امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
20 دسمبر، 2023

پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی۔سی

وزیر خارجہ بلنکن: سب کو صبح بخیر۔

سوال: صبح بخیر۔

وزیر خارجہ بلنکن: جب صدر بائیڈن نے عہدہ سنبھالا تو انہوں نے امریکہ کی طاقت کے سب سے بڑے وسائل پر دوبارہ سرمایہ کاری کرکے امریکہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ تب سے اب تک ہم نے یہی کچھ کیا ہے۔

ہم نے اندرون ملک اپنی مسابقتی اہلیت، اپنی فوج، اپنے بنیادی ڈھانچے، اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی صنعتی بنیاد کو بہتر بنانے کے لیے جو سرمایہ کاری کی ہے وہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں کی گئی۔ اسی طرح ہم نے دنیا بھر میں اپنے اتحادوں اور شراکتوں کے بے مثال نیٹ ورک کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنا کر یہی کچھ کیا ہے۔

2023 کے دوران ہم نے ثابت کیا کہ یہ حکمت عملی کارآمد ہے۔ کڑی آزمائشوں کے اس سال میں دنیا نے قیادت کے لیے امریکہ کی جانب دیکھا اور یہی وہ کام تھا جو ہم نے کیا۔ اس برس ہمارے دوستوں اور شراکت داروں نے انتہائی غیرمعمولی حالات میں بھی ہمارے ساتھ قیادت کی ذمہ داری میں اشتراک کے لیے نمایاں بعض اوقات بےمثال اقدامات اٹھائے۔

2024 کی جانب بڑھتے ہوئے ہم اُن ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے جو آزاد، کھلی، خوشحال اور محفوظ دنیا سے متعلق ہمارے جیسے تصور کے حامل ہیں۔ امریکہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا مقصد بھی اسی چیز کا تقاضا کرتا ہے۔

سب سے پہلے، ہم دنیا بھر کے ممالک کو یوکرین کی آزادی و خودمختاری کی حمایت اور روس کی جارحیت کو تزویراتی ناکامی میں بدلنے کے لیے اکٹھا کرنا جاری رکھیں گے۔ پوتن یوکرین کو دنیا کے نقشے سے مٹانے اور اسے روس کا حصہ بنانے کے اپنے بنیادی مقصد میں پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔

میدان جنگ میں یہ ایک مشکل سال رہا لیکن ایک مرتبہ پھر یوکرین نے وہ کچھ کر دکھایا جو کسی کو بھی ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یوکرین کے لوگ دنیا کی سب سے بڑی فوج کے مد مقابل جمے رہے۔ انہوں نے روس کے متعدد حملوں کے باوجود کوئی علاقہ نہیں کھویا اور انہوں نے روس کی بحریہ کو بحیرہ اسود میں پیچھے دھکیل کر ایک راہداری کھولی جس کے ذریعے وہ اپنا اناج اور دیگر پیداوار دنیا کو برآمد کر سکتے ہیں۔

روس عسکری، معاشی اور سفارتی اعتبار سے کمزور پڑ چکا ہے۔ نیٹو اتحاد اس وقت جتنا بڑا اور مضبوط ہے اتنا اپنی 75 سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہ تھا۔ اس برس ہم نے فن لینڈ کی صورت میں اپنے 31ویں رکن کو نیٹو کا حصہ بنایا۔ بہت جلد سویڈن بھی اس اتحاد میں شامل ہو جائے گا اور اس طرح ہمارے دفاعی اتحاد کی قوت اور صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

یوکرین کی کامیابی کے لیے بین الاقوامی مدد بہت اہم ہے۔ یورپ نے یوکرین کے لیے 110 ارب ڈالر اور امریکہ نے 70 ارب ڈالر مہیا کیے ہیں۔ اس طرح جب سے میں اِن مسائل پر کام کر رہا ہوں تب سے یوکرین کے معاملے میں اسے امریکہ اور یورپ کے درمیان بوجھ بانٹنے کی ایک بہترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔

ابھی گزشتہ ہفتے ہی یورپی یونین نے یوکرین کو اپنا حصہ بنانے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا ہے۔ جاپان، کوریا، آسٹریلیا اور بحر ہند و بحرالکاہل کے دیگر ممالک بھی یوکرین میں توانائی کے نظام کی تعمیر نو سے لے کر اسے بڑے پیمانے پر عسکری اور انسانی امداد دینے تک کے لیے سامنے آئے ہیں۔ ہماری طرح یہ ممالک بھی جانتے ہیں کہ یوکرین کو مدد دینے سے ہر جگہ مستقبل کے جارحین کو یہ پیغام جائے گا کہ ہم سرحدوں کو بزور طاقت تبدیل کرنے کے اقدام میں مزاحم ہوں گے۔

ہماری مدد سے صرف یوکرین کے لوگوں کو ہی فائدہ نہیں پہنچا۔ بلکہ اسے دی جانے والی 90 فیصد دفاعی امداد سے امریکہ میں کاروباروں، کارکنوں، مقامی لوگوں اور ملک کی دفاعی صنعت کی بنیادیں بھی مضبوط ہوئی ہیں۔

صدر پوتن نے حالیہ ہفتوں میں یہ لاف زنی کی ہے کہ ‘یوکرین کا کوئی مستقبل نہیں ہے’۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہمت ہارنے کا انتظار کرنے اور متواتر بڑی تعداد میں روسی نوجوانوں کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کی ان کی حکمت عملی کامیاب رہے گی۔ اس معاملے میں، میں صرف اور صرف ایک نکتے پر پوتن سے اتفاق کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ یوکرین کے بہادر سپاہیوں اور شہریوں کے لیے اپنی جنگ جاری رکھنے، روس کی جارحیت کو یقینی طور پر تزویراتی ناکامی میں بدلنے اور یوکرین کو عسکری، معاشی و جمہوری طور پر مضبوط بنانے میں امریکہ کی مدد بہت اہم ہے۔ پوتن اس مفروضے پر انحصار کر رہے ہیں کہ ہمارے اختلافات ہمیں یوکرین کی مدد سے روک دیں گے۔ لیکن ہم نے پہلے بھی انہیں غلط ثابت کیا ہے اور آئندہ ایک بار پھر انہیں غلط ثابت کریں گے۔

دوسری بات یہ کہ ہم طاقتور حیثیت سے چین کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا جاری رکھیں گے۔ بحرہند و بحرالکاہل میں ہماری شراکتیں اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ 2023 میں صدر بائیڈن نے کیمپ ڈیوڈ میں جمہوریہ کوریا اور جاپان کے ساتھ تاریخی سربراہی کانفرنس منعقد کی جس کا مقصد سہ فریقی تعاون کے نئے دور کو مضبوط بنانا تھا۔ ہم جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کی تیاری کے لیے برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم نے ویت نام اور انڈونیشیا کے ساتھ نئی جامع تزویراتی شراکتیں شروع کی ہیں، فلپائن کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ کیا ہے، جاپان اور فلپائن کے ساتھ نئے سہ فریقی اقدامات شروع کیے ہیں اور جزائر سولومن اور ٹونگا میں سفارت خانے کھولے ہیں۔ ہم نے انڈیا کے ساتھ اپنی شراکت کو مضبوط بنایا ہے اور ہم نے انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ کواڈ کے ذریعے اپنے تعاون میں اضافہ کیا ہے۔

چین کی جانب سے درپیش مسائل کے حوالے سے امریکہ، جی7، یورپی یونین اور اپنے دیگر اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ پہلے کی نسبت اور زیادہ قریب ہو گیا ہے۔ ہم ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اکٹھے کام کر رہے ہیں۔ ہم نیٹو اور بحرہند و بحرالکاہل میں اپنے اتحادیوں کے مابین تعاون اور ارتباط کو مزید بہتر بنا رہے ہیں۔ ان کوششوں کی بدولت ہمیں چین کے دھونس دھاندلی والے تجارتی اور معاشی طریقہائے کار، آبنائے تائیوان اور مشرقی و جنوبی بحیرہ چین میں امن و استحکام لانے اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات سے نمٹنے کے لیے زیادہ موثر طورپر کام کرنے میں مدد ملی ہے۔

اس کے علاوہ اعلیٰ سطحی سفارت کاری کو بحال کرنے کی ہماری کوششوں سے مسابقت کے تصادم میں تبدیل ہونے کے خدشے کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی ممکن ہوئے ہیں۔ اس سفارت کاری کا آغاز جولائی میں میرے چین کے دورے سے ہوا۔ اس طرح ہمیں اُن معاملات پر پیش رفت میں بھی مدد ملے گی جو ہمارے شہریوں کے لیے اہم ہیں۔ گزشتہ ماہ صدر بائیڈن اور صدر شی کی ملاقات سے اس پیشرفت کا بھرپور اظہار دیکھنے کو ملا اور اس دوران ایسے معاملات پر ٹھوس پیش رفت ہوئی جو امریکہ اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

ہم نے ایسے کیمیائی مادوں کے استعمال کی بابت چین کا تعاون حاصل کیا ہے جو سنتھیٹک منشیات کے بحران میں شدت لا رہے ہیں۔ ہم دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تمام سطحوں پر روابط بحال کر رہے ہیں تاکہ کسی غلط فہمی اور تصادم کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ ہم نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں خدشات پر قابو پانے اور حفاظتی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ میں آئندہ برس اِن مذاکرات کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں۔

تیسری بات یہ کہ ہم ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے اتحادوں کی تشکیل اور ان کی قیادت جاری رکھیں گے جو ناصرف ہماری بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کی بہتری کے لیے اکٹھے کام کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ 2023 میں ہم نے غذائی عدم تحفظ پر قابو پانے، مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور قابل اعتماد نظام کی تیاری، سنتھیٹک منشیات کے بحران سے نمٹنے، غیرملکیوں کو اپنے فائدے کے لیے ناجائز حراست میں رکھنے والی حکومتوں سے جواب طلبی اور انتہائی کمزور ممالک سمیت ترقی پذیر دنیا میں مادی، ڈیجیٹل، ماحول دوست توانائی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے سیکڑوں ارب ڈالر جمع کرنے کے لیے حکومتوں، کاروباروں، سول سوسائٹی اور علاقائی و کثیرفریقی اداروں کو اکٹھا کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ایسی اصلاحات کی پرزور حمایت کی جن کی بدولت بین الاقوامی نظام کو مزید مشمولہ، موثر اور ایسے مسائل کے حل کے لیے مزید جامع بنانے میں مدد مل سکے گی۔ اس نظام میں عالمی بنک اور جی 20 بھی شامل ہیں جن میں اب افریقن یونین ایک مستقل رکن کی حیثیت سے شامل ہو چکی ہے۔

ایسی تمام اور دیگر ترجیحات پر امریکہ کے لوگوں کے فائدے کے لیے کام کرنے کا مطلب دنیا بھر کے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر کے لوگوں کو پہنچنے والا فائدہ امریکہ کے لوگوں کی زندگی میں بھی بہتری لائے گا۔ فینٹنائل اور دیگر سنتھیٹک منشیات کی ترسیل کو محدود کر کے ہم ناصرف امریکہ میں 18 سے 49 سال عمر کے لوگوں کی اموات کو روکیں گے بلکہ دنیا بھر میں خاندانوں کو تکالیف پہنچانے والے اس مسئلے کا خاتمہ بھی کریں گے جس سے ایسی جرائم پیشہ تنظیموں کی بیخ کنی ممکن ہو سکے گی جو ان لوگوں کے مصائب سے منافع کماتی ہیں۔

جب ہم اپنے جمہوری شراکت داروں اور اتحادیوں کو ایسے ممالک میں ماحول دوست توانائی کے بنیادی ڈہانچے کرنے کے لیے اکٹھا کرتے ہیں جو اپنے تئیں یہ بنیادی ڈہانچے تیار کرنے کی استظاعت نہیں رکھنے تو ہم اپنی سانجھی دنیا کو محفوظ بنانے اور امریکہ کے کارکنوں، کاروباروں اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع تخلیق کرتے ہیں۔ جب ہم دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ایسی حکومتوں سے جواب طلبی کرتے ہیں جو اپنے سیاسی مفادات کے لیے غیرملکیوں کو ناجائز حراست میں رکھتی ہیں تو اس طرح ہم اپنے ہم وطن شہریوں کو واپس لانے کے لیے مزید موثر دباؤ ڈالتے ہیں۔ ایسا کرنے سے دنیا بھر کے ممالک کے کمزور لوگوں کو تحفظ ملتا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تصادم میں ہم اپنی بنیادی ترجیحات پر سختی سے کاربند رہیں گے۔ ان میں اسرائیل کی یہ یقینی بنانے میں مدد کرنا کہ 7 اکتوبر جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہونے پائیں، بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان اور تکالیف کو کم سے کم رکھتے ہوئے جتنا جلد ہو سکے اس تصادم کا خاتمہ کرنا، حماس کی قید میں باقیماندہ یرغمالیوں کو واپس لانا، اس تنازع کو پھیلنے سے روکنا اور تشدد کے اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر کے پائیدار امن کے قیام کو ممکن بنانا شامل ہیں۔ ہماری یہ سوچ برقرار رہے گی کہ اسرائیل کو حماس کے خطرے کا خاتمہ کرنے اور غزہ میں شہریوں کے نقصان کو کم از کم رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔ اسے یہ دونوں کام بیک وقت کرنا ہوں گے اور اسی میں اس کا تزویراتی مفاد ہے۔

ہم یہ یقینی بنانے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم ہیں کہ اس ہولناک المیے سے اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور پورے خطے کے لیے پائیدار امن اور سلامتی کے مواقع پیدا ہوں اور اس تاریکی سے روشنی کی کرنیں پھوٹیں۔ ہمیں یہ احساس ہے کہ اس امکان کو عملی صورت دینے کے امریکہ سمیت تمام فریقین کو ایسے اقدامات کے بارے میں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے جو وہ اٹھانے کو تیار ہیں۔ ہم اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر اور تخلیقیت سے کام لیں گے کیونکہ امریکہ کے مفادات اس کا تقاضا کرتے ہیں۔

یہی وہ جذبہ ہے جس نے بظاہر انتہائی دشوار تنازعات میں صدر بائیڈن کی شخصیت کو اجاگر کیا ہے۔ نائب صدر کی حیثیت سے انہوں نے عراق جنگ کے خاتمے کی نگرانی کی۔ صدر کی حیثیت سے انہوں نے افغانستان میں امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے یمن میں جنگ بندی میں توسیع میں مدد کی۔ اب وہ مشرق وسطیٰ میں بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔

اپنی ہر ایک ترجیح میں امریکہ پہلے سے زیادہ موثر رہا ہے اور اس کی وجہ ایسے اقدامات ہیں جو ہم نے محکمہ خارجہ کو مزید مضبوط، مستعد اور مزید متنوع بنانے کے لیے اٹھائے ہیں۔ اس حوالے سے ہم نے 2023 میں اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ کانگریس کے ساتھ اشتراک کے ذریعے دفتر خارجہ نے رواں سال 106 سماعتوں میں شرکت کی جو ہمارے حساب سےایک ریکارڈ تعداد ہے اور ہم نے عملے کی کمی کو دور کرنے کے لیے تیزرفتاری سے تعیناتیاں ممکن بنائیں-

ہم نے اپنی سفارت کاری میں صحت کے عالمگیر تحفظ پر کام کو آگے بڑھانے اور اسے مربوط بنانے کے لیے ایک نیا شعبہ قائم کیا۔ ہم نے محکمے کے زیرتربیت اہلکاروں کی تعداد میں سیکڑوں مزید لوگوں کا اضافہ کیا۔ ہم نے درجنوں نئے کورس متعارف کرائے اور پیشہ وارانہ ترقی کے مواقع پیدا کیے۔ ہم نے مختلف ممالک میں امریکی سفارت خانوں میں کام کرنے والے عملے کے لیے عالمی سطح پر کم از کم اجرت مقرر کی۔ ہم نے تعلیمی قرضوں کے پروگرام تک رسائی میں اضافہ کیا، ملازمین کے خاندانوں کے اہل ارکان کے لیے ملازمتی مواقع بڑھائے اور محکمے کے اہم ترین ذریعے یعنی اس کے لوگوں کے لیے مزید بہت سے اقدامات کیے۔

جیسا کہ آپ نے صدر بائیڈن کو یہ کہتے سنا ہو گا کہ ہم اپنے ملک اور دنیا کی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہماری اس وقت کی کامیابی یا ناکامی کے آنے والی دہائیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر ہم اُن مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ کے لوگوں کی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے لیے، اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں اور عالمگیر مسائل کو حل کرنے کی اپنی صلاحیت پر سرمایہ کاری کرتے رہنا ہو گا۔ یہ کام کرنے کے لیے ہمیں صدر کی کانگریس کو بھیجی جانے والی قومی سلامتی کے لیے اضافی فنڈز کی درخواست کی منظوری کی ضرورت ہے۔

اگر کانگریس ان اضافی وسائل کے اجرا کی منظوری دیتی ہے تو اس سے ہمارے ہم وطن شہریوں، ہمارے کاروباروں، ہمارے کارکنوں، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں اور دنیا بھر کے ان لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جو قیادت کے لیے امریکہ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اگر ہم اس میں ناکام رہتے ہیں تو ماسکو، تہران اور بیجنگ کو خوشی ہوگی۔ اگر ہم ایسا نہیں کر پاتے تو ہماری ناکامی کے ذمہ دار ہمارے مخالفین اور مسابقت دار نہیں بلکہ ہم خود ہوں گے۔

آپ کے چند سوالات کا جواب دینے سے پہلے میں پریس کور اور آپ سبھی صحافیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جو اس وقت یہاں کمرے میں موجود ہیں اور اُن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو غالباً اس کمرے سے باہر مجھے سن رہے ہیں۔ یہ سال دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک سال ثابت ہوا۔ اس دوران بہت سے صحافیوں کی ہلاکت ہوئی، بہت سے زخمی ہوئے، سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا، ان پر حملے ہوئے، انہیں دھمکایا اور زخمی کیا گیا اور ان سب کی وجہ ان کا [صحافتی] کام تھا۔ اس کے باوجود آپ اپنا کام کرتے رہے۔ آپ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ثابت قدم رہے اور میں اس پر آپ کا شکرگزار ہوں۔

آج یہاں ایسے بہت سے صحافی موجود ہیں جن کے ساتھ گزشتہ برس میرا واسطہ رہا۔ مجھے آپ سے یہ کہنا ہے کہ مشکل سوالات کرنے اور درست جواب حاصل کرنے کے لیے آپ کی انتھک کوششیں اور ان معلومات کو دنیا بھر میں لوگوں تک پہنچانا عوامی خدمت ہے۔ ہمارا اور آپ کا یہ کام کرتے رہنا آگاہی، لوگوں کی شمولیت، سچائی، احتساب اور جمہوریت کے لیے بہت ضروری ہے اور ہمارے نزدیک اِن تمام کاموں کی بیحد اہمیت ہے۔ آپ یہ کام ایسے انداز میں کرتے ہیں جس سے ایسی دنیا میں لوگوں کے ساتھ انسانی برتاؤ میں مدد ملتی ہے جو تیزی سے غیرانسانی طرزعمل کی جانب مائل ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لیے چاہے میں اس کا اظہار نہ بھی کروں تو بھی میں اس کام پر آپ مشکور ہوں۔

اب مجھے آپ کے چند سوالات کا جواب دے کر خوشی ہو گی۔

اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-at-a-press-availability-44/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future