امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
8 جنوری 2024
العلا، سعودی عرب

وزیر خارجہ بلنکن: سبھی کو شام بخیر۔ ہمارے ترکیہ سے لے کر یونان، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور یہاں سعودی عرب تک کے دورے کا تیسرا دن آج اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران میں نے ہر جگہ رہنماؤں کو اُس تصادم کو روکنے میں پرعزم پایا جس کا ہمیں سامنا ہے۔ وہ اس کی کشیدگی میں اضافے اور اس کے پھیلنے کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

ہم نے اس خطے کے مستقبل کے بارے میں بھی بات چیت کی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے چند بنیادی مقاصد پر وسیع تر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ پہلا یہ کہ اسرائیل اور اسرائیلیوں کو دہشت گرد حملوں یا اپنے کسی بھی ہمسائے سے لاحق جارحیت کے خوف سے آزاد ہو کر امن و سلامتی سے رہنے کے قابل ہونا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ مغربی کنارے اور غزہ کو فلسطینیوں کے زیرقیادت حکومت کے تحت متحد ہونا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ مستقبل میں خطے کو منقسم اور اختلافات کا شکار ہونے کے بجائے متحد ہونا چاہیے اور چوتھا یہ کہ ان تمام مقاصد کا حصول ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا تقاضا کرتا ہے۔

میں نے جن رہنماؤں سے بات کی ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ آسان ہو گا۔ سبھی کو اس راہ میں حائل مشکلات کا احساس ہے اور کسی کا بھی یہ خیال نہیں کہ ایسا راتوں رات ہونا ممکن ہے۔ تاہم ہم غزہ کو مستحکم بنانے، اس کی بحالی، فلسطینیوں کے لیے مستقبل کی سیاسی راہ تشکیل دینے اور پورے خطے میں طویل مدتی امن، سلامتی اور استحکام کی خاطر اکٹھے کام کرنے اور اپنی کوششوں کو مربوط بنانے پر متفق ہیں۔

ہم نے جن ممالک کا دورہ کیا اور وہاں جن رہنماؤں کے ساتھ وقت گزارا وہ اس حوالے سے مشکل فیصلوں کے لیے ضروری وعدے کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ان تمام مقاصد کے حصول اور خطے کے لیے اس تصور کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

اب ہم اسرائیل جا رہے ہیں جہاں مجھے اسرائیلی رہنماؤں کو وہ سب کچھ بتانے کا موقع ملے گا جو میں نے اس دورے میں دیگر رہنماؤں کی زبانی سنا۔ اس کے علاوہ میں غزہ میں اسرائیل کے آئندہ عسکری اقدامات کی سمت کے بارے میں بھی بات چیت کروں گا۔ میں شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے مزید اقدامات کی قطعی ضرورت اور غزہ میں ضرورت مند لوگوں کو انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دوں گا۔

یقیناً ہم امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کے یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے اپنی انتھک کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ اس دوران یہ بات بھی ہو گی کہ ہم خطے اور اسرائیل کے لیے کیسا مستقبل چاہتے ہیں۔ مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ مستقبل کی ایک ایسی راہ موجود ہے جس پر چل کر اسرائیل کے لیے پائیدار امن اور سلامتی ممکن بنائی جا سکتی ہے، جس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ 7 اکتوبر جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں، جس سے خطے کو متحد کیا جا سکتا ہے، جس سے فلسطینیوں کی امنگوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے اور یہ سب کچھ اس انداز سے کیا جا سکتا ہے جس سے خطے کی توجہ ماضی کی مشکلات کے بجائے مستقبل پر مرکوز رہے۔

اب میں آپ کے چند سوالات کا جواب دینا چاہوں گا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-remarks-to-the-press-20/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future