دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا بیان
امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
9 فروری، 2024

کروڑوں پاکستانیوں نے 8 فروری کو ملک کے عام انتخابات میں حق رائے دہی استعمال کیا اور اس موقع پر خواتین، مذہبی و نسلی اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور نوجوانوں کی ریکارڈ تعداد نے اپنے پارلیمانی نمائندوں کا انتخاب کیا۔ ہم پاکستان میں جمہوری اور انتخابی اداروں کے تحفظ اور انہیں قائم رکھنے کے لیے انتخابی عملے، سول سوسائٹی، صحافیوں اور انتخابی مشاہدہ کاروں کے کردار کو سراہتے ہیں۔ اب ہم نتائج کی بروقت اور مکمل صورت میں آمد کے منتظر ہیں جن سے پاکستان کے لوگوں کی منشا کا اظہار ہو گا۔

ہم معتبر بین الاقوامی اور مقامی انتخابی مشاہدہ کاروں کے اس اندازے کی تائید کرتے ہیں کہ انتخابی عمل کے دوران اظہار، میل جول اور پُرامن اجتماع کی آزادیوں پر ناجائز پابندیاں عائد کی گئیں۔ ہم انتخابات کے موقع پر تشدد، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں پر قدغن بشمول صحافیوں پر حملوں اور انٹرنیٹ و ٹیلی مواصلاتی رابطوں تک رسائی میں رکاوٹوں کی مذمت کرتے ہیں اور ہمیں انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات پر تشویش ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

امریکہ مشترکہ مفادات کی تکمیل کے لیے پاکستان میں آئندہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم تجارت و سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مدد دے کر اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے متمنی ہیں۔ ہم یو ایس۔پاکستان گرین الائنس فریم ورک اور وسیع تر عوامی تعلقات کے ذریعے پاکستان کے جمہوری اداروں کو تقویت دینے اور آزادی اظہار سمیت انسانی حقوق کے فروغ میں پاکستان کو مدد دیتے رہیں گے۔ ہم دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور تحفظ و سلامتی کا ایسا ماحول تخلیق کرنے کا عزم بھی رکھتے ہیں جس سے پاکستان کے لوگوں کو امن، جمہوریت اور ترقی حاصل ہو جس کے وہ حق دار ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/elections-in-pakistan/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future