An official website of the United States Government Here's how you know

Official websites use .gov

A .gov website belongs to an official government organization in the United States.

Secure .gov websites use HTTPS

A lock ( ) or https:// means you’ve safely connected to the .gov website. Share sensitive information only on official, secure websites.

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
انٹرویو
ہیری ایس ٹرومین بلڈنگ
واشنگٹن، ڈی سی
غیرمدون/ مسودہ

سوال: ٹھیک ہے، نائب وزیر خارجہ، سفیر وینڈی شرمن ہمارے ساتھ گفتگو میں شامل ہو رہی ہیں جو ہیٹی کی صورتحال اور امریکہ کی جنوبی سرحد پر ہیٹی کے مہاجرین کی تعداد میں اضافے پر بات کریں گی۔ محترمہ سفیر، وقت نکالنے کا شکریہ۔ آپ کو دوبارہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔

نائب وزیر خارجہ شرمن: آپ سے مل کر بھی خوشی ہوئی۔ مائیکل، میرا خیال ہے کہ یہ بات سننے والے ہر شخص کو بھی ہیٹی کے لوگوں نیز انہیں اور ان کے ملک کو درپیش نہایت مشکل حالات پر ہماری طرح تشویش ہے۔

سوال: ہیٹی کے لیے صدر کے خصوصی نمائندے نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، ٹھیک؟ ان کا کہنا ہے کہ ”میں ہیٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں پناہ گزینوں اور غیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے غیرانسانی اور نقصان دہ امریکی فیصلے کا حصہ نہیں بنوں گا۔” کیا آپ اس بات سے متفق ہیں یا نہیں؟

نائب وزیر خارجہ شرمن: مائیکل، ہیٹی کے معاملے پر پالیسی سے متعلق بہت سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے ہیں جن میں تمام تجاویز زیربحث آئیں۔ ان میں سابق خصوصی نمائندے فوٹ کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ان تمام تجاویز پر کڑے اور شفاف انداز میں غور کیا گیا۔ میں کھل کر کہوں گی کہ ان میں سے بعض تجاویز ہیٹی میں جمہوریت کے فروغ اور ہیٹی میں لوگوں کو اپنا مستقبل خود منتخب کرنے کا موقع دینے کے لیے آزادانہ و منصفانہ انتخابات سے متعلق ہمارے عزم کے لیے نقصان دہ تھیں۔ ان کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ان کی تجاویز کو نظرانداز کیا گیا۔

سوال: انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ایریل ہنری کے ساتھ سیاسی تصفیے کی حمایت کے لیے امریکہ کا فیصلہ ”ہیٹی میں عالمی سطح کی سیاسی مداخلت کا ایک سلسلہ ہے جس نے ہمیشہ تباہ کن نتائج دیے ہیں۔” آپ اس پر کیا ردعمل دیں گی؟

نائب وزیر خارجہ شرمن: اس پر میرا ردعمل وہی ہے جہاں سے میں نے بات شروع کی تھی کہ ہمارا مفاد اس میں ہے کہ ہیٹی کے عوام آزادانہ و منصفانہ انتخابات میں اپنے مستقبل کا چناؤ خود کریں۔ اس مستقبل کی بات ہو تو ہم کسی فریق کی حمایت نہیں کرتے۔ یہ ہیٹی کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یقیناً ہم ان لوگوں سے بات کر رہے ہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت ہیٹی کی حکومت ہے کیونکہ ان حالات میں ہمیں ایسا ہی کرنا ہے البتہ ہم ہیٹی میں جمہوریت کے حامی ہیں۔ مسٹر فوٹ نے ایک تجویز یہ پیش کی تھی کہ امریکہ کی فوج کو دوبارہ ہیٹی میں بھیج دیا جائے۔ میں کلنٹن انتظامیہ کے دور سے ہیٹی کی صورتحال کا مشاہدہ کرتی چلی آئی ہوں اور میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ امریکہ کی فوج کو ہیٹی بھیجنے سے اس خوفناک صورتحال میں تبدیلی نہیں آئے گی جس کا اس وقت ہیٹی کے عوام کو سامنا ہے۔ یہ محض ایک برا خیال تھا۔

سوال: ڈٰینیئل فوٹ کی جگہ کون لے گا؟

نائب وزیر خارجہ شرمن: میں نہیں سمجھتی کہ ہمیں ان کی جگہ کسی اور کو تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے وہاں خوفناک طوفان اور زلزلوں اور ہیٹی کے عوام کو درپیش تمام دیگر مصیبتوں اور غربت کے ساتھ جاری کشمکش کے بعد وہاں صدر کے قتل کا واقعہ پیش آتے دیکھا اور پھرایک خصوصی نمائندے کا تقرر کیا۔ تاہم ہیٹی میں مشیل سیسن کی صورت میں ہماری ایک شاندار سفیر موجود ہیں جو یہاں امریکہ میں مستقبل کے ایک عہدے کے لیے بھی نامزد ہو چکی ہیں۔ ہمیں ان پر اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر بے پایاں اعتماد ہے۔

سوال: کیا اتنظامیہ ہیٹی کی تعمیرنو کے لیے کمیشن قائم کرے گی کہ ہماری سمجھ بوجھ کے مطابق اس کی تشکیل زیر غور ہے اور کیا حالیہ بحران کے بعد ملک کی تعمیر نو کے لیے مدد دے گی؟

نائب وزیر خارجہ شرمن: میرا خیال ہے کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں ہیٹی کے عوام کی مدد کے لیے کون سی سہولت درکار ہے۔ ہم اس مقصد پر پوری طرح کاربند ہیں۔ ہم نے 2010 سے ـــ میں اس وقت یہاں اپنے نوٹس دیکھ رہی ہوں ـــ امریکہ نے وہاں تحفظ زندگی میں معاون انسانی امداد اور طویل مدتی بحالی، تعمیرنو اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے کئی سال تک مجموعی طور پر 5.1 بلین ڈالر دیے ہیں۔ نوتوثیق شدہ ــ امریکی سینیٹ کا شکریہ ـــ اور مغربی کرے سے متعلق امور کے لیے ہمارے معاون وزیر خارجہ برائن نکولس آئندہ ہفتے خوآن گونزالز کے ساتھ ہیٹی جائیں گے جو این ایس سی میں سینئر ڈائریکٹر ہیں اور یہ دیکھیں گے کہ یہ یقینی بنانے کا بہترین طریقہ کون سا ہے کہ ہم سول سوسائٹی سے بات کریں اور ہیٹی کے لوگوں کی زبانی جان سکیں کہ یہ راستہ کون سا ہے۔ یقیناً زلزلے کے بعد سے وہاں امریکہ کی امدادی کوششیں جاری ہیں۔

سوال: محترمہ سفیر، ایک آخری سوال۔ خصوصی نمائندے فوٹ کا کہنا ہے کہ اس سال ہیٹی میں مکمل اور شفاف انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتی ہیں؟

نائب وزیر خارجہ شرمن: میں سمجھتی ہوں کہ معاون وزیر نکولس ہیٹی میں امریکہ کی سفیر سیسن کے ساتھ کام کریں گے اور سول سوسائٹی سے بات کر کے یہ دیکھیں گے کہ ہم ایسے فیصلوں میں مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہیٹی کے عوام کے لیے جلد از جلد آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔ مجھے ایک مرتبہ پھر یہ کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایسا کوئی شخص نہیں جسے یہ علم نہ ہو کہ ہیٹی میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ نہایت تکلیف دہ صورتحال ہے، ہم ہیٹی کے عوام کی ہرممکن مدد کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ہمیشہ یہی مقصد رہا ہے۔

سوال: محترمہ سفیر، وقت دینے کا شکریہ۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔

نائب وزیر خارجہ شرمن: شکریہ۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/deputy-secretary-wendy-sherman-with-michael-wilner-of-mcclatchy-washington-bureau/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future