امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
22 اپریل، 2021

موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر عالمی رہنماؤں کی کانفرنس میں امریکہ اور انڈٰیا نے ”موسمیاتی و ماحول دوست ایجنڈا 2030 کے لیے امریکہ-انڈیا شراکت داری” کے نام سے ایک نئی اعلیٰ سطحی شراکت کا آغاز کیا جو پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے حالیہ دہائی میں موثر اقدامات پر باہمی تعاون کی پیش بینی کرتی ہے۔ یہ شراکت دو بڑے خطوط پر آگے بڑھے گی جن میں ماحول دوست توانائی کی تزویراتی شراکت کی مشترکہ سربراہی وزیر توانائی گرینہوم کریں گے جبکہ مالیاتی وسائل متحرک کرنے سے متعلق باہمی بات چیت کے عمل کے مشترکہ سربراہ موسمیاتی امور پر خصوصی صدارتی نمائندے جان کیری ہوں گے۔ اس شراکت کا اعلان موسمیاتی امور پر خصوصی صدارتی نمائندے جان کیری کے دورہ انڈیا کے بعد کیا گیا ہے جس میں وزیراعظم مودی نے توثیق کی تھی کہ امریکہ اور انڈیا ماحول دوست ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدام سے متعلق 2030 کے ایجنڈے پر ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ اس شراکت کے آغاز کے موقع پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور جمہوریہ انڈیا کی حکومتوں کی جانب سے درج ذیل بیان کا متن جاری کیا گیا۔

آغازِ متن:

امریکہ اور انڈیا ”موسمیاتی و ماحول دوست ایجنڈا 2030 کے لیے امریکہ-انڈیا شراکت داری” کا آغاز کر رہے ہیں۔ صدر بائیڈن اور وزیراعظم مودی کے زیرقیادت یہ شراکت امریکہ۔انڈیا تعاون کا ایک بنیادی موقع ہے اور اس شراکت کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کی اس اہم دہائی میں فوری پیش رفت ممکن بنانا ہے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں نے 2030 تک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات اور ماحول دوست توانائی کے لیے پُرعزم اہداف طے کیے ہیں۔ اس حوالے سے قومی سطح پر اپنے نئے متعین کردار میں امریکہ نے 2030 میں گرین ہاؤس گیسوں کے خالص اخراج کو 2005 کی سطح سے 50 تا 52 فیصد نیچے لانے کا ہدف طے کیا ہے جو اس کی معیشت کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کی کوشش کے طور پر انڈٰیا نے 2030 تک اپنے ہاں 450 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی متعارف کرانے کا ہدف طے کیا ہے۔ اس شراکت کے ذریعے امریکہ اور انڈیا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات اور ماحول دوست توانائی کے حوالے سے اپنے پرعزم اہداف کے حصول کے لیے اکٹھے کام کرنے اور موسمیاتی مسائل اور ماحول دوست توانائی سے متعلق ہر معاملے پر باہمی تعاون مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں۔

اس شراکت کا مقصد مالی وسائل کا اہتمام کرنا اور نظام میں ماحول دوست توانائی شامل کرنے کی رفتار میں تیزی لانا، صنعت، نقل و حمل، توانائی اور عمارات سمیت کاربن سے پاک شعبوں کے لیے درکار صاف توانائی کی اختراعی ٹیکنالوجی سامنے لانا اور اس کی ضرورت ک اندازہ لگانا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے لاحق خطرات کی شدت جانچنے، ان سے نپٹنے اور ان سے بچاؤ کے طریقے اختیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ یہ شراکت دو بنیادی خطوط پر آگے بڑھے گی جن میں ماحول دوست توانائی کی شراکت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدام اور اس سلسلے میں مالی وسائل کے اہتمام سے متعلق بات چیت شامل ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے مابین بہت سے موجودہ طریقہ ہائے کار کی بنیاد پر اور ان سے کام لیتے ہوئے پیش رفت کی جائے گی۔ اس تعاون کے ذریعے امریکہ اور انڈیا اس بات کا عملی مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں کہ کیسے دنیا بھر کے ممالک اپنے قومی حالات اور اہم ترقیاقتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے تیزتر اقدام کو جامع نوعیت کی اور مضبوط معاشی ترقی سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔

اختتامِ متن


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/u-s-india-joint-statement-on-launching-the-u-s-india-climate-and-clean-energy-agenda-2030-partnership/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future