ڈیوڈ کیمپنسکی ہوٹل

تل ابیب، اسرائیل

 فروری7 2024

وزیر خارجہ بلنکن: شام کا سلام۔ 7 اکتوبر کے بعد اس خطے کا یہ میرا پانچواں اور اسرائیل کا ساتواں دورہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں باقی ماندہ تمام مغویوں کو وطن واپس لانے کی مشترکہ کوششوں کے بارے میں اپنے شراکت داروں سے براہ راست مشورہ کرنے کے لیے یہاں واپس آیا ہوں۔ اپنے پچھلے دوروں کے دوران اور واشنگٹن میں، میں نے یرغمالیوں کے خاندانوں سے کئی بار ملاقاتیں کی ہیں اور مجھے اُن سے کل دوبارہ ملنے کی توقع ہے۔

اپنے پیاروں کے انجام کے بارے میں نہ جاننے کی شدید اذیت کا تصور کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہ درد تقریباً ناقابل برداشت ہے۔ اسی لیے ہم نے پہلے دن ہی سے یرغمالیوں کو یعنی تمام یرغمالیوں کو ان کے اہل خانہ کے ہاں پہنچانے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جو کہ اُن کی جگہ ہے۔ اور ہم اس انہماک کو اس وقت تک برقرار رکھیں گے جب تک کہ ہم انہیں واپس نہیں لے آتے۔

آج ہمارے پاس اسرائیلی حکومت کے ساتھ اُس ردعمل پر بات کرنے کا موقع تھا جو حماس نے کل رات اس تجویز کے جواب میں بھیجا تھا جو امریکہ، قطر اور مصر نے مل کر باقی یرغمالیوں کو واپس لانے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لڑائی میں وقفے میں توسیع کرنے کے لیے تیار کی تھی۔ میں آپ کو ان بات چیتوں کے بارے میں جو کچھ بتا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگرچہ حماس کے ردعمل میں بعض ایسے واضح نکات موجود ہیں جنہیں نہیں مانا جا سکتا تاہم ہم یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اس ردعمل سے کسی نہ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی گنجائش نکلتی ہے۔ اور جب تک ہم وہاں نہیں پہنچ جاتے ہم اس پر مسلسل محنت کرتے رہیں گے۔

ہم نے وزیراعظم اور قومی سلامتی کے رہنماؤں کے ساتھ حماس کو شکست دینے کی فوجی مہم کی موجودہ صورت حال اور 7 اکتوبر کے دوبارہ کبھی نہ وقوع پذیر ہونے کو یقینی بنانے کے بنیادی مقصد کے حصول کی جانب پیش رفت پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر اسرائیل کی شمالی سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کی سفارتی کوششوں پر کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ لوگ شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان دونوں علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور امن و سلامتی سے رہ سکیں۔

ہم نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کے موجودہ مصائب سے نمٹنے کے لیے شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لوازمات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تقریباً 20 لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد کا کوئی نہ کوئی پیارا اُن سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے۔ اور ہر روز مزید لوگ مارے جا رہے ہیں۔

میرے یہاں کے پچھلے تمام دوروں کے دوران اور ان کے درمیان والے دنوں میں ہم نے شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور ضرورت مندوں تک مزید امداد پہنچانے کے لیے ہر روز اسرائیل پر ٹھوس طریقوں سے دباؤ ڈالا ہے۔ اور گزشتہ چار ماہ میں اسرائیل نے بالکل یہی کام کرنے کی خاطر اہم اقدامات اٹھائے ہیں یعنی امداد کا بہاؤ شروع کرنا؛ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے پہلے وقفے کے دوران اس [امداد] کو دوگنا کرنا؛ غزہ میں شمالی اور جنوبی راہداریوں کو کھولنا تاکہ لوگ ان راہداریوں کے ذریعے تین گھنٹے کے نوٹس پر چار گھنٹے کے روزانہ وقفے کے دوران فوری خطرات کے حامل علاقوں سے نکل سکیں؛ کیریم شالوم کو کھولنا؛ اردن سے امداد کا بہاؤ شروع کرنا؛ انسانی امداد کے مراکز کے حوالے سے لڑائی کے خاتمے کا طریقہ کار طے کرنا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں آج 7 اکتوبر کے بعد سے پہلے سے کہیں زیادہ امداد غزہ پہنچ رہی ہے۔

فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد کے سب سے بڑے عطیہ دہندہ [ملک] کی حیثیت سے  امریکہ نے اشدود بندرگار سے فراہم کیے گئے 90,000 میٹرک ٹن آٹے کے لیے  فنڈز کی فراہمی سمیت اس امداد کا ایک بڑا حصہ فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ آٹا اگلے پانچ ماہ تک 14 لاکھ لوگوں کو روٹی مہیا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک ٹیم نے شمال میں موجود عام شہریوں کے حالات کا جائزہ لینے کا اپنا مشن شروع کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹیم یہ جائزہ بھی لے گی کہ بے گھر فلسطینیوں کو شمال میں [اپنے گھروں] میں واپس جانے کے قابل بنانے کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

میں نے آج وزیر اعظم اور دیگر اسرائیلی حکام سے بھی کہا ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود اِن کی فوجی کارروائیوں میں روزانہ مارے جانے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ میں نے آج کی اپنی بات چیت میں بعض اُن اہم اقدامات پر روشنی ڈالی جو اسرائیل کو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اٹھانے چاہیئیں کہ مزید امداد غزہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ اسرائیل کو ایریز کو کھولنا چاہیے تاکہ امداد شمالی غزہ تک پہنچ سکے جہاں جیسا کہ میں بتا چکا ہوں لاکھوں لوگ انتہائی خراب حالات میں زندہ رہنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اسے اردن سے انسانی امداد کے بہاؤ کو تیز کرنا چاہیے۔ اسے تصادم کے خاتمے کو مضبوط بنانا چاہیے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والوں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا چاہیے۔ اور اسرائیل کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ غزہ میں انسانی جانیں بچانے والی امداد کی فراہمی کو کسی بھی وجہ سے اور کسی کی طرف سے نہ روکا جائے۔

ہم اسرائیل پر زور دیتے ہیں کہ وہ شہریوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرے۔ ہم بخوبی طور پر جانتے ہیں کہ اسرائیل کو ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو خود کو کبھی بھی ان معیارات پر نہیں پرکھتا۔ یہ ایک ایسا دشمن ہے جو مرد، عورتوں اور بچوں کے درمیان بدطینتی سے اپنے آپ کو چھپاتا ہے، اور ہسپتالوں سے، سکولوں سے، مساجد سے، رہائشی عمارتوں سے راکٹ فائر کرتا ہے۔ ایک ایسا دشمن جس کے راہنما اپنے آپ کو یرغمالیوں سے گھیرے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا دشمن جس نے عوامی سطح پر اپنے ان مقاصد کا اعلان کر رکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو محض اس لیے قتل کیا جائے کہ وہ یہودی ہیں اور اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے۔

اسی لیے ہم نے واضح کر رکھا ہے کہ اسرائیل حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے میں کلی طور پر حق بجانب ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے اس حق کی حمایت کرنے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ کام کیا ہے کہ وہ یہ یقینی بنا سکے کے 7 اکتوبر دوبارہ کبھی بھی وقوع پذیر نہ ہو۔

7 اکتوبر کو اسرائیلیوں کے ساتھ انتہائی ہولناک طرح کا غیرانسانی سلوک کیا گیا۔ اس کے بعد سے یرغمالیوں کے ساتھ  ہر روز غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ لیکن اُن کی یہ [حرکتیں] دوسرے لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کا اجازت نامہ نہیں بن سکتیں۔ غزہ کے لوگوں کی بھاری اکثریت کا 7 اکتوبر کے حملوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اور غزہ کے وہ خاندان جن کی بقا کا انحصار اسرائیل کی طرف سے امداد کی فراہمی پر ہے بالکل ہمارے خاندانوں کی طرح ہیں۔ وہ مائیں اور باپ، بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ وہ اچھی روزی کمانا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کو سکول بھیجنا چاہتے ہیں، معمول کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ وہ اسی طرح کے ہیں اور وہ یہی کچھ چاہتے ہیں۔ ہم اِن سب چیزوں کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کر سکتے اور ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اپنی مشترکہ انسانیت کو نظروں سے اوجھل نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہمیں اسے اوجھل ہونے دینا چاہیے۔

ہم خطے میں سب کے لیے اور خاص طور پر اسرائیل کے لیے منصفانہ اور دیرپا امن اور سلامتی کی خاطر سفارتی راستہ اختیار کرنے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔ یہ سفارتی راستہ ایک ایسے وقت میں زیادہ سے زیادہ توجہ کا مرکز بنتا جا رہا جب میں پورے خطے میں سفر کررہا  ہوں اور اپنے تمام دوستوں اور شراکت داروں سے بات کر رہا ہوں۔ ایک ایسا اسرائیل ہو جو خطے کے ساتھ مکمل طور پر مربوط ہو، جس کے سعودی عرب سمیت کلیدی ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات ہوں اور جسے اپنی سلامتی کی ٹھوس ضمانتیں حاصل ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی فلسطینی ریاست کا عملی، طے شدہ نظام الاوقات، ناقابل تنسیخ لائحہ عمل ہو جو سکیورٹی کی ضروری یقین دہانیوں کے ساتھ اسرائیل کے پہلو بہ پہلو امن و سلامتی سے رہے۔

اس دورے کے دوران ہم نے اُن اقدامات کے جوہر اور ترتیب پر تبادلہ خیال کیا جن کی ہم سب کو اس راستے کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان میں فلسطینی اتھارٹی کو اپنی اصلاح کرنے اور ازسرنو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ میں نے آج صدر عباس کے ساتھ اپنی ملاقات میں اِن بڑے اقدامات کی شدید ضرورت کا اعادہ کیا۔ اِن اقدامات میں دیگر کے علاوہ گورننس کی بہتری، فلسطینی عوام کے سامنے جوابدہی میں اضافہ، اور وہ اصلاحات شامل ہیں جنہیں متعارف کرانے کے لیے فلسطینی اتھارٹی نے حال ہی میں اپنے اعلان کردہ ایک اصلاحاتی پیکیج میں وعدہ کیا ہے۔ ہم اِن اصلاحت کو تیزی سے عملی جامہ پہنانے پر زور دے رہے ہیں۔

ہم خطے میں بہت سے کرداروں کو اُس راستے پر چلنے کے لیے تیار ہوتا دیکھ سکتے ہیں جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ لیکن بعض ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بعض اس راہ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران اور اس کے طفیلی تشدد کے اُس چکر کا دائرہ کار بڑھانے اور پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں جسے ہم سب توڑنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کا دفاع کرنا جاری رکھیں گے، ہم اس طرح کے حملوں کے صورت میں اپنے مفادات کا دفاع کرنا جاری رکھیں گے۔ ان [اقدامات] کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینا نہیں بلکہ اسے روکنا ہے۔

آخری بات، آج میں نے وزیر اعظم اور اعلٰی حکام کے ساتھ اپنی بات چیت میں حکومتی عہدیداروں سمیت اُن اقدامات اور بیان بازیوں کے بارے میں اپنے گہرے خدشات کا اظہار کیا، جو تناؤ کو ہوا دیتے ہیں، جو بین الاقوامی حمایت کو کم کرتے ہیں، اور اسرائیل کی سلامتی پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں۔ اسرائیلی عوام نے اس قوم کو بنانے اور اس کا دفاع کرنے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ آخرکار وہ ہی صحیح راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ کیا وہ حقیقی امن اور حقیقی سلامتی کے طویل عرصے سے نہ پورے ہونے والے امکان کے تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے درکار مشکل فیصلے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بھلے یہ 14 مئی 1948 ہو یا 7 اکتوبر 2023 ہو، اسرائیل کے ایک حقیقی دوست کی حیثیت سے، ایک ایسے ملک کے طور پر جو ہمیشہ سب سے پہلے اس کا ساتھ دیتا ہے، ہم ہمیشہ اس ملک [اسرائیل] کے سامنے جو راستے ہیں اُن کے انتخاب کے بارے میں اپنے بہترین مشورے دیتے ہیں بالخصوص ایسے راستے جو بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ آپ کا شکریہ۔ آپ کے کچھ سوالوں کا جواب دے کر مجھے خوشی ہوگی۔

اصل عبارت پڑھنے کا لنک:

 https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-at-a-press-availability-46/

 

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

# # #

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future