امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارت کاری
22 دسمبر، 2023

جناب صدر آپ کا شکریہ۔ میں کونسل میں اپنے ساتھیوں کی بھی مشکور ہوں۔ یہ مشکل کام تھا لیکن ہم اسے کر گزرے۔

اِس تنازع کے آغاز سے ہی امریکہ نے اِس انسانی بحران میں کمی لانے، غزہ میں اشد ضروری انسانی امداد پہنچانے، یرغمالیوں کو رہا کروانے، بے گناہ شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ پر زور دینے اور پائیدار امن کے لیے انتھک کام کیا ہے۔

آج منظور کی جانے والی قرارداد اِن کوششوں کو تقویت دیتی ہے اور اِس سے ہماری براہ راست سفارت کاری میں مدد ملتی ہے۔ میں ایک مضبوط اور انسانی حالات کو بہتر بنانے کے مقصد پر مرکوز قرارداد لانے کے لیے متحدہ عرب امارات اور ہمارے ساتھ کام کرنے والے دیگر ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔

یہاں تک پہنچنے کے لیے کئی دن اور کئی طویل راتوں تک بات چیت ہوتی رہی اور آج اِس کونسل نے بڑے پیمانے پر ناقابل بیان مصائب کے ہوتے ہوئے امید کی کرن دکھائی ہے۔ آج اِس کونسل نے انسانی امداد کی فوری، محفوظ، بلاروک و ٹوک رسائی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے اور تنازع کے پائیدار انداز میں حل کے لیے حالات کو سازگار بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

میں کہوں گی کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب اِس کونسل نے ایسی زبان میں بات کی ہے۔ ہم سمجتے ہیں کہ امداد کی فراہمی میں اضافے اور آئندہ کے مشکل اقدامات کو واضح کرنے کے لیے قرارداد کا متن بہت اہم ہے جبکہ ہم پائیدار امن ممکن بنانے کے لیے اکٹھے کام کر رہے ہیں۔

ساتھیو، آج اِس کونسل نے واضح کر دیا کہ غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے کو ہمارے ایجنڈے میں سرفہرست ہونا چاہیے۔ آج اِس کونسل نے واضح کیا کہ تمام یرغمالیوں کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا ہونا چاہیے اور امدادی گروہوں اور طبی عملے کو یرغمالیوں تک رسائی ہونی چاہیے۔

آج اس کونسل نے واضح کیا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنا ہو گا۔ آج اس کونسل نے واضح کیا کہ شہریوں اور امدادی مراکز بشمول ہسپتالوں، طبی سہولیات، سکولوں، عبادت گاہوں، اقوام متحدہ کے مراکز، امدادی اہلکاروں اور طبی عملے کو تحفظ ملنا چاہیے۔

اِس کا اطلاق تنازع کے تمام فریقین پرہوتا ہے۔ اس کا اطلاق اسرائیل پر بھی ہوتا ہے۔ تاہم یہ دہشت گرد تنظیم حماس کے لیے بھی ہے جس نے اِس تنازع کو شروع کیا اور جو گھروں، ہسپتالوں اور اقوام متحدہ کے مراکز کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے اور معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال بناتی ہے جو کہ بزدلانہ اور ظالمانہ اقدام ہے۔

ساتھیو، آج اس کونسل نے امدادی اہلکاروں اور انسانی امداد بشمول ایندھن، خوراک، طبی سازوسامان اور ہنگامی پناہ کے سامان کی ضرورت مند لوگوں تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت واضح کی ہے۔

بلامبالغہ اس کی فوری ضروری ہے۔ گزشتہ روز ہی امدادی اداروں نے غزہ میں غذائی تحفظ کی سنگین صورت حال پر ایک رپورٹ جاری کی اور میں جن امدادی رہنماؤں سے ملی ہوں وہ آنے والے مہینوں میں قحط کے خدشے کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگوں کو بے ہوش کیے بغیر ان کے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی پناہ گاہوں میں گنجائش سے زیادہ لوگ مقیم ہیں اور دیگر سڑکوں پر سونے کے لیے مجبور ہیں۔

یہ قرارداد اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے اور ہم سب سے اس معاملے میں مزید اقدامات کے لیے کہتی ہے۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو امریکہ نے براہ راست، متواتر اور صدارتی سفارت کاری کے ذریعے انسانی امداد میں اضافہ کرنے کے لیے انتھک کام کیا ہے۔ اس تنازع کے آغاز پر ہم نے رفح کا سرحدی راستہ کھولنے کے معاہدے میں مدد دی۔ گزشتہ مہینے ہم نے ایک اور معاہدے میں مدد دی جس کی بدولت 100 سے زیادہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں مزید امداد کی فراہمی ممکن ہوئی۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے ہم نے کیریم شالوم کا سرحدی راستہ کھولنے اور غزہ کے شہریوں کو امداد کی براہ راست فراہمی میں معاونت کی۔

اس قرارداد کے ذریعے ان کوششوں میں سلامتی کونسل کی حمایت بھی شامل ہو گئی ہے۔ اس میں امداد کی ضرورت کے مطابق اور متواتر فراہمی تیز کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار کے تقرر کے لیے بھی کہا گیا ہے جس سے ان کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

ہم جانتے ہیں کہ امدادی ادارے پہلے ہی ناممکن کام کو ممکن بنا رہے ہیں اور ہم زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے ان کے کام میں معاونت فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اس قرارداد پر عملدرآمد کرتے وقت اقوام متحدہ کا حالیہ پیش رفت کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے نئے عہدیدار کو امدادی کرداروں اور متعلقہ فریقین بشمول اسرائیل کے مل کر کام کرتا دیکھنے کے منتظر ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ اس انسانی بحران پر قابو پانے اور پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ حماس کو پائیدار امن کے قیام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ حماس 7 اکتوبر جیسے ہولناک واقعات کو بار بار دہرانا چاہتی ہے۔ اسی لیے امریکہ اسرائیل کے اپنے لوگوں کو دہشت گردی سے تحفظ دینے کے حق کی حمایت کرتا ہے۔

میں کہوں گی کہ یہ قرارداد ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتی جس سے حماس کو ایسی طاقت حاصل رہے جس سے مسئلے کے دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچے۔ اس حل کے تحت غزہ اور مغربی کنارے پر ایک تبدیل شدہ اور پہلے سے بہتر فلسطینی اتھارٹی کے تحت واحد حکومت ہو گی۔

ساتھیو، ہمیں ایسے مستقبل کے لیے کام کرنا ہو گا جہاں اسرائیلی اور فلسطینی ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔ یہی مستقبل کا واحد راستہ ہے۔

جہاں اس انسانی بحران پر کونسل کا آواز بلند کرنا ہمارے لیے حوصلہ افزا ہے وہیں ہمیں اس امر پر گہری مایوسی بھی ہوئی ہے کہ کونسل 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گرد حملوں کی مذمت نہیں کر سکی۔ میں نہیں سمجھ سکتی کہ کونسل کے بعض ارکان اس میں رکاوٹ کیوں ڈال رہے ہیں اور وہ اس کی واضح طور پر مذمت کیوں نہیں کرتے؟ موسیقی کے میلے میں نوجوانوں کو قتل کرنے، خاندانون کو زندہ جلانے اور بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کی اطلاعات پر حماس کی مذمت کرنا اس قدر مشکل کیوں ہے؟ کیوں؟ میں کبھی نہیں سمجھ پاؤں گی کہ کونسل کے بعض ارکان ایسی برائی کے سامنے خاموش کیوں ہیں۔

ساتھیو، ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کونسل کو انسانی بنیادوں پر دوبارہ جنگ بندی کی حمایت کرنی چاہیے۔ اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایک اور معاہدے کے لیے پُرعزم ہے۔ اب یہ حماس پر منحصر ہے۔ حماس کو امن کے مزید وقفوں پر رضامند ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہم مزید امداد غزہ میں لا سکتے ہیں، جانیں بچا سکتے ہیں اور مزید یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنا سکتے ہیں۔

آج کونسل نے اس مسئلے پر آواز اٹھائی لیکن ہم جانتے ہیں کہ عملی پیش رفت سے ہی ان الفاظ کو عملی روپ دیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے امریکہ اقوام متحدہ، امدادی گروہوں اور خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں مزید امداد پہنچانے، یرغمالیوں کی رہائی اور پائیدار امن کے لیے کام کرتا رہے گا۔

ہمارے پاس ضائع کرنے کو مزید وقت نہیں ہے۔ ہمیں ان مصائب کا خاتمہ کرنے کی راہ ڈھونڈنا ہے۔ فلسطینی بچے کو اپنا گھر تباہ ہونے کے بعد خوف سے کپکپاتا دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔ یرغمالیوں کے خاندانوں کو تکلیف اور دکھ کے عالم میں مضطربانہ طور سے اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔ میرا دل تکلیف سے بھرا ہے اور میں جانتی ہوں کہ دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے یہی جذبات ہیں۔ لہٰذا ہمیں ان بے پایاں مصائب کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی غرض سے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا۔

شکریہ


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://usun.usmission.gov/explanation-of-vote-delivered-by-ambassador-linda-thomas-greenfield-following-the-adoption-of-a-unscr-on-the-situation-in-the-middle-east/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future