امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ذرائع ابلاغ کو بیانات
اینٹںی جے بلنکن، وزیر خارجہ
ہوٹل کیپٹن کُک
اینکریج، الاسکا
19 مارچ 2021

وزیر خارجہ بلنکن: سبھی کو صبح بخیر۔ مجھے بس چند باتیں کہنا ہیں۔ جیک اور میں نے گزشتہ دو روز کئی گھنٹے اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ بلاشبہ ہم جانتے ہیں اور پہلے سے ہی آگاہ تھے کہ متعدد معاملات پر ہمارے مابین بنیادی نوعیت کے اختلافات ہیں جن میں شنگ جینگ میں چین کی کارروائیاں، ہانگ کانگ، تبت اور بڑی حد تک تائیوان کا معاملہ اور سائبر سپیس میں اٹھائے گئے اقدامات شامل ہیں۔

اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ جب ہم ان مسائل پر واضح اور براہ راست بات کرتے ہیں تو دفاعی ردعمل سامنے آتا ہے۔ لیکن ہم نے ان بہت سے گھنٹوں میں ایک جامع ایجنڈے پر نہایت صاف انداز میں باتیں بھی کیں۔ اس میں ایران، شمالی کوریا، افغانستان اور ماحول پر ہمارے مفادات ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ اقتصادیات، تجارت اور ٹیکنالوجی کے معاملے پر ہم نے اپنے ہم منصبوں کو بتایا کہ ہم کانگریس، اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ان امور کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ ان معاملات پر ہم ایسے انداز میں آگے بڑھیں گے جس سے ہمارے کارکنوں اور ہمارے کاروباروں کے مفادات کا پوری طرح تحفظ اور ترقی ممکن ہو گی۔

تاہم ایک لمحے کے لیے پیچھے جائیں تو مجھے یہ کہنا ہے کہ ہم یہاں آ کر اور اپنے چینی ہم منصبوں سے مل کر دو کام کرنا چاہتے تھے۔ پہلا یہ کہ ہم چین کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات اور اس کے طرزعمل کے بارے میں ان سے اپنے واضح خدشات کا تبادلہ کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کو بھی یہی خدشات ہیں۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ ہم اپنی پالیسیاں، ترجیحات اور عالمی نکتہ نظر بھی واضح طور پر ان کے سامنے رکھنا چاہتے تھے اور ہم نے یہی کچھ کیا۔

جیک۔

قومی سلامتی کے مشیر سلوین: سبھی کا شکریہ۔

جیسا کہ وزیر خارجہ نے کہا، ہمیں بہت سے امور پر سخت اور صاف گفت و شنید کی توقع تھی اور ہم نے بالکل ایسا ہی کیا۔ ہمارے پاس اپنی ترجیحات اور ارادے ان کے سامنے رکھنے اور چین کی ترجیحات اور اس کے ارادوں سے آگاہی حاصل کرنے کا موقع تھا۔ ہم واضح سوچ کے ساتھ اس بات چیت کے لیے آئے اور واضح سوچ کے ساتھ واپس جا رہے ہیں اور واشنگٹن واپس جا کر یہ جائزہ لیں گے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہم مستقبل کے اقدامات پر اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے مشاورت جاری رکھیں گے اور یقیناً اس میں عام سفارتی ذرائع کی مدد سے ایران سے افغانستان تک بہت سے امور پر بات چیت بھی شامل ہے۔ مستقبل کی راہ پر ہم چین کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔

لہٰذا یہاں آنے کے لیے وقت نکالنے پر ہم آپ سبھی کے مشکور ہیں اور اب اپنا کام شروع کرنے اور امریکہ کے مفادات اور اقدار کو فروغ دینے کے متمنی ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-and-national-security-advisor-jake-sullivan-statements-to-the-press/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future