یکم دسمبر 2023  صبح 7:34 ای ایس ٹی

اینٹونی جے بلنکن، وزیر خارجہ

امریکہ ایک طویل عرصے سے موسمیاتی بحران اور خوراک کے عالمی بحران کے درمیان پائے جانے والے تعلق سے آگاہ چلا آ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ہماری زرعی پیداواریت اور خوراک کے نظاموں کے ساتھ ساتھ روزافزوں بھوک، عدم غذائیت اور معاشی دباؤ کی موجودگی میں اجناس پیدا کرنے اور اور اُن تک رسائی حاصل کرنے کی ہماری صلاحیتوں کے لیے ایک خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اس وقت 700 ملین لوگ عدم غذائیت کا شکار ہیں۔ تخمینوں کے مطابق اگلے 25 سالوں میں خوراک کی عالمی مانگ میں 50 فیصد اضافہ ہوگا۔ اسی عرصے کے دوران طویل مدتی خشک سالیاں، جنگلات کی خوفناک آتشزدگیاں، اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید سے شدید تر ہوتے ہوئے تباہ کن طوفان پیداوار میں 30 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسا کہ صدر بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ اگر والدین اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہ کھلا سکیں تو پھر اُن کے نزدیک کوئی چیز بھی اہمیت نہیں رکھتی۔ (مخففاً وی اے سی ایس کہلانے والا) ‘موافق فصلوں اور زمینوں کا وژن،’ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لچک، غذائیت والی فصلوں کی اقسام اور صحت مند، زرخیز زمینوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی اور خوراک کے  عالمگیر بحران کا حل پیش کرتا ہے۔ امریکہ وی اے سی ایس کی مدد کی خاطر زرعی ترقی کے بین الاقوامی فنڈ (آئی ایف اے ڈی) کے ‘رورل ریزیلیئنس پروگرام’ کے لیے 50 ملین ڈالر کی اضافی رقم فراہم کر رہا ہے۔ کانگریس کی جانب سے اس فنڈ کی منظوری کے نوٹیفکیشن اور فراہمی کا انتظار ہے۔ اس رقم کی فراہمی کے بعد امریکہ کی طرف سے وی اے سی ایس کے لیے اس برس دی جانے والی امداد کی رقم 150 ملین ڈالر ہو جائے گی۔ ابتدا میں وی اے سی ایس اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم، افریقن یونین، راک فیلر فاؤنڈیشن، اور سی جی آئی اے آر کے مابین ایک شراکت داری تھی۔ مگر اب وی اے سی ایس ایک ایسی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک، این جی اوز، نجی شعبہ اور دیگر ادارے شامل ہو چکے ہیں۔ وی اے سی ایس کی مدد کرنے کے حالیہ مالی وعدوں پر ہم برطانیہ، نیدرلینڈ، جاپان، ناروے کے ساتھ ساتھ کارگل اور اے ڈی ایم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ، وی اے سی ایس کے اہداف کے حصول کے کام کی قیادت کرنے والیں این جی اوز اور نجی شعبے کے اداروں کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ‘وی اے سی ایس چیمپیئنز’ کے نام سے ایک پروگرام بھی شروع کر رہا ہے۔ میں بیئر اے جی، کیتھولک ریلیف سروسز، اے ڈی ایم، کنسرن ورلڈ وائیڈ اور ون ایکر فنڈ کو اس پروگرام کے پہلے چیمپیئنز ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ این جی اوز اور نجی شعبہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں اور عالمی غذائی تحفظ کے بحران سے نمٹنے کے لیے اہم ہیں۔ ہم وی اے سی ایس کی عالمگیر تحریک میں ان اور مستقبل کے چیمپئنوں کے عزم، تعاون اور شراکت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future