امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
4 جنوری، 2024

کانگریس کی جانب سے 1998 میں مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قانون کی منظوری اور نفاذ کے بعد مذہب یا عقیدے کی آزادی کا فروغ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی مقصد رہا ہے۔ اس دائمی عہد کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے برما، پیپلز ریپبلک آف چائنا، کیوبا، شمالی کوریا، اریٹریا، ایران، نکاراگوا، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان کو ایسے ممالک کے طور پر نامزد کیا ہے جو مذہبی آزادی کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہیں یا اپنے ہاں ایسے واقعات سے صرف نظر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، میں نے الجزائر، آزربائیجان، وسطی جمہوریہ افریقہ، کیموروز اور ویت نام کو مذہبی آزادی کی پامالیوں میں ملوث ہونے یا اپنے ہاں ایسے واقعات سے صرف نظر کے حوالے سے خصوصی نگرانی کے متقاضی ممالک کے طور پر بھی نامزد کیا ہے۔ میں نے الشباب، بوکو حرام، حیات تحریر الشام، حوثیوں، داعش ۔ ساحل اور طالبان کی ایسی تنظیموں کے طور پر نامزدگی کی ہے جن کے بارے میں مذہبی آزادیوں کی پامالی کے حوالے سے خاص تشویش پائی جاتی ہے۔

ایسے ممالک میں بھی مذہبی آزادی کی سنگین پامالیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے جو ان نامزدگیوں کا حصہ نہیں ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مذہبی اقلیتی برادریوں کے ارکان اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں، فرقہ وارانہ تشدد اور پُرامن اظہار رائے کی پاداش میں طویل قید کی سزاؤں اور سرحد پار جابرانہ کارروائیوں کا خاتمہ کریں اور دنیا بھر میں بہت سی جگہوں پر مذہبی برادریوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے اقدامات اور ان کے حقوق کی دیگر پامالیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ دنیا میں مذہبی آزادی کو لاحق مسائل بنیادی طرز کے، منظم اور بہت گہرے ہیں۔ تاہم نفرت، عدم رواداری اور مظالم کے مخالف لوگوں کی جانب سے ہوشمندانہ اور پائیدار عزم کی بدولت ایک روز ہم ایسی دنیا دیکھیں گے جہاں تمام لوگ وقار اور مساوات سے رہنے کے قابل ہوں گے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future