امریکی محکمہ خارجہ  

ترجمان کا دفتر  

9 جنوری 2024 

ڈیوڈ کمپنسکی ہوٹل

تل ابیب، اسرائیل  

وزیر خارجہ بلنکن: شام کا سلام

7 اکتوبر کے حماس کے ہولناک حملوں کے بعد سے اسرائیل کا یہ میرا چوتھا دورہ ہے۔ لہذا تین ماہ سے کچھ زیادہ یعنی 95 دن قبل ہونے والے حملوں کے بعد میں چوتھی مرتبہ یہاں آیا ہوں۔

ہمیں احساس ہے اُن لوگوں کا وقت ایک مختلف انداز سے گزر رہا ہے جو اِن حملوں اور اس کے بعد ہونے والے تصادم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

ابھی ابھی میں غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلیان خانہ اور اُن یرغمالیوں سے مل کر آیا ہوں جو اب رہا کر دیئے گئے ہیں۔ اِن خاندانوں میں سے بہت سوں کے ساتھ اب تک میں کئی بار مل چکا ہوں۔ اُن کے لیے اپنے پیاروں سے جدائی کا ہر دن، ہر گھنٹہ ہر منٹ ایک نہ ختم ہونے والا زمانہ ہے۔

غزہ کے خاندانوں کے لیے بھی وقت ایک مختلف قسم کا احساس لیے ہوئے ہے۔ اِن میں لاکھوں لوگوں کو خوراک کے شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ بھوکے بچے کو کچھ کھلانے کے لیے کھانے کی کسی چیز کی تلاش کرنے والی ماں یا باپ کے لیے خوراک کے بغیر ایک اور دن کا گزر جانا اذیت ناک ہے۔

اُن اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو بھی وقت مختلف محسوس ہوتا ہے جن کے بے گناہ پیارے مارے جا چکے ہیں۔ ان کے لیے وقت اکثر “پہلے” اور “بعد” کے زمانوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ اُن کا “بعد” ایک ایسے نقصان سے بھرا ہوا ہے جسے ہم کبھی جان نہیں پائیں گے اور نہ ہی اس کا پوری طرح سے تصور کیا جا سکتا ہے۔

یہ اس امر کی چند ایک مثالیں ہیں کہ یہ 95 دن اس تصادم سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگوں پر کتنے بھاری گزرے ہیں۔ دکھ محسوس کرنے کا یہ عمل ابھی جاری ہے۔

انسانی جانوں کے اس بھاری نقصان کا شمار اُن بہت سی وجوہات میں ہوتا ہے جن کی بنیاد پر ہم یہ یقینی بنانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں کہ 7 اکتوبر دوبارہ کبھی بھی رونما نہ ہو سکے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم باقیماندہ یرغمالیوں کو اُن کے گھروں میں واپس لانے، انسانی بحران سے نمٹنے اور غزہ میں شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور تصادم کو پھیلنے سے روکنے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار کرنے کی خاطر فوری طور پر کام کر رہے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرانا اِن تمام اہم کوششوں سے دنیا کی توجہ ہٹاتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ نسل کشی کا الزام بے بنیاد ہے۔

جب ہم حماس، حزب اللہ، حوثی، نیز ان کے حامی ایران کو اسرائیل پر حملے کرتے اور کھلے عام اسرائیل کو فنا کرنے اور یہودیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے کا مسلسل مطالبہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہ الزام تکلیف دہ بن جاتا ہے۔

اس دورے کے دوران میں نے ترکیہ، یونان، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں او اس کے بعد میں اسرائیل آیا ہوں۔

یہ سب رہنما تصادم کے پھیلاؤ کے حوالے سے ہماری تشویش میں شریک ہیں۔ یہ سب اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے، اس تصادم کو روکنے کے لیے اپنے موجودہ روابط کو استعمال کرنے، نئے محاذ کھولنے سے باز رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

  اس کے علاوہ سبھی نے سنگین انسانی صورتحال اور غزہ میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ ایک ایسے دشمن کا سامنا کرنا انتہائی مشکل کام ہے جو عام شہریوں میں گھل مل جاتا ہو، جو سکولوں، ہسپتالوں میں چھپ جاتا ہو اور وہاں سے فائرنگ کرتا ہو۔ تاہم غزہ میں روزانہ ہلاک اور زخمی ہونے والے عام شہریوں، خاص طور پر بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

غزہ میں امداد پہنچانے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جس میں کیرم شلوم  کے داخلی راستے کو کھولنا بھی شامل ہے۔

بہر حال اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی 90 فیصد آبادی کو خوراک کے شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ بچوں کے حوالے سے خوراک کی معقول مقدار کے بغیر رہنے کے اثرات زندگی بھر بھگتنے والے نتائج مرتب کر سکتے ہیں۔

میں نے آج اپنی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں زیادہ سے زیادہ خوراک، پانی، ادویات، اور دیگر ضروری اشیاء کی ضرورت ہے۔ اور جب یہ سب اشیاء غزہ پہنچا دی جائیں گیں تو اِنہیں ضرورتمند لوگوں تک زیادہ موثر طریقے سے پہنچانا ضروری ہو گا۔

  اور اسرائیل کو غزہ کے دوسرے حصوں میں داخلی راستوں سے تمام رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ امداد بحفاظت اور محفوظ طریقے سے پہنچائی جا سکے تنازعات کے خاتمے کے طریقہ کار کو بہتر بنانا اس کام کا ایک اہم حصہ ہے۔

اقوام متحدہ غزہ میں بے پناہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک ناگزیر کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں۔

غزہ میں اقوام متحدہ کے اہلکار اور دیگر امدادی کارکنان انتہائی مشکل حالات میں زندگی بچانے کی خدمات فراہم کرنے کے لیے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

میں نے کل رات غزہ کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی اور تعمیرِنو کی نئے اعلٰی رابطہ کار، سیگریڈ کاگ سے اُن تمام کوششوں کے بارے میں بات کی جو اس وقت کی جا رہی ہیں۔

سیگریڈ کاگ وہ شخصیت ہیں جن کے ساتھ میں نے چند برس قبل اُس وقت بہت قریبی طور پر کام کیا تھا جب وہ شام میں اسد حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن کی سربراہ تھیں۔ لہذا میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ یہ ذمہ داری پوری کرنے کی اہل ہیں۔

انہیں امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہیں اسرائیل کی بھی مکمل حمایت حاصل ہونا چاہیے۔

آج ہم نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کی مرحلہ وار منتقلی پر بھی بات کی۔ ہم اس حوالے سے اپنے بہترین مشورے پیش کرتے رہتے ہیں کہ اسرائیل کس طرح اس بات کو یقینی بنانے کا اپنا اہم مقصد حاصل کر سکتا ہے کہ 7 اکتوبر کو کبھی بھی دہرایا نہ جا سکے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل اس بنیادی مقصد کے حصول میں اہم پیش رفت کر چکا ہے۔

آج ایسے میں ہم نے اقوام متحدہ کے جائزے کے مشن کے کام شروع کرنے پر اتفاق کیا جب اسرائیل کی مہم شمالی غزہ میں کم شدت کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور اسرائیلی فوج وہاں اپنے دستوں میں کمی لا رہی ہے۔ یہ مشن اس بات کا تعین کرے گا کہ بے گھر فلسطینیوں کو شمال میں بحفاظت گھروں کو واپس جانے کی اجازت دینے کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ کام راتوں رات ہونے والا نہیں ہے۔ سکیورٹی، بنیادی ڈھانچے، اور انسانی مسائل کے حوالے سے سنگین مشکلات درپیش ہیں۔ لیکن [اقوام متحدہ کا] مشن ایک ایسے عمل کا آغاز کرے گا جس کے تحت ان رکاوٹوں اور ان پر قابو پانے کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

آج کی ملاقاتوں کے دوران میں نے قطعی طور پر واضح کیا کہ فلسطین کے لوگوں کو جب حالات اجازت دیں اپنے گھروں کو واپس جانے کے قابل ہونا چاہیے۔ ان پر غزہ چھوڑنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ جیسا کہ میں نے وزیر اعظم کو بھی بتایا، امریکہ غزہ سے باہر فلسطینیوں کی آبادکاری کی حمائت کرنے والی کسی بھی تجویز کو بلا شک و شبہ مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور وزیر اعظم نے آج اس بات کی تصدیق کی کہ یہ اسرائیل کی حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔

ہم نے لبنان کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحد پر کشیدگی پر بھی بات کی۔ اس سرحد سے حزب اللہ اسرائیل پر روزانہ راکٹ حملے کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ جیسا کہ میں نے جنگی کابینہ اور دیگر اعلیٰ حکام کو بتایا، امریکہ اسرائیل کی شمالی سرحد کے محفوظ رہنے کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر کسی بھی ایسے سفارتی حل کی تلاش کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں جس کے تحت کشیدگی سے گریز کیا جائے اور لوگوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے کی اجازت ہو اور شمالی اسرائیل کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں بھی محفوظ طریقے سے رہنا ممکن ہو۔

آخر میں، ہم اس موضوع  پر بات چیت کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں کہ خطے میں اسرائیل کے لیے زیادہ دیرپا امن اور سلامتی کیسے پیدا کی جائے۔ جیسا کہ میں نے وزیر اعظم کو بتایا، اُن تمام شراکت داروں نے جن سے میری اس دورے کے دوران ملاقاتیں ہوئیں کہا کہ وہ ایک ایسے دیرپا حل کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں جو تشدد کے ایک طویل عرصے سے جاری اس چکر کا خاتمہ کرے اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف ایک ایسی علاقائی سوچ کے تحت ہی ہو سکتا ہے جس میں فلسطینی ریاست کا راستہ شامل ہو۔

یہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے لیے مل کر کام کیا جائے۔ اس بحران نے واضح کر دیا ہے کہ آپ ایک کے بغیر دوسرا مقصد حاصل نہیں کر سکتے اور آپ مربوط علاقائی نقطہ نظر کے بغیر ان دونوں میں سے کوئی مقصد بھی حاصل نہیں کر سکتے۔

اس کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے اسرائیل کو اُن فلسطینی رہنماؤں کا شراکت دار بننا چاہیے جو اپنے لوگوں کی اسرائیل کے ساتھ امن کے ساتھ اور پڑوسی کے طور پر رہنے کے لیے قیادت کرنے پر تیار ہوں۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرنا بند کر دے جس سے فلسطینیوں کی مؤثر طریقے سے حکومت کرنے کی اہلیت کو نقصان پہنچتا ہو۔ سزا سے مستثنیٰ انتہاپسند آباد کاروں کا تشدد، بستیوں میں توسیع، اُن کی مسماریاں، وہاں سے بے دخلیاں، یہ سب کچھ اسرائیل کے لیے دیرپا امن اور سلامتی کے حصول کو زیادہ آسان نہیں بلکہ مزید مشکل بناتے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اپنے طرز حکمرانی کو بہتر بنائے۔ دیگر کہ علاوہ یہ وہ مسائل ہیں جنہیں میرا صدر عباس کے ساتھ کل اُس وقت اٹھانے کا ارادہ ہے جب میں اُن سے ملوں گا۔

اگر اسرائیل چاہتا ہے کہ اس کے عرب پڑوسی اس کی پائیدار سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے درکار مشکل فیصلے کریں، تو اسرائیلی رہنماؤں کو خود بھی مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

جب صدر بائیڈن نے 7 اکتوبر کے حملے کے چند دن بعد اسرائیل کےعوام سے خطاب کیا تو انہوں نے ایک بہت ہی سادہ سا وعدہ کیا تھا: امریکہ آج اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے اور کل اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ ہمارے ممالک کے درمیان دوستی حقیقی معنوں میں غیرمعمولی ہے۔ یہ ہمارا ایک منفرد بندھن ہے اور اسرائیل کے عوام کے ساتھ امریکہ کی یہ دیرپا وابستگی ہی ہے جو اس بات کی اجازت دیتی ہے – درحقیقت، مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اُن لمحات میں جہاں تک ممکن ہو سکے صاف گوئی سے کام لیں جب سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، جب ہمارے فیصلے سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ لمحہ انہی لمحات میں سے ایک ہے۔

آپ کے کچھ سوالات کے جواب دے کر مجھے خوشی ہوگی۔

اصل عبارت پڑھنے کا لنک

https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-at-a-press-availability-45/

  

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

 

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future