطر ترقی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بلند مقصد سرمایہ کاریاں آب و ہوا کی محض اچھی پالیسی ہی نہیں بلکہ یہ ہم سب کے ملکوں میں اور اپنے آپ پر سرمایہ کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ یہ ہم سب کے ملکوں میں مزدوروں کے لیے اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا کرنے اور ایسی طویل المدتی معاشی ترقی کو تیز تر کرنے کا ایک بہت بڑا موقع ہے جو ہمارے تمام لوگوں کی زندگیوں کے معیار کو بہتر بنائے گا۔

ہمیں ان ممالک اور لوگوں کی بھی مدد کرنا ہوگی جو سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور اُن کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اُن کی آب و ہوا میں تبدیلی سے موافقت پیدا کرنے میں مدد کرنا ہوگی۔

میں نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ ترقی پذیر ممالک کو آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے اپنی سرکاری بین الاقوامی مالی امداد کو دوگنا کرے گا۔ اور آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہم آب و ہوا میں تبدیلی سے موافقت پیدا کرنے کی کوششوں سمیت، ایک بار پھر مالی امداد کو دوگنا کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

یہ امریکہ کو آب و ہوا کی سرکاری مالیات کا لیڈر بنا دے گا۔ اور ہمارے اضافی تعاون کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے نجی سرمائے اور دیگر عطیات دہندگان کے ہمراہ، ہم ترقی پذیر ممالک میں آب و ہوا کے کاموں میں مدد کرنے کے لیے 100 ارب ڈالر اکٹھا کرنے کے ہدف کو پورا کر سکیں گے۔

ایسے میں جب ہم ان بحرانوں سے نمٹ رہے ہیں، ہم ایک نئے دور کا بھی سامنا کر رہے ہیں – نئی ٹیکنالوجیوں اور امکانات کا ایک ایسا دور جس میں انسانی وجود کے ہر پہلو کو آشکار کرنے اور نئی صورت گری کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اور یہ طے کرنے کا انحصار ہم سب پر ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجیاں لوگوں کو بااختیار بنانے کی یا جبر کو بڑہانے کی طاقت ہیں۔

چونکہ نئی ٹکنالوجیاں ترقی کرتی جا رہی ہیں اس لیے ہم اپنے جمہوری شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے کہ حیاتیاتی ٹکنالوجی سے لے کر کوانٹم کمپیوٹنگ، 5 جی، مصنوعی ذہانت، اور بہت سے دیگر شعبوں تک کو لوگوں کو اوپر اٹھانے، مسائل کو حل کرنے اور انسانی آزادی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جائے – نہ کہ اختلافی نقطہائے نظر کو دبانے یا اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔

اور امریکہ اقتصادی ترقی کے تمام مراحل کے ممالک کے ساتھ مل کر نئے وسائل پیدا کرنے اور ٹکنالوجیاں تیار کرنے کے لیے تحقیق اور اختراع میں کثیر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اکیسویں صدی کی دوسری چوتھائی کے اور اس سے آگے کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ہمیں مدد مل سکے۔

ہم اپنے اہم بنیادی ڈہانچے کو سائبر حملوں، خلل پیدا کرنے والے رینسم ویئر کے نیٹ ورکوں کے خلاف مضبوط بنا رہے ہیں۔ اور جہاں تک سائبر سپیس کا تعلق ہے تو ہم تمام ممالک کے لیے اس شعبے میں واضح قوانین بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

ہم سائبر حملوں کا فیصلہ کن جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ [حملے] ہمارے عوام، ہمارے اتحادیوں یا ہمارے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔

ہم عالمی تجارت اور معاشی نمو کے ایسے نئے قوانین پر عمل کریں گے جن کے ذریعے مساوی مواقعوں کی فراہمی کی کوشش کی گئی ہے تاکہ دوسروں کی قیمت پر ان کا جھکاؤ مصنوعی طور پر کسی ایک ملک کے حق میں نہ ہو جائے۔ اور ہر قوم کو منصفانہ طور پر مسابقت کرنے کا حق حاصل ہے اور اُس کے پاس منصفانہ مسابقت کا موقع ہے۔

ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ مزدوروں کے بنیادی حقوق، ماحولیاتی تحفظات اور املاکِ دانش کو تحفظ حاصل ہو اور وسیع پیمانے پر عالمگیریت کے فوائد ہمارے تمام معاشروں تک پہنچیں۔

ہم اُن دیرینہ قوانین اور اصولوں کو برقرار رکھیں گے جنہوں نے کئی عشروں سے بین الاقوامی معاملات میں حفاظتی پشتوں کا کام دیا ہے [اور] جو دنیا بھر کی قوموں کی ترقی کے لیے لازم چلے آ رہے ہیں – یعنی جہاز رانی کی آزادی، بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری، ہتھیاروں پر قابو پانے کے اقدامات کی حمایت جیسے خطرات کو کم کرنے اور شفافیت کو بڑھانے والے ٹھوس وعدے۔

ہماری سوچ مضبوطی سے اقوام متحدہ کے مشن سے جڑی ہوئی ہے اور اُن اقدار کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جن پر ہم نے اس وقت اتفاق کیا تھا جب ہم نے اس کے منشور کا مسودہ تیار کیا تھا۔ یہ وہ وعدے ہیں جو ہم سب نے کر رکھے ہیں اور یہ کہ ہم سب اس کے پابند ہیں۔

اور کیونکہ ہم ان فوری چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، بھلے یہ چیلنج طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں یا ابھرتے ہوئے نئے چیلنج ہیں، اس لیے ہمیں ایک دوسرے سے بھی معاملات طے کرنا ہوں گے۔

میری نظر میں دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو احتیاط سے آگے بڑہائیں تاکہ وہ ذمہ دارانہ مسابقت کی بجائے تصادم کی طرف نہ بڑھیں۔

امریکہ مسابقت کرے گا، اور بھرپور طریقے سے مسابقت کرے گا، اور اپنی اقدار اور طاقت کے ساتھ رہنمائی کرے گا۔

ہم اپنے اتحادیوں اور اپنے دوستوں کی حمایت میں کھڑے ہوں گے اور مضبوط ممالک کی کمزور ممالک پر بزور طاقت علاقے میں تبدیلیاں لانے، معاشی جبر، تکنیکی استحصال، یا گمراہ کن معلومات کے ذریعے غلبہ حاصل کرنے کی کوششوں کی مخالفت کریں گے۔

مگر ہم کوشش نہیں کر رہے – میں یہ دوبارہ کہوں گا — ہم نئی سرد جنگ یا غير لچک دار بلاکوں میں بٹی ہوئی دنیا کی کوششوں میں نہیں لگے ہوئے۔

امریکہ کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے جو آگے آتا ہے اور مشترکہ چیلنجوں کے پرامن حل کی راہ اختیار کرتا ہے حتٰی کہ [اس ملک کے ساتھ] دیگر معاملات میں ہمارے شدید اختلافات ہی کیوں نہ ہوں — کیونکہ اگر ہم کووڈ-19 اور موسمیاتی تبدیلی جيسے فوری خطرات یا جوہری پھیلاؤ جیسے مستقل خطرات سے نمٹنے کے ليے اکٹھے نہ ہوئے تو ہم سب کو اپنی ناکامی کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے امریکہ پرعزم ہے۔ ہم ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر کام کرنے کے لیے”پی فائیو پلس ون” کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور جے سی پی او اے میں واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ایران ایسا کرتا ہے تو ہم [معاہدے] کی مکمل پابندی کی طرف واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔اسی طرح ہم جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنے میں سنجیدہ اور مستقل سفارت کاری کے خواہاں ہیں۔ہم جاندار وعدوں کی موجودگی میں ایک دستیاب منصوبے کی طرف ٹھوس پیش رفت چاہتے ہیں۔ اِن سے جزیرہ نما اور خطے کے استحکام میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی جمہوریہ کوریا میں لوگوں کی زندگیاں بھی بہتر ہوں گیں۔چاہے وہ دنیا کے دور دراز علاقوں سے ہو یا ہمارے اپنے گھروں کے پچھواڑوں میں ہو، ہمیں اُس دہشت گردی کے خطرے سے بھی چوکس رہنا ہوگا جس دہشت گردی کا ہماری تمام اقوام کو سامنا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ دہشت گردی کی تلخ لڑی [منقول الفاظ] – دہشت گردی کا تلخ ڈنک حقیقی ہے اور کم و بیش ہم سب کو اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔گزشتہ ماہ، ہم نے کابل ائیرپورٹ پر ایک گھناؤنے دہشت گرد حملے میں 13 امریکی ہیروز اور تقریبا 200 معصوم افغان شہریوں کو کھو دیا۔وہ جو ہمارے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں انہیں امریکہ کی صورت میں ایک پرعزم دشمن کا بدستور سامنا رہے گا۔تاہم آج کی دنیا 2001 کی دنیا نہیں ہے، اور امریکہ وہ ملک نہیں رہا جب 20 سال پہلے 9/11 کو ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔آج، ہم دہشت گردوں کے خطرات کا پتہ چلانے اور ان سے بچنے کے حوالے سے بہتر طور پر لیس ہیں، اور ہم ان کو پسپا کرنے اور جواب دینے کی زیادہ مضبوط صلاحیت رکھتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکوں کو ختم کرنے کے لیے ان کے مالیاتی اور امدادی نظاموں کو نشانہ بنانے، ان کے پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے، ان کے سفر کو روکنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کے لیے موثر شراکت داری کيسے کی جاتی ہے۔ہم آج اور مستقبل میں پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات سے ہمیں دستیاب اُن وسائل کے ایک مکمل سلسلے کے ساتھ نمٹیں گے جن میں مقامی شراکت داروں کے تعاون سے کام کرنا بھی شامل ہے تاکہ ہمیں وسیع پیمانے کی فوجی تعیناتیوں پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔سکیورٹی کو مؤثر طریقے سے بڑھانے اور تشدد کو کم کرنے کے ليے سب سے اہم طريقوں میں سے ایک طریقہ جو ہم اختيار کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں اُن لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جائے جو دیکھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں ان کی ضروریات پوری نہیں کرتیں۔بدعنوانی عدم مساوات کو ہوا دیتی ہے، کسی بھی قوم کو وسائل سے محروم کر دیتی ہے، سرحدوں کے آرپار پھیل جاتی ہے اور انسانی مصائب پیدا کرتی ہے۔ یہ اکیسویں صدی میں قومی سلامتی کے خطرے سے کم نہیں۔

دنیا بھر میں ہم زیادہ سے زیادہ شہریوں کو اپنی مایوسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں [کیونکہ وہ] امیر اور بارسوخ لوگوں کو امیر سے امیر تر ہوتے ہوئے، پیسے اور رشوتیں لیتے ہوئے، قانون سے بالاتر کام کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت کام کی تلاش میں یا دو وقت کے کھانے کے لیے یا اپنا کاروبار چلانے یا محض اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔

لوگ ہر علاقے میں اپنی حکومتوں سے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے، ہر ایک کو کامیاب ہونے کے لیے منصفانہ مواقع دینے اور خدا کے عطا کردہ اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کے مطالبات کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مختلف زبانوں میں اور براعظموں سے اٹھنے والی بیک وقت آوازوں میں ہم ایک مشترکہ فریاد سنتے ہیں – وقار کے لیے – سادہ وقار [کے لیے فریاد۔] بحیثیت لیڈر یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان آوازوں کو سنیں نہ کہ انہیں خاموش کرا دیں۔ امریکہ اپنے وسائل اور اپنے بین الاقوامی پلیٹ فارموں کو ان آوازوں کی مدد کرنے، انہیں سننے، [اور] ایسے طریقے تلاش کرنے کے لیے ان کے ساتھ شراکت کاری کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے جن سے دنیا بھر میں انسانی وقار کو فروغ حاصل ہو۔مثال کے طور پر ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ تاہم جو بنیادی ڈھانچہ گھٹیا معیار کا ہوتا ہے یا جو بدعنوانی کا باعث بنتا ہے یا جو ماحولیاتی انحطاط کو ابتر بناتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ ممالک کے لیے بڑے چیلنجوں کا باعث بن سکتا ہے۔

اگر اسے ایسے منصوبوں کے ذریعے شفاف، پائیدار سرمایہ کاری کے ذریعے درست طریقے سے کیا جائے جو ملکی ضروریات پوری کرتے ہوں اور جن میں مزدوروں کے اور ماحولیات کے اعلٰی معیاروں کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی محنت کشوں کو ملازمتیں دی جاتی ہوں تو بنیادی ڈھانچہ ایک ایسی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے جو کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو ترقی کرنے اور خوشحال بننے کے قابل بنا سکتی ہے۔

“بلڈ بیک بیٹر ورلڈ” کے پیچھے یہی خیال کار فرما ہے۔ اور نجی شعبے اور جی 7 کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر، بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر جمع کرنا ہمارا ہدف ہے۔ہم دنیا میں بدستور انسانی امداد میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والا، اور کروڑوں ضرورت مند لوگوں کو خوراک، پانی، پناہ گاہیں، صحت کی ہنگامی سہولتیں، جان بچانے والی امداد فراہم کرنے والا [ملک] بنے رہیں گے۔ جب کہیں زلزلہ آتا ہے، طوفان آتا ہے، یا دنیا میں کہیں بھی آفت آتی ہے تو امریکہ میدان میں نکل آتا ہے۔ ہم مدد کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔اور ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تین میں سے تقریبا ایک فرد کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں ہے — یعنی مناسب خوراک، صرف گزشتہ برس — امریکہ اپنے شراکت داروں کو غذائیت کی فوری کمی سے نمٹنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اکٹھا کرنے کا عزم کیے ہوئے تاکہ آنے والی دہائیوں تک دنیا کو غذا فراہم کی جا سکے۔ اس حوالے سے امریکہ بھوک ختم کرنے اور اندرون ملک اور بیرونی ممالک کے کھانے کے نظاموں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر رہا ہے۔2000 کے بعد سے اب تک، امریکی حکومت نے صحت مندی کو فروغ دینے اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 140 بلین ڈالر سے زیادہ فراہم کیے ہیں۔ ہم ان اہم سرمایہ کاریوں کو آگے لے کر چلنے کے لیے اپنی قیادت جاری رکھیں گے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو روزانہ کی بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔ بس انہیں تھوڑا سانس لینے کا موقع ديں۔اور اب جبکہ ہم زندگيوں کو بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں تو ہمیں اُن تصادموں کو ختم کرنے کے لیے ایک تجدید شدہ مقصد کے ساتھ کام کرنا ہوگا جو پوری دنیا میں بہت زیادہ دکھ اور تکلیفوں کا باعث بن رہے ہیں۔ ہمیں اپنی سفارت کاری کو تیز سے تیز تر کرنا ہوگا اور دنیا بھر میں کشیدگی کو سنبھالنے کے پہلے ذریعے کے طور پر تشدد کی بجائے سیاسی مذاکرات کا عزم کرنا ہوگا۔ہمیں مشرق وسطیٰ کے تمام لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ امن اور سلامتی کا مستقبل تلاش کرنا ہو گا۔اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ امریکی عزم سوالات سے بالاتر ہے۔ اور ایک آزاد، یہودی ریاست کے لیے ہماری حمایت واضح ہے۔لیکن میں بدستور اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ دو ریاستی حل اس بات کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ ہے کہ ایک یہودی، جمہوری ریاست کے طور پر اسرائیل کا مستقبل ایک قابل عمل، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ہمراہ امن سے رہنے میں ہے۔

ہم اس وقت اس مقصد سے بہت دور ہیں۔ مگر ہمیں کبھی بھی اپنے آپ کو آگے بڑھنے کے امکانات سے دستبردار نہیں ہونے دینا چاہیے۔

ہم ایتھوپیا اور یمن سمیت بگڑتے ہوئے شہری تنازعات کو حل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے جہاں متحارب فریقوں کے درمیان لڑائی عصمت دری کے بطور جنگی ہتھیار کے استعمال سمیت، قحط، خوفناک تشدد، شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بنی ہوئی ہے۔ہم عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن پر زور دینے کا کام جاری رکھیں گے اور اس مصیبت کا خاتمہ کریں گے۔ایسے میں جب ہم پوری دنیا میں سفارت کاری کی راہ اپنائے ہوئے ہیں، امریکہ اُن جمہوری اقدار کو فروغ دے گا جو کہ اس بات کی بنيادی اساس ہيں کہ ہم ایک قوم اور عوام کے طور پر کيا ہيں: یعنی [ہمارا] آزادی، مساوات ، مواقع، اور تمام لوگوں کے آفاقی حقوق پر یقین ہے۔بحیثیت قوم ہمارے ڈی این اے پر اس کی چھاپ ہے۔ اور انتہائی اہم بات یہ ہے کہ اس ادارے یعنی [اقوام] متحدہ کے ڈی این اے پر بھی اس کی چھاپ ہے۔ بعض اوقات ہم یہ بات بھول جاتے ہیں۔میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے ابتدائی الفاظ کا حوالہ دیتا ہوں: “انسانی خاندان کے تمام افراد کے مساوی اور ناقابل تنسیخ حقوق دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہیں۔”اقوام متحدہ کا بنیادی وصف افراد کے حقوق کو ہمارے نظام میں مرکزی حیثیت دیتا ہے، اور اس وضاحت اور تصور کو نظر انداز یا اس کی غلط تشریح نہیں کی جانی چاہیے۔امریکہ اپنا کردار ادا کرے گا۔ تاہم اس صورت میں ہم زیادہ کامیاب اور زیادہ موثر ہوں گے اگر ہم سب کے ممالک اس پورے مشن پر کام کریں جس کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 100 سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان شیئر کیا ہے اور سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ ہم افغانستان کے لوگوں کو آگے بڑھنے میں کس طرح مدد کریں گے اور وہ توقعات ہمارے پیش نظر رہیں گیں جن پر جب عالمی انسانی حقوق کی بات آئے گی تو ہم طالبان کو پرکھیں گے۔ ہم سب کو خواتین کی – خواتین اور لڑکیوں کی وکالت کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی تمام صلاحیتیں معیشت، سیاست، اور سماج میں استعمال کر سکیں اور تشدد اور دھمکیوں سے آزاد اپنی خوابوں کی تعبیر پا سکیں۔ وسطی امریکہ سے مشرق وسطیٰ، افریقہ، افغانستان تک [دنیا میں] جہاں کہیں بھی [یہ خطرات] درپیش ہوں، وہاں پر خواتین اور لڑکیوں کو اُن سے آزاد ہونا چاہیے۔جب بھی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جائے تو ہم سب کو اس پر تنقید کرناَ اور اس کی مذمت کرنا چاہیے — خواہ یہ شنجیانگ میں ہو یا شمالی ایتھوپیا میں ہو یا دنیا میں کسی بھی جگہ ہو۔

خواہ یہ چیچنیا ہو یا کیمرون یا کوئی اور جگہ ہو، ہم سب کو ايل جی بی ٹی کيو آئی افراد کے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے زندہ رہ سکیں اور آزادانہ طور پر پیار کرسکیں۔

ایسے میں جب ہم اپنی اپنی اقوام کو اس تاریخی موڑ کی جانب اور آج کے تیزی سے ابھرتے ہوئے پیچیدہ چیلنجوں کے بیچوں بیچ لے کر چل رہے ہیں، مجھے یہ بات واضح کرنے دیں: میں اُس مستقبل کا انکاری نہیں ہوں جو ہم اِس دنیا کے لیے چاہتے ہیں۔

مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو انسانی وقار کو گلے لگائیں گے نہ کہ اسے پاؤں تلے روندیں گے۔مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو اپنے لوگوں کی صلاحیتوں کو کھلا چھوڑیں گے، نہ کہ اِن کو دبائیں گے۔مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو اپنے لوگوں کو آزاد سانس لینے کی صلاحیت دیں گے، نہ کہ ان لوگوں کا جو آہنی ہاتھوں سے اپنے لوگوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کریں گے۔آمریت – دنیا کی آمریت جمہوریت کے دور کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ غلط ہیں۔حقیقت یہ ہے: جمہوری دنیا ہر جگہ موجود ہے۔ یہ انسداد بدعنوانی کے سرگرم کارکنوں میں، انسانی حقوق کے محافظوں میں، صحافیوں میں رہتی ہے، [یہ] بیلاروس، برما، شام، کیوبا، وینزویلا اور ان کے درمیان تمام جگہوں میں کی جانے والی جدوجہد کی اگلی صفوں میں موجود پرامن مظاہرین میں رہتی ہے۔یہ سوڈان کی بہادر خواتین میں رہتی ہے جنہوں نے ایک نسل کش آمر کو اقتدار سے نکالنے کے لیے تشدد اور جبر کا مقابلہ کیا اور وہ ہر روز اپنی جمہوری پیشرفت کے دفاع کے لیے کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ مالدووا کے قابل فخر شہریوں میں رہتی ہے جنھوں نے اُن جمہوری قوتوں کے لیے زبردست فتح حاصل کرنے میں مدد کی جن کا مینڈیٹ بدعنوانی سے لڑنا [اور] ایک زیادہ جامع معیشت کی تعمیر ہے۔یہ زیمبیا کے نوجوانوں میں رہتی ہے جنہوں نے پہلی بار اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کیا۔ [وہ] بدعنوانی کی مذمت کرنے اور اپنے ملک کے لیے ایک نیا راستہ بنانے کے لیے تاریخی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلے۔اور امریکہ سمیت کوئی جمہوریت بھی کامل نہیں ہے۔ [امریکہ] اپنی تقسیموں سے باہر نکلنے کے لیے اعلٰی ترین نظریات پر پورا اترنے کی جدوجہد جاری رکھے گا، اور ہم دلیری سے تشدد اور شورش کو شکست دے رہے ہیں – جمہوریت اپنی بھرپور انسانی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا بدستور ایک بہترین ذریعہ ہے۔میرے قائدین ساتھیو، ​​یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے آپ کو ان لوگوں کے برابر ثابت کرنا ہوگا جو ہم سے پہلے آئے، جنہوں نے تصور اور اقدار اور ہمارے اجتماعی مستقبل پر پختہ یقین کے ساتھ ہماری اقوام متحدہ کو پروان چڑہایا، جنگ اور تباہی کے تسلسل کو توڑا اور سات دہائیوں سے زیادہ عرصے کے نسبتا امن اور بڑھتی ہوئی عالمی خوشحالی کی بنیادیں رکھيں۔اب ہمیں پھر سے اکٹھے ہو کر اُس موروثی انسانیت کا اعادہ کرنا ہو گا جو ہمیں کسی ظاہری تقسیم یا اختلافات سے کہیں زیادہ بڑھکر، متحد کرتی ہے۔ہمیں اس سے زیادہ کام کرنے کا انتخاب کرنا چاہیے جتنا کہ ہم سوچتے ہیں کہ ہم اکیلے کر سکتے ہیں تاکہ ہم مل کر جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اسے پورا کریں: یعنی اس وبائی مرض کا خاتمہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ہم اگلی [وبا] کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں؛ آب و ہوا کی تبدیلی کو روکنا اور ان اثرات کے لیے اپنی قوت برداشت کو بڑھانا جو ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں؛ ایک ایسے مستقبل کو یقینی بنانا، جس میں ٹیکنالوجی انسانی چیلنجوں کو حل کرنے اور انسانی صلاحیت کو بااختیار بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہو، نہ کہ زیادہ جھگڑوں اور جبر کا ذریعہ بنے۔یہ وہ چیلنج ہیں جو یہ تعین کریں گے کہ یہ دنیا ہمارے بچوں اور ہمارے پوتے پوتیوں کے لیے کیسی ہو گی، اور انہیں وراثت میں کیا ملے گا۔ ہم صرف مستقبل پر نظر رکھ کر ان سے مل سکتے ہیں۔20 برسوں میں پہلی بار، میں ایک ایسے وقت یہاں کھڑا ہوں جب امریکہ کسی جنگ ​​میں ملوث نہیں ہے۔ ہم نے صفحہ پلٹ دیا ہے۔ہماری قوم کی بے مثل طاقت، توانائی، عزم، مرضی اور وسائل اب پوری طرح اس بات پر مرکوز ہیں کہ ہمارے آگے کیا ہے، نہ کہ پیچھے کیا تھا۔میں یہ جانتا ہوں: جب ہم آگے دیکھتے ہیں، تو ہم قیادت کریں گے۔ ہم اپنے وقت کے تمام بڑے چیلنجوں میں قیادت کریں گے – کووڈ سے لے کر آب و ہوا، امن اور سلامتی، انسانی وقار اور انسانی حقوق تک۔ مگر ہم اکیلے نہیں جائیں گے۔ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اور ان تمام لوگوں کے ساتھ تعاون سے جو اس پر یقین رکھتے ہیں، جیسا کہ ہم بھی رکھتے ہیں کہ ان چیلنجوں سے نمٹنا، ايسے مستقبل کی تعمير کرنا جو ہمارے تمام لوگوں کو بلندیوں پر لے کر جائے اور اس سیارے کو محفوظ رکھنا، یہ [سب کچھ] ہمارے اختیار میں ہے۔لیکن اس میں سے کوئی چیز بھی ناگزیر نہیں ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔ اور میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ امریکہ کہاں کھڑا ہے: ہم بہتر مستقبل کی تعمیر کا انتخاب کریں گے۔ ہم — آپ اور میں — ہمارے پاس اس کو بہتر بنانے کی مرضی اور صلاحیت ہے۔ خواتین و حضرات، ہم مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ آئیے کام شروع کریں۔ آئیے اب اپنا ایک بہتر مستقبل بنائیں۔ہم یہ کر سکتے ہیں. یہ ہماری طاقت اور صلاحیت کی [پہنچ] میں ہے۔آپ کا شکریہ ، اور خدا آپ سب کو برکت دے۔

10: 34 صبح ای ڈی ٹی


اصل عبارت پڑھنے کا لِنک : https://www.whitehouse.gov/briefing-room/speeches-remarks/2021/09/21/remarks-by-president-biden-before-the-76th-session-of-the-united-nations-general-assembly/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future