امریکی دفتر خارجہ
ترجمان کا دفتر
26 جنوری، 2022
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی

وزیر خارجہ بلنکن: سبھی کو سہ پہر بخیر۔

میں نے اور روس کے وزیر خارجہ لاؤرو نے گزشتہ ہفتے جینیوا میں ملاقات کی جس کا مقصد یوکرین کی سرحدوں پر روس کے فوجی اجتماع سے پیدا ہونے والے بحران، تناؤ میں کمی لانے کے اقدامات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس سے پہلے روس اپنے خدشات اور تجاویز سے ہمیں تحریری طور پر آگاہ کر چکا تھا اور گزشتہ ہفتے میں نے وزیرخارجہ لاؤرو کو بتایا کہ امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔

آج سفیر سلوین نے ہمارا تحریری ردعمل ماسکو میں پہنچایا۔ مجموعی طور پر اس میں مستقبل کے لیے سنجیدہ سفارتی راستے کا تعین کیا گیا ہے تاہم یہ روس پر منحصر ہے کہ وہ اس راہ کا انتخاب کرتا ہے یا نہیں۔

ہم نے روس کو جو دستاویز بھیجی ہے اس میں روس کی جانب سے سلامتی کے لیے نقصان دہ اقدامات سے متعلق امریکہ اور ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے خدشات، روس کے خدشات کا اصولی اور حقیقت پسندانہ جائزہ اور ایسے امور سے متعلق ہماری اپنی تجاویز شامل ہیں جن پر ہمارے مابین اتفاق رائے قائم ہو سکتا ہے۔

ہم واضح کرتے ہیں کہ ہم اپنے بنیادی اصولوں کو قائم رکھنے اور ان کا دفاع کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جن میں یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور تمام ممالک کا اپنے دفاع کے انتظامات اور اتحاد منختب کرنے کا حق شامل ہیں۔

ہم نے یوکرین میں فوج کی پوزیشن کے حوالے سے شفافیت پر مبنی دوطرفہ اقدامات کے امکان اور یورپ میں فوجی مشقوں اور فوج کی نقل و حرکت سے متعلق باہمی اعتماد بڑھانے کے اقدامات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

ہم نے ایسے امور کی نشاندہی بھی کی ہے جن پر ہمیں پیش رفت کا امکان دکھائی دیتا ہے۔ ان میں یورپ میں میزائلوں کی تنصیب کے حوالے سے ضبطِ اسلحہ کے اقدامات، نیو سٹارٹ معاہدے کی طرح ایسا معاہدہ جو ہر طرح کے جوہری ہتھیاروں کا احاطہ کرتا ہو اور شفافیت اور استحکام میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں۔

ہم نے یہ تجاویز اس لیے پیش کی ہیں کیونکہ اگر ان پر نیک نیتی سے بات چیت کی جائے تو یہ دوطرفہ وعدوں کے ذریعے روس کے خدشات کو دور کرنے کے ساتھ  ہماری اور ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی سلامتی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔

روس کے لیے ہمارا ردعمل وہی تھا جس کا اظہار میں نے گزشتہ ہفتے برلن، کیئو اور جینیوا میں کیا۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، ہم سفارت کاری کو اہمیت دیتے ہیں اور اگر روس یوکرین کے حوالے سے اپنی جارحیت کو ختم کرے، اشتعال انگریز باتیں بند کرے اور دوطرفہ جذبے کے تحت یورپ میں سلامتی کی آئندہ صورتحال پر بات چیت کے لیے تیار ہو تو جہاں بات چیت اور باہمی تعاون ممکن ہوا وہاں ہم اس کے ساتھ آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔

ہمارا ردعمل یوکرین اور اپنے یورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مربوط تھا جن کے ساتھ ہم نے ہفتوں تک مسلسل مشاورت کی۔ ہم نے ان کی تجاویز لیں اور انہیں اپنے حتمی موقف کا حصہ بنا کر ماسکو کو پہنچایا۔

مزید برآں نیٹو یورپ کی مجموعی سلامتی کے حوالے سے خدشات پر مبنی اپنی دستاویز خود تیار کر کے ماسکو کو پہنچائے گا اور یہ دستاویز ہمارے موقف کو تقویت دے گی اور ہماری دستاویز ان کے موقف کو مضبوط کرے گی۔ ان معاملات پر امریکہ اور ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔

ہم نے اپنے ردعمل پر مبنی دستاویز کانگریس کو بھی پیش کی ہے اور میں آج شام کانگریس کے رہنماؤں کو اس کے بارے میں بتاؤں گا اور ان سے اپنے طریقہ کار پر مشاورت کروں گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں یوکرین اور روس کے معاملے میں کیپیٹل ہِل میں دونوں جماعتیں بھرپور دلچسپی اور مہارت رکھتی ہیں اور اس معاملے میں آگے بڑھتے ہوئے ہم کانگریس کو اپنے شراکت کار کی حیثیت سے بھرپور طور سے سراہتے ہیں۔

ہم یہ دستاویز عام نہیں کر رہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم خفیہ بات چیت کی گنجائش بناتے ہیں تو پھر سفارت کاری کو کامیابی کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ ہمیں امید ہے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ روس کا بھی یہی نکتہ نظر ہو گا اور وہ ہماری تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔

مجھے توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں جب ماسکو ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ اقدامات کے لیے تیار ہو گا تو میری وزیر خارجہ لاؤرو سے دوبارہ بات چیت ہو گی۔

جب سفارت کاری کی بات ہو تو ہمارے مقصد کی سنجیدگی پر پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے اور ہم یوکرین کا دفاع مضبوط بنانے اور روس کی جانب سے مزید جارحیت کی صورت میں فوری اور متحدہ ردعمل کی تیاری کے لیے بھی اتنی ہی توجہ اور طاقت سے کام لے رہے ہیں۔

امریکہ کی دفاعی فوجی امداد کی تین ترسیلات اس ہفتے کیئو پہنچی ہیں جن میں اضافی جیولن میزائل اور دیگر اینٹی آرمر نظام، 283 ٹن گولہ بارود اور یوکرین کے اگلے محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کے لیے لازمی ضرورت کا غیرمہلک سازوسامان شامل ہے۔ آنے والے دنوں میں ایسی مزید ترسیلات کی توقع ہے۔ ہم نے گزشتہ سال یوکرین کو دفاعی مقاصد کے لیے جتنی امداد مہیا کی ہے اتنی اس سے پہلے کبھی نہیں دی گئی۔

گزشتہ ہفتے میں نے امریکہ کے اتحادیوں بشمول ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھوانیا کو اجازت دی کہ وہ اپنے پاس موجود امریکی ساختہ فوجی سازوسامان یوکرین کو استعمال کے لیے دے سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی ہم نے کانگریس کو مطلع کیا کہ ہم محکمہ دفاع کے پاس موجود ایم آئی 17 ہیلی کاپٹروں میں سے پانچ یوکرین کو فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

مزید برآں وزیر دفاع نے سوموار کو اعلان کیا کہ اس وقت یورپ اور امریکہ میں ہمارے 8,500 فوجیوں کو تعیناتی کے لیے تیار رہنے کو کہہ دیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اگر نارتھ اٹلانٹک کونسل اتحادیوں کے مشرق پہلو کو دفاعی اعتبار سے مضبوط بنانے کے لیے نیٹو ریسپانس فورس کو متحرک کرے تو ہم اس کی فوری مدد کر سکیں۔ نیٹو کے دیگر اتحادیوں نے بھی ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے لیے وہ تیار ہیں اور آنے والے دنوں میں ہمیں مزید ممالک کی جانب سے یہی توقع ہے۔ ہم نے سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے، ہمیں امید ہے کہ ان فورسز کو تعینات کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی تاہم اگر ایسا کرنا پڑا تو ہم اس کے لیے تیار ہوں گے۔

ہم ماسکو کے اقدامات پر اس کا احتساب کرنے کے لیے اس پر کڑی معاشی پابندیاں لگانے کے معاملے میں بھی اپنے یورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم نے انتہائی موثر اور فوری کارروائی پر مبنی ردعمل ترتیب دیا ہے جس کے نتیجے میں روس کی معیشت اور معاشی نظام کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

اپنے ردعمل کے طور پر ہم روس کے خلاف برآمدی پابندیاں عائد کرنے کے لیے بھی تیار ہیں جس کے طویل مدتی اثرات ہوں گے اور روس کو وہ اشیا نہیں مل سکیں گی جن کی اسے اپنے تزویراتی عزئم پورے کرنے کے لیے ضرورت ہے۔

سب سے بڑھ کر، ہمارے اتحادی اور شراکت دار یوکرین کو کئی طرح کے اور دوطرفہ افادے پر مبنی طریقوں کے ذریعے امداد مہیا کرنے کے لیے بھی آگے آ رہے ہیں۔ پہلےکی طرح اب بھی ہمارے اتحاد اور انفرادی اتحادی اپنے شراکت داروں کی حمایت اور ان اصولوں کے دفاع میں اکٹھے ہو رہے ہیں جنہیں ناقابل تنسیخ ہونا چاہیے اور جو دہائیوں تک یورپ اور دنیا بھر میں بے مثل سلامتی، استحکام اور خوشحالی کا باعث رہے ہیں۔

آخر میں، ہم روس کے تخریبی اقدامات کے ثانوی منفی نتائج سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی مدد کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ اس بحران سے یوکرین کی معیشت اور مالی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔ جیسا کہ ہم یوکرین کا دفاع مضبوط بنانے میں مدد دے رہے ہیں اسی طرح ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہماری جانب سے مہیا کی جانے والی نمایاں امداد سے ہٹ کر اس کی معیشت کو بہتر بنانے میں کیسے مدد دی جا سکتی ہے۔ ہمارے یورپی اتحادی اور شراکت دار بھی یہی کچھ کر رہے ہیں اور یہ ایک اور معاملہ ہے جس پر مجھے آج سہ پہر کانگریس کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔

اب جبکہ ہم یہ یقینی بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں کہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے نظام میں خلل نہ آئے جو کہ خاص توجہ کا متقاضی معاملہ ہے تو اس کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ آیا روس یورپ کو قدرتی گیس کی ترسیل میں مزید کمی کر کے اس اقدام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔ ہم ان ممالک کے لیے توانائی کی دستیابی میں اضافے کی غرض سے دنیا بھر کی حکومتوں اور توانائی پیدا کرنے والے اداروں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم اپنے ردعمل کو مربوط شکل دینے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے توانائی کے موجودہ ذخائر کو بہتر طور سے کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس تمام کوشش کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں کسی بڑی تبدیلی سے بچنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ روس کے کسی بھی فیصلے سے قطع نظر امریکہ، یورپ اور دنیا بھر کے لوگوں کے پاس اپنی ضرورت کے مطابق توانائی موجود ہو۔

مجموعی طور پر گزشتہ ہفتے ہمارے اقدامات کے نتیجے میں روس کو اب واضح فیصلہ کرنا ہے۔ ہم نے اسے سفارتی راہ پیش کر دی ہے۔ اگر روس مزید جارحیت کا انتخاب کرتا ہے تو ہم اسے سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے یوکرین کی سلامتی اور معیشت کے لیے پہلے سے زیادہ مدد مہیا کی ہے۔ ہم اور ہمارے تمام اتحادی اور شراکت دار اس معاملے میں باہم متحد ہیں۔

اب ہم اپنی راہ پر آگے بڑھنا اور تیاری کرنا جاری رکھیں گے۔ یہ روس پر منحصر ہے کہ وہ ہمیں کیا جواب دیتا ہے۔ ہم اس کے ہر ردعمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سوالات لینے سے پہلے میں ایک آخری بات کہنا چاہوں گا۔

یہ بات یوکرین میں مقیم امریکی شہریوں سے متعلق ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں نے اس ہفتے کے آغاز میں امریکہ کے ملازمین کی محدود تعداد کو رضاکارانہ طور سے واپس آنے کی اجازت دی اور یوکرین میں امریکہ کے سفارتی عملے کے بہت سے اہلخانہ واپسی کا حکم جاری کیا۔

یہ فیصلہ ہمارے ساتھیوں اور ان کے اہلخانہ کا تحفظ اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے لیا گیا ہے۔ اگر یوکرین کی سرحدوں پر روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر مسلسل اجتماع کو دیکھا جائے جو کہ کئی اعتبار سے حملے کی تیاری معلوم ہوتا ہے تو ہم نے یہ اقدامات سوچ سمجھ کر اٹھائے ہیں۔

میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کیئو میں ہمارا سفارت خانہ کھلا رہے گا اور ہم یوکرین کو سفارتی، معاشی اور دفاعی امداد مہیا کرنے کے لیے وہاں اپنی موثر موجودگی برقرار رکھیں گے۔

روس کی جانب سے یوکرین پر حملے یا دیگر تخریبی اقدامات کی صورت میں سلامتی کی صورتحال تیزی سے اور کسی انتباہ کے بغیر خراب ہونے کے امکان کے پیش نظر دفتر خارجہ نے یوکرین سے متعلق ایک تازہ ترین سفری ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے۔

یوکرین میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ وہ نقل و حمل کے لیے دستیاب کمرشل یا نجی ذرائع سے یوکرین چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ یوکرین سے واپسی کے یہ ذرائع فوری طور پر دستیاب ہیں۔ جو لوگ کمرشل ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ان کے لیے امریکی سفارت خانہ قرضے کا اہتمام کر سکتا ہے۔

اگرچہ دفتر خارجہ جہاں ممکن ہوا قونصلر خدمات فراہم کرنے کی ہمیشہ کوشش کرے گا تاہم روس کی جانب سے فوجی کارروائی سے ہماری یہ کام کرنے کی اہلیت شدید طور سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر روس حملہ کرتا ہے تو عام شہری، بشمول یوکرین میں موجود امریکی شہری متحارب افواج کے مابین جنگی علاقے میں پھنس سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں امریکہ کی حکومت لوگوں کو انفرادی طور پر مدد دینے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔ دنیا بھر میں جنگ زدہ علاقوں میں یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔

اس لیے اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ آیا روس یوکرین کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکے گا یا نہیں، تاہم وہاں موجود امریکی شہریوں کو یہ اطلاع دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

اس کے ساتھ ہی مجھے آپ سے چند سوالات لے کر خوشی ہو گی۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-at-a-press-availability-13/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future