امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
حقائق نامہ
13 جولائی، 2021

آج امریکی دفتر خارجہ نے امریکہ کے محکمہ خزانہ، محکمہ تجارت، محکمہ داخلی سلامتی، امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر اور محکمہ محنت کے ساتھ مل کر کاروباری اداروں کے لیے شِنگ جینگ کے حوالے سے تجارتی سامان کی فراہمی کے سلسلوں سے متعلق تازہ ترین ہدایات جاری کی ہیں جس کا مقصد وہاں اور چین بھر میں کاروباری اداروں کے جبری مشقت اور انسانی حقوق کی دیگر پامالیوں میں ملوث ہونے کے باعث امریکہ کے کاروباروں کو شِنگ جینگ سے متعلق تجارتی سامان کی فراہمی کے ایسے سلسلوں اور سرمایہ کاری سے لاحق خطرات کو واضح کرنا ہے۔ یہ ہدایات یکم جولائی 2020 کو امریکی حکومت کے اداروں کی جانب سے شِنگ جینگ کے حوالے سے تجارتی سامان کی فراہمی کے سلسلوں کے بارے میں جاری کردہ ابتدائی ہدایات میں تازہ ترین اضافہ ہیں۔

چین کی حکومت شِنگ جینگ ویغور خودمختار خطے (شِنگ جینگ) اور چین میں دیگر جگہوں پر انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بنیادی طور پر مسلم عقیدے سے تعلق رکھنے والے ویغور، قازق النسل اور کرغیزالنسل لوگ اور دیگر نسلی و مذہبی اقلیتی گروہ اس کا ہدف ہیں۔ انسانی حقوق کی ان پامالیوں میں ریاستی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر جبری مشقت اور لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کی نگرانی، آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے جبری اقدامات اور بچوں کو ان کے خاندان سے جدا کرنا، بڑے پیمانے پر نظربندی اور جاری نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے دوران انسانی حقوق کی دیگر پامالیاں شامل ہیں۔ حقوق کی ان پامالیوں کی شدت اور وسعت کو دیکھتے ہوئے جو کاروبار اور لوگ خود کو شِنگ جینگ سے متعلق تجارتی سامان کی فراہمی کے سلسلوں، کاروباروں اور/ یا سرمایہ کاری سے الگ نہیں کریں گے وہ امریکہ کے قانون کی خلاف ورزی کا بڑا خطرہ مول لیں گے۔

تازہ ترین ہدایات میں درج ذیل باتیں واضح کی گئی ہیں:

        •    شِنگ جینگ میں اور اس سے متعلقہ ریاستی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر جبری مشقت اور گھروں میں گھس کر نگرانی سے متعلق معلومات۔

        •    شِنگ جینگ سے متعلق کئی طرح کے خطرات اور امریکی کاروباری اداروں کے ریاستی سرپرستی میں جبری مشقت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا ممکنہ طور پر حصہ بننے سے متعلق معلومات۔

        •    نگرانی کی صلاحیت کی حامل اشیا یا خدمات کے حوالے سے کسی غیرملکی حکومت کے اداروں کے ساتھ لین دین سے متعلق ”کاروبار اور انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں” پر عملدرآمد کے لیے امریکی دفتر خارجہ کی رہنمائی۔

        •    شِنگ جینگ میں نگرانی کا کام کرنے والی چین کی سرکاری کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے معلومات۔

        •    بینکاری، مالیاتی اداروں اور دیگر سرمایہ کاروں سے متعلق مطلوبہ احتیاط سے متعلق معلومات۔

        •    امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر اور امریکی محکمہ محنت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات۔

        •   شِنگ جینگ میں اور اس سے متعلق انسانی حقوق کی پامالیوں کے جواب میں امریکی حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تازہ ترین معلومات جن میں امریکہ کے محکمہ کسٹمز اور سرحدی تحفظ کی جانب سے ‘وِد ہولڈ ریلیز آرڈر’ کا اجراء اور اس سے متعلق مزید معلومات، امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے پابندی کے لیے نامزد کیے جانے والے اداروں کی فہرست میں نئے اضافے، امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے معاشی پابندیوں کے نفاذ، امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے ویزا پابندیوں کے نفاذ اور امریکی محکمہ محنت کی جانب سے بچہ مزدوری یا جبری مشقت کے ذریعے پیدا کی جانے والی اشیا کی فہرست (ملحقہ 1) میں نئے اضافے سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

        •    شِنگ جینگ سے سلیکون اور پولی سلیکون کی فراہمی کے سلسلوں اور وہاں سے ان اشیا کی تیاری میں معاونت کے لیے دی جانے والی اشیا اور خدمات کے پھیلاؤ سے متعلق معلومات (ملحقہ 4) اور،

        •    دیگر ممالک کی جانب سے انضباطی شرائط کی فہرست اور تجارتی سامان کی فراہمی کے سلسلوں میں جبری مشقت کے کردار سے متعلق معلومات (ملحقہ 7)

مزید معلومات کے لیے DRL-Press@state.gov پر رابطہ کیجیے یا https://www.state.gov/key-topics-bureau-of-democracy-human-rights-and-labor/business-and-human-rights/ پر وزٹ کیجیے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/issuance-of-updated-xinjiang-supply-chain-business-advisory/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future