امریکی دفتر خارجہ
ترجمان کا دفتر
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا بیان
21 فروری، 2021

ہم صدر پوٹن کے نام نہاد ”ڈونیٹسک اینڈ لوہانسک پیپلز ریپبلکس” کو ”آزاد” تسلیم کرنے کے فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ جیسا کہ ڈوما کی جانب سے پہلی مرتبہ پوٹن سے ان علاقوں کو آزاد تسلیم کیے جانے کی درخواست پر ہم نے کہا تھا، یہ فیصلہ مِنسک معاہدوں کے تحت روس کے وعدوں کا مکمل استردار، روس کی جانب سے سفارتی اقدامات کے عزم سے متعلق دعووں سے براہ راست متضاد اور یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر واضح حملہ ہے۔

ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دھمکی یا طاقت کے استعمال کے ذریعے بنائے گئے نئے ”ممالک” کو تسلیم نہ کریں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کی سرحدوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ روس کا یہ فیصلہ صدر پوٹن کی جانب سے عالمی قانون اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی ایک اور مثال ہے۔

صدر بائیڈن ایک انتظامی حکم پر دستخط کریں گے جو امریکہ کے لوگوں کی جانب سے یوکرین کے نام نہاد ”ڈونیٹسک اینڈ لوہانسک پیپلز ریپبلکس” علاقوں کو، ان کی جانب سے یا ان میں نئی سرمایہ کاری، تجارت اور مالیاتی سرگرمیوں سے روک دے گا۔ ہم روس کے اس بلا اشتعال اور ناقابل قبول اقدام کے جواب میں مناسب اقدامات کے لیے یوکرین اور اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے۔ انتظامی حکم روس کو عالمی قانون کی اس کھلی خلاف ورزی سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ یوکرین کے لوگوں یا یوکرین کی حکومت کے خلاف نہیں اور ان علاقوں میں امدادی کام اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کو نہیں روکے گا۔

ہم یوکرین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور یوکرین کے لوگوں کے لیے اپنی حمایت پر قائم ہیں۔ ہم اپنے یوکرینی شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور صدر پوٹن کے اعلان کی کڑی مذمت کرتے ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/kremlin-decision-on-eastern-ukraine/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future