امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
26 مئی، 2021

جیسا کہ میں نے گزشتہ روز اعلان کیا، امریکہ فلسطین کے لوگوں کو بطور امداد 360 ملین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس میں مغربی کنارے اور غزہ میں امدادی کوششوں میں معاونت کے لیے 38 ملین ڈالر کی نئی امداد بھی شامل ہے۔ اس نئی امداد میں قریب مشرق میں فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کی مغربی کنارے اور غزہ میں امدادی کارروائیوں کے لیے 33 ملین ڈالر اور دیگر امدادی شراکت داروں کے لیے مزید 5.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس اہم مدد سے امدادی اداروں کو اس جنگ سے متاثر ہونے والوں کے لیے ہنگامی پناہ، خوراک، امدادی اشیا اور طبی کی سہولیات کی فراہمی نیز ان کی نیز ذہنی و نفسیاتی صحت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

علاوہ ازیں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کانگریس کے ساتھ کام کرتے ہوئے آئندہ سال مزید ترقیاتی و معاشی معاونت کے طور پر 75 ملین ڈالر مہیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے مغربی کنارے اور غزہ میں امداد اور بحالی کے کام میں اعانت ہو گی۔ اس مالی امداد سے نجی شعبے کی ترقی اور بنیادی ضروریات و خدمات جیسا کہ طبی نگہداشت تک رسائی ممکن بنانے اور غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ کانگریس کے نوٹیفیکیشن کی تکمیل کے بعد مزید 10 ملین ڈالر سے ایسے پروگراموں کو چلانے میں مدد ملے گی جو طویل مدتی بنیادوں پر تناؤ اور تشدد میں کمی لانے کے لیے مفاہمتی عمل میں معاون ہوتے ہیں۔

یہ امداد مارچ اور اپریل میں فلسطینی لوگوں کے لیے معیشت، ترقی، سلامتی اور امداد کے شعبوں میں 250 ملین ڈالر سے زیادہ مالی معاونت میں نیا اضافہ ہے جس سے امریکہ کے امدادی منصوبوں کا حجم 360 ملین ڈالر سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ ان تمام مالی وسائل کا انتظام اس انداز میں کیا جائے گا جس سے حماس کے بجائے فلسطینی عوام کو فائدہ پہنچے۔ حماس غزہ میں صرف تباہی اور مایوسی لائی ہے۔ امریکی حکومت یہ یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے کہ اس کی فراہم کردہ تمام تر امداد ٹیلر فورس ایکٹ سمیت قابل اطلاق امریکی قانون سے مطابقت رکھتی ہو۔

فلسطینی لوگوں کے لیے امریکہ کی بیرون ملک امداد امریکہ کے اہم مفادات اور اقدار کی تعمیل کرتی ہے۔ اس سے انتہائی ضرورت مندوں کو اہم مدد ملتی ہے، معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے اور اسرائیل و فلسطین میں مفاہمت، سلامتی کے امور پر تعاون اور استحکام کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ یہ ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی اقدار اور مفادات سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔

امریکہ دوسرے عطیہ دہندگان کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا کہ وہ بھی مغربی کنارے اور غزہ میں امداد اور بحالی کی کوششوں اور ایسے پروگراموں اور سرگرمیوں میں مدد دیں جن سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے یکساں استحکام اور ترقی کے مشترکہ ہدف کی جانب پیشرفت ہوتی ہو۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/u-s-assistance-for-the-palestinian-people/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future