وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
3 فروری 2021

اس فروری میں سیاہ فام افراد کی تاریخ کے مہینے کے دوران میں امریکہ کے عوام سے کہتا ہوں کہ وہ سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ اور کامیابیوں کی تکریم کریں اور جدوجہد کی اُن صدیوں پر غور کریں جو ہمیں اعتماد، آزادی اور امید کے اس دور تک لائی ہیں۔

ہم اس ملک کے بنیادی اصولوں پر کبھی پورا نہیں اترے ۔۔۔ کہ تمام لوگ برابر حیثیت میں تخلیق کیے گئے ہیں اور وہ اپنی پوری زندگیوں میں مساوی سلوک کے حق دار ہیں۔ تاہم بائیڈن-ہیرس انتظامیہ میں ہم تمام امریکیوں کے لیے اس عہد کی تکمیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مجھے ایک ایسی انتظامیہ کے ساتھ سیاہ فام افراد کی تاریخ کا مہینہ منانے پر فخر ہے جو اُس امریکہ کی عکاس ہے جو امریکی عوام کی پوری صلاحیتوں اور تنوع کا اظہار ہے اور جو پہلی مرتبہ ہونے والے بہت سے اقدامات کا نقیب ہے جن میں ہماری تاریخ کے کسی بھی موقع سے بڑھ کر رنگ دار امریکیوں کی سب سے بڑی تعداد پر مشتمل کابینہ میں اپنی طرز کے پہلے افراد کے ساتھ امریکہ کی پہلی سیاہ فام نائب صدر اور پہلے سیاہ فام وزیر دفاع کا تقرر بھی شامل ہے۔

ہمیں اپنے ملک کو بیماری کی طرح لاحق نسلی بنیاد پر گہری عدم مساوات اور نظام کا حصہ بن جانے والے نسلی امتیاز کا مقابلہ کرنے میں خاصی دیر ہو چکی ہے۔ گردن پر گھٹنا رکھنے والے انصاف نے لاکھوں امریکیوں کی آنکھیں کھول دیں اور اس سے پورے موسم گرما پر مشتمل احتجاج شروع ہوا اور اس نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ ڈالا۔

ایک وبا نے امریکہ میں ہر معاشرتی گروہ میں تباہی کا راستہ کھولا مگر ہم اس کے نتیجے میں سیاہ فام امریکیوں میں شدید بربادی کا مشاہدہ کرتے ہیں جو ہلاک ہو رہے ہیں، نوکریاں کھو رہے ہیں اور وبا و معیشت کے دہرے بحران میں ان کے کاروبار غیرمتناسب شرح سے بند ہو رہے ہیں۔

ہم نے دیکھا کہ کیسے ہر نسل اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے امریکیوں نے وسیع پیمانے پر متحد ہو کر رجسٹریشن کرائی اور ووٹ کا حق استعمال کیا – جو کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں کسی بھی انتخاب کے مقابلے میں رائے دہندگان کی سب سے بڑی تعداد ہے – تاکہ یہ زخم مندمل کیے جائیں اور متحد ہو کر ایک قوم کی حیثیت سے آگے بڑھا جائے۔

تاہم ہماری حقیقی جمہوریت، کیپیٹل پر شورش پسند ہجوم – انتہاپسندوں اور سفید فام برتری کے حامیوں پر مشتمل – کے حملے سے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں، جو گزشتہ چار سال اور شارلٹس ول کی سڑکوں سے شروع ہونے والی نفرت کا عکاس ہے، ہم خود کو بدستور امریکہ کی روح بحال کرنے کی جنگ میں مصروف دیکھتے ہیں۔

ہمیں اپنے کام میں مقصد اور فوری ضرورت کی سنجیدگی پیدا کرنا ہے۔ اسی لیے ہم کوویڈ۔19 کے خلاف اپنے ردعمل کو جنگی بنیادوں پر استوار کر رہے ہیں اور اس وبا کو روکنے، انتہائی ضرورت مند لاکھوں امریکیوں کو معاشی سہولت فراہم کرنے اور ملک کو پہلے سے زیادہ بہتر حالت میں واپس لانے کے لیے ہرممکن ذریعے سے کام لے رہے ہیں۔

اسی لیے ہم اپنی پوری انتظامیہ – صحت عامہ، تعلیم، رہائش، اپنی معیشت، اپنے نظام انصاف اور اپنے انتخابی عمل میں نسلی انصاف اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے پہلی مرتبہ کُل حکومتی طریقہ کار شروع کر رہے ہیں۔ ہم ایسا صرف اس لیے نہیں کرتے کہ یہ درست اقدام ہے بلکہ اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اس ملک میں ہم سبھی کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔

ہم اس لیے ایسا کرتے ہیں کیونکہ جب تک نظام میں شامل نسل پرستی کو قائم رہنے دیا جائے گا اس وقت تک ہمارے ملک کی روح مشکل میں رہے گی۔ یہ تباہ کن ہے۔ یہ مہلک ہے۔ یہ مہنگی پڑتی ہے۔ ہم محض نظام میں شامل نسل پرستی کی وجہ سے ہی اخلاقی طور پر ہی محروم نہیں ہیں بلکہ اس نے ہمیں بحیثیت قوم کم خوشحال، کم کامیاب اور کم محفوظ بھی بنا دیا ہے۔

ہمیں تبدیلی لانا ہے۔ اس میں وقت صرف ہو گا۔ لیکن میں اس بات پر مضبوطی سے یقین رکھتا ہوں کہ یہ قوم ہمارے، آج، کل اور روزانہ کے کام میں نسلی انصاف اور مساوات کے لیے تیار ہے۔ میں اپنے ہم وطن امریکیوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ سیاہ فام امریکیوں کی بنائی تاریخ کی تکریم کریں اور ہر امریکی کے لیے ہمارے اتحاد کو مکمل کرنے کے لیے اچھا اور ضروری کام جاری رکھیں۔

اسی لیے، اب، میں جوزف آر بائیڈن جونیئر، امریکہ کا صدر، آئین اور امریکہ کے قوانین سے حاصل کردہ اختیار کے تحت فروری 2021 کو سیاہ فام افراد کی تاریخ کا قومی مہینہ قرار دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ میں سرکاری حکام، اساتذہ، لائبریریوں کے منتظمین اور امریکہ کے تمام لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ موزوں پروگراموں، تقریبات اور سرگرمیوں کے ذریعے یہ مہینہ منائیں۔

بطور گواہ میں سال دو ہزار اکیس میں فروری کی تین تاریخ اور امریکہ کی آزادی کے دو سو پینتالیسویں سال میں اس پر دستخط کرتا ہوں۔

جوزف آر بائیڈن جونیئر


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/presidential-actions/2021/02/03/proclamation-on-national-black-history-month-2021/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future