امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
17 جون، 2021

ہر سال پناہ گزینوں کا عالمی دن ہمیں اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لاکھوں لوگوں کی ہمت اور مشکل حالات میں خود کو قائم رکھنے کی اہلیت، ان کی میزبانی کرنے والے معاشروں کی فیاضی اور ان کی مدد کرنے والے امدادی شراکت داروں کے متحدہ عالمگیر اقدامات کے اعتراف کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم آج یہ دن اس خبر کے ساتھ منا رہے ہیں کہ دنیا بھر میں جبری بے گھری کا بہت بڑا بحران اب پریشان کن حد تک نئی تاریخی بلندی کو چھونے لگا ہے۔ 82 ملین سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں جو بے گھر ہونے پر مجبور ہیں اور ان میں 26 ملین سے زیادہ پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ یہ اعدادوشمار اور اس سال مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا موضوع ‘ہم باہم مل کر زخم بھرتے، سیکھتے اور ترقی پاتے ہیں’ تمام ممالک کو یہ یقینی بنانے کے لیے عملی قدم اٹھانے کو کہتا ہے کہ مہاجرین کو تحفظ، زندگی بچانے کے لیے درکار نگہداشت اور سیکھنے کے مواقع تک رسائی ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے میزبان ممالک میں ترقی کر سکیں۔

امریکہ دنیا بھر میں انسانی امداد اور سفارت کاری کے ذریعے مہاجرین کی تکالیف میں کمی لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ عالمگیر تعاون ضروری ہے اور ہم فوری انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے کثیرملکی تعاون سے کام لینے کے عہد کی تجدید کرتے ہیں اور مہاجرین کو امید اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد دینے کے پائیدار طریقے تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ کوئی ایک ملک اکیلا اس عالمگیر بحران سے نہیں نمٹ سکتا اور کوئی ملک جبری بے گھری کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس میں ہم سب کو ایک جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔

امریکہ مہاجرین کی آبادکاری کے معاملے میں ایک مرتبہ پھر قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے جس میں امریکہ میں مہاجرین کے داخلے کے پروگرام کے ذریعے کیے جانے والے اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے 1980 سے اب تک امریکہ میں 3.1 ملین سے زیادہ پناہ گزینوں کا خیرمقدم کیا جا چکا ہے۔ ہم 2021 میں امریکہ میں مہاجرین کو قبول کرنے کے ہدف کو 62,500 تک لے جانے کے لیے پہلے ہی ضروری اقدامات کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم نے ان لوگوں کی نوآباد کاری کے لیے علاقائی تخصیص بحال کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکہ میں مہاجرین کو قبول کرنے کے پروگرام تک رسائی کی بنیاد مہاجرین، زد پذیری، دنیا کے تمام خطوں میں مہاجرین کی نوآبادکاری کی ہنگامی ضرورت سے متعلق اقدامات پر ہو اور اس سے امریکہ کی مہاجرین کا خیرمقدم کرنے کی روایت کا اظہار ہوتا ہو۔ بائیڈن۔ہیرس انتظامیہ امریکہ کی اعلیٰ ترین اقدار کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز بنا رہی ہے اور مظالم کا نشانہ بننے والے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جنہیں مستقل بنیاد پر نوآبادکاری کی ضرورت ہے۔

مہاجرین کی نوآبادکاری ایسے متعدد طریقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے امریکہ دنیا بھر میں گھربار چھوڑنے پر مجبور ہونے والوں کی مدد کرتا ہے۔ انسانی امداد دینے والے دنیا کے سب سے بڑے عطیہ دہندہ کی حیثیت سے امریکہ بے گھری کے بحران کے خلاف عالمگیر اقدامات میں اضافے اور ان کی رفتار تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مالی سال 2020 میں ہم نے دنیا بھر میں 10.5 بلین ڈالر امداد فراہم کی جس میں مہاجرین کے لیے مدد بھی شامل ہے۔ زندگی کے تحفظ میں مددگار معاونت اور خدمات کی فراہمی کے علاوہ ہماری امداد اپنے شراکت دار امدادی اداروں کے انتھک کام میں ان کی معاونت بھی کرتی ہے جس میں طبی نگہداشت، روزگار اور تعلیمی مواقع کی فراہمی بھی شامل ہے تاکہ مظالم سے تنگ آ کر اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لوگوں کے زخم مندمل ہو سکیں، انہیں سیکھنے کے مواقع میسر آئیں اور کووڈ۔19 وباء جیسے مشکل حالات میں بھی وہ ترقی کر سکیں۔ ہر ایک کو ان مواقع سے مستفید ہونے کا حق ہے اور ہم دوسرے ممالک سے کہتے رہیں گے کہ وہ امدادی اقدامات جاری رکھنے اور دنیا بھر میں اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔

امریکہ ہر جگہ خطرات کی زد پر موجود لوگوں کے لیے عالمگیر تحفظ تک رسائی کو فروغ دینے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ہم جنگوں کے خاتمے اور جبری بے گھری کا سبب بننے والے دیگر عوامل سے نمٹنے کے لیے تمام فریقین کے قابل اعتبار شراکت دار ثابت ہوں گے تاکہ لوگوں کے لیے اپنی زندگیاں بچا کر مہاجرت اختیار کرنے کے بجائے اپنے علاقوں میں ہی خوشحال زندگی گزارنے کے حالات پیدا کیے جا سکیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/commemorating-world-refugee-day-2021/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future