امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن کا خطاب
واشنگٹن ڈی سی
13 ستمبر 2023

وزیر خارجہ بلنکن: آپ کا شکریہ۔ سبھی کو صبح بخیر۔

حاضرین: صبح بخیر۔

وزیر خارجہ بلنکن: ڈین سٹین برگ، جِم، واقعتاً اس شاندار نئی جگہ کے افتتاح میں مدد کرنے کے لیے ‘ایس اے آئی ایس’ برادری کے ساتھ شمولیت کا موقع ملنے پر میں آپ کا مشکور ہوں۔

جِم نے اپنے غیرمعمولی کیریئر کےدوران بہت سا کام کیا ہے۔ لیکن ان کا سب سے زیادہ دیرپا کام مفکرین کی نسل تیار کرنا ہے۔ یہ کام کرنے والوں کی وہ نسل ہے جسے انہوں نے تربیت دی، جس کی رہنمائی کی اور جسے انہوں نے اپنے کردار سے متاثر کیا۔ اور میں بھی ان میں شامل ہوں۔

ڈاکٹر بریزیزنسکی بھی سمجھتے تھے کہ عالمی امور میں ان کا سب سے زیادہ دیرپا کام امریکہ کے ابھرتے ہوئے ماہرین علم اور پیشہ ور لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے جن میں صدر کارٹر بھی شامل ہیں جنہوں نے خود کو زی بِگ کا “ایک شائق طالب علم” قرار دیا۔ اور ایان، مارک، میکا سبھی نے ہمیں اس چیز سے قریب لانے کی کوشش کی جسے زی بِگ نے امریکی اصولوں کے ساتھ امریکہ کی طاقت کا عملی امتزاج کہا تھا۔

لہٰذا 80 سال پہلے جب پال نٹزے تب کے کانگریس کے رکن کرس ہرٹر کے ساتھ مل کر اس ادارے کو قائم کرنے لگے تو انہوں ںے اس کے لیے جگہ کی تلاش شروع کی۔

انہوں ںے فلوریڈا ایونیو پر ایک تباہ حال بنگلے کو اپنا ٹھکانہ بنایا (قہقہے) جو کبھی لڑکیوں کا سکول ہوا کرتا تھا۔ باسکٹ بال کے ایک پرانے کورٹ میں ‘ایس اے آئی ایس’ کی پہلی لائبریری قائم کی گئی۔ جیسا کہ جِم نے بتایا، مجھے ‘ایس اے آئی ایس’ کے پرانے مرکز میں کام کرنےکا تجربہ ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ مجھے اس دفتر میں عارضی طور پر بیٹھنے کا بہت بڑا اور نمایاں اعزاز بھی حاصل ہے جو کبھی نٹزے کے زیراستعمال تھا۔

تاہم نٹزے اور ہرٹر دونوں جانتے تھے کہ عمارتیں خواہ سادہ ہوں یا پرشکوہ، وہ عمارتیں ہی ہوتی ہیں۔ یہ لوگ ہیں جو اپنے تصورات اور مقاصد کے ذریعے ان میں نئی روح پھونکتے ہیں۔اس وقت دنیا دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہی تھی۔ پرانا نظام ختم ہو چکا تھا اور نٹزے اور ہرٹر سمجھتے تھے کہ اس ادارے کو نئے نظام کی تعمیر میں ایک لازمی کردار ادا کرنا ہے۔ ‘ایس اے آئی ایس’ کے گریجوایٹ تب سے اسی وعدے کی تکمیل کرتے چلے آئے ہیں۔

اب ہم خود کو تاریخ کے ایک اور اہم موڑ پر پاتے ہیں جہاں ہم حکمت عملی کے اس بنیادی سوال سے نبرد آزما ہیں جسے نٹزے نے یوں بیان کیا تھا کہ “ہم جہاں موجود ہیں وہاں سے کسی تباہی کا سامنا کیے بغیر اس جگہ کیسے جا سکتے ہیں جہاں ہم جانا چاہتے ہیں؟”

آج میں اس گہرے اور اہم سوال پر بائیڈن انتظامیہ کا جواب پیش کرنا چاہتا ہوں۔

تو آئیے اس بات سے آغاز کرتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

آپ تمام لوگ جس عالمی منظرنامے کا مطالعہ کر رہے ہیں وہ اس وقت سے بہت مختلف ہے جس کا مجھے 30 سال پہلے اس وقت سامنا ہوا تھا جب میں نے سٹین برگ کے ساتھ حکومت میں کام شروع کیا تھا۔

سرد جنگ کا خاتمہ اپنے ساتھ بڑے پیمانے پر امن و استحکام، بین الاقوامی تعاون، معاشی باہم انحصاری، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کی جانب ناگزیر مراجعت کا وعدہ لایا۔

درحقیقت سرد جنگ کے بعد آنے والے عرصے میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملی۔ ایک ارب سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالا گیا۔ ممالک کے مابین جنگوں کی تعداد میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی دیکھی گئی۔ مہلک بیماریوں میں کمی آئی حتیٰ کہ بعض کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔

تاہم سبھی اس دور کے غیرمعمولی ثمرات سے مساوی طور پر مستفید نہ ہو سکے۔ اس نظام کو سنگین مسائل کا سامنا رہا۔ سابق یوگوسلاویہ میں جنگیں، روانڈا میں قتل عام، نائن الیون اور عراق کی جنگ، 2008 کا عالمگیر مالیاتی بحران، شام کا مسئلہ اور کووڈ وبا ان کی چند مثالیں ہیں۔

تاہم اب ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے وہ بعداز سرد جنگ نظام کے امتحان سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اب اس دور کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

یہ سب کچھ راتوں رات نہیں ہوا۔ ہمیں جو چیز یہاں لائی ہے وہ آنے والی دہائیوں کے مطالعے اور بحث کا موضوع ہو گی۔ تاہم اس بات کا بھی بڑھتا ہوا احساس پایا جاتا ہے کہ ایسے متعدد بنیادی مفروضے غلط ثابت ہو گئے ہیں جنہوں نے بعداز سرد جنگ دور کے حوالے سے ہمارے تصورات متشکل کیے تھے۔

قدرے جغرافیائی سیاسی استحکام کی دہائیوں میں آمرانہ طاقتوں اور تبدیلی پسند طاقتوں کے ساتھ مسابقت میں شدت آئی۔ یوکرین میں روس کی جارحانہ جنگ اس بین الاقوامی نظام کے لیے فوری ترین اور شدید ترین خطرہ ہے جس کا تذکرہ اقوام متحدہ کے منشور میں ہے اور اس جنگ نے منشور میں دیے گئے ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے اصولوں اور افراد کے ناقابل تقسیم عالمگیر انسانی حقوق کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اسی دوران عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے نمایاں ترین طویل مدتی مسئلے کا سامنا ہے کیونکہ وہ ناصرف بین الاقوامی نظام کی تشکیل نو کی خواہش رکھتا ہے بلکہ اس کے پاس ایسا کرنے کےلیے معاشی، سفارتی، عسکری اور ٹیکنالوجی کی طاقت بھی موجود ہے۔

بیجنگ اور ماسکو دنیا کو اپنی ‘لامحدود شراکت’ کے ذریعے آمریت کے لیے محفوظ بنانے کی غرض سے اکٹھے کام کر رہے ہیں۔

اب جبکہ یہ مسابقت بڑھ رہی ہے تو بہت سے ممالک اپنے فائدے اور تحفظ کی خاطر بیک وقت متعدد فریقین سے رابطے میں ہیں۔ غیرریاستی کرداروں کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔ ان میں قومی حکومتوں کے مساوی وسائل رکھنے والے کاروباری ادارے، لاکھوں لوگوں کو خدمات فراہم کرنے والے غیرسرکاری ادارے، تباہ کن نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والے دہشت گرد اور غیرقانونی منشیات، ہتھیاروں اور انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی تعاون ممکن بنانا اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ بڑھتا ہوا جغرافیائی سیاسی تناؤ ہی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران، غذائی عدم تحفظ، بڑے پیمانے پر مہاجرت اور بے گھری جیسے بہت بڑے عالمگیر مسائل بھی اس کی اہم وجوہات ہیں۔

ممالک اور شہری بین الاقوامی معاشی نظام پر اعتماد کھو رہے ہیں۔ نظام میں موجود نقائص نے ان کا بھروسہ متزلزل کر دیا ہے۔ چند حکومتیں قانون شکن امدادی قیمتیں دینے، آئی پی چرانے اور منڈی میں خلل ڈالنے کے دیگر طریقوں سے کام لیتے ہوئے اہم شعبوں میں ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ٹیکنالوجی اور عالمگیریت نے پوری کی پوری صنعتوں کو کھوکھلا کر دیا اور اپنی جگہ سے ہلا دیا ہے اور اس دوران پسماندہ رہ جانے والے کارکنوں اور لوگوں کی مدد کے لیے وضع کی جانے والی پالیسیاں بڑی حد تک ناکام رہی ہیں۔ عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 1980 اور 2020 کے درمیان ایک فیصد امیر لوگوں نے دنیا کے 50 فیصد غریب ترین لوگوں کے ملکیتی مجموعی وسائل کے برابر دولت جمع کی ہے۔

یہ عدم مساواتیں جس قدر طویل عرصہ تک برقرار رہیں گیں اس وقت تک اِن لوگوں میں پیدا ہونے والی بداعتمادی اور مایوسی بھی بڑھتی رہے گی جو یہ سمجھتے ہیں کہ نظام انہیں ان کا جائز حصہ نہیں دے رہا۔ اس طرح سیاسی قطبیت کے دیگر محرکات بھی شدت اختیار کر لیتے ہیں جنہیں ایسے الگورتھم سے بڑھاوا ملتا ہے جو ترقی کے لیے بہترین تصورات کو سامنے لانےکے بجائے ہمارے تعصبات کو تقویت دیتے ہیں۔

آج پہلے سے کہیں بڑی تعداد میں جمہوریتیں خطرات کی زد میں ہیں۔ اندرونی طور پر انہیں لوگوں کی ناراضگی سے کام لینے اور خوف پھیلانے، آزاد عدلیہ اور میڈیا کو ختم کرنے، اپنے حواریوں کو مضبوط بنانے، سول سوسائٹی اور حزب اختلاف پر کریک ڈاؤن کرنے والے منتخب رہنماؤں کی جانب سے مسائل کا سامنا ہے۔ انہیں بیرونی دنیا سے ایسے آمروں کے ہاتھوں خطرات درپیش ہیں جو غلط اطلاعات پھیلاتے ہیں، بدعنوانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور انتخابات میں بے جا مداخلت کرتے ہیں۔

ان میں سے کوئی ایک چیز بھی بعداز سرد جنگ نظام کے لیے سنگین خطرہ ہوتی لیکن ان تمام نے باہم مل کر اسے بری طرح نقصان پہنچایا۔

چنانچہ صدر بائیڈن کے بقول اب ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ ایک دور ختم ہو رہا ہے اور ایک نیا دور شروع ہونے کو ہے۔ اس موقع پر ہم جو فیصلے لیں گے وہ آنے والی دہائیوں کے لیے مستقبل کو متشکل کریں گے۔

امریکہ اس اہم ترین دور میں مضبوط انداز سے قیادت کر رہا ہے۔ اس مضبوطی کی بنیاد ہمارے انکسار اور ہمارے اعتماد پر ہے۔ انکسار کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے مسائل کا سامنا ہے جنہیں کوئی ایک ملک اکیلے حل نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں بہت سے ممالک اور شہریوں کا اعتماد حاصل کرنا ہے جنہیں پرانا نظام وعدے کے مطابق بہت کچھ دینے میں ناکام رہا۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قیادت دوسروں کو سننے اور دوسروں کے تناظر سے مشترکہ مسائل کو سمجھنے سے شروع ہوتی ہے تاکہ ہم آپس میں متفق ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اندرون ملک شدید مسائل کا سامنا ہے جنہیں ہمیں بیرون ملک قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے لازمی طور سے حل کرنا ہے۔

تاہم اعتماد بہت ضروری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب امریکہ متحد ہوتا ہے تو ہم ہر مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کسی اور ملک کے پاس مشترکہ مقصد کے لیے دوسروں کو متحرک کرنے کی اس قدر بڑی صلاحیت نہیں ہے۔ کیونکہ مزید مکمل اتحاد تشکیل دینے کے لیے ہماری حالیہ جدوجہد ہمیں اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اپنی جمہوریت کو اندر سے مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کی ایک وجہ مسقبل کے لیے ہمارا تصور بھی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا کا تصور ہے جو کھلی، آزاد، خوشحال اور محفوظ ہے۔ یہ صرف امریکہ کا تصور نہیں بلکہ ہر براعظم کے ہر ملک کے لوگوں کی مستقل خواہش بھی ہے۔

ایک ایسی دنیا جہاں افراد اپنی روزمرہ زندگیوں میں آزاد ہوں اور اپنے علاقوں اور اپنے ملکوں کے مستقبل کو خود ترتیب دے سکیں۔

ایک ایسی دنیا جہاں ہر ملک اپنا راستہ اور اپنے شراکت دار خود منتخب کرسکے۔

ایسی دنیا جہاں زمین، خشکی، آسمان پر اور سائبر سپیس میں اشیا و خیالات کا بہاؤ اور افراد کی نقل و حرکت آزادانہ اور قانونی ہو اور جہاں ٹیکنالوجی سے لوگوں کو تقسیم کرنے، ان کی نگرانی کرنے اور ان پر جبر کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانے کا کام لیا جائے۔

ایک ایسی دنیا جہاں عالمگیر معیشت کا تعین منصفانہ مسبقت، کھلے پن اور شفافیت سے ہو اور جہاں خوشحالی کو ممالک کی معاشی ترقی سے ہی نہ ماپا جائے بلکہ اس کے لیے یہ بھی دیکھا جائے کہ ترقی میں کتنے لوگوں کا حصہ ہے۔

ایسی دنیا جہاں ماحولیات اور محنت، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، سلامتی اور مواقع کے حوالے سے بلند تر معیارات کے حصول کی دوڑ ہو۔

ایک ایسی دنیا جہاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کو قائم رکھا جائے اور جہاں عالمگیر انسانی حقوق کا احترام ہو۔

ہم روشن خیال ذاتی مفاد کے احساس کی رہنمائی میں اس تصور کو آگے بڑھائیں گے جس نے طویل عرصہ سے امریکہ کے قائدانہ کردار کو بہترین صورت دی ہے۔ ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی نظام وضع کرنے میں مدد دی اور دیگر ممالک اور لوگوں کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ اس سے ناصرف انسانیت بلکہ ہمارا اپنا مفاد بھی وابستہ ہے۔ ہم یہ بات جانتے تھے کہ کرہ ارض پر طاقتور ترین ملک ہونے کے باوجود مخصوص محدودات کو قبول کرتے ہوئے عالمگیر قوانین کی تشکیل اور دوسروں کی کامیابی میں مدد دینے سے بالآخر امریکہ کے لوگ مزید خوشحال، مزید پُرامن اور مزید محفوظ ہو جائیں گے۔

اب بھی ایسا ہی ہے۔ درحقیقت اس نظام کو قائم رکھنے اور اسے مضبوط بنانے میں امریکہ کا روشن خیال ذاتی مفاد آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

اب ہمارے حریف بنیادی طور پر ایک مختلف تصور کے مالک ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا کا تصور رکھتے ہیں جس میں صرف اپنی حکومت قائم رکھنا اور دولت جمع کرنا ہی اہم ہے۔ ایسی دنیا جہاں آمروں کو اپنے لوگوں، ان کے ہمسایوں اور سب کچھ ہڑپ کر لینے والے ان کے اس ہدف کی راہ میں آنے والے ہر فرد پر قابو پانے، اس پر جبر کرنے اور کچلنے کی آزادی ہو۔

ہمارے حریف دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ نظام دراصل مغرب کا مسلط کردہ ہے حالانکہ اس کے بنیادی اصول اور اقدار عالمگیر تمناؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا تذکرہ اس بین الاقوامی قانون میں موجود ہے جس پرانہوں نے خود دستخط کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتیں اپنی ملکی حدود میں جو کچھ کرتی ہیں وہ ان کا اپنا معاملہ ہے اور انسانی حقوق ایسی اقدار ہیں جو ہر معاشرے میں ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بڑے ممالک اثرورسوخ کے حامل ہیں اور انہیں حاصل طاقت انہیں اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کا حق دیتی ہے۔

دونوں تصورات کے مابین فرق اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتا اور اس مسابقت میں امریکہ کے لوگوں اور دنیا کا جو کچھ داؤ پر لگا ہے اس کی وضاحت اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔

جب صدر بائیڈن نے مجھے وزیر خارجہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کو کہا تو انہوں ںے واضح کر دیا تھا کہ میری اولین اور اہم ترین ذمہ داری امریکہ کے لوگوں کے کام آنا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں دو سوالوں کے جواب ڈھونڈنا ہیں کہ بیرون ملک معاملات میں امریکہ کی شمولیت ہمیں اندرون ملک کیسے مضبوط بنا سکتی ہے؟ اور ہم اندرون ملک امریکہ کی بحالی سے خود کو دنیا میں کیسے مضبوط بنا سکتے ہیں؟

ان سوالات کے حوالے سے ہمارے جوابات روز اول سے صدر بائیڈن کی حکمت عملی کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

ہم نے اندرون ملک خود کو مضبوط بنانے سے آغاز کیا تاکہ امریکہ دنیا میں مقابلے اور قیادت کے لیے مضبوط ترین حالات میں ہو۔ جیسا کہ جارج کینن ہمیں یاد دہانی کراتے ہیں “بہت سی چیزوں کا دارومدار اندرون ملک صحت اور ہمارے معاشرے کی طاقت پر ہوتا ہے۔” صدر بائیڈن اور ہماری کانگریس نے ہماری صحت اور طاقت کو بڑھانے کے لیے جتنی سرمایہ کاری کی ہے وہ کئی نسلوں کے عرصہ میں نہیں ہوئی۔ ہم بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا رہے ہیں، تحقیق کو فروغ دے رہے ہیں، اہم صنعتوں اور 21ویں صدی کی ٹیکنالوجی میں مضبوطی لا رہے ہیں اور عالمی سطح پر ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے عمل میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

میں نے اپنے کیریئر اور اپنی زندگی میں اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو اس قدر مکمل طور سے مربوط کبھی نہیں دیکھا۔ اس میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوین کا کام بھی نمایاں ہے جنہوں ںے ہماری جدید صنعتی اور اختراعی حکمت عملی کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا اور اسے ہماری خارجہ پالیسی سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔

اندرون ملک ہماری بحالی دنیا میں امریکہ کی قیادت کو مضبوط بناتی ہے اور اس نے ایسا ہی کیا ہے۔ یہی امریکہ کی سفارت کاری کی طاقت اور مقصد کا منبع ہے۔ امریکہ کے اتحادوں اور شراکتوں کو بحال کرنا ، اسے نئے سرے سے مضبوط بنانا اور اس کا تصور نو ہماری حکمت عملی کی بنیاد ہے اور یہی ہمارا سب سے بڑا تزویراتی اثاثہ ہیں۔

ہم اپنے دوستیوں کو مضبوط بنانے، ان کا حلقہ وسیع کرنے اور انہیں نئے طریقوں سے ہم آہنگ کرنے کے مقصد اور تقاضے کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں تاکہ اس نئے دور کے تین فیصلہ کن امتحانوں میں پورا اتر سکیں جن میں تُند و دائمی تزویراتی مسابقت، ہر جگہ زندگیوں اور روزگار کو لاحق عالمی مسائل اور وجودی خطرات اور اپنی باہم انحصاری کو کمزوری کے بجائے طاقت کا ذریعہ بنانے کی خاطر ٹیکنالوجی و معیشت سے متعلق اپنے مستقبل کو دوبارہ متوازن بنانے کی ہنگامی ضرورت نمایاں ہیں۔

ہم یہ سب کچھ اس انداز میں کر رہے ہیں جسے میں سفارتی متغیر جیومیٹری کہتا ہوں۔ ہم اس مسئلے سے آغاز کرتے ہیں جسے ہمیں حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اس کے لیے اپنے شراکت داروں کا گروہ تیار کرتے ہیں جو یہ مسئلہ حل کرنے میں ہمارے موزوں معاون ہو سکتے ہیں۔ ہم ارادی طور پر شراکت دارون کے اس مجموعے کا تعین کرتے ہیں جو ہمارے مقصد کے لیے درکار ہوتا ہے۔

یہ اتحاد محض زبانی کلامی نہیں ہوتے۔ کسی بھی گروہ کی تخلیق اور اسے مضبوط بنانے سے ایسی صلاحیتیں حاصل ہوتی ہیں جنہیں امریکہ کے شراکت داروں کے وسیع نیٹ ورک میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم جتنے زیادہ اتحاد بنائیں گے ان کے مابین اور ان میں تعاون پر مبنی اتنا ہی زیادہ نیا عمل ہو گا اور اس میں ایسے طریقے بھی شامل ہیں جن کا شاید ہمیں پوری طرح اندازہ نہیں ہے۔ باہم مل کر یہ اجزا کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور صورت اختیار کر جاتا ہے۔

تعاون کے حوالے سے ساتھی جمہوریتیں ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہی ہیں اور رہیں گی۔ یہی وجہ ہےکہ صدر بائیڈن نے جمہوریت سے متعلق دو کانفرنسوں کا انعقاد کیا جس کا مقصد تمام چھوٹی بڑی، نئی اور مستحکم جمہوریتوں کے رہنماؤں کو اکٹھا کرنا تھا تاکہ ہمیں درپیش مشترکہ مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

تاہم مخصوص ترجیحات پر اگر ہم اکیلے آگے بڑھیں یا صرف اپنے جمہوری دوستوں کو ہی ساتھ لے کر چلیں تو ہمیں مطلوبہ کامیابی نہیں ملے گی۔ بہت سے امور وسیع تر ممکنہ شراکت داروں کے ساتھ کا تقاضا کرتے ہیں اور مزید ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے میں اس کے اضافی فوائد ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہم کسی بھی ملک کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔ ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کے ساتھ ہمارا اہم امور پر اختلاف ہے۔ تاہم اگر وہ اپنے شہریوں کو فوائد پہنچانے، مشترکہ مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے اور ہمارے مشترکہ طور پر قائم کردہ بین الاقوامی اصولوں کو برقرار رکھنے پر تیار ہیں تو ہم ان کے ساتھ بھی چلیں گے۔ یہ صرف قومی حکومتوں کے ساتھ شراکت داری تک محدود معاملہ نہیں بلکہ اس میں مقامی حکومتیں، سول سوسائٹی، نجی شعبہ، ماہرین تعلیم اور شہری بالخصوص نوجوان رہنما بھی شامل ہیں۔

یہ ہماری حکمت عملی کا مرکزی نکتہ ہے کہ جہاں ہم کھڑے ہیں وہاں سے ہم نے اس جگہ جانا ہے جہاں ہم جانا چاہتے ہیں۔ ہم چار اصولی طریقوں سے کام لیتے ہوئے اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

سب سے پہلے ہم اپنے اتحادوں اور شراکتوں کی تجدید کرنے، انہیں مضبوط بنانے اور نئے اتحاد اور شراکتیں قائم کرنے میں مصروف ہیں۔

چند ہی سال پہلے بعض لوگ نیٹو کی اہلیت اور اہمیت اور اس سے امریکہ کی اپنی وابستگی پر کھل کر سوال اٹھا رہے تھے اور اب یہ اتحاد پہلے سے زیادہ بڑا، مضبوط اور متحد ہے۔ ہم نے اس میں فن لینڈ کی صورت میں انتہائی اہل رکن کا اضافہ کیا ہے اور سویڈن بھی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کو ہے۔ ہم نے اپنے مزاحمتی توازن اور دفاع کو مضبوط بنایا ہے جس میں نیٹو کے مشرقی پہلو پر چار نئی بٹالین تعینات کرنا اور سائبر حملوں سے لے کر موسمیاتی تبدیلی تک نئے مسائل سے نمٹنے کے لیے دفاعی سرمایہ کاری میں اضافہ بھی شامل ہے۔

ہم جی7 کو دنیا کی ترقی یافتہ ترین جمہوریتوں کی سٹیئرنگ کمیٹیوں میں تبدیل کر رہے ہیں اور اپنی سیاسی و معاشی طاقتوں کو محض اپنے لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کا ہی ذریعہ بنانے کے بجائے ایسے ممالک کو بھی اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے مدد کی پیشکش کر رہے ہیں جو جی7 کا حصہ نہیں ہیں۔

ہم نے یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات میں عزائم کی سطح بلند کی ہے۔ متحدہ طور پر ہم عالمی معیشت کے 40 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم اس طاقت کو ٹیکنالوجی اور معیشت کے حوالے سے اپنا مستقبل تشکشیل دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو ہماری مشترکہ جمہوری اقدار کا آئینہ دار ہو۔

ہم اہم دوطرفہ تعلقات کو نئی سطح پر لے جا رہے ہیں۔

جاپان کے ساتھ دہائیوں پر مشتمل ہمارا اتحاد اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور نتیجہ خیز ہے اور اس میں ہم خلا سے کوانٹم کمپیوٹنگ تک نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔

ہم نے جمہوریہ کوریا کے ساتھ واشنگٹن اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس کی بدولت شمالی کوریا سے لاحق خطرات کی روک تھام کے لیے باہم تعاون کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور ہم نے اسرائیل کے ساتھ یروشلم اعلامیے کے ذریعے اس کی سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم کی توثیق کی ہے۔ ہم یہ یقینی بنانے کے لیے امریکہ کی طاقت کے ہر عنصر سے کام لے رہے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

ہم نے اپنے اتحادیوں آسٹریلیا اور فلپائن کے ساتھ فوجی اڈوں اور عسکری موجودگی کے نئے بندوبست پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ۔انڈیا تزویراتی شراکت داری کبھی اس قدر متحرک نہیں تھی جتنی کہ آج ہے اور ہم جدید سیمی کنڈکٹر کی تیاری سے لے کر دفاعی تعاون تک ہر شعبے میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔

چند ہی روز پہلے ہنوئی میں صدر بائیڈن نے ویت نام کے ساتھ ایک نئی جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا۔

ہم نے علاقائی انضمام کو مضبوط کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہم نے اسرائیل اور عرب ریاستوں کے مابین حالیہ اور دہائیوں پر محیط تعلقات کو پہلے سے زیادہ بہتر بنایا ہے اور ہم سعودی عرب سمیت مزید ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کے فروغ پر کام کر رہے ہیں۔

بڑے پیمانے پر اجتماعی مہاجرت اور بے گھری کا سامنا کرنے والے اپنے کُرے میں ہم نے 20 ممالک کو اکٹھا کیا ہے اور محفوظ، منظم و انسان دوست مہاجرت یقینی بنانے کے لیے علاقائی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم ان بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے بھی کوشاں ہیں جو لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرتی ہیں۔

صدر بائیڈن نے براعظم ہائے امریکہ، جنوبی ایشیا، افریقہ اور بحر الکاہل میں جزائر پر مشتمل ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ تبدیلی کے لیے شراکتوں کو آگے بڑھانے کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا ہے۔

دوسری بات یہ کہ ہم بہت سے مسائل پر اور براعظموں میں اپنے اتحادوں اور شراکتوں کو اختراعی اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والے طریقوں سے باہم جوڑ رہے ہیں۔

ایک لحظہ ان تمام طریقوں پر غور کیجیے جن کے ذریعے ہم نے مختلف طرح کے اتحادیوں اور شراکت داروں کو روس کی بڑے پیمانے پر جارحیت کے خلاف یوکرین کی مدد کے لیے اکٹھا کیا۔

وزیر دفاع آسٹن کی قیادت میں 50 سے زیادہ ممالک یوکرین کے دفاع میں تعاون کر رہے ہیں اور یوکرین کی فوج کو مستقبل کے حملوں کی روک تھام اور انہیں ناکام بنانے کے قابل بنا رہے ہیں۔

ہم نے روس پر بے مثال پابندیوں، برآمدی رکاوٹوں اور دیگر طرح کی معاشی تادیب کے لیے بہت سے ممالک کو اپنے ساتھ شامل کیا ہے۔

متعدد مواقع پر ہم نے یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی توثیق اور روس کی جارحیت اور مظالم کی مذمت کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں 140 ممالک کو اپنے ساتھ ملایا جو اس کے تمام رکن ممالک کی دو تہائی سے زیادہ تعداد ہے۔

ہم نے عطیہ دہندگان، فلاحی اداروں اور امدادی گروہوں کو یوکرین کے لاکھوں بے گھر لوگوں کی زندگی کے تحفظ میں مدد دینے کے لیے اکٹھا کیا۔

ہم نے یوکرین کی معیشت کو سہارا دینے اور روس کے ہاتھوں نصف حد تک تباہ ہو جانے والے اس کے توانائی کے نظام کو بحال کرنے کے لیے جی7، یورپی یونین اور درجنوں مزید ممالک کے ساتھ اشتراک کیا۔

متغیر جیومیٹری کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ ہر مسئلے کے لیے ہم مخصوص ممالک کے اتحاد سے کام لے رہے ہیں۔

یوکرین کے لوگوں کی غیرمعمولی بہادری و مضبوطی اور ہماری مدد کی بدولت پیوٹن کی جنگ روس کے لیے تزویراتی ناکامی ثابت ہو رہی ہے۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یوکرین ناصرف قائم رہے بلکہ متحرک و خوشحال جمہوریت کے طور پر ترقی و تحرک پائے تاکہ یوکرین کے لوگ اپنا مستقبل خود طے کر سکیں اور اپنی پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

کبھی کسی نے بین الاقوامی نظام کو لاحق خطرات کا تعلق کسی ایک خطے سے بتایا تھا۔ تاہم اب ایسی صورتحال نہیں ہے۔ روس کے حملے سے واضح ہو گیا ہے کہ کسی بھی جگہ عالمی نظام پر حملے سے ہر جگہ لوگوں کو نقصان ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی مشترکہ سلامتی، خوشحالی اور آزادی کے دفاع کے لیے اوقیانوس کے پار اور ہند۔الکاہل میں اپنے اتحادیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے اسی حقیقت کو مدنظر رکھا ہے۔

جب روس نے یورپی ممالک کو یوکرین کی مدد سے ہاتھ اٹھانے پر مجبور کرنے کے لیے موسم سرما میں یورپ کو گیس کی فراہمی معطل کی تو جاپان اور کوریا نے امریکہ میں مائع قدرتی گیس پیدا کرنے والے بڑے اداروں کے ساتھ مل کریہ یقینی بنایا کہ یورپی ممالک کے پاس پورے موسم سرما میں گھروں کو گرم رکھنے کے لیے درکار گیس موجود رہے۔ جاپان، کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اب نیٹو کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔

اسی دوران یورپی ممالک، کینیڈا اور دیگر نے پیپلز ریپبلک آف چائنا کے معاشی جبر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایشیا میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ہر خطے میں امریکہ کے اتحادی اور شراکت دار خاص طور پر اہم ٹیکنالوجی اور اس کی تیاری کے لیے درکار اہم اجزا کی تجارتی ترسیل کے مستحکم نظام تعمیر کرنے کی غرض سے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔

ہم نے آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ سلامتی کے حوالے سے ایک نئی شراکت ‘اے یو کے یو ایس’ قائم کی جس کا مقصد جوہری طاقت کی حامل نئی آبدوزیں بنانا اور مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور دیگر طرح جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنے مشترکہ کام کو آگے بڑھانا ہے۔

کیمپ ڈیوڈ میں امریکہ، جاپان اور کوریا کی پہلی سہ فریقی رہنما کانفرنس کے بعد ہم اپنے باہمی تعلقات کو ہر پہلو سے اگلے مرحلے میں ترقی دے رہے ہیں جس میں مشترکہ فوجی مشقوں کی تعداد میں اضافے سے لے کر انٹیلی جنس کے تبادلے اور عالمی سطح پر بنیادی ڈھانچے میں اپنی سرمایہ کاری کو ہم آہنگ کرنے تک بہت سے اقدامات شامل ہیں۔

ہم نے انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ کواڈ شراکت کو مزید بہتر بنایا ہے تاکہ اس سے چاروں ممالک اور پوری دنیا کو ویکسین کی تیاری سے لے کر سمندری سلامتی کو بہتر بنانے اور موسمیاتی مسائل سے نمٹنے تک بہت سے امور میں مدد مل سکے۔

گزشتہ برس جب میں نے چین کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی ‘سرمایہ کاری، ہم آہنگی اور مسابقت’ کی حکمت عملی طے کی تھی تو ہم نے مشترکہ مقصد کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے نیٹ ورک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا تھا۔ اب ہم ہر اعتبار سے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہم آہنگ ہیں اور مزید مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔

اس سے ہمیں چین کے ساتھ اپنی مسابقت میں زیادہ طاقتور انداز سے عمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح ہم اپنے خدشات سے متعلق مزید وضاحت، ساکھ اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر بات کرنے کے لیے گفت و شنید کے کھلے ذرائع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ایسے امور پر باہمی تعاون کےلیے اپنے عزم کا اظہار کر سکتے ہیں جو دنیا میں ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں اور ایسی غلط فہمی کا خدشہ کم کر سکتے ہیں جو تنازعے کا باعث بن سکتی ہو۔

تیسری بات یہ کہ ہم دور حاضر کے کڑے ترین مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے اتحاد بنا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بنیادی ڈھانچے میں پائی جانے والے خلا کو پُر کرنا ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔

میں تقریباً جہاں کہیں بھی گیا ہوں وہاں میں نے ممالک سے ایسے مںصوبوں کے بارے میں سنا ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے تباہ کن ہیں اور انہیں ناقص انداز میں بنایا گیا ہے، ان کے لیے کارکنوں کو درآمد کیا گیا یا انہیں استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے اور جو بدعنوانی کو فروغ دیتے اور ممالک پر ناپائیدار قرض کا بوجھ ڈالتے ہیں۔

یقینا ممالک شفاف، اعلیٰ معیار کی اور ماحولیاتی اعتبار سے محفوظ و مضبوط سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔ تاہم ان کے پاس ہمیشہ ایک سے زیادہ راستے نہیں ہوتے۔ ہم جی7 شراکت داروں کے ساتھ مل کر انہیں متبادل امکانات پیش کر رہے ہیں۔

باہم مل کر ہم نے 2027 تک نئی سرمایہ کاری کے لیے عالمگیر بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کی شراکت کے ذریعے 600 ارب ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ جہاں کاروباری خدشات میں کمی لا کر نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی صورت میں مزید سیکڑوں ارب ڈالر حاصل کیے جا سکتے ہیں وہاں ہم اپنی حکومت سے مدد لینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

یہاں میں آپ کو مختصراً چند مثالیں دینا چاہوں گا کہ کیسے ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ہم نے لوبیٹو کوریڈور میں انقلاب آفریں سرمایہ کاری کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ انگولا میں لوبیٹو کے ساحل سے لے کر ڈی آر سی اور زیمبیا تک پھیلا ترقیاتی منصوبہ ہے جس کے تحت ایک نئی بندرگاہ، نئی ریلوے لائنیں اور سڑکیں، ماحول دوست توانائی کے نئے منصوبے اور نیا تیز رفتار انٹرنیٹ مہیا کیے جانا ہیں۔

اس مںصوبے کی بدولت 500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی جو 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی ضرورت پوری کرنےکے لیے کافی ہے اور اس سے ہر سال کاربن کے اخراج میں تقریباً 900,000 ٹن کمی آئے گی، افریقہ کے لوگوں کے لیے ہزاروں نئی نوکریاں کھلیں گی، امریکیوں کے لیے بھی ہزاروں روزگار پیدا ہوں گے اور تانبے اور کوبالٹ جیسی معدنیات عالمی منڈیوں میں پہنچیں گی۔

جب میں نے گزشتہ سال کنشاسا کا دورہ کیا تو صدر شیسکڈی نے مجھے بتایا کہ لوبیٹو ایک ایسا موقع ہے جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔ یہ استحصالی اور استخراجی ترقیاتی معاہدوں سے جان چھڑانے کا موقع ہے جو انہیں طویل عرصہ سے قبول کرنا پڑ رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے ہی جی20 کانفرنس کے موقع پر صدر بائیڈن اور انڈیا کے وزیراعظم مودی نے نقل و حمل، توانائی اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک نئی راہداری قائم کرنے کا پُرعزم اعلان کیا جو ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو باہم جوڑے گی۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین امریکہ اور انڈیا کے ساتھ مل کر ماحول دوست توانائی کی پیداوار اور ڈیجیٹل رابطوں میں تیزی لائیں گے اور خطے بھر میں تجارتی ترسیل کے اہم سلسلوں کو مضبوط بنائیں گے۔

یہ اور ان جیسی دیگر کوششوں کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بالآخر ہمارے اپنے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ کے لیے مزید مستحکم و خوشحال شراکت دار تخلیق کیے جائیں گے، امریکہ کے کارکنوں، کاروباروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید منڈیاں پیدا کی جائیں گی اور ہم مزید مستحکم دنیا اپنے بچوں کے حوالے کریں گے۔

اپنے شراکت داروں کو اچھی پیش کش کرنا امریکہ کے لیے بھی فائدے کی بات ہے۔

عالمگیرغذائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہماری قیادت کے حوالے سے بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ دنیا بھر میں 700 ملین سے زیادہ لوگوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے جس میں کووڈ، موسمیاتی تبدیلی اور مسلح تنازعات اور اب روس کی جانب سے یوکرین سے اناج کی برآمد میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں نے مزید شدت پیدا کر دی ہے۔

اب مجھے ایسے ممالک میں رہنماؤں کی بات سننے کا موقع ملا ہے جو اس بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھ پر واضح کر دیا کہ ہاں انہیں ہنگامی مدد چاہیے مگر زرعی استحکام، اختراع اور خودکفالت پر سرمایہ کاری ان کی اصل ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ ایسے بحران سے بچ سکیں۔ ہم یہی کچھ کرنے کے لیے ان کے ساتھ شراکت کر رہے ہیں اور اس ضمن میں عالمگیر لائحہ عمل پر 100 سے زیادہ ممالک نے دستخط کیے ہیں۔

اس معاملے میں ہم اپنی مثال کی طاقت سے قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکہ اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک میں سب سے زیادہ عطیات دینے والا ملک ہے۔ ہم اس کے سالانہ بجٹ کا تقریباً 50 فیصد مہیا کرتے ہیں۔ روس اور چین کا اس میں کتنا حصہ ہے؟ یہ دونوں اس کے بجٹ میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں۔

2021 سے اب تک امریکہ نے غذائی عدم تحفظ اور اس کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے 17.5 ارب ڈالر سے زیادہ مالی وسائل مہیا کیے ہیں۔ اس میں ہر سال ‘فیڈ دی فیوچر’ کے لیے دیے جانے والے ایک ارب ڈالر سے زیادہ وسائل بھی شامل ہیں۔ یہ یو ایس ایڈ کا اہم ترین پروگرام ہے جس میں 40 ممالک غذائی نظام مضبوط بنانے کے عمل میں ہمارے شراکت دار ہیں۔ اس میں ‘وی اے سی ایس’ کے لیے ہماری مدد بھی شامل ہے۔ یہ ایک نیا پروگرام ہے جو ہم نے افریقن یونین اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر شروع کیا جس کا مقصد غذائیت سے بھرپور افریقی فصلوں کی نشاندہی کرنا، ان کی موسمیاتی اعتبار سے انتہائی مضبوط اقسام کی کاشت اور اس مٹی کی طاقت بڑھانا شامل ہے جس میں یہ کاشت کی جاتی ہیں۔

ممالک اپنے لوگوں کے لیے جتنی زیادہ خوراک پیدا کر سکتے ہیں وہ اتنے ہی زیادہ خوشحال اور مستحکم شراکت دار ہوتے ہیں۔ وہ خوراک اور کھادوں کی ترسیل روکنے والے ممالک کے ہتھکنڈوں سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ انہیں عالمی عطیہ دہندگان پر زیادہ انحصار نہیں کرنا پڑتا اور عالمی سطح پر خوراک کی ترسیل جتنی زیادہ ہوتی ہے امریکہ سمیت ہر جگہ منڈیوں میں ان کی قیمتیں بھی اتنی ہی کم ہو جاتی ہیں۔

ہم مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی اسی سوچ پر عمل پیرا ہیں۔

جولائی میں صدر بائیڈن نے مصںوعی ذہانت کی سات نمایاں کمپنیوں کی جانب سے مصںوعی ذہانت کے محفوظ، مامون اور قابل اعتبار نظام تیار کرنے سے متعلق نئے رضاکارانہ وعدوں سے متعلق بتایا تھا۔ کل ہی ان میں مزید آٹھ کمپنیوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ وعدے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے نقصانات کو کم سے کم کرنے اور اس کے فوائد میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لیے عالمگیر اتفاق رائے پیدا کرنے کی غرض سے بہت سے شراکت داروں کے ساتھ ہمارے روابط کی بنیاد ہیں۔

ہم جی7 جیسے اپنے قریب ترین شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر آغاز کر رہے ہیں جہاں ہم جدید مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی تیار کرنے والے نجی شعبے کے اداروں اور حکومتوں کے لیے بین الاقوامی ضابطے اور مشترکہ انضباطی اصول تیار کر رہے ہیں۔ اس میں برطانیہ جیسے ممالک بھی ہمارے شراکت دار ہیں جو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تحفظ سے متعلق ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے جس کا مقصد اس ٹیکنالوجی سے لاحق طویل مدتی خطرات کی بہتر طور سے نشاندہی کرنا اور ان میں کمی لانا ہے۔

ان ضابطوں اور اصولوں کو موثر بنانے کے لیے ہمیں بہت سے کرداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا ہو گا جن میں ترقی پذیر ممالک بھی شامل ہیں۔ ہم ایسا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

اس ٹیکنالوجی میں امریکہ کی مسابقتی برتری کو قائم رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو باضابطہ بنانا بہت اہم ہے اور اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق اختراعات کو ترقی دینا بھی ضروری ہے جن سے ہر جا لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو مہلک بیماریوں کے خطرات کی بابت پیشگی خبردار کرنا یا مزید شدید اور تواتر سے آنے والے طوفانوں کی پیش گوئی اس کی مثال ہیں۔ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں میری میزبانی میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھی اسی پر تبادلہء خیال ہو گا۔ اس موقع پر حکومتوں، ٹیکنالوجی کی کمپنیوں اور سول سوسائٹی کو پائیدار ترقی کے اہداف پر کام کو آگے بڑھانے کے لیے مصںوعی ذہانت سے کام لینے کو کہا جائے گا۔

یہاں میں آپ کو اس بارے میں ایک آخری مثال دینا چاہوں گا کہ کیسے ہم ایک ایسے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نیا اتحاد بنانے جا رہے ہیں جسے بہت سے لوگ غالباً خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ یہ سنتھیٹک منشیات کا مسئلہ ہے۔

گزشتہ برس ہی تقریباً 110,000 امریکی شہریوں کی موت منشیات کی زیادہ مقدار لینے کے باعث ہوئی تھی۔ ان میں دو تہائی اموات سنتھیٹک نشے کے باعث ہوئیں جو 18 سے 49 سال کی عمر کے امریکیوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس بحران سے صرف 2020 میں ہی امریکہ کو قریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ اس سے ملک بھر میں متاثرین کے خاندانوں اور ان کے قریبی لوگوں کو پہنچنے والی تکالیف اس کے علاوہ ہیں۔

یہ مسئلہ صرف ہمیں ہی درپیش نہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں سنتھیٹک منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تشویشناک شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور کوئی ملک اس مسئلے کو اکیلا حل نہیں کر سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ ہم نے سنتھیٹک منشیات کی غیرقانونی تیاری اور سمگلنگ کو روکنے، اس معاملے میں ابھرتے ہوئے خطرات اور منشیات استعمال کرنے کے انداز کی نشاندہی اور اس حوالے سے صحت عامہ کے اقدامات کو ترقی دینے کے لیے ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے۔ 100 سے زیادہ حکومتیں اور درجن بھر بین الاقوامی ادارے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ باہم مل کر ہم مشترکہ ترجیحات کو ہم آہنگ کرنے، موثر پالیسیوں کی نشاندہی، طبی خدمات مہیا کرنے والوں، کیمیائی مادے تیار کرنے والی کمپنیوں، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز اور دیگر اہم متعلقہ فریقین کو اپنی کوششوں میں ساتھ لے رہے ہیں۔ اس کام کو وسعت دینے کے لیے ہم آئندہ ہفتے نیویارک میں ملاقات کریں گے۔

یقیناً محض یہی وہ شعبے نہیں ہیں جہاں ہم اتحاد قائم کرنے یا انہیں مستحکم بنانے میں مصروف ہیں۔ ہم ان اتحادوں سے سلامتی کو لاحق خطرات پر قابو پانے میں بھی مدد لے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو تحفظ دینے کے لیے قائم کردہ ٹاسک فورس ور داعش کو شکست دینے کے لیے بنایا گیا اتحاد اس کی مثال ہیں۔

ہم حکومتوں، علاقائی تنظیموں اور شہریوں کی شراکت سے ایتھوپیا سے لے کر مشرقی جمہوریہ کانگو، آرمینیا سے آزربائیجان اور یمن تک جنگوں کے سفارتی حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جہاں ہم نے ایک نازک جنگ بندی ممکن بنائی اور اسے قائم رکھا ہے۔

ہماری ثالثی کی بدولت اسرائیل اور لبنان نے اپنے ممالک کے مابین سمندری سرحدی حدود کے حوالے سے تاریخی معاہدہ کیا جس سے دونوں ممالک کے لوگوں کو اور ان سے پرے فوائد پہنچانے کے لیے توانائی کے نمایاں ذخائر کو ترقی دینے میں مدد ملی۔

ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کو بنیادی ڈھانچے، غذائی تحفظ، مصںوعی ذہانت، سنتھیٹک منشیات اور نئے پرانے تنازعات جیسے اہم مسائل پر حقیقی پیش رفت کے لیے جس قدر اکٹھا کریں گے ہماری پیشکش کی قوت بھی اتنی ہی بڑھ کر سامنے آئے گی۔

کسی بھی ایسے مسئلے کو لے لیجیے جہاں دنیا بھر کے ممالک نے قیادت کے لیے طاقتور ممالک کی جانب دیکھا ہو۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ ہمارے حریف اس معاملے میں الگ تھلگ رہے اور انہوں نے کسی طرح کی مالی مدد مہیا نہیں کی۔ بدترین صورت میں انہوں ںے برے مسائل کو مزید بگاڑ دیا اور دوسروں کی تکالیف سے فائدہ اٹھایا، ممالک کو ویکسین کی فروخت کے بدلے میں رعایات لیں، جرائم پیشہ لوگوں کو دوسرے ممالک میں بھیجا جنہوں نے تنازعات کا شکار جگہوں کو مزید غیرمحفوظ بنا دیا، مقامی وسائل کو لوٹا اور مظالم کا ارتکاب کیا، حرارت، گیس، خوراک اور ٹیکنالوجی جیسی لوگوں کی بنیادی ضروریات کو انہیں دھمکانے اور اپنا مطیع بنانے کے لیے استعمال کیا۔

تاریخ کے اس اہم موڑ پر ہم ممالک پر ثابت کر رہے ہیں کہ ہم کون ہیں اور ہمارے حریف کون ہیں۔

آخری بات یہ کہ ہم اپنے پرانے اور نئے اتحادوں کو ان بین الاقوامی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے اکٹھا کر رہے ہیں جن کا عالمگیر مسائل پر قابو پانے میں اہم کردار ہے۔

اس کا آغاز اپنی مثال سے ہوتا ہے۔ اہم اداروں اور معاہدوں میں امریکہ کی موجودگی کے ذریعے ہم بین الاقوامی اداروں اور ان کے اصولوں کو ایسی شکل دے سکتے ہیں جس سے امریکہ کے عوام کے مفادات اور اقدار کی عکاسی ہو اور مستقبل کے لیے ہمیں اپنے تصور کو ترقی دینے میں مدد ملے۔

صدر بائیڈن نے عہدہ سنبھالتے ہی فوری طور پر پیرس موسمیاتی معاہدے اورعالمی ادارہ صحت میں دوبارہ شمولیت اختیار کی۔ ہم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں نشست دوبارہ حاصل کی۔ حال ہی میں ہم اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو میں دوبارہ شامل ہو گئے ہیں اور اس سے ہمیں مصںوعی ذہانت سے متعلق اصولوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے میں مدد ملے گی۔

ہم نے اقوام متحدہ کی عالمی مواصلاتی یونین اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت جیسے اداروں کی سربراہی کے لیے انتہائی اہل رہنماؤں کو منتخب کرانے کے لیے کڑا مقابلہ کیا۔ ان عہدوں پر فائز ہونے والے دونوں امریکہ ناصرف اس کام کے لیے بہترین امیدوار تھے بلکہ وہ دونوں ان اداروں کی سربراہی کرنے والی پہلی خواتین بھی ہیں۔

ان اداروں کا کام کس قدر ہی ناقص کیوں نہ ہو ان سربراہوں کی درست اہلیت اور صلاحیتوں کا کوئی نعم البدل نہیں جو وہ ہمارے لوگوں کے لیے اہمیت کے حامل مسائل کو حل کرنے کے لیے لائی ہیں۔ اس لیے ان اداروں میں کام کرنا اور ناصرف امریکہ بلکہ سبھی کے لیے اس میں بہتری لانا ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔

دنیا بھر میں جتنے زیادہ لوگ اور ممالک اقوام متحدہ اور اس جیسے اداروں کو اپنے مفاد اور اپنی اقدار کی نمائندگی کرتا اور اپنی امیدوں پر پورا اترتا دیکھنا چاہیں گے یہ ادارے اتنے ہی موثر ہوں گے اور ہم ان پر اتنا ہی زیادہ انحصار کر سکیں گے۔

اسی لیے ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو وسعت دینے کا ایک مثبت تصور پیش کیا ہے تاکہ اس میں جغرافیائی طور پر متنوع تناظرات کو شامل کیا جائے۔ اس میں افریقہ، لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے نئے مستقل اور غیرمستقبل ارکان کی شمولیت بھی شامل ہے۔

وزیر یالن کی قیادت میں ہم کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں کو نئے سرے سے مضبوط بنانے اور ان میں اصلات لانے کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کی اہم ضروریات پوری کر سکیں جنہیں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، کووڈ کے معاشی نقصانات، مہنگائی اور تباہ کن قرض سمیت بہت بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

صدر بائیڈن عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے میں قرض دینے کی نئی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود کرنے، صحت عامہ اور ان ممالک کو درپیش دیگر اہم مسائل پر قابو پانے کے لیے کم قیمت پر مزید مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

امریکہ کی قیادت میں ان تمام اقدامات سے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے قرضوں کی مد میں تقریباً 50 ارب ڈالر اکٹھے کرنے میں مدد ملے گی۔

ہماری بھرپور کوشش کے نتیجے میں عالمی بینک بہت جلد ممالک کو موسمیاتی حادثات اور قدرتی آفات کے بعد قرضوں کی ادائیگی موخر کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

جب ہم بین الاقوامی اداروں کو مضبوط کرتے ہیں اور جب وہ سلامتی یقینی بنانے، مواقع بڑھانے اور حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے بنیادی وعدوں کو پورا کرتے ہیں تو ہم شہریوں اور ممالک کا ایک وسیع اتحاد قائم کرتے ہیں جو بین الاقوامی نظام کو ایسی چیز کے طور پر دیکھتا ہے جو ان کی زندگیوں میں حقیقی انداز میں تبدیلی لاتی ہے اور اسے قائم رکھنا اور اس کا دفاع کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اسی لیے جب دنیا کے بیجنگ اور ماسکو کثیرفریقی نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے یا اس کے اہم ستونوں کو ڈھانے کی کوشش کریں گے اور جب وہ غلط طور سے دعویٰ کریں گے کہ یہ نظام باقی دنیا کی قیمت پر صرف مغرب کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے تو دنیا میں ممالک اور لوگوں کی بڑی تعداد کھڑی ہو جائے گی اور یہ کہے گی کہ نہیں، آپ جس نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ ہمارا نظام ہے جو ہمارے مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔

یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے جب ہمارے ساتھی امریکی پوچھتے ہیں کہ بیرون ملک سرمایہ کاری سے ہمیں کیا حاصل ہو رہا ہے تو ہم امریکی خاندانوں اور معاشروں کو اس سے حاصل ہونے والے ٹھوس فوائد گِنوا سکتے ہیں جبکہ ہم اپنے وفاقی بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ سفارت کاری اور عالمی ترقی پر خرچ کرتے ہیں۔

امریکہ کے کارکنوں اور کاروباروں کے لیے مزید منڈیاں، امریکی صارفین کے لیے مزید سستی اشیا، امریکی گھرانوں کے لیے خوراک اور توانائی کی مزید قابل بھروسہ ترسیل اور اس کے نتیجے میں تیل اور خوراک کی قیمتوں میں واضح کمی، امریکہ میں مہلک بیماریوں کی روک تھام اور اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مزید مضبوط طبی نظام اور ہمارے ساتھ مل کر جارحیت کو روکنے اور اس سے نمٹنے کےلیے مزید موثر اتحادیوں اور شراکت داروں کی موجودگی ایسے فوائد کی نمایاں مثال ہیں۔

ان اور ان جیسی بہت سی دیگر وجوہات کی بنا پر عالمی نظام میں امریکہ کی واپسی اس میں ہماری سرمایہ کاری سے کہیں بڑھ کر ہے۔

اس اہم دور میں امریکہ کا عالمگیر قائدانہ کردار ملک کے لیے بوجھ نہیں ہے۔ یہ ہماری آزادی، جمہوریت اور ہماری سلامتی کو تحفظ دینے، امریکہ کے کارکنوں اور کاروباروں کے لیے مواقع تخلیق کرنے اور امریکہ کے شہریوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دفتر خارجہ کی قیادت کرنے والے ڈین ایچیسن نے اس دور کے حوالے سے اپنی تحریر ‘حال اور تخلیق’ میں لکھا تھا کہ “تاریخ گزشتہ واقعات کا بیان ہوتا ہے لیکن یہ آگے چلتی ہے۔”

ایچیسن تاریخ کے ایک الگ اہم موڑ کے بارے میں لکھ رہے تھے لیکن ان کے الفاظ غیریقینی صورتحال اور مواقع سے عبارت ہر دور پر صادق آتے ہیں جس میں ہمارا دور بھی شامل ہے۔

اگر ہم ماضی میں دیکھیں تو جو درست فیصلے واضح دکھائی دیتے ہیں ان کے حتمی نتائج بھی تقریباً ناگزیر ہوتے ہیں۔

تاہم جب یہ فیصلے لیے جاتے ہیں تب ایسا نہیں ہوتا۔

اس وقت ان فیصلوں کے نتائج واضح نہیں ہوتے۔ جن قوانین نے نظم، استحکام اور پیش بینی کا احساس مہیا کیا انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر عمل میں خدشات پوشیدہ ہوتے ہیں، حالات کا دھارا ہمارے قابو میں نہیں ہوتا اور بے شمار زندگیاں داؤ پر لگی ہوتی ہیں۔

درحقیقت ایسے دور میں بھی، خصوصاً حالیہ عرصہ میں پالیسی سازوں کے پاس فیصلے کے لیے دھند چھٹنے کا انتظار کرنے کا موقع نہیں ہوتا۔

ہمیں فیصلہ کن طور سے عملی قدم اٹھانا ہے۔

ہمیں تاریخ کو آگے بڑھانا ہے جیسا کہ ایچیسن نے کیا، جیسا کہ بریزیزنسکی نے کیا، جیسا کہ تمام دیگر عظیم حکمت کاروں نے کیا جنہوں ںے مشکل وقت میں امریکہ کی درست رہنمائی کی۔

ہمیں تاریخ کے پتوار کو تھامنا اور ایسی چیزوں کی رہنمائی میں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے جو غیریقینی دور میں بھی یقینی ہوتی ہیں۔ ہمیں اپنے اصولوں، اپنے شراکت داروں اور مستقبل کے حوالے سے اپنے تصور سے رہنمائی لینا ہے تاکہ جب دھند چھٹے تو دنیا آزادی، امن اور ایسی عالمی برادری کی طرف جائے جو اس دور کے مسائل پر قابو پانے کی اہلیت رکھتی ہو۔

صدر بائیڈن سے بہتر اس بات کو کوئی نہیں سمجھتا۔ امریکہ اس وقت دنیا میں ڈھائی سال پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور سے مضبوط پوزیشن میں ہے اور یہ ان کے اٹھائے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

مجھے یقین ہے کہ آنے والی دہائیوں میں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی اور شاید آپ میں سے کوئی یہ لکھے، تو اس میں بتایا جائے گا کہ کیسے ہم نے فیصلہ کن، پُرحکمت انداز میں، عاجزی سے اور اعتماد کے ساتھ امریکہ کی سفارت کاری کی طاقت اور مقصد کا تصور نو کیا اور ہم نے امریکہ کے مستقبل کو محفوظ بنایا، اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے لوگوں کے لیے پہلے سے زیادہ آزاد، کھلے اور خوشحال دور کی بنیاد رکھی۔

میری بات سننے کا بہت شکریہ۔

(تالیاں)

شکریہ


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-remarks-to-the-johns-hopkins-school-of-advanced-international-studies-sais-the-power-and-purpose-of-american-diplomacy-in-a-new-era/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future