امریکی محکمہ خارجہ  
ترجمان کا دفتر  
29 جنوری 2024 
واشنگٹن، ڈی سی 

وزیر خارجہ بلنکن: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ سیکرٹری جنرل سٹولٹنبرگ کی یہاں واشنگٹن میں محکمہ خارجہ آمد میرے لیے ہمیشہ خوشی کا باعث رہی ہے۔ ابتدا میں مجھے ایران کی پشت پناہی میں سرگرم ملیشیا کی جانب سے اردن میں امریکی فوج پر ڈرون حملے کے بارے میں بات کرنا ہے۔ اس حملے میں ہمارے تین فوجی ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ میں اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں اور ان کے خاندانوں اور دوستوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ ہماری فوج کی خواتین اور مرد ہماری سلامتی اور آزادی کے لیے روزانہ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہیں۔ میں ان کی جرات اور قربانیوں کا ہمیشہ معترف رہا ہوں۔  

ابتدا ہی سے میں مشرق وسطیٰ میں تنازع سے فائدہ اٹھانے والوں کو متنبہ کرتا چلا آیا ہوں کہ وہ ایسا مت کریں۔  ہم نے اپنے اور اپنے شراکت داروں کے دفاع اور تنازعے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ جیسا کہ صدر نے بالکل واضح طور پر کہا ہے: ہم کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن انداز میں جواب دیں گے اور اپنے فوجیوں پر حملہ کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے۔ ہم اپنی مرضی کے وقت پر اور اپنی مرضی کی جگہ پر یہ کارروائی کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم غزہ کے تنازع اور پائیدار امن و سلامتی کے لیے واقعتاً پائیدار کوششوں کے اپنے بنیادی مقاصد پر بھی توجہ مرکوز رکھیں گے۔  

اس مقصد کے لیے آج میں نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے یرغمالیوں کی بازیابی اور جنگ میں طویل وقفے کے لیے جاری کوششوں پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔ خطے میں ایک کے بعد دوسری نسل کو لپیٹ میں لینے والے تشدد کے سلسلے کو پائیدار طور سے ختم کرنے کے لیے ہم جس طریقے پر بات چیت کر رہے ہیں اسے کامیاب بنانا بہت اہم ہے اور حقیقی معنوں میں اس کے حصول کا موقع بھی موجود ہے۔ اس کے تحت ایک مربوط اسرائیل، اپنے ہمسایوں کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات اور اس کے لیے امن و سلامتی سے آگے بڑھنے کی ضمانت جبکہ اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی ریاست کے لیے واضح لائحہ عمل کو ممکن بنایا جانا ہے۔  

یہ تصور اور اسے حقیقت کا روپ دیے جانے سے اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور خطے میں ہمارے تمام شراکت داروں کے لیے سلامتی کے حالات میں غیرمعمولی تبدیلی آئے گی۔ اس سے ان چند کرداروں بالخصوص ایران کو تنہا کرنا بھی ممکن ہو گا جو یہ سب کچھ نہیں چاہتے اور مستقبل کے حوالے سے ان کا تصور نہایت مختلف ہے جسے ایران کی جانب سے براہ راست یا اس کے آلہ کاروں کے ذریعے مسلط کیے جانے کی روزانہ کوشش ہو رہی ہے۔ تاہم پائیدار امن کے لیے خطے کا پہلے سے زیادہ ایسے طریقے سے مربوط ہونا ضروری ہے جہاں ممالک کے باہمی تعلقات پُرامن ہوں اور جہاں فلسطینیوں کے حقوق کا مسئلہ حتمی طور پر حل ہو سکے۔   

آج جینز اور مجھے نیٹو کی کانفرنس اور ہمارے اتحاد سے متعلقہ معاملات پر بات چیت کا موقع بھی ملا۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر ہم نیٹو کو ناصرف اپنے مشترکہ مقصد بلکہ مشترکہ عمل کے فوری اور مضبوط احساس کے تحت بھی آگے بڑھتا دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ترکیہ نے سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی منظوری دی۔ سویڈن ہر لحاظ سے اس اتحاد کی اہلیتوں میں بے پایاں اضافہ کرنے جا رہا ہے۔ اب ہنگری کو سویڈن کے نیٹو سے الحاق کے عمل کو مکمل کرنا ہے اور مجھے پوری توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں جب ہنگری کی پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہو گا تو اس کی توثیق ہو جائے گی۔  

اب فن لینڈ اور سویڈن کا ہمارے اتحاد سے الحاق یقینی ہے۔ درحقیقت دو سال پہلے کوئی اس بارے میں بات نہیں کر رہا تھا۔ تاہم یوکرین کے خلاف روس کے نئے حملے کے بعد دونوں ممالک نے محسوس کیا کہ اپنے لوگوں اور اپنی خودمختاری کو تحفظ دینے کے لیے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے میں ان کا واضح مفاد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت کم وقت میں پہلے فن لینڈ اور پھر سویڈن کے الحاق کا عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ نیٹو کے دروازے کھلے ہیں، یہ یوکرین کے لیے بھی کھلے ہیں جو اس کا رکن بن جائے گا۔  

اس سے یوکرین کے خلاف پیوٹن کی جارحیت کی حقارت آمیز تزویراتی ناکامی بھی واضح ہوتی ہے۔ درحقیقت اس سے ان اقدامات کی رفتار اور بھی تیز ہو گئی ہے جن کو وہ روکنا چاہتے تھے۔ وہ نیٹو کو سکیڑنا چاہتے تھے جو اب پہلے سے زیادہ وسیع ہو گیا ہے اور مزید وسعت پا رہا ہے۔ وہ نیٹو کو کمزور کرنا چاہتے تھے جو اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔  

میں سمجھتا ہوں کہ جولائی میں جب ہم نیٹو کی سربراہی کانفرنس میں ملیں گے تو یہ ایک اہم موڑ ہو گا۔ یہ نیٹو کی ایک تاریخی کانفرنس ہو گی جس کی ہمیں واشنگٹن میں میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہونے جا رہا ہے۔ میری رائے میں یہ سرد جنگ کے بعد نیٹو کی پُرعزم ترین کانفرنس ہو گی جس میں اسے نئے مسائل اور نئے خطرات کے مطابق خود  کو ڈھالنے پر بات ہو گی خواہ ان خطرات کا تعلق سائبر کی دنیا، دہشت گردی کے حوالے سے روس سے ہو، یا کئی طرح سے ان کا تعلق پیپلز ریپبلک آف چائنا سے ہو۔ ہمارا یہ اتحاد نئے اور مضبوط طریقوں سے یہ یقینی بنائے گا کہ اس میں ان مسائل پر موثر طور پر قابو پانے کی صلاحیت ہو۔ نیٹو کے 75 سال مکمل ہونے کی خوشی مناتے ہوئے ہماری اصل توجہ اس اتحاد کے آئندہ 75 سال اور اسے اپنے ارکان کے دفاع اور سلامتی کے لیے ناگزیر بنانے کے لیے کیے جانے والے کام پر مرکوز ہو گی۔  

ایسی بعض اہلیتوں اور طاقت کا مظاہرہ ہم نے نیٹو کی سب سے بڑی ‘ثابت قدم محافظ’ نامی عسکری مشقوں میں دیکھا جو سرد جنگ کے بعد اس طرح کا سب سے بڑی مشقیں تھیں۔ اتحاد کے 90 ہزار سپاہی یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ یہ اتحاد تیار ہے اور یہ نیٹو ممالک کی سرزمین کے ہرانچ کی حفاظت کے لیے تیار ہے اور اس کی اہلیت رکھتا ہے۔  

ہم نے سیکرٹری جنرل سے یوکرین کے لیے نیٹو کی متواتر مدد پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ گزشتہ ہفتے نیٹو نے توپخانے کے لیے 220,000 گولے تیار کرنے کے لیے 1.2 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس سے اتحادیوں کو اپنے اسلحہ خانوں میں کمی کو پورا کرنے اور امریکہ، یورپی یونین اور یوکرین کی جانب سے دفاعی پیداوار بڑھانے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ اس سے نیٹو اور تمام اتحادیوں کی مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بھی مضبوطی آئے گی۔   

ہم ان تمام مسائل سے مشترکہ طور پر نبردآزما ہوتے ہیں اور میں یوکرین کے معاملے میں واضح کرنا چاہوں گا کہ اس اتحاد اور مختلف ممالک کے ساتھ ہماری شراکتوں کی تاریخ میں ایک دوسرے کا بوجھ بانٹنے کی اس سے بہتر مثال کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، گزشتہ چند برس میں یوکرین کے لیے امریکہ کی مدد کا مالی حجم 75 ارب ڈالر سے زیادہ ریا ہے۔ تاہم ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں، بالخصوص نیٹو کے بنیادی حلیفوں نے اسی عرصہ کے دوران 110 ارب ڈالر سے زیادہ کی مدد مہیا کی ہے۔ خواہ یہ عسکری مدد ہو، معاشی یا انسانی امداد، یوکرین کے معاملے میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا ایک غیرمعمولی مثال ہے۔ 

تاہم اس تعاون کا تسلسل برقرار رکھنے، یوکرین کی کامیابی اور روس کی تزویراتی ناکامی کے لیے یہ ضروری ہے کہ امریکی کانگریس صدر کی جانب سے اضافی بجٹ کی درخواست کو منظور کرے جو اس کے پاس پہنچ چکی ہے۔ اس کے بغیر یوکرین اور ہماری حاصل کردہ تمام کامیابیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اس درخواست کے منظور نہ ہونے کی صورت میں ہمارے تمام مخالفین کو واضح اور غلط پیغام جائے گا کہ ہم آزادی اور جمہوریت کے دفاع میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اس سے پیوٹن کی اس سوچ کو تقویت ملے گی کہ وہ کسی نہ کسی طور یوکرین کو اور ہمیں پچھاڑ سکتے ہیں۔ تاہم ایسا نہیں ہو گا۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ ایسا نہ ہو۔ 

مجھے آخر میں یہ کہنا ہے کہ اس کانفرنس کی تیاری کے لیے آئندہ چند مہینوں میں ہمیں بہت سا کام کرنا ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج سیکرٹری جنرل کے ساتھ میری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے اور اب سے کچھ دیر کے بعد ہم اس کام کے حوالے سے پینٹاگون میں قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ میں اس ملاقات اور آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں نیٹو کانفرنس کی تیاریوں میں پیش رفت کا منتظر ہوں۔  

جینز، اب آپ بات کیجیے۔   


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-and-nato-secretary-general-jens-stoltenberg-at-a-joint-press-availability-3/ 

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔  

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future