An official website of the United States Government Here's how you know

Official websites use .gov

A .gov website belongs to an official government organization in the United States.

Secure .gov websites use HTTPS

A lock ( ) or https:// means you’ve safely connected to the .gov website. Share sensitive information only on official, secure websites.

امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
23 ستمبر 2021

اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر
نیویارک سٹی، نیویارک

وزیرخارجہ بلنکن: آپ کا بہت بہت شکریہ، تاؤسیچ۔ سیکرٹری جنرل گوٹیرس آپ کی موجودگی کا شکریہ۔ آب و ہوا پر آپ کی قیادت کا شکریہ۔ اور تاؤسیچ، سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موسمیات اور سکیورٹی کے درمیان تعلق کو رکھنے کے لیے آج کی بحث کے لیے اجلاس بلانے پر آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اور نائجر کے ہمارے ساتھیوں کے ساتھ مل کر، آئرلینڈ اور نائجر موسمیات اور سکیورٹ کے غیر رسمی ماہر گروپ کے ساتھ جو اہم کام کر رہے ہیں اس کے لیے بھی آپ کا شکریہ۔ میں محترمہ ایلمین کی انتہائی جاندار گواہی کو بھی سراہنا چاہتا ہوں۔ ہم آج یہ گواہی دینے پر شکر گزار ہیں۔

پہلے دن سے ہی صدر بائیڈن نے آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے کو اپنی انتظامیہ کی اولین ترجیح بنایا ہواہے۔ انہوں نے مجھ سمیت، ہمارے تمام سفارت کاروں کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ یہ [آب و ہوا کا بحران] امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی عنصر رہے۔ یہ سوال ہمارے پیش نظر رہتا ہے کہ ہمارا ہر دوطرفہ اور کثیرالطرفہ میل جول، پالیسی کا ہر فیصلہ جو ہم کرتے ہیں، ہماری دنیا کو ایک محفوظ، زیادہ پائیدار راستے پر ڈالنے کے ہمارے مقصد پر کیسے اثرانداز ہو گا۔

ایسا صرف ہمارے عظیم الشان سیارے پر موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے نہیں ہے جو بعض حالات میں ناقابل واپسی ہوتی ہیں۔ درحقیقت یہ موسمیات سے لے کر سکیورٹی تک، صحت عامہ سے لے کر خوراک کی سکیورٹی تک، ہماری زندگیوں کے ہر ایک پہلو پر یکدم مرتب ہونے والے اثرات کے سلسلوں کی وجہ سے ہے۔ اور ہم اِن میں سے بعض پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔

یہاں نیو یارک سٹی میں جہاں ہم آج جمع ہیں، اس مہینے کے شروع میں سمندری طوفان ایڈا کی باقیات کی وجہ سے ایک غضبناک سمندری طوفان سے ایک دو سالہ بچے سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور دسیوں ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ سنٹرل پارک میں ایک گھنٹے میں تین انچ سے زائد بارش برسی جس سے صرف چند ہی ہفتے قبل قائم ہونے والا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

اگر ہمارے ممالک میں سے کسی ایک پر بھی آپ نظر ڈالیں تو آپ کو شدید موسموں کے اس طرح کے ریکارڈ توڑ واقعات دکھائی دیں گے۔ موسمیاتی بحران آ نہیں رہا بلکہ یہ پہلے ہی آ چکا ہے۔

اور اس کے اثرات کے واضح نمونے سامنے آ رہے ہیں۔ کمزور اور کم آمدنی والی آبادیوں کو اس کے غیر متناسب نتائج کا سامنا ہے۔ اور وہ ایسی جگہوں پر حالات کو بد سے بدتر بنا رہے ہیں جو پہلے ہی سے تصادموں، اونچی سطحوں کے تشدد، اور عدم استحکام کی زد میں ہیں۔

گزشتہ ہفتے جاری کی گئی ترکیبی رپورٹ اور گزشتہ ماہ جاری کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل کی جامع رپورٹ کے  ساتھ ساتھ، یہ بڑھتے ہوئے اثرات ہمارے اخراجوں کو ڈرامائی طور پر کم کرنے اور آنے والی ناگزیر تبدیلیوں کے لیے اپنے آپ میں لچک پیدا کرنے کی فوری ضرورت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

یہ کام کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ دوسروں کی ان کے حصے کا کام کرنے میں مدد کی جائے۔ گزشتہ اپریل میں صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکہ موسمیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی بین الاقوامی سرکاری فنانسنگ کو دوگنا کر دے گا۔ اس ہفتے کے شروع میں  یہاں اقوام متحدہ میں انہوں نے اعلان کیا کہ فنانسنگ کی اُس رقم کو دوگنا کرنے کے لیے ہم امریکی کانگریس کے ساتھ کام کریں گے۔ ہم دوسری حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ یہ سرمایہ کاری کرنے میں آگے آئیں – خاص طور پر امریکہ جیسی وہ [حکومتیں] جو سب سے زیادہ اخراجوں کا باعث بننی ہیں۔

سلامتی کونسل کا بھی ایک اہم کردار ہے جو اسے ادا کرنا ہے۔ اس کے لیے میں مختصر طور پر تین طریقے تجویز کرنا چاہتا ہوں۔

سب سے پہلے ہمیں یہ بحث بند کرنا ہوگی کہ آیا موسمیاتی بحران کا تعلق سلامتی کونسل سے ہے۔ اس کی بجائے [ہم] یہ پوچھیں کہ کونسل امن و سلامتی پر آب و ہوا کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنے منفرد اختیارات کو کیسے استعمال کر سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کا بہت عرصہ پہلے فیصلہ ہو جانا چاہیے تھا۔

آپ کم و بیش کسی بھی ایسی جگہ پر نظر ڈال کر دیکھیے جہاں آج آپ کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات نظر آرہے ہیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آب و ہوا کی تبدیلی چیزوں کو کم پرامن، کم محفوظ بنا رہی ہے اور ہمارے ردعمل کو مشکل سے مشکل تر بنا رہی ہے۔ یہ شام، مالی، یمن، جنوبی سوڈان، ایتھوپیا، اور دیگر کئی جگہوں کی کہانی ہے جو تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہ اس  مسئلے کا تعلق سلامتی کونسل سے ہے، ہم عالمی برادری کو یہ واضح پیغام بھی دیں گے کہ اپنے اندر موسمیاتی تبدیلی ہماری اجتماعی سلامتی کے لیے سنگین مضمرات لیے ہوئے ہے۔

 دوسرا، اقوام متحدہ کے فیلڈ مشنوں کو مستقل طور پر اپنی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو شامل کرنا چاہیے، جیسا کہ دیگر کے علاوہ، عراق کے لیے اقوام متحدہ کا امدادی مشن، مالی میں اقوام متحدہ کا استحکام کا  کثیرالجہتی مربوط مشن، اور مغربی افریقہ اور ساحل کے لیے اقوام متحدہ کا دفتر کر چکے ہیں۔ یہ کام کرنے سے مشن کی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو گا؛ اس سے استحکام پیدا ہوگا؛ اور اس سے لچک پیدا ہوگی۔

تیسرا، اقوام متحدہ کے نظام کو بالخصوص کمزور ممالک اور علاقوں میں جاری تصادموں میں آب و ہوا سے متعلق تجزیے کو  تنازعات کی اپنی ثالثی اور تنازعات کی روک تھام کی کوششوں کے ساتھ مزید مربوط کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیاسی اور قیام امن کے امور کے محکمے کا اپنے تزویراتی منصوبے میں آب و ہوا کی سکیورٹی کو پہلی بار شامل کرنے کا 2020 کا فیصلہ اور موسمیاتی تحفظ کا طریقہ کار اس کی بڑی مثبت مثالیں ہیں۔

اِن اقدامات کے فوائد میں اگر کسی کو شک ہے تو میں اُس کی حوصلہ افزائی کروں گا کہ وہ صرف اقوام متحدہ کے چند ایک فورس کمانڈروں، خصوصی ایلچیوں، مذاکرات کاروں، امن قائم کرنے والوں، اور دیگر ایسے لوگوں سے پوچھیں جو موقع پر اپنی روزمرہ کی کاوشوں کے دوران موسمیاتی اثرات سے نمٹتے وقت ان سے نبرد آزما رہتے ہیں۔ انہیں اس طرح کے وسائل کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔

میں نے آج موسمیاتی بحران سے لاحق خطرات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ لیکن آخر میں مجھے صرف یہ کہنے دیجیے کہ اسے صرف اسی ایک نظر سے دیکھنا غلطی ہوگی۔

ہم اس بات پر متفق ہیں کہ تباہ کن نتائج کو روکنے کے لیے سب ممالک کو لچک پیدا کرنے، ناگزیر اثرات کے ساتھ موافقت پیدا کرنے اور تیزی سے خالص صفر [اخراجوں] والی دنیا پر منتقل ہونے کے لیے فوری، جرات مندانہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ سی او پی 26 کے لیے جو صرف چند ہفتوں کی دوری پر ہے، یہ ہمارا مشترکہ فرض ہے۔ اور اگر ہم عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ہر ملک کو اپنے اعلٰی ترین ممکنہ مقاصد کو میز پر لانے کی ضرورت ہوگی۔

لیکن یہ کوششیں – اور وہ سرمایہ کاریاں جن کا کرنا ہم سب کی لیے ضروری ہوگا – سستی، صاف توانائی تک رسائی کو بڑھانے؛ ماحول دوست بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے؛ اور اچھی تنخواہ والی ملازمتوں کے بے مثال موقعے بھی لے کر آئیں گیں۔ یہ تمام چیزیں  طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے مہمیز کا کام دے سکتی ہیں، ہماری قوموں کے اندر اور ان کے درمیان بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو ختم کر سکتی ہیں، اور دنیا بھر کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

اگرچہ ہم خطرے کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مگر آئیے ہم نسلوں میں ایک بار آنے والے اس موقعے کو بھی نظروں سے  اوجھل نہ ہونے دیں۔ آئیے ہم نہ صرف اُس نقصان کے خوف سے متحرک ہوں جو موسمیاتی بحران ہمیں پہنچا سکتا ہے یا پہلے ہی ہمیں پہنچا چکا ہے، بلکہ ہم اپنے ردعمل کے اُن سب طریقوں کے تصور سے بھی متحرک ہوں جو درحقیقت، آج اور مستقبل میں، لوگوں کی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں بہتر بنا سکتا ہے۔

آپ کا بہت شکریہ


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.whitehouse.gov/briefing-room/statements-releases/2021/09/22/fact-sheet-targets-for-global-covid-19-summit/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future