وائٹ ہاؤس
20 مارچ، 2022

امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس نے آج پولینڈ کے دارالحکومت وارسا کے دورے میں اعلان کیا کہ امریکہ کی حکومت یوکرین پر روس کے بلاجواز حملے سے متاثرہ بے گناہ شہریوں کی مدد کے لیے امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یوایس ایڈ) کے ذریعے نئی انسانی امداد کے طور پر قریباً 53 ملین ڈالر مہیا کرے گی۔ اس اضافی امداد میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے لیے معاونت بھی شامل ہے جس کا مقصد اس حملے سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے انہیں ہنگامی ضرورت کی خوراک مہیا کرنا ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بے گھر ہو چکے ہیں اور جو یوکرین کی سرحد عبور کر کے دوسرے ممالک میں آ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں اس سے ورلڈ فوڈ پروگرام کو کیئو کے لوگوں سمیت یوکرین کے مختلف حصوں میں ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کا انتظام کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

یہ امداد گزشتہ دو ہفتے سے بھی پہلے امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ 54 ملین ڈالر کی انسانی امداد میں نیا اضافہ ہے جو یوکرین میں ضرورت مندوں کو طبی سازوسامان، خوراک، گرم کمبل اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے دی جا رہی ہے۔

امریکہ یوکرین کو سب سے زیادہ انسانی امداد پہنچانے والا ملک ہے اور اس نے اکتوبر 2020 سے اب تک اسے مجموعی 159 ملین ڈالر کی امداد مہیا کی ہے جس میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد گزشتہ دو ہفتوں میں اسے دی جانے والی قریباً 107 ملین ڈالر کی امداد بھی شامل ہے۔ یہ امداد اِس وقت جاری لڑائی سے متاثرہ لوگوں کو خوراک، پینے کے صاف پانی، پناہ، ہنگامی طبی امداد اور سردی سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے دی جا رہی ہے۔ اب تک بیس لاکھ لوگ اس جنگ کے باعث یوکرین چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ لوگ یوکرین کے اندر بے گھر ہو گئے ہیں۔ یوکرین بھر میں کم از کم ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ امریکہ بدستور یوکرین کے لوگوں کے ساتھ ہے اور ان کی فوری ضروریات پوری کرنے اور زندگیاں بچانے کے لیے کوششیں کرتا رہے گا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2022/03/10/vice-president-kamala-harris-announces-additional-u-s-funding-to-respond-to-humanitarian-needs-in-ukraine-and-eastern-europe/ 

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future