امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
30 اگست، 2021
صحافیوں سے بات چیت

ٹریٹی روم
واشنگٹن، ڈی سی

وزیر خارجہ بلنکن: سبھی کو سہ پہر بخیر۔

اٹھارہ روز پہلے امریکہ اور ہمارے اتحادیوں نے کابل سے لوگوں کو نکالنے اور انہیں دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی کارروائی شروع کی۔ جیسا کہ آپ نے ابھی پینٹاگون کا اعلان سنا، یہ کارروائی چند گھنٹے پہلے مکمل ہو گئی۔

123,000 سے زیادہ لوگوں کو افغانستان سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ ان میں تقریباً 6,000 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری، سفارتی اور امدادی اقدام، ہماری ملکی تاریخ کا ایک انتہائی دشوار کام اور بعض انتہائی مشکل حالات میں انتظام و انصرام اور ارتباط کا ایک غیرمعمولی کارنامہ تھا۔

بہت سے لوگوں نے یہ کام ممکن بنایا۔

میں اپنے غیرمعمولی سفارت کاروں کی ستائش کرنا چاہتا ہوں جنہوں ںے اس کارروائی کو مربوط بنانے کے لیے دنیا بھر میں چوبیس گھنٹے کام کیا۔ انہوں نے کابل ایئرپورٹ پر رضاکارانہ طور پر فرائض انجام دیے۔ وہ امریکہ جانے والے ہزاروں افغانوں کی مدد کے لیے ان ممالک میں گئے جہاں ان لوگوں کا عبوری قیام تھا۔ انہوں نے افغانوں کا ان کے نئے وطن میں خیرمقدم کرنے کے لیے امریکہ میں داخلے کے مقامات اور امریکی فوجی اڈوں پر فرائض انجام دیے۔ انہوں نے نائب وزیر خارجہ برائن میکیئن کی نگرانی میں یہاں واشنگٹن میں چوبیس گھنٹے کام کرنے والا عملہ مہیا کیا۔ انہوں نے افغانستان چھوڑنے کے ممکنہ خواہش مند امریکیوں کی ایک فہرست تیار کی اور پھر ان میں سے ہر شخص سے فرداً فرداً تواتر سے رابطہ کیا، اس سلسلے میں 14 اگست سے اب تک انہوں نے 55,000 مرتبہ ٹیلی فون پر بات کی اور 33,000 ای میل بھیجیں۔ انہوں نے اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کے بعد دوسرا مسئلہ حل کیا۔

انہوں نے یہ کام اس لیے کیا کیونکہ گزشتہ 20 سال کے دوران افغانستان میں خدمات انجام دینے والے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے ملازمین کے لیے انخلا کا یہ کام ذاتی دلچسپی کا حامل تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے سالہا سال تک اپنے افغان شراکت داروں کے ساتھ کام کیا تھا اور ان میں بہت سے لوگ ایک دوسرے کے قابل اعتماد دوست بن گئے تھے۔ ہم نے افغانستان میں محکمہ خارجہ سے تعلق رکھنے والے اپنے عزیز ارکان کو بھی کھویا جنہیں ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ اس اہم موقع پر امریکیوں، 20 سال تک ہمارے ساتھ کام کرنے والے ہمارے غیرملکی شراکت داروں اور غیرمحفوظ افغانوں کی مدد کرنا ہماری ٹیم کے لیے ایک انتہائی اہم کام سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ ایک مقدس فریضہ تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ کیسے ہمارے سفارت کاروں نے لگن اور دلجمعی سے اس مسئلے کا سامنا کیا اور اسے نمٹایا۔

کابل میں امریکی فوج کے ارکان نے ایئرپورٹ کی حفاظت، ہزاروں افغانوں سمیت بہت سے ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے تحفظ اور انہیں ہوائی جہازوں کے ذریعے ملک سے باہر نکالنے کے لیے دلیرانہ انداز میں کام کیا۔ وہ اس وقت بھی یورپ، مشرق وسطیٰ اور یہاں امریکہ میں فوجی اڈوں پر افغانوں کی دیکھ بھال کر کے ان لوگوں کو ضروری مدد فراہم کر رہے ہیں۔

ہم کابل ایئرپورٹ پر بچوں کو جھولا جُھلاتے اور خاندانوں کو تشفی دیتے امریکی فوج کے ارکان کی تصاویر دیکھ چکے ہیں۔ ہماری فوج کے مرد و خواتین نے ایسی ہی ہمدردانہ جرات کا مظاہرہ کیا۔ انہوں دہشت گردی کے مستقل خطرے کے ہوتے ہوئے یہ مشن انجام دیا اور چار روز پہلے 11 میرین، نیوی کے طبی عملے کا ایک رکن اور ایک سپاہی ایئرپورٹ کے دروازے پر بہت سے افغانوں کے ساتھ ایک خودکش بمبار کے حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ان میں تقریباً تمام لوگوں کی عمر 20 سال سے کچھ ہی زیادہ تھی جو 11 ستمبر 2001 کو بہت چھوٹے اور شیرخوار بچے تھے۔

یہ اموات ہمارے ملک کے لیے ایک تباہ کن نقصان ہیں۔ دفتر خارجہ میں ہم لوگوں کو انہیں کھونے کا گہرا دکھ ہے۔ ہمارا میرین فورس کے ارکان کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے۔ آپ کسی امریکی سفارت خانے میں سب سے پہلے جس شخص کو دیکھتے ہیں وہ میرین ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے سفارت خانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور دنیا بھر میں ہمیں خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کے بغیر ہم اپنا کام نہیں کر سکتے۔ ہم ان کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھلائیں گے اور انہوں نے جو کام کیا اسے کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ہم میں سے انتہائی غیرمعمولی لوگ روئے زمیں پر مختصر وقت میں زندگی بھر کا کام کر جاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہمارے ایسے ہی غیرمعمولی بہن بھائیوں نے جانیں دیں۔

میں آخر میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ہر طرح سے ایک عالمگیر کوشش تھی۔ بہت سے ممالک نے ایئرپورٹ پر ہمارے ساتھ کام کر کےلوگوں کو ہوائی جہازوں کے ذریعے وہاں سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان میں بعض ممالک نے اب ان لوگوں کو عبوری ٹھکانہ دے رکھا ہے اور انہیں رجسٹر کر کے اور ان کے سفر کا انتظام کر کے انہیں ان کی حتمی منازل تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ دیگر ممالک نے افغان پناہ گزینوں کو مستقل طور پر اپنے ہاں آباد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ دنوں اور مہینوں میں مزید ممالک بھی ایسا کریں گے۔ اس تعاون پر ہم ان کے دلی طور پر مشکور ہیں۔

اب امریکہ کی فوجی پروازیں بند ہو چکی ہیں اور ہمارے فوجی دستے افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ امریکہ کے تعلق کا ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے۔ اس میں ہم اپنی سفارت کاری سے کام لیں گے۔ فوجی مشن ختم ہو گیا ہے۔ ایک نیا سفارتی مشن شروع ہو چکا ہے۔

چنانچہ آنے والے دنوں اور ہفتوں کے لیے ہمارا منصوبہ کچھ یوں ہے۔

سب سے پہلی بات یہ کہ ہم نے اس نئے مشن میں مدد دینے اور اس کی قیادت کے لیے ایک نئی ٹیم بنائی ہے۔

آج ہم نے کابل میں اپنی سفارتی موجودگی معطل کر دی ہے اور اپنا سفارتی کام قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منتقل کر دیا ہے جس کے بارے میں کانگریس کو رسمی طور پر جلد مطلع کر دیا جائے گا۔ افغانستان میں سلامتی کے غیریقینی حالات اور سیاسی صورتحال کے باعث ہمیں یہ محتاط قدم اٹھانا تھا۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کابل میں اپنے سفارتی مشن کے غیرمعمولی سربراہ راس ولسن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے جنوری 2020 میں اپنی ریٹائرمنٹ ختم کرتے ہوئے افغانستان میں ہمارے سفارت خانے کی قیادت کی اور انتہائی مشکل وقت میں غیرمعمولی اور دلیرانہ کام کیا۔

فی الوقت ہم افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی امور دوحہ سے چلائیں گے جن میں قونصل خانے کے امور، انسانی امداد کا انتظام اور اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور علاقائی و بین الاقوامی فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی شامل ہے تاکہ طالبان کے ساتھ اپنے رابطوں اور پیغام رسانی کو مربوط شکل دی جا سکے۔ وہاں ہماری ٹیم کی قیادت ایان میکیری کریں گے جو گزشتہ ایک سال کے عرصہ میں افغانستان میں ہمارے نائب سفیر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ ان سے زیادہ بہتر طور پر یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔

دوسری بات یہ کہ ہم افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند امریکیوں، غیرملکی شہریوں اور افغانوں کی مدد کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہاں میں ان امریکیوں کا مختصراً تذکرہ کروں گا جو بدستور افغانستان میں موجود ہیں۔ ہم نے امریکی شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کا ہر موقع دینے کے لیے غیرمعمولی کوششیں کیں۔ بہت سے سے لوگوں سے بات کی گئی اور بعض اوقات انہیں ایئرپورٹ پر لایا گیا۔

افغانستان میں جن لوگوں نے خود کو امریکہ کا شہری بتایا اور جو ملک چھوڑنے پر غور کر رہے تھے ان میں سے تقریباً 6,000 لوگوں کو ملک سے نکالا جا چکا ہے یا وہ ملک چھوڑ گئے ہیں۔ ایسے لوگوں تک رسائی کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں اس لیے ان کی تعداد ممکنہ طور پر بڑھتی رہے گی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں اب بھی امریکیوں کی چھوٹی سی تعداد موجود ہے جو 200 سے کم اور 100 کے قریب ہو سکتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں ہی ہیں اور وہاں سے جانا چاہتے ہیں۔ ہم یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی درست تعداد کیا ہے۔ ہم اپنی فہرستوں کے ذریعے انہیں تلاش کر کے ان سے ٹیلی فون کال اور فون پر تحریری پیغامات کے ذریعے رابطے کر رہے ہیں اور جلد ہم اس بارے میں مزید تفصیلات بیان کریں گے۔ ان لوگوں کی بالکل درست تعداد کا تعین کرنے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ طویل عرصہ سے افغانستان میں رہتے ہیں تاہم ان کے پاس امریکہ کے پاسپورٹ بھی ہیں اور وہ یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہاں قیام کیا جائے یا وہاں سے نکلنا بہتر ہو گا۔ ان میں بہت سے لوگ افغانستان اور امریکہ کی دہری شہریت کے حامل ہیں جن کا افغانستان سے گہرا تعلق ہے اور ان کے خاندان وہیں آباد ہیں۔ یہ لوگ کئی سال سے وہاں رہ رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ کوئی تکلیف دہ انتخاب نہیں ہو گا۔

ہم ان سے اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں مقیم تمام امریکیوں سے کیے گئے اپنے وعدے پر قائم ہیں۔ بیرون ملک رہنے والے امریکیوں کا تحفظ اور بہبود بدستور دفتر خارجہ کا انتہائی اہم اور مستقل مشن ہے۔ اگر افغانستان میں کوئی امریکی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس وقت وہ وہیں رہنا چاہتا ہے اور ایک ہفتے، ایک مہینے یا ایک سال کے بعد وہ ہم سے رابطہ کرتا اور کہتا ہے کہ میں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا ہے تو ہم ملک چھوڑنے میں اس کی مدد کریں گے۔

علاوہ ازیں ہم نے ایسے افغان شہریوں کو ملک سے نکالنے اور انہیں نئی جگہوں پر آباد کرنے کے لیے بھی بھرپور کام کیا ہے جو ہمارے ساتھ تھے اور اب انہیں انتقامی کارروائی کا خاص خطرہ ہے۔ ہم ان میں بہت سے لوگوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں لیکن بہت سے اب بھی وہیں ہیں۔ ہم ان کی مدد کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ ہمارا ان سے وعدہ کسی مخصوص دورانیے کے لیے نہیں ہے۔

تیسری بات یہ کہ ہم طالبان کو ان کے اس وعدے پر قائم رکھیں گے کہ لوگوں کو آزادانہ طور سے افغانستان چھوڑنے دیا جائے۔

طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر اس شخص کو محفوظ اور باضابطہ طور پر ملک چھوڑنے کی اجازت دیں گے جس کے پاس اس مقصد کے لیے مناسب دستاویزات موجود ہوں گی۔ انہوں نے نجی اور سرکاری سطح پر متعدد مرتبہ یہ بات کہی تھی۔

جمعے کو طالبان کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر دوبارہ یہی بات کہی۔ ان کے الفاظ یہ تھے کہ ”امریکیوں کے لیے کام کرنے والوں سمیت ملک چھوڑنے کا خواہش مند ہر شخص کسی بھی وجہ کی بنیاد پر ملک چھوڑ سکتا ہے”۔

دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک نے ہمارے ساتھ مل کر طالبان سے اصرار کیا کہ وہ لوگوں کو آزادانہ طور پر ملک سے باہر سفر کی اجازت دیں۔ اب تک 100 سے زیادہ ممالک نے کہا ہے کہ وہ طالبان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے ممالک کی جانب سے دی جانے والی سفری اجازت کا پاس کریں گے۔ چند ہی گھنٹے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کی مںظوری دی ہے جس میں طالبان پر عائد ہونے والی اس ذمہ داری کا تذکرہ ہے۔ اس قرارداد میں بتایا گیا ہے کہ اگر طالبان نے اس ذمہ داری سے پہلوتہی کی تو ان سے کیسے جواب طلبی کی جائے گی۔

لہٰذا اس معاملے میں عالمی آواز بہت مضبوط ہے اور مضبوط رہے گی۔ ہم غیرملکی شہریوں، دوسرے ممالک کا ویزا رکھنے والوں اور غیرمحفوظ افغانوں کے لیے نقل و حرکت کی آزادی کے حوالے سے طالبان کو ان کے وعدوں پر قائم رکھنے کے اقدامات کریں گے۔

چوتھی بات یہ کہ ہم انہیں محفوظ راستہ دینے کے لیے کام کریں گے۔

آج صبح میری تمام جی7 ممالک ــ برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی، جاپان ــ اور قطر اور ترکی کے وزرائے خارجہ، یورپی یونین کے نمائندے اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا کہ لوگوں کو افغانستان سے بحفاظت سفر میں سہولت دینے کے لیے تمام ممالک اکٹھے ہو کر کیسے کام کریں گے۔ اس میں جتنا جلد ہو سکے کابل سے غیرفوجی پروازیں شروع کرنا بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں ہم خاص طور پر قطر اور ترکی کی کوششوں کو بھرپور طور سے سراہتے ہیں۔

اس طرح محدود تعداد میں روزانہ مخصوص پروازیں ممکن ہو سکیں گی جو افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند ہر شخص کے لیے بہت اہم ہو گا۔ ہم زمینی راستوں سے افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند امریکیوں، امریکہ میں قانونی طور پر رہائش کے اہل لوگوں اور ہمارے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کی مدد کے طریقے بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہمیں ایسی کوئی غلط فہمی نہیں کہ یہ کام آسانی اور تیزرفتاری سے ہو گا۔ یہ انخلاء کے اس مرحلے سے بالکل مختلف ہو گا جو کچھ دیر پہلے ختم ہوا ہے۔ اس میں نئے مسائل سے نمٹنے میں وقت لگے گا۔ لیکن ہم اس پر قائم رہیں گے۔

افغانستان میں ہمارے سابق سفیر جان باس جو ایئرپورٹ پر ہماری انخلاء کی کوششوں کی قیادت کرنے کے لیے دو ہفتے پہلے کابل واپس آئے تھے، اب افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند امریکی شہریوں، امریکہ کے مستقل رہائشیوں، اتحادی ممالک کے شہریوں، تارکین وطن کے خصوصی ویزے کے حامل لوگوں اور غیرمحفوظ افغانوں کی مدد کے لیے دفتر خارجہ میں جاری ہمارے کام کی قیادت کریں گے۔ جان نے کابل میں جو کچھ کیا اس پر اور اس مشن سے جاری ان کی وابستگی پر ہم ان کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ علاوہ ازیں ہم ان غیرمعمولی سفارت کاروں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو ان کے ساتھ کام کرتے رہے۔

پانچویں بات یہ کہ ہم اپنی توجہ انسداد دہشت گردی پر مرکوز رکھیں گے۔

طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کے پکے دشمن آئی ایس آئی ایس۔ خراسان سمیت ہر طرح کے دہشت گردوں کو امریکہ اور ہمارے اتحادیوں پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اس وعدے پر بھی ان کی جواب طلبی کریں گے۔ اگرچہ ہم طالبان سے یہ توقعات تو رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کی باتوں پر ہی انحصار کریں گے۔ ہم خود کو درپیش خطرات پر کڑی نظر رکھیں گے۔ اگر ضروری ہوا تو ہم ان خطرات کا قلع قمع کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے موثر اقدامات کریں گے جیسا کہ ہم نے گزشتہ چند روز میں افغانستان میں آئی ایس آئی ایس کے سہولت کاروں اور نمایاں خطرات پر حملہ کر کے کیا اور جیسا کہ ہم دنیا بھر میں ایسی جگہوں پر کرتے ہیں جہاں زمین پر ہماری فوجیں نہیں ہوتیں۔

میں ان امور اور دیگر کے بارے میں طالبان کے ساتھ ہمارے ربط پر براہ راست بات کرنا چاہوں گا۔ گزشتہ چند ہفتوں میں ہم نے اپنی انخلاء کی کارروائیاں ممکن بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ رابطہ رکھا۔ آئندہ کابل میں طالبان کے زیرقیادت حکومت سے رابطہ صرف ایک چیز کی بنیاد پر ہو گا اور وہ ہمارے قومی مفادات ہیں۔

اگر ہم ایک نئی افغان حکومت کے ساتھ مل کر گزشتہ سال کے اوائل سے وہاں اغوا کیے گئے امریکی شہری مارک فریرکس کی بحفاظت واپسی سمیت ایسے کام کر سکیں ج سے ہمارے مفادات کی تکمیل ہوتی ہو اور جن سے افغانستان اور خطے کے استحکام میں اضافہ ہو اور گزشتہ دو دہائیوں میں حاصل کیے گئے فوائد کا تحفظ ہوتا ہو تو ہم ایسے کام ضرور کریں گے۔ مگر ہم اعتماد یا یقین کی بنیاد پر یہ کام نہیں کریں گے۔ ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے اس کی بنیاد طالبان حکومت کے کسی بیان پر نہیں بلکہ اس بات پر ہو گی کہ وہ اپنی بات کو اپنے عمل سے کیسے ثابت کرتے ہیں۔

طالبان چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی حکومت کو قانونی تسلیم کرے اور ان کی حمایت کرے۔ ہمارا پیغام یہ ہے کہ: کوئی بھی قانونی جواز اور حمایت حاصل کرنے کے لیے خود کو اس کا اہل ثابت کرنا پڑتا ہے۔

طالبان لوگوں کے لیے نقل و حمل کی آزادی، افغان عوام بشمول عورتوں اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے احترام، انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنے وعدوں کی تکمیل، افغانستان میں رہنے کا فیصلہ کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے پرہیز اور تمام فریقین پر مشتمل ایک ایسی حکومت کے قیام کے حوالے سے اپنے وعدے اور ذمہ داریاں پوری کر کے اپنی اہلیت ثابت کر سکتے ہیں جو وقت کے تقاضوں کے مطابق اور افغان عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ہو۔

چھٹی بات یہ کہ ہم افغانستان کے عوام کے لیے اپنا امدادی کام جاری رکھیں گے۔

افغان عوام نے اس جنگ کی ہولناک قیمت چکائی ہے۔ لاکھوں لوگ اندرون ملک بے گھر ہو گئے ہیں۔ لاکھوں لوگ بھوک اور قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔ کووڈ۔19 وباء نے بھی افغانستان کو بری طرح متاثر کیا ہے، امریکہ افغان عوام کے لیے انسانی امداد جاری رکھے گا۔ طالبان پر ہماری پابندیوں کے باعث یہ امداد حکومت کے ذریعے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اداروں اور این جی اوز جیسے غیرجانبدار اداروں کے ذریعے دی جائے گی۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ طالبان یا کوئی اور عناصر ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

اور ساتویں بات یہ کہ ہم ان تمام امور اور ایسے دیگر بہت سے امور پر وسیع تر عالمگیر سفارت کاری جاری رکھیں گے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو زیادہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور کہیں زیادہ فوائد لے سکتے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں میں ہم نے افغانستان میں آئندہ کے لیے منصوبہ بندی اور ربط کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں۔ میں نے نیٹو اور جی7 کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔ میں نے اپنے درجنوں ہم منصبوں سے بالمشافہ ملاقات کی ہے۔ گزشتہ ہفتے صدر بائیڈن نے جی7 ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین اگلے دن دنیا کے تمام خطوں سے 28 اتحادی اور شراتک دار ممالک کا اجلاس منعقد کر رہی ہیں۔

آگے بڑھتے ہوئے ہم خطے اور دنیا بھر کے ممالک، نمایاں عالمی اداروں، این جی اوز اور نجی شعبے سے اس بارے میں قریبی رابطہ رکھیں گے۔ ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے بھی یہی مقاصد ہیں اور وہ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

میں نے آنے والے دنوں میں ان امور پر مزید باتیں کرنا ہیں۔ آج یہاں سے میں اپنے ملک کے لیے جو بنیادی بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ افغانستان کے لیے امریکہ کا کام جاری ہے۔ ہمارے پاس آئندہ کا ایک منصوبہ ہے ۔ ہم اسے عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔

یہ لمحہ غوروفکر کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ افغانستان میں جنگ ہماری 20 سالہ کوشش تھی۔ ہمیں اس سے سبق سیکھنا ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے بنیادی سوالات کے بارے میں اپنی سوچ وضع کرنا ہے۔ یہ ہم پر مستقبل کے سفارت کاروں، پالیسی سازوں، فوجی رہنماؤں اور فوج کے ارکان کا قرض ہے۔ یہ امریکہ کے عوام کا ہم پر قرض ہے۔

لیکن ہم انتھک انداز میں آج اور آنے والے کل پر اپنی توجہ رکھیں گے۔ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ہمیں افغان عوام کے ساتھ اپنے وعدے پورے کرنے کا ہر موقع مل رہا ہے جن میں ہزاروں افغانوں کو اپنے معاشروں میں خوش آمدید کہنا بھی شامل ہے جیسا کہ امریکہ نے اپنی تاریخ میں اس سے پہلے بھی بہت مرتبہ فیاضانہ اور شائستہ انداز میں کیا ہے۔

اس طرح ہم امریکہ اور بہت سے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے ان تمام بہادر مردوخواتین کو عزت دیں گے جنہوں نے آج تک اس طویل مشن کا حصہ رہتے ہوئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں یا قربان کیں۔

میری بات سننے کا شکریہ۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-of-antony-j-blinken-remarks-on-afghanistan/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future