امریکی محکمہ خارجہ

ترجمان کا دفتر

6 فروری 2024

دیوان انیکس

دوحہ، قطر

وزیر اعظم الثانی: (ترجمان کے ذریعے) خدا کے نام سے جو مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ آپ پر سلامتی ہو۔ مجھے دوحہ میں عزت مآب وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ خواہ دوحہ میں ہوں یا واشنگٹن میں ہوں، گزشتہ ہفتوں میں ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں اور آج ہم دوحہ میں دوبارہ مل رہے ہیں۔

سب سے پہلے میں میڈیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں یرغمالیوں کے سلسلے میں معاہدے کے عمومی ڈہانچے کے حوالے سے حماس کی طرف سے جواب موصول ہوگیا ہے۔ جواب میں بعض تبصرے شامل ہیں مگر عمومی طور پر یہ جواب مثبت ہے۔ تاہم حالات کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم تفصیلات پر بات نہیں کریں گے۔ ہم پر امید ہیں اور ہم نے جواب اسرائیلی فریق کو پہنچا دیا ہے۔

ہم نے آج عزت مآب وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور اس جنگ میں ہونے والی مختلف پیشرفتوں پر تبادلہ خیال کیا جن میں خاص طور پر جنگ کا وہ افسوسناک پھیلاؤ اور خطے کی سلامتی اور استحکام پر پڑنے والے وہ اثرات بھی شامل ہیں جو ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتوں میں ہم نے غزہ میں جنگ کے علاوہ مختلف کشیدگیاں بھی دیکھیں ہیں جو غزہ کی پٹی سے نکل کر مختلف ممالک جیسے اردن، لبنان، عراق، شام اور بحیرہ احمر کے خطے تک پہنچ چکی ہیں۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی فوجیوں کی موت پر عزت مآب وزیر خارجہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ ہم قطر کی ریاست میں ایسے اقدامات کو قبول نہیں کر سکتے اور ہم خطے میں اتحاد کے لیے خطرہ بننے کو قبول نہیں کر سکتے۔

اس تصادم کے پہلے دن سے ہم اس کی توسیع کے مختلف قسم کے خطرات کے بارے میں خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اِن میں خاص طور پر خطے کو درپیش طویل المدتی اور دیرینہ تنازعہ بھی شامل ہے۔ بدقسمتی سے یہ [خطرات] اب حقیقت بن چکے ہیں اور ان سے پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے – یعنی ان سے مذاکرات کی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے ہم متعلقہ فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی سے بچنے، مزید خونریزی کا باعت بننے والے فیصلے نہ کرنے، اور شہریوں کی سلامتی برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس جنگ میں اب تک غزہ میں 20,000 سے زائد افراد ہلاک اور 60,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور عورتیں ہیں۔ اس لیے ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری قبول کرے اور جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔ اس وقت بین الاقوامی برادری کے جنگ بندی کے فیصلے کی اشد ضرورت ہے۔ میں اس تناظر میں یہ بتانا چاہوں گا کہ یو این آر ڈبلیو اے [انروا] کو فنڈز کی فراہمی روکنے کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ 60 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو انسانی امداد نہیں مل پائے گی۔ ہم اقوام متحدہ اور انروا کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں اور  اقوام متحدہ کے مضبوط اقدار کے حامل ادارے کی حیثیت سے ہمیں اس ادارے کو اور اس کے بعض ملازمین کے خلاف اُن الزامات کو علیحدہ علیحدہ رکھ کر دیکھنا ہوگا جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے کسی ادارے کو اس کے کچھ ملازمین کے خلاف کچھ الزامات کی وجہ سے سزا نہیں دے سکتے۔

گزشتہ برسوں کے دوران ہم نے فنڈنگ کی کمی کے اثرات دیکھے ہیں اور ہمیں فنڈز کے مکمل طور پر روکے جانے کا خوف ہے۔ فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کی بنیاد پر ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ قطر ان لوگوں کو اپنے ہاں لاتا رہے گا جن کو قطر میں علاج کی ضرورت ہے۔ ہماری کوششوں کے نتیجے میں غزہ میں، خاص طور پر سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں اور ان لوگوں کے لیے جو ایک جگہ بند ہیں یا جو ابھی تک اس پٹی میں پھنسے ہوئے ہیں، ادویات پہنچائی گئی ہیں۔ اور عزت مآب کے فیصلے کی بدولت ہم نے 2,000 ٹن سے زیادہ مدد بھیجی ہے جس میں خوراک اور دو فیلڈ ہسپتالوں سمیت پناہ گاہ کی سہولتیں شامل ہیں۔ یہ کامیابی ہمیں گرجا گھروں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے علاوہ برطانیہ، فرانس، اٹلی میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ملی ہے۔

زخمیوں اور مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے ہمارے عزم کے تحت تقریباً 200 زخمیوں اور مریضوں کو غزہ سے قطر بھیجا گیا ہے۔ 3,000 بچے اس کے علاوہ ہیں جو غزہ میں جنگ کی وجہ سے یتیم ہو چکے ہیں۔ آج کشیدگی کو کم کرنے کی تمام کوششوں اور تصادم کے چار ماہ کے بعد ہم سب خونریزی اور تشدد کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہسپتالوں کو اب بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، سکولوں پر بمباری کی جا رہی ہے، اور مہاجرین پہلی، دوسری اور تیسری بار گھر بار چھوڑتے ہوئے مارے جا رہے ہیں۔

عزت مآب ہم مختلف شعبوں میں آپ کے سیاسی، انسانی بنیادوں پر مسلسل اور ہمارے مسلسل تعاون اور شراکت کاری کو سراہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری چار ماہ قبل شروع ہونے والی کوششوں کا نتیجہ ایک ایسی جنگ بندی کی طرف لے جانے اور ایک ایسے حل تک پہنچنے کی صورت میں نکلے گا جو اس خطے کے لیے منصفانہ اور مناسب ہوگا۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کی تمام کوششوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں اقوام متحدہ میں اپنے تمام شراکت داروں، مصر، فرانس اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس انسانی بحران کے حجم کو کم کرنے کے لیے مختلف قسم کی انسانی اور مادی امداد کے حوالے سے ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

میں دونوں ممالک کے درمیان اس بات چیت کو آگے لے کر چلنے کا منتظر ہوں تاکہ کسی حل اور اس خطے میں استحکام تک پہنچا جا سکے، اس جنگ کو ختم کیا جا سکے۔ [میں] اس خطے کے لیے ایک بہتر مستقبل کا متمنی ہوں۔ آپ کا شکریہ

وزیر خارجہ بلنکن: آپ سب کو شام کا سلام۔ وزیر اعظم محمد آپ کا شکریہ۔ ہمیشہ کی طرح آج شام امیر اور وزیر اعظم کے ساتھ بہت نتیجہ خیز بات چیت پر آپ کا شکریہ۔

ہم نے اپنی اپنی حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطحوں پر مسلسل رابطے رکھے جنہیں اب کئی ہفتے بلکہ مہینے گزر چکے ہیں۔ اس میں ہماری تمام تر توجہ یرغمالیوں کی رہائی حاصل کرنے اور غزہ کی سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنے میں مدد کے لیے ایک توسیعی وقفہ حاصل کرنے پر مرکوز رہی۔  اور ہم نے پچھلے وقفے کے نتائج دیکھے – یعنی ابتدائی وقفہ: 105 یرغمالیوں کی رہائی، انسانی امداد کی فراہمی میں نمایاں اضافہ، غزہ میں اہم بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے ساتھ ساتھ وسیع تر پیمانے پر علاقائی کشیدگی میں کمی۔

لہذا جیسا کہ آپ کو علم ہے ہم نے قطر اور مصر کے ساتھ مل کر ایک سنجیدہ تجویز پیش کی جس کا مقصد محض پچھلے  معاہدے کو دہرانا نہیں بلکہ اسے وسعت دینا ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے ابھی بتایا ہے کہ حماس نے آج رات جواب دیا ہے۔ ہم ابھی اس جواب کا جائزہ لے رہے ہیں اور میں کل اسرائیل کی حکومت سے اس پر بات کروں گا۔ ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ تاہم ہمیں یقین ہے کہ کسی معاہدے پر پہنچنا ممکن ہے بلکہ بلا شک و شبہ انتہائی اہم ہے۔ اور ہم اسے حاصل کرنے کے لیے انتھک محنت کرنا جاری رکھیں گے۔

اس دورے کے دوران ہم نے پہلے ہی ریاض، قاہرہ میں اور آج دوحہ میں ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز رہی کہ ہم کسی بھی وقفے کو فوری طور پر غزہ میں سکیورٹی، انسانی [امداد]، تعمیر نو، گورننس کی منصوبہ بندی جاری رکھنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اِن سب کاموں میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ مگر اسی وجہ سے ہم اتنے منہمک ہیں اور ہمیں اس وقت اتنا منہمک ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن اور سلامتی کے لیے سفارتی راہ ہموار کرنے کے لیے کسی بھی وقفے کو استعمال کرنے کا مصمم  ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ یہی بہترین طریقہ ہے یعنی یہ یقینی بنانے کا بہترین طریقہ ہے کہ 7 اکتوبر اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے ہاتھوں ہونے والے المناک جانی نقصان کا اعادہ نہ ہو۔

جب میں چند ہفتے پہلے اس خطے میں آخری بار آیا تھا تب میں نے کہا تھا کہ حقیقی معنوں میں دیرپا امن اور سلامتی حاصل کرنے کا ایک بہت ہی زبردست راستہ ہے جسے ہم اپنے سامنے دیکھ سکتے ہیں اور یہ پہلے سے زیادہ تیزی سے توجہ کا مرکز بنتا چلا جا  رہا ہے یعنی ایک ایسا اسرائیل جو اپنے ہمسایوں اور شراکت داروں کی طرف سے سلامتی کی ضمانتوں کے ساتھ خطے سے مربوط ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی فلسطینی ریاست کا عملی، طے شدہ نظام الاوقات، ناقابل تنسیخ طریقہ جو اسرائیل کے ساتھ امن سے رہے جس میں دونوں ممالک کے عوام کے لیے سکیورٹی کے ضروری انتظامات شامل ہوں۔

اس دورے کے دوران  ہمارے اہم مقاصد میں سے ایک، اُن تمام اقدامات کے جوہر  اور ترتیب کو وضح کرنا ہے جو ہمیں اس راستے پر جانے کے قابل بنانے کے لیے درکار ہوں گے۔ یہ ایک راستہ ہے۔ یہ واضح ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ہمیں ایک ایسی منزل تک پہنچا دے گا جس سے خطے میں تقریباً ہر ایک کو فائدہ پہنچے گا۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے یکساں طور پر پائیدار امن اور سلامتی لے کر آئے گا۔

مگر ایسے لوگ موجود ہیں جو خطے کو ایک مختلف سمت میں لے کر جانا چاہتے ہیں اور ایک مختلف راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں اور جو دیرپا امن اور سلامتی کی طرف بڑھنے کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ ہم نے گزشتہ دو ماہ میں اور حقیقت میں گزشتہ دو ہفتوں میں کیا کچھ دیکھا ہے یعنی شام اور عراق میں حملے، لبنان سے اسرائیل پر حملے، بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی پر حملے، اردن میں حملے جس میں تین امریکی فوجی مارے گئے، اور یقیناً 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ۔ ہر [حملہ] ایران کے تربیت یافتہ، مسلح کردہ، مالی امداد یافتہ اور تشکیل کردہ گروہوں کے ذریعے کیا گیا۔

ایران اور اس کے طفیلیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ حملے کسی نہ کسی طرح فلسطینی عوام کی طرف سے کر رہے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے اور یہ ان کی اصلی نیت کا نقلی چہرہ ہے۔ ان حملوں میں سے کسی ایک سے بھی فلسطینیوں کے حقوق، مواقع، سلامتی اور وقار کو بڑہاوا نہیں ملا۔ بنیادی طور پر اِن سب کا تعلق ایران کی طاقت کے حصول سے ہے۔

7 اکتوبر کے بعد سے ہم اس تنازعے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے ہر ایک کردار کو بہت واضح طور متنبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ ایسا نہ کریں۔ ہم نے صاف طور پر واضح کر دیا ہے کہ ہم اس تنازعے کو پھیلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے، ہم اس میں اضافہ ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ اور ہم یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ہمارے اہلکاروں کو، اگر ہمارے لوگوں کو دھمکایا گیا، اگر ان پر حملہ کیا گیا، تو ہم جواب دیں گے۔ ہم ان کا دفاع کریں گے۔

ہم تشدد کا جواب دے رہے ہیں ہم اسے شروع نہیں کر رہے۔ ہم کشیدگی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسے ہوا نہیں دے رہے۔ ایسا کرتے ہوئے ہم ایک ایسے طویل وقفے کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل کو استعمال کرنا جاری رکھیں گے جس کے تحت یرغمالی چھوڑ دیئے جائیں، [متاثرہ علاقوں میں] مزید امداد پہنچائی جا سکے، غزہ کے لوگوں کے لیے سکون لایا جا سکے اور جو سفارتکاری کی ایک مربوط اور زیادہ محفوظ خطے کی جانب پیش قدمی کو جاری رکھے۔

اِن کوششوں میں قطر کا ہمارے ساتھ بحیثیت شراکت کار شامل ہونا ہمارے لیے بہت خوش بختی کی بات ہے۔ آپ کا شکریہ

اصل عبارت پڑھنے کا لنک

 https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-and-qatari-prime-minister-and-minister-of-foreign-affairs-mohammed-bin-abdulrahman-al-thani-at-a-joint-press-availability-2/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future